🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ مَا يُقَالُ فِي الصَّبَاحِ وَالْمَسَاءِ وَعِندَ إرَادَةِ النَّوْمِ
صبح، شام اور نیند کے وقت کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5505
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَصْبَحَ اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب صبح کرتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ الْمَصِیرُ(اے اللہ! ہم نے تیری توفیق سے صبح کی، تیری توفیق سے شام کی، تیری توفیق سے زندہ ہیں، تیری توفیق سے مریں گے اور تیری طرف لوٹنا ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5505]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه أبوداود: 5068، والترمذي: 3391، وابن ماجه: 3868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10763 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10773»
وضاحت: فوائد: … أبوداود اور ترمذی کی روایت میں یہ زائد بات بھی ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شام کرتے تو یہ دعا اس طرح پڑھتے: اَللّٰہُمَّ بِکَ أَمْسَیْنَا وَبِکَ أَصْبَحْنَا وَبِکَ نَحْیَا وَبِکَ نَمُوتُ وَإِلَیْکَ النُّشُوْرُ۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5506
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدَعُ هَؤُلَاءِ الدَّعَوَاتِ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي وَمِنْ فَوْقِي وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي قَالَ يَعْنِي الْخَسْفَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح و شام ان کلمات کو پڑھنا ترک نہیں کرتے تھے: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، اللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی دِینِی وَدُنْیَایَ وَأَہْلِی وَمَالِی، اللّٰہُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِی وَآمِنْ رَوْعَاتِی، اللّٰہُمَّ احْفَظْنِی مِنْ بَیْنِ یَدَیَّ وَمِنْ خَلْفِی وَعَنْ یَمِینِی وَعَنْ شِمَالِی وَمِنْ فَوْقِی، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِکَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِی(اے اللہ! میں تجھ سے دنیا وآخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں‘ اے اللہ! میں اپنی دین ودنیا میں اور اہل و مال میں تجھ سے معافی اور عافیت کا سوال کرتا ہوں‘ اے اللہ! میرے پردے والی چیزوں پر پردہ ڈال اور مجھے گھبراہٹوں سے امن میں رکھ‘ اے اللہ! میرے سامنے‘ میرے پیچھے‘ میرے دائیں‘ میرے بائیں اور میرے اوپر سے میری حفاظت کر‘ اور اس بات سے (بھی) تیری پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے نیچے سے ہلاک کیا جاؤں)۔ راوی کہتے ہیں کہ نیچے سے ہلاک ہونے سے مراد زمین میں دھنسنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5506]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه أبوداود: 5074، والنسائي: 8/282، وابن ماجه: 3871، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4785 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4785»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5507
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِي سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ مِائَةَ مَرَّةٍ لَمْ يَأْتِ أَحَدٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَفْضَلَ مِمَّا جَاءَ بِهِ إِلَّا أَحَدٌ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ أَوْ زَادَ عَلَيْهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس آدمی نے صبح اور شام کے وقت یہ کلمات سو (۱۰۰) بار ادا کیے: سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ، تو قیامت کے دن کوئی آدمی اس کے عمل سے افضل عمل نہیں لائے گا، ما سوائے اس شخص کے، جس نے اتنی بار یہ ذکر کیا ہو گا، یا اس سے بھی زیادہ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5507]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2692، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8821»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2692
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5508
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَأَنْ أَقْعُدَ أَذْكُرُ اللَّهَ وَأُكَبِّرُهُ وَأَحْمَدُهُ وَأُسَبِّحُهُ وَأُهَلِّلُهُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ رَقَبَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ وَفِي لَفْظٍ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَمِنْ بَعْدِ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ أَرْبَعَ رِقَابٍ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں (نمازِ فجر سے) طلوع آفتاب تک بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا رہوں اور اس کی بڑائی، حمد، تسبیح اور تہلیل بیان کرتا رہوں تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے دو یا زائد گردنوں کو آزاد کروں، ایک روایت میں چار گردنوں کا ذکر ہے، اور اگر میں نمازِ عصر سے غروبِ آفتاب تک یہی ذکر کرتا رہوں تو یہ عمل مجھے اس سے زیادہ پسند ہو گا کہ میں اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے چار گردنیں آزاد کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5508]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير:8028، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22194 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22547»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5509
عَنْ سَهْلٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ لِمَ سَمَّى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَهُ الَّذِي وَفَّى لِأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ كُلَّمَا أَصْبَحَ وَأَمْسَى فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ حَتَّى يَخْتِمَ الْآيَةَ
۔ سہل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو بتلا دوں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں یہ کیوں فرمایا کہ ابراہیم وفا دار اور پورا حق ادا کرنے والا تھا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ صبح شام یہ ذکر کیا کرتے تھے: {فَسُبْحَانَ اللّٰہِ حِینَ تُمْسُونَ وَحِینَ تُصْبِحُونَ} … پس اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھا کرو جب کہ تم شام کرو اور جب صبح کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5509]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد، وسھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 427، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15624 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15709»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے شروع میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ کیا ہے: {اَمْ لَمْ یُنَبَّأْ بِمَا فِی صُحُفِ مُوْسٰی وَاِبْرَاہِیْمَ الَّذِی وَفّٰی۔} … کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسی (علیہ السلام) کے صحیفوں میں تھی اور اس ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں، جس نے پورا حق ادا کیا تھا۔ (سورۂ نجم: ۳۶، ۳۷)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5510
عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَالَ حِينَ يُصْبِحُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَقَرَأَ الثَّلَاثَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَكَّلَ اللَّهُ بِهِ سَبْعِينَ أَلْفَ مَلَكٍ يُصَلُّونَ عَلَيْهِ حَتَّى يُمْسِيَ إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ مَاتَ شَهِيدًا وَمَنْ قَالَهَا حِينَ يُمْسِي كَانَ بِتِلْكَ الْمَنْزِلَةِ
۔ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے صبح کے وقت تین بار پڑھا: أَعُوذُ بِاللّٰہِ السَّمِیعِ الْعَلِیمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمِاور پھر سورۂ حشر کی آخری تین آیات تلاوت کیں تو اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کو مقرر کرے گا، وہ اس کے لیے شام تک دعائے رحمت کرتے رہیں گے اور اگر وہ دن کو فوت ہو گیا تو شہادت کی موت پائے گا اور جس نے شام کو یہ ذکر کیا، اس کو بھی صبح تک یہی فضیلت حاصل ہو گی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5510]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، خالد بن طھمان ضعّفه ابن معين، وقال: خلط قبل موته بعشر سنين، وحسّن الرأي فيه ابو داود وابو حاتم۔ وأما نافع بن ابي نافع الراوي عن معقل، فان كان ھو نفيع بن الحارث فھو متروك الحديث، وان كان غير فھو لا يعرف، أخرجه الترمذي: 2922، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20572»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5511
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُ قَالَ لِأَبِيهِ يَا أَبَتِ إِنِّي أَسْمَعُكَ تَدْعُو كُلَّ غَدَاةٍ اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا ثَلَاثًا حِينَ تُصْبِحُ وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي وَتَقُولُ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ تُعِيدُهَا حِينَ تُصْبِحُ ثَلَاثًا وَثَلَاثًا حِينَ تُمْسِي قَالَ نَعَمْ يَا بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو بِهِنَّ فَأُحِبُّ أَنْ أَسْتَنَّ بِسُنَّتِهِ قَالَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَوَاتُ الْمَكْرُوبِ اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
۔ عبد الرحمن بن ابو بکرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سے کہا: اے ابا جان! میں آپ کو ہر صبح و شام کو تین تین بار یہ کلمات کہتے ہوئے سنتا ہوں: اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَدَنِی اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی سَمْعِی، اَللّٰہُمَّ عَافِنِی فِی بَصَرِی لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْت۔(اے اللہ! میرے بدن میں عافیت دے، اے اللہ! میرے کان میں عافیت دے، اے اللہ! میری آنکھ میں عافیت دے، تو ہی معبودِ برحق ہے) اور اسی طرح ہر صبح و شام کو میں سنتا ہوں کہ آپ تین تین بار یہ دعا پڑھتے ہیں: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْکُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللّٰہُمَّ إِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! میں کفر اور فقر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، اے اللہ! میں عذاب ِ قبر سے تیری پناہ میں آتا ہوں، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، اے میرے پیارے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کلمات کے ساتھ دعا کرتے ہوئے سنا تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اقتدا کرنا پسند کرتا ہوں، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے چین اور غم زدہ آدمی کی دعا یہ ہے: اَللّٰہُمَّ رَحْمَتَکَ أَرْجُو، فَلَا تَکِلْنِی إِلٰی نَفْسِی طَرْفَۃَ عَیْنٍ، أَصْلِحْ لِی شَأْنِی کُلَّہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ۔ (اے اللہ! میں صرف تیری رحمت کی امید رکھتا ہوں، پس تو میری ذات کو پلک بھرکے لیے میرے سپرد نہ کر اور میرا سارا معاملہ سنوار دے، تو ہی معبودِ برحق ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5511]
تخریج الحدیث: «(حديث: اللهم عافني في بدني۔) حسن الإسناد، و(حديث: دعوات المكروب۔) حسن، قاله الالباني۔ وھذا اسناد حسن في المتابعات والشواھد، جعفر بن ميمون ضعيف يعتبر به، أخرجه ابوداود: 5090، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20430 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20701»

الحكم على الحديث:
( حديث : اللهم عافني في بدني۔) حسن الإسناد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. باب
نیند کے آداب اور اذکار کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: Q5512]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَاب مَا جَاءَ فِي وُضُوْءِ قَبْلَ النَّوْمِ وَغَلْقِ الْبَابِ وَاطْفَاءِ السِّرَاجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5512
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ ثُمَّ يَرْقُدُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو نماز والا وضو کرتے اور پھر سو جاتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5512]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24902 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25414»

الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5513
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں گوشت کی بو یا چکناہٹ ہو اور پھر اس وجہ سے وہ کسی تکلیف میںمبتلا ہو جائے تو وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5513]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 3852، والترمذي: 3297، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10953»
وضاحت: فوائد: … کھانے کے بعد ہاتھ دھونا مستحب ہے، بالخصوص سونے سے پہلے، چکنائی کی بو پا کر کوئی کیڑا مکوڑا بھی کاٹ سکتا ہے اور یہ کھانا خراب ہو کر کسی بیماری کا سبب بھی بن سکتا ہے، اس لیے کھانے کے بعد ہاتھ دھو لینے چاہییں اور منہ بھی صاف کر لینا چاہیے، جیسا کہ دوسری احادیث سے ثابت ہوتا ہے، اسلام ہر حالت میں نظافت اور پاکیزگی کی تاکید کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں