🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب مَا جَاءَ فِي قَوْل لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّابِاللَّهِ وَفَضْلِهَا
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5476
عَنْ أَبِي بَلْجٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ كَنْزٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ تَحْتَ الْعَرْشِ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ أَنْ تَقُولَ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ أَبُو بَلْجٍ وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ أَسْلَمَ عَبْدِي وَاسْتَسْلَمَ قَالَ فَقُلْتُ لِعَمْرٍو قَالَ أَبُو بَلْجٍ قَالَ عَمْرٌو قُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَقَالَ لَا إِنَّهَا فِي سُورَةِ الْكَهْفِ وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کے نبی نے مجھ سے فرمایا: اے ابو ہریرہ! کیا میں ایسے کلمے پر تمہاری رہنمائی کروں، جو عرش کے نیچے جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہار یہ کہنا کہ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ ابو بلج راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں کہتا ہے: میرا بندہ مطیع اور فرمانبردار ہو گیا ہے۔ میں نے عمرو سے کہا: ابو بلج کہتے ہیں کہ عمرو نے کہا: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ؟ انھوں نے کہا: نہیں، یہ کلمہ سورۂ کہف میں ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَکَ قُلْتَ مَا شَائَ اللّٰہُ لَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ} … اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو تو نے یہ کیوں نہ کہا جو اللہ نے چاہا، کچھ قوت نہیں مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ (سورۂ کہف: ۳۹) [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5476]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه البزار: 3086، والنسائي في عمل اليوم والليلة: 13، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8426 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8407»
وضاحت: فوائد: … اس کلمہ کے ذریعے آدمی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے عجز و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5477
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ قَالَ وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء (اور معراج) کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: اے جبریل! تیرے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اپنی امت کو حکم دینا کہ وہ جنت میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، پس بیشک اس کی مٹی پاکیزہ اور زرخیز ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جنت کے پودے کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5477]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عبد الرحمن مجھول الحال، أخرجه ابن حبان: 821، والطبراني في الكبير: 3898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23948»
وضاحت: فوائد: … انسان اس ذکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ نیکیوں والے کام کرتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے، تو اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہو رہا ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب مَا جَاءَ فِي الاسْتِغْفَارِ وَفَضْلِهِ
استغفار اور اس کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5478
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَكْثَرَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا وَمِنْ كُلِّ ضَيْقٍ مَخْرَجًا وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کثرت سے استغفار کیا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم سے نجات اور ہر تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا کر دے گا اور اس کو وہاں سے رزق دے گا، جہاں سے اس کو وہم و گمان تک نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5478]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحاكم بن مصعب مجھول، أخرجه ابوداود: 1518، وابن ماجه: 3819، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2234 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2234»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل آیات سے ثابت ہوا کہ رزق کا حصول اور غموں سے نجات استغفار کے فوائد میں سے ہیں:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5479
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ بِعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتِ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ فَقَالَ اللَّهُ فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي
۔ سیدناابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابلیس نے اپنے ربّ سے کہا: تیری عزت اور جلال کی قسم! جب تک بنو آدم میں روحیں موجود رہیں گی، میں ہمیشہ ان کو گمراہ کرتا رہوں گا، اللہ تعالیٰ نے کہا: مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم! جب تک وہ مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے، میں ان کو بخشتا رہوں گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5479]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 1399، والحاكم: 4/ 261، والطبراني في الاوسط: 8783، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11264»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5480
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں ایک دن میں ستر بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5480]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6307، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7780»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفائے قلب اور دل سے مختلف عارضوں اور پردوں کو زائل کرنے کے لیے استغفار کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضور دائمی ہو، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بشری تقاضوں کی طرف توجہ کرتے، جیسے کھانا پینا وغیرہ، جس سے کمال حضور میں کمی آجاتی، استغفار کے ذریعے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس صورت کا ازالہ کرتے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبدیت کے اظہار کے لیے، ربّ تعالیٰ کے کرم کا فقیر بننے کے لیے اور اپنی امت کو تعلیم دینے کے لیے استغفار کیا کرتے تھے۔ (نَسْأَلُ اللّٰہَ اَنْ یُطَھِّرَنَا مِنَ الذُّنُوبِ وَاَنْ یَسْتُرَ مَا لَنَا مِنَ الْعُیُوْبِ)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6307
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5481
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ اسْتَغْفَرَ مِائَةَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ أَوْ إِنَّكَ تَوَّابٌ غَفُورٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سنا، آپ نے سو دفعہ بخشش طلب کی اور پھر یہ دعا کی: اَللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی وَارْحَمْنِی، وَتُبْ عَلَیَّ، إِنَّکَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ۔ (اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما اور مجھ پر رجوع کر، بیشک تو ہی توبہ قبول کرنے والارحم کرنے والا ہے)۔ ایک روایت میں آخر میں إِنَّکَ تَوَّابٌ غَفُورٌ کے الفاظ ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5481]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه أبوداود: 1516، والترمذي: 3434، وابن ماجه: 3814، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5354 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5354»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5482
عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ لَيُغَانُ عَلَى قَلْبِي وَإِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ
۔ سیدنا اغر مزنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرے دل پر بھی غفلت طاری ہو جاتی ہے اور میں ہر روز سو سو بار اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5482]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2702، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18291 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18480»
وضاحت: فوائد: … دل پر طاری ہونے والی غفلت سے مراد کسی عارضے کی بنا پر ذکر کے تسلسل کا منقطع ہو جانا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پاکیزہ دل اس انقطاع کو محسوس کر لیتا تھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا ازالہ کرتے تھے، کثرت کے ساتھ ذکر کرنے والے کو اس حدیث ِ مبارکہ کا عملی طور پر تجربہ ہوتا ہے، جب عظیم لوگوں کی عبادت کا وقت دوسرے جائز اور مباح امور میں صرف ہو جاتا ہے تو وہ اپنے مزاج میں اس کمی کو محسوس کرتے ہیں اور پھر اس کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2702
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5483
عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدَةٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْعَبْدُ آمِنٌ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَا اسْتَغْفَرَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا فضالہ بن عبید سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک اللہ تعالیٰ کے عذاب سے امن میں رہتا ہے، جب تک اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5483]
تخریج الحدیث: «حسن بمجموع طريقيه وشاھده، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24453»

الحكم على الحديث:
حسن بمجموع طريقيه وشاھده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5484
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ فِي آخِرِ أَمْرِهِ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لِي أَرَاكَ تُكْثِرُ مِنْ قَوْلِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ قَالَ إِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ كَانَ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَأَرَى عَلَامَةً فِي أُمَّتِي وَأَمَرَنِي إِذَا رَأَيْتُهَا أَنْ أُسَبِّحَ بِحَمْدِهِ وَأَسْتَغْفِرَهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا فَقَدْ رَأَيْتُهَا إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرْهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی آخری زندگی میں کثرت سے یہ ذکر کرتے تھے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ یہ ذکر بہت کثرت سے کرنے لگ گئے ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہِ أَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَأَتُوبُ إِلَیْہِ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میرے ربّ نے مجھے یہ خبر دی تھی کہ میں عنقریب اپنی امت میں ایک علامت دیکھوں گا اور پھر مجھے یہ حکم بھی دیا کہ میں جب اس کو دیکھ لوں تو اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح بیان کروں اور اس سے بخشش طلب کروں، بیشک وہ توبہ قبول کرنے کرنے والا ہے، اور اب میں نے وہ علامت ان آیات کی صورت میں دیکھ لی ہے: {إِذَا جَائَ نَصْرُ اللّٰہِ وَالْفَتْحُ وَرَأَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِی دِینِ اللّٰہِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ وَاسْتَغْفِرْہُ إِنَّہُ کَانَ تَوَّابًا} جب اللہ کی مدد اور فتح آ جائے۔ اور تو لوگوں کو اللہ کے دین میں جوق در جوق آتا دیکھ لے۔ تو اپنے رب کی تسبیح کرنے لگ حمد کے ساتھ اور اس سے مغفرت کی دعا مانگ، بیشک وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (النصر: ۱۔۳) [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5484]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 484، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24065 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24566»
وضاحت: فوائد: … دراصل سورۂ نصر میں یہ بتلایا گیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ کا آخری وقت آ گیا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تسبیح و تحمید اور استغفار کا حکم دیا گیا ہے۔ جو لوگ بڑی عمر یا مخصوص بیماری کی وجہ سے موت کو قریب سمجھنے لگ جائیں وہ اس سورت میں دی گئی ہدایت پر عمل کریں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 484
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. بَابُ فِي أَصْلِ التَّثْلِيْثِ فِي صِيَغِ الْأَذْكَارِ وَالْاسْتِغْفَارِ وَالدَّعْوَاتِ
اذکار، استغفار اور دعوات کے صیغوں میں اصل قانون تین بار کے ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5485
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَدْعُوَ ثَلَاثًا وَيَسْتَغْفِرَ ثَلَاثًا
۔ سیدنا عبدا للہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین بار دعا کریں اور تین بار استغفار کریں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5485]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابوداود: 1524، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3744»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ عمل بعض اوقات ہوتا تھا، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک بار دعا کرنے پر بھی اکتفا کر لیا کرتے تھے اور کئی کئی بار استغفار کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں