🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. بَاب مَا جَاءَ فِي وُضُوْءِ قَبْلَ النَّوْمِ وَغَلْقِ الْبَابِ وَاطْفَاءِ السِّرَاجِ وَغَيْرِ ذَلِكَ
سونے سے پہلے وضو کرنے، دروازہ بند کرنے اور چراغ بجھانے وغیرہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5514
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَتْرُكُوا النَّارَ فِي بُيُوتِكُمْ حِينَ تَنَامُونَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سوتے وقت گھروں میں آگ نہ چھوڑا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5514]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6293، ومسلم: 2015، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5028»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6293
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5515
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَبِيتَنَّ النَّارُ فِي بُيُوتِكُمْ فَإِنَّهَا عَدُوٌّ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آگ ہر گز تمہارے گھروں میں رات نہ گزارنے پائے، کیونکہ یہ تمہاری دشمن ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5515]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوعوانه: 5/335، والحاكم: 4/284، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5396»
وضاحت: فوائد: … آگ میں لوگوںکے لیے بڑے فائدے ہیں، لیکن دشمن کی طرح اس کے ضرر سے کبھی بھی امن میں نہیں رہا جا سکتا، اس نے کئی لوگوں کو جلایا، گھروں کو جلایا اور گھروں کے ساز و سامان کو جلایا، لہذا سوتے وقت گھر کے اندر آگ کے وجود کو ختم کر کے سونا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5516
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَجِيفُوا أَبْوَابَكُمْ وَأَكْفِئُوا آنِيَتَكُمْ وَأَوْكِئُوا أَسْقِيَتَكُمْ وَأَطْفِئُوا سُرُجَكُمْ فَإِنَّهُ لَنْ يُؤْذَنَ لَهُمْ بِالتَّسَوُّرِ عَلَيْكُمْ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اللہ کا نام لے کر) دروازے بند کر دیا کرو، برتنوں کو الٹا کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطانوں کو ہر گز یہ اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ دیواروں کو پھلانگ کر تمہارے گھروں میںگھس آ ئیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5516]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22264 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22620»
وضاحت: فوائد: … بسم اللہ پڑھ کر گھروں کے دروازے بند کیے جائیں، دیکھیں حدیث نمبر (۵۵۶۸)۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5517
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ فَقَالَ إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ مدینہ منورہ میں ایک گھر مالکوں سمیت جل گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان کی صورتحال بتلائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب تم سونے لگو تو اس کو بجھا دیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5517]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6294، ومسلم: 2016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19571 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19800»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6294
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5518
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَغْلِقُوا الْأَبْوَابَ وَأَوْكِئُوا الْأَسْقِيَةَ وَخَمِّرُوا الْإِنَاءَ وَأَطْفِئُوا السُّرُجَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَفْتَحُ غَلَقًا وَلَا يَحُلُّ وِكَاءً وَلَا يَكْشِفُ إِنَاءً فَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى أَهْلِ الْبَيْتِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دروازوں کو بند کر دیا کرو، مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، برتنوں کو ڈھانپ دیا کرو اور چراغوں کو بجھا دیا کرو، کیونکہ شیطان نہ بند دروازے کو کھولتا ہے، نہ مشکیزے کی ڈوری کو کھولتا ہے، نہ برتن کا ڈھکن ہٹاتا ہے اور آگ کی وجہ سے فاسق جانور یعنی چوہیا گھروالوں پر آگ لگا دیتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5518]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3280، ومسلم: 2012، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15145 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15212»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم کی روایت میں ہے: اگر برتن ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر کوئی لکڑی اس کے اوپر رکھ دے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3280
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ هَيْئَةِ الْاضْطِجَاعِ لِلنَّوْمِ وَمَا يَفْعَلُ مَنْ أَرَادَ ذلِكَ وَالنَّهَى عَنْ ضِبْعَةِ أَهْلِ النَّارِ وَغَيْرِ ذلِكَ
نیند کے لیے لیٹنے کی کیفیت اور لیٹنے کا ارادہ رکھنے والے سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان اور جہنمی لوگوں کی طرح لیٹنے اور اس جیسے دوسرے امور کی ممانعت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5519
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا نَامَ وَضَعَ يَمِينَهُ تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ
۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے لگتے تو اپنا دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ (اے اللہ! جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5519]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الترمذي في الشمائل: ص 137، وابن ابي شيبة: 9/ 76، وابويعلي: 5021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3796 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3796»
وضاحت: فوائد: … یہ دعا تین بار پڑھی جائے گی، جیسا کہ حدیث نمبر (۵۵۲۱) سے ثابت ہو رہاہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5520
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ وَقَالَ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ أَوْ تَجْمَعُ عِبَادَكَ
۔ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بستر پر آتے تو دایاں ہاتھ دائیں رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: رَبِّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ(اے میرے ربّ! جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا، اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچالینا)۔ ایک روایت میں تَبْعَثُ کے بجائے تَجْمَعُ کے الفاظ کا ذکر ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5520]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الترمذي: 3398، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23633»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5521
عَنْ حَفْصَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا مِثْلَهُ وَفِيهِ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثًا
۔ زوجۂ رسول سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، پھر انھوں نے بھی اسی قسم کی مرفوع روایت بیان کی ہے، البتہ اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا تین بار پڑھتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5521]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 32، 5045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26462 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26994»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5522
عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ وَرَجُلٍ آخَرَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ تَوَسَّدَ يَمِينَهُ وَيَقُولُ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ وَقَالَ الْآخَرُ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ سونے کا ارادہ کرتے تو دایاں ہاتھ سر کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِی عَذَابَکَ یَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَکَ(اے اللہ! اس دن مجھے اپنے عذاب سے بچانا، جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5522]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 3399، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18664»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5523
عَنْ يَعِيشَ بْنِ طِهْفَةَ الْغِفَارِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ ضِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيمَنْ تَضَيَّفَهُ مِنَ الْمَسَاكِينِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي اللَّيْلِ يَتَعَاهَدُ ضَيْفَهُ فَرَآنِي مُنْبَطِحًا عَلَى بَطْنِي فَرَكَضَنِي بِرِجْلِهِ وَقَالَ لَا تَضْطَجِعْ هَذِهِ الضِّجْعَةَ فَإِنَّهَا ضِجْعَةٌ يُبْغِضُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ سیدنا طہفہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن مساکین کی ضیافت کی تھی، میں بھی ان میں شامل تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مہمانوں کے خیال کے ارادے سے رات کو ہمارے پاس آئے اور مجھے اس حال میں پایا کہ میں پیٹ کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاؤں سے مجھے ٹھوکر لگائی اور فرمایا: اس طرح نہ لیٹا کر، اللہ تعالیٰ لیٹنے کی اس کیفیت کو ناپسند کرتاہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5523]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه أبوداود: 5040، وابن ماجه: 3723، 3724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24014»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں