الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب مَا يُقَالُ مِنَ الْأَذْكَارِ غَيْرِ الْقُرْآنِيَّةِ عِنْدَ النَّوْمِ
سونے سے پہلے والے غیر قرآنی اذکار کابیان
حدیث نمبر: 5534
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ رَمْلِ عَالِجٍ وَإِنْ كَانَتْ مِثْلَ عَدَدِ وَرَقِ الشَّجَرِ
۔ سیدنا ابو خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بستر پر آ کر تین بار یہ دعا پڑھی: أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ الَّذِی لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ (میں اس اللہ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ نہیں ہے کوئی معبودِ برحق، مگر وہی، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے اور میں اس کی طرف توبہ کرتا ہوں) تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے، اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں اور اگرچہ وہ (شام کی) عالج جگہ کی ریت کے برابر ہوں، بلکہ اگرچہ وہ درختوں کے پتوں کے برابر ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5534]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، عبيد الله بن الوليد الوصافي، قال النسائي والفلاس: متروك الحديث، وعطية العوفي ضعيف، أخرجه الترمذي: 3397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11090»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 5535
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَكَفَانَا وَآوَانَا وَكَمْ مِمَّنْ لَا كَافِيَ لَهُ وَلَا مُؤْوِيَ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَکَفَانَا وَآوَانَا وَکَمْ مِمَّنْ لَا کَافِیَ لَہُ وَلَا مُؤْوِیَ(ساری تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمیں کھلایا، پلایا، ہمیں کفایت کیا اور ہمیں جگہ دی، پس کتنے ہی لوگ ہیں کہ ان کی ضروریات کو پورا کرنے والا اور ان کو جگہ دینے والا کوئی نہیں)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5535]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2715، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12580»
وضاحت: فوائد: … ہمیں کفایت کیا اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موذِی چیزوں کا شرّ دور کیا اور حاجات و ضروریات پوری کیں، وگرنہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے آسرا چھوڑ دیا، نہ ان کو شرّ سے بچایا، نہ ان کی جان کو تحفظ دیا، نہ ان کے مال کی حفاظت کی، کئی لوگوں پر ان کے دشمن غالب آ کر ان کو تکلیف دے رہے ہیں، کئی لوگوںکے پاس گھر اور مکمل لباس نہیں ہیں اور کتنے ہی افراد ایسے ہیں کہ ان کے پاس خوردو نوش کی چیزیں نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2715
حدیث نمبر: 5536
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقُولَ إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِي إِلَيْكَ وَوَجَّهْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ وَنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ فَإِنْ مَاتَ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک انصاری آدمی کو حکم دیا کہ جب وہ اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ نَفْسِی إِلَیْکَ، وَوَجَّہْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِی إِلَیْکَ، وَأَلْجَأْتُ ظَہْرِی إِلَیْکَ، رَغْبَۃً وَرَہْبَۃً إِلَیْکَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَا مِنْکَ إِلَّا إِلَیْکَ، آمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَ، وَنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ(اے اللہ!میں نے اپنے نفس کو تیرے مطیع کر دیا، اپنا چہرہ تیری طرف پھیر لیا، اپنا کام تیرے سپرد کر دیا، اپنی پشت تیری طرف جھکا دی، تیری طرف رغبت کرتے ہوئے اور تجھ سے ڈرتے ہوئے، تجھ سے نہ کوئی پناہ لینے کی جگہ اور نہ بھاگ کر جانے کی مگر تیری طرف، میں تیری کتا ب پر ایمان لایا جو تونے نازل کی اور تیرے نبی پر جسے تو نے بھیجا۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر وہ رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5536]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6313، ومسلم: 2710، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18515 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18709»
وضاحت: فوائد: … اگلی تین سندیں بھی اسی حدیث کی ہیں، ان کا بغور مطالعہ کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6313
حدیث نمبر: 5537
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَوَيْتَ إِلَى فِرَاشِكَ فَتَوَضَّأْ وَنَمْ عَلَى شِقِّكَ الْأَيْمَنِ وَقُلْ اللَّهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الْمُتَقَدِّمَ بِلَفْظِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فَإِنْ مِتَّ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر جگہ پکڑنے لگے تو وضو کر، پھر اپنے دائیں پہلو پر سو جا اور کہہ: اَللّٰھُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْہِی إِلَیْکَ …، پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، … البتہ اس کے آخری الفاظ یوں ہیں: پس اگر تو فوت ہو گیا تو فطرتِ اسلام پر وفات پائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5537]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18788»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18788
حدیث نمبر: 5538
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ فَذَكَرَ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ وَقَالَ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ وَقَالَ اجْعَلْهُنَّ آخِرَ مَا تَتَكَلَّمُ بِهِ قَالَ فَرَدَّدْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا بَلَغْتُ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ قُلْتُ وَبِرَسُولِكَ قَالَ لَا وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى فَإِنْ مِتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ مِتَّ عَلَى الْفِطْرَةِ وَإِنْ أَصْبَحْتَ أَصْبَحْتَ وَقَدْ أَصَبْتَ خَيْرًا كَثِيرًا
۔ (تیسری سند) سابقہ سند کے ساتھ سابق روایت کے ہم معنی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں یہ الفاظ یوں ہیں: پس تو نماز والا وضو کر، … اس دعا کو آخر میںپڑھ (یعنی اس کے بعد چپ ہو کر سو جا)۔ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے یہ دعا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنائی، جب میں بِکِتَابِکَ الَّذِی أَنْزَلْتَکے لفظ تک پہنچا تو میں نے کہا: وَبِرَسُولِکَ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ یہ الفاظ ہیں: وَبِنَبِیِّکَ الَّذِی أَرْسَلْتَ۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اس رات کو فوت ہو گیا تو فطرت پر فوت ہو گا اور اگر صبح تک بقید ِ حیات رہا تو بہت زیادہ بھلائی پائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5538]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18760»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ سب سے آخر میں یہ دعا پڑھنی چاہیے، اس کے بعد سونے والا خاموش ہو جائے، یہاں تک کہ سو جائے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18760
حدیث نمبر: 5539
عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا اضْطَجَعَ الرَّجُلُ فَتَوَسَّدَ يَمِينَهُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ إِلَيْكَ أَسْلَمْتُ نَفْسِي فَذَكَرَ مِثْلَ مَا تَقَدَّمَ وَفِيهِ وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ بُنِيَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ أَوْ بُوِّئَ لَهُ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ
۔ (چوتھی سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی سوئے تو اپنے دائیں ہاتھ کو سر کے نیچے رکھے اور پھر یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ إِلَیْکَ أَسْلَمْتُ نَفْسِی …۔ پھر سابقہ حدیث کی طرح کی حدیث ذکر کی، البتہ اس میں ہے: اگر وہ اسی رات فوت ہو گیا تو اس کے لیے جنت میں گھر بنایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5539]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: بني له بيت في الجنة، أو بويء له بيت في الجنة وھذا اسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم، وانظر الاحاديث بالطريق الاول والثاني والثالث۔ ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18820»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله : بني له بيت في الجنة
حدیث نمبر: 5540
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى خَدِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
۔ سیدنا براء سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ (اے اللہ! اس دن میں اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندے کو اٹھائے گا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5540]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 3399، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18751»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 5541
عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْوَلِيدِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أَجِدُ وَحْشَةً قَالَ إِذَا أَخَذْتَ مَضْجَعَكَ فَقُلْ أَعُوذُ بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ غَضَبِهِ وَعِقَابِهِ وَشَرِّ عِبَادِهِ وَمِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَنْ يَحْضُرُونِ فَإِنَّهُ لَا يُضَرُّ وَبِالْحَرِيِّ أَنْ لَا يَقْرَبَكَ
۔ سیدنا ولید بن ولید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں وحشت محسوس کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تو اپنے بستر پر آئے تو یہ دعا پڑھا کر: أَعُوذُ بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ غَضَبِہِ وَعِقَابِہِ وَشَرِّ عِبَادِہِ وَمِنْ ہَمَزَاتِ الشَّیَاطِینِ وَأَنْ یَحْضُرُونِ۔(میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات کی پناہ میں آتا ہے، اس کے غضب سے، اس کی سزا سے، اس کے بندوں کے شرّ سے، شیطانوں کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ میرے پاس حاضر ہوں) تو پھر شیطان تجھے نقصان نہیں دے گا، بلکہ بہت لائق ہے کہ وہ تیرے قریب ہی نہ آئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5541]
تخریج الحدیث: «حديث محتمل للتحسين بشواھده، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 60، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23839 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24340»
الحكم على الحديث:
حديث محتمل للتحسين بشواھده
حدیث نمبر: 5542
عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ حَدَّثَهُ قَالَ أَخْرَجَ لَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قِرْطَاسًا وَقَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا يَقُولُ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ رَبُّ كُلِّ شَيْءٍ وَإِلَهُ كُلِّ شَيْءٍ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي إِثْمًا أَوْ أَجُرَّهُ عَلَى مُسْلِمٍ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنْ يَقُولَ ذَلِكَ حِينَ يُرِيدُ أَنْ يَنَامَ
۔ ابو عبد الرحمن حبلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے ایک کاغذ نکالا اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں یہ دعا سکھاتے تھے: اَللّٰھُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ، أَنْتَ رَبُّ کُلِّ شَیْئٍ، وَإِلَہُ کُلِّ شَیْئٍ، أَشْہَدُ أَنْ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیکَ لَکَ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُکَ وَرَسُولُکَ، وَالْمَلَائِکَۃُ یَشْہَدُونَ، أَعُوذُ بِکَ مِنَ الشَّیْطَانِ وَشِرْکِہِ، وَأَعُوذُ بِکَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِی إِثْمًا أَوْ أَجُرَّہُ عَلٰی مُسْلِمٍ۔ (اے اللہ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے! غیب اور حاضر کو جاننے والے! تو ہر چیز کا پروردگار ہے اور ہر چیز کا معبود ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں‘تو اکیلا ہے، تیرا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور فرشتے بھی یہ گواہی دیتے ہیں، میں تیری پناہ چاہتا ہوں شیطان سے اور اس کے شرک سے، اور میں تیرے پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں اپنے نفس پر برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلمان سے برائی کروں)۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اس دعا کی تعلیم دیتے ہوئے کہا کہ جب وہ سونا چاہے تو اس وقت یہ دعا پڑھا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5542]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6597 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6597»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 5543
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا شَكَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَثَرَ الْعَجِينِ فِي يَدَيْهَا فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَأَتَتْهُ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَجِدْهُ فَرَجَعَتْ قَالَ فَأَتَانَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا قَالَ فَذَهَبْتُ لِأَقُومَ فَقَالَ مَكَانَكُمَا فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضْجَعَكُمَا سَبَّحْتُمَا اللَّهَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَحَمِدْتُمَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبَّرْتُمَاهُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ
۔ سیدنا علی سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آٹا پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں پڑ جانے والے نشانات کا شکوہ کیا، اُدھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس قیدی آئے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک خادمہ کا مطالبہ کرنے کے لیے آئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر پر موجود نہیں تھے، اس لیے لوٹ گئیں، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس آئے، جبکہ ہم لیٹ چکے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر اٹھنا چاہا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو ایسا عمل بتا دوں، جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے، جب تم سونے لگو، تو تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہ، تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَر کہا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5543]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3113، 5361، ومسلم: 2727، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 740 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 740»
وضاحت: فوائد: … سنن ابو داود کی روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان دونوں کے درمیان آ کر بیٹھ گئے، یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی بیٹی اور داماد کے ساتھ بے تکلفی ہے، دراصل الفت سے تکلف ختم ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3113