🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. بَاب مَا جَاءَ فِي التَّحْمِيدِ وَفَضْلِهِ
تحمید اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5466
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فِي الْحَلْقَةِ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْقَوْمِ فَقَالَ الرَّجُلُ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَلَمَّا جَلَسَ الرَّجُلُ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ كَمَا يُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ يُحْمَدَ وَيَنْبَغِي لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ قُلْتَ فَرَدَّ عَلَيْهِ كَمَا قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدِ ابْتَدَرَهَا عَشَرَةُ أَمْلَاكٍ كُلُّهُمْ حَرِيصٌ عَلَى أَنْ يَكْتُبَهَا فَمَا دَرَوْا كَيْفَ يَكْتُبُوهَا حَتَّى رَفَعُوهَا إِلَى ذِي الْعِزَّةِ فَقَالَ اكْتُبُوهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک حلقہ میں بیٹھا ہوا تھا، ایک آدمی آیا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دوسرے لوگوں کو سلام کہتے ہوئے کہا: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں اس کا جواب دیا: وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَبَرَکَاتُہُ۔ جب وہ آدمی بیٹھ گیا تو اس نے کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ حَمْدًا کَثِیرًا طَیِّبًا مُبَارَکًا فِیہِ کَمَا یُحِبُّ رَبُّنَا أَنْ یُحْمَدَ وَیَنْبَغِی لَہُ (ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، بہت زیادہ، پاکیزہ اور برکت کی ہوئی تعریف، جیسا ہمارا ربّ چاہتا ہے کہ اس کی تعریف کی جائے اور جیسے اس کے لائق ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کیسے کہا؟ اس نے دوہرا کر وہ کلمات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دس فرشتے ان کلمات کی طرف لپک رہے تھے، ہر ایک اس بات کا حریص تھا کہ وہ ان کو لکھے، لیکن پھر ان کو یہ سمجھ نہ آ سکی کہ وہ ان کو لکھیں کیسے، پھر وہ یہ کلمات ایسے ہی لے کر عزت والے ربّ کے پاس پہنچ گئے، اور اللہ تعالیٰ نے کہا: تم اسی طرح لکھ دو،جیسے میرے بندے نے کہا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5466]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، لكن المحفوظ ان الرجل قال ما قاله من الحمد اثنا الصلاة، أخرجه ابن حبان: 845، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 341، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12612 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12639»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5467
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ سَمِعْتُ مُتَكَلِّمًا يَقُولُ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ كُلُّهُ وَلَكَ الْمُلْكُ كُلُّهُ بِيَدِكَ الْخَيْرُ كُلُّهُ إِلَيْكَ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ عَلَانِيَتُهُ وَسِرُّهُ فَأَهْلٌ أَنْ تُحْمَدَ إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي جَمِيعَ مَا مَضَى مِنْ ذَنْبِي وَاعْصِمْنِي فِيمَا بَقِيَ مِنْ عُمْرِي وَارْزُقْنِي عَمَلًا زَاكِيًا تَرْضَى بِهِ عَنِّي فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ مَلَكٌ أَتَاكَ يُعَلِّمُكَ تَحْمِيدَ رَبِّكَ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیااور میں نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو یہ کلمات ادا کرتے ہوئے سنا: اَللّٰہُمَّ لَکَ الْحَمْدُ کُلُّہُ، وَلَکَ الْمُلْکُ کُلُّہُ، بِیَدِکَ الْخَیْرُ کُلُّہُ، إِلَیْکَ یُرْجَعُ الْأَمْرُ کُلُّہُ عَلَانِیَتُہُ وَسِرُّہُ، فَأَہْلٌ أَنْ تُحْمَدَ، إِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیرٌ، اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی جَمِیعَ مَا مَضَی مِنْ ذَنْبِی، وَاعْصِمْنِی فِیمَا بَقِیَ مِنْ عُمْرِی، وَارْزُقْنِی عَمَلًا زَاکِیًا تَرْضَی بِہِ عَنِّی۔ (اے اللہ! ساری تعریف تیرے لیے ہے، ساری بادشاہت تیرے لیے ہے، ساری خیر و بھلائی تیرے لیے ہے، سارا معاملہ تیرے طرف لوٹے گا، وہ اعلانیہ ہو یا مخفی، تو اس لائق ہے کہ تیری تعریف کی جائے، بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! میرے وہ گناہ بخش دے، جو گزر چکے ہیں اور بقیہ عمر میں میری حفاظت فرما اور مجھے زیادہ ثواب والا ایسا عمل عطا کر کہ جس کے ذریعے تو راضی ہو جائے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تو فرشتہ تھا جو تیرے پاس آیا اور اس نے تجھے اپنے ربّ کی تحمید کی تعلیم دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5467]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن حذيفة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23747»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام الراوي عن حذيفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5468
عَنْ سَالِمٍ أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا خَلَقَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا خَلَقَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ مَا أَحْصَى كِتَابُهُ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَدَدَ كُلِّ شَيْءٍ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِلْءَ كُلِّ شَيْءٍ وَسُبْحَانَ اللَّهِ مِثْلَهَا فَأَعْظَمَ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے یہ دعا پڑھی: ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس کی مخلوق کے بھرنے کے بقدر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق کی تعداد کے برابر، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، اس چیزوں کے بھراؤ کے بقدر جو آسمانوں اور زمین میں ہیں، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ان چیزوں کی تعداد کے برابر جن کو اس کی کتاب نے شمار کیا،ساری تعریف اللہ تعالیٰ کی ہے، ان چیزوں کے بھراؤ کے بقدر، جن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نے شمار کیا، ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہر چیز کی تعداد کے برابر اور ساری تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، ہر چیز کے بھراؤ کے بقدر، پھر اسی طرح سُبْحَانَ اللّٰہِ کہے، تو اس کو بڑا اجر ملے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5468]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير:7987، والحاكم: 1/ 513، و النسائي في عمل اليوم والليلة: 166، وابن خزيمة: 754، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22144 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22496»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے یہ ذکر ثابت ہوتا ہے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَدَدَ مَا خَلَقَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ مِلْئَ مَا

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5469
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْقَى رَجُلًا فَيَقُولُ يَا فُلَانُ كَيْفَ أَنْتَ فَيَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَيَقُولُ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ فَلَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا فُلَانُ فَقَالَ بِخَيْرٍ إِنْ شَكَرْتُ قَالَ فَسَكَتَ عَنْهُ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّكَ كُنْتَ تَسْأَلُنِي فَتَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ سَكَتَّ عَنِّي فَقَالَ لَهُ إِنِّي كُنْتُ أَسْأَلُكَ فَتَقُولُ بِخَيْرٍ أَحْمَدُ اللَّهَ فَأَقُولُ جَعَلَكَ اللَّهُ بِخَيْرٍ وَإِنَّكَ الْيَوْمَ قُلْتَ إِنْ شَكَرْتُ فَشَكَكْتَ فَسَكَتُّ عَنْكَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کو ملتے اور اس سے پوچھتے: اے فلاں! تم کیسے ہو؟وہ کہتا: خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی تعریف بیان کرتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو جواب دیتے: اللہ تعالیٰ تجھے خیریت کے ساتھ ہی رکھے۔ پھر ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ملے اور اس سے پوچھا: کیسے ہو؟ اس نے کہا: اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت ہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواباً خاموش رہے، اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! پہلے جب بھی آپ مجھ سے سوال کرتے تو آپ مجھے یہ دعا دیتے کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیر کے ساتھ ہی رکھے، لیکن آج آپ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پہلے جب میں تجھ سے سوال کرتا تھا تو تو کہتا تھا کہ خیریت ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں اور میں جواباً کہتا کہ اللہ تعالیٰ تجھے خیریت سے ہی رکھے، لیکن آج تو نے کہا ہے کہ اگر میں شکر ادا کروں تو خیریت سے ہوں، تو تو نے شک کا اظہار کیا، سو میں خاموش رہا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5469]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن اسماعيل، والصحيح انه مرسل، أخرجه البيھقي في الشعب: 4449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13571»
وضاحت: فوائد: … بندے سے مطلوب یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے ہوئے اس کی حمد بیان کرے، وہ خوشحال ہو یا تنگ دست، مسرور ہویا غم زدہ، کیونکہ حمد و شکر، خیر و بھلائی کا سبب بنتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لسوء حفظ مؤمل بن اسماعيل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب مَا جَاءَ فِي قَوْل لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّابِاللَّهِ وَفَضْلِهَا
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5470
عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ أَبَاهُ دَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْدُمُهُ قَالَ فَأَتَى عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ قُلْتُ بَلَى قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے باپ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کر دیا، تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت کر سکوں، ایک دن وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے دو رکعت نماز پڑھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر تیری رہنمائی کروں؟ میں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5470]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 3581، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15480 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15559»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5471
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: کیا میں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر تیری رہنمائی کروں؟ انھوں نے کہا: وہ کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5471]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6610، ومسلم: 2704، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19993»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6610
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5472
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ذر! کیا میں تیری جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے پر رہنمائی نہ کروں، لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِ لَّا بِاللّٰہ کہا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5472]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3825، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21623»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5473
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَإِنَّهَا كَنْزٌ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ سے زیادہلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہا کرو، کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5473]
تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه البزار: 3086، والحاكم: 1/ 21، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8406 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8387»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5474
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں جنت کے دروازوں میں ایک دروازے پر تیری رہنمائی نہ کر دوں؟ انھوں نے کہا: وہ کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5474]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 20/ 371، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22450»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5475
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لِبَعْضِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ حَثَا بِكَفِّهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ فَقُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللَّهِ إِلَّا إِلَيْهِ ثُمَّ مَشَى سَاعَةً فَقَالَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ النَّاسِ عَلَى اللَّهِ وَمَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ فَحَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ اہل مدینہ میں سے ایک آدمی کے باغ میں چل رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کثیر مال والے لوگ ہلاک ہو گئے ہیں، مگر جو ایسے ایسے اور ایسے کرے۔ تین بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا کہ تمثیل پیش کرتے ہوئے ایک چلو دائیں جانب ڈالا، ایک بائیں جانب اور ایک سامنے اور پھر فرمایا: لیکن ایسے مالدار کم ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑے سے چلے اور فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا میں تیری جنت کے خزانوں میں سے ایک پر رہنمائی کر دوں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ذکر کیا کرو: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، وَلَا مَلْجَأَ مِنَ اللّٰہِ إِلَّا إِلَیْہِ۔ (برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق سے اور اللہ تعالیٰ سے بچنے کے کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، مگر اسی کی طرف۔) پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑا سا چلے اور فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر اور اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے؟ میں نے کہا: جی اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر یہ حق ہے کہ وہ اس کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائیں، جب وہ یہ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ ان کو عذاب نہ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5475]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البزار: 3089، والحاكم: 1/ 517، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8085 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8071»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں