🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب إِحْلاَلِ الرِّضْوَانِ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَلاَ يَسْخَطُ عَلَيْهِمْ أَبَدًا:
باب: اس بات کا بیان کہ جنتیوں پر اللہ تعالیٰ کبھی ناراض نہیں ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2829 ترقیم شاملہ: -- 7140
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، فَيَقُولُ: هَلْ رَضِيتُمْ؟، فَيَقُولُونَ: وَمَا لَنَا لَا نَرْضَى يَا رَبِّ وَقَدْ أَعْطَيْتَنَا مَا لَمْ تُعْطِ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، فَيَقُولُ: أَلَا أُعْطِيكُمْ أَفْضَلَ مِنْ ذَلِكَ؟، فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ وَأَيُّ شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ ذَلِكَ، فَيَقُولُ: أُحِلُّ عَلَيْكُمْ رِضْوَانِي فَلَا أَسْخَطُ عَلَيْكُمْ بَعْدَهُ أَبَدًا ".
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل اہل جنت سے فرمائے گا: اے اہل جنت! وہ کہیں گے: لبیک، اے ہمارے رب! زہے نصیب کہ ہم تیرے سامنے حاضر ہیں اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے۔ تو وہ فرمائے گا: کیا تم راضی ہو گئے ہو؟ وہ سب کہیں گے: ہم راضی کیوں نہ ہوں؟ اے ہمارے رب! جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کر دیا ہے جو تو نے اپنی ساری مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا۔ وہ فرمائے گا: کیا میں تمھیں اس سے بھی بہتر عطا نہ کروں؟ تو وہ کہیں گے: اے رب! (جو تو نے عطا کر دیا ہے) اس سے افضل کیا ہے؟ وہ فرمائے گا: میں تم پر اپنی رضا نازل کرتا ہوں، اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7140]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا: اے اہل جنت! وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ہم حاضر ہیں، تیری اطاعت کے لیے حاضر ہیں، ہر قسم کی خیر تیرے قبضے میں ہے جس کو جو چاہیں عطا فرمائیں، وہ فرمائے گا: کیا تم خوش ہو؟ یعنی جنت کی نعمتوں پر مطمئن ہو؟ وہ جواب دیں گے: ہم کیوں راضی اور خوش نہ ہوں گے، اے ہمارے رب! تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرما دیا ہے، جو اپنی مخلوق میں سے کسی کو نہیں دیا ہے، تو اللہ فرمائے گا: کیا میں تمہیں اس سے بھی افضل (برتر) چیز نہ دوں؟ وہ عرض کریں گے: اے ہمارے رب! ان سے افضل کون سی چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں تمہیں اپنی دائمی اور ابدی رضامندی عنایت کرتا ہوں، اس کے بعد اب میں کبھی تم پر ناراض نہ ہوں گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7140]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2829
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب تَرَائِي أَهْلِ الْجَنَّةِ أَهْلَ الْغُرَفِ كَمَا يُرَى الْكَوْكَبُ فِي السَّمَاءِ:
باب: اس بات کے بیان میں کہ جنت والے جنت میں ایک دوسرے کے بالا خانے اس طرح دیکھیں گے جس طرح کہ تم آسمانوں میں ستاروں کو دیکھتے ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2830 ترقیم شاملہ: -- 7141
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ الْغُرْفَةَ فِي الْجَنَّةِ كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ فِي السَّمَاءِ "،
یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ہمیں ابوحازم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت والے جنت کے بالاخانے کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ آسمان میں ستارے کو دیکھتے ہو“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7141]
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہلِ جنت، جنت میں بالا خانہ اس طرح ایک دوسرے کو دکھائیں گے، جس طرح تم آسمان میں ستارے کو ایک دوسرے کو دکھاتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7141]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2830
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2831 ترقیم شاملہ: -- 7142
قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِذَلِكَ النُّعْمَانَ بْنَ أَبِي عَيَّاشٍ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: كَمَا تَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ فِي الْأُفُقِ الشَّرْقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ "،
(ابوحازم نے) کہا: میں نے یہ روایت نعمان بن ابی عیاش سے بیان کی تو انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی افق میں چمکتے ہوئے ستارے کو دیکھتے ہو“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7142]
ابو حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے یہ حدیث نعمان بن ابی عیاش رحمہ اللہ کو سنائی تو انہوں نے کہا، میں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے سنا: ”جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں روشن ستارے کو دیکھتے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7142]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2831
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2831 ترقیم شاملہ: -- 7143
وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا نَحْوَ حَدِيثِ يَعْقُوبَ.
وہیب نے ابوحازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7143]
امام صاحب اپنے ایک اور استاد سے دونوں صحابہ رضی اللہ عنہما سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7143]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2831
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2831 ترقیم شاملہ: -- 7144
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَيَتَرَاءَوْنَ أَهْلَ الْغُرَفِ مِنْ فَوْقِهِمْ، كَمَا تَتَرَاءَوْنَ الْكَوْكَبَ الدُّرِّيَّ الْغَابِرَ مِنَ الْأُفُقِ مِنَ الْمَشْرِقِ أَوِ الْمَغْرِبِ لِتَفَاضُلِ مَا بَيْنَهُمْ "، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تِلْكَ مَنَازِلُ الْأَنْبِيَاءِ لَا يَبْلُغُهَا غَيْرُهُمْ، قَالَ: " بَلَى، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ رِجَالٌ آمَنُوا بِاللَّهِ وَصَدَّقُوا الْمُرْسَلِينَ ".
عطاء بن یسار نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت فضیلت میں باہمی فرق کی بنا پر اپنے اوپر بالاخانوں میں رہنے والوں کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم آسمان کے مشرقی یا مغربی کنارے میں چمکتے ہوئے تنہا ستارے کو دیکھتے ہو“۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ انبیاء علیہم السلام کے رہنے کی جگہیں ہوں گی جن تک دوسرا کوئی نہیں پہنچ سکتا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ ایسے مرد ہوں گے جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7144]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اہل جنت اپنے سے اوپر بالا خانہ والوں کو اس طرح دیکھیں گے، جس طرح تم اس روشن ستارے کو دیکھتے ہو جو دور کے مشرقی یا مغربی کنارے میں جا رہا ہوتا ہے، اس فرق و امتیاز کی بنا پر جو ان میں باہمی ہو گا۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ انبیاء کے مقامات ہوں گے، دوسرے لوگ ان تک نہ پہنچ سکیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیوں نہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ وہ لوگ ہوں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور انہوں نے رسولوں کی تصدیق کی۔“ یعنی جنہوں نے دل کی گہرائیوں سے صحیح اور حقیقی عملاً تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7144]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2831
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. باب فِيمَنْ يَوَدُّ رُؤْيَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ:
باب: ان لوگوں کے بیان میں کہ جنہیں اپنے گھر اور مال کے بدلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار پیارا ہو گا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2832 ترقیم شاملہ: -- 7145
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ (بھی) ہیں جو میرے بعد ہوں گے، ان میں سے (ہر) ایک چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل و عیال اور مال کی قربانی دے کر مجھے دیکھ لے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7145]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں سے، مجھ سے انتہائی شدید محبت رکھنے والے، ایسے لوگ میرے بعد ہوں گے، ان میں سے ایک پسند کرے گا: اے کاش! اپنا اہل اور مال خرچ کر کے مجھے دیکھ سکے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7145]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2832
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. باب فِي سُوقِ الْجَنَّةِ وَمَا يَنَالُونَ فِيهَا مِنَ النَّعِيمِ وَالْجَمَالِ:
باب: جنت کے بازار اور اس میں موجود نعمتوں اور حسن و جمال کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2833 ترقیم شاملہ: -- 7146
حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَسُوقًا يَأْتُونَهَا كُلَّ جُمُعَةٍ، فَتَهُبُّ رِيحُ الشَّمَالِ فَتَحْثُو فِي وُجُوهِهِمْ وَثِيَابِهِمْ، فَيَزْدَادُونَ حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ وَقَدِ ازْدَادُوا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُوهُمْ: وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا، فَيَقُولُونَ: وَأَنْتُمْ وَاللَّهِ لَقَدِ ازْدَدْتُمْ بَعْدَنَا حُسْنًا وَجَمَالًا ".
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک بازار ہے جس میں وہ (اہل جنت) ہر جمعہ کو آیا کریں گے تو (اس روز) شمال کی ایسی ہوا چلے گی جو ان کے چہروں پر اور ان کے کپڑوں پر پھیل جائے گی، وہ حسن و جمال میں اور بڑھ جائیں گے، وہ اپنے گھر والوں کے پاس واپس آئیں گے تو وہ (بھی) حسن و جمال میں اور بڑھ گئے ہوں گے، ان کے گھر والے ان سے کہیں گے: اللہ کی قسم! ہمارے (ہاں سے جانے کے) بعد تمہارا حسن و جمال اور بڑھ گیا ہے۔ وہ کہیں گے: اور تم بھی، اللہ کی قسم! ہمارے پیچھے تم لوگ بھی اور زیادہ خوبصورت و حسین ہو گئے ہو“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7146]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں ایک بازار ہے، جس میں لوگ ہر جمعہ کو آیا کریں گے۔ چنانچہ شمالی ہوا چلے گی اور ان کے چہروں اور کپڑوں کو (کستوری یا خوشبو) سے بھر دے گی، جس سے ان کے حسن جمال میں اضافہ ہو جائے گا، سو وہ اپنے گھر والوں کی طرف لوٹیں گے، ان کے حسن و جمال میں بھی اضافہ ہو چکا ہو گا تو ان کے گھر والے ان سے کہیں گے: «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ تم ہمارے پاس سے جانے کے بعد حسن و جمال میں بڑھ گئے ہو، تو وہ جواب دیں گے: تم بھی «وَاللّٰهِ!» ”اللہ کی قسم!“ ہمارے جانے کے بعد حسن و جمال میں بڑھ گئے ہو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7146]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2833
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ وَصِفَاتُهُمْ وَأَزْوَاجُهُمْ:
باب: اس بات کا بیان کہ جنتیوں کا پہلے گروہ جو داخل ہو گا ان کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح ہوں گے۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7147
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ جَمِيعًا، عَنْ ابْنِ عُلَيَّةَ وَاللَّفْظُ لِيَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: إِمَّا تَفَاخَرُوا وَإِمَّا تَذَاكَرُوا الرِّجَالُ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ أَمْ النِّسَاءُ؟، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : أَوَ لَمْ يَقُلْ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّتِي تَلِيهَا عَلَى أَضْوَإِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ لِكُلِّ امْرِئٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ اثْنَتَانِ، يُرَى مُخُّ سُوقِهِمَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَمَا فِي الْجَنَّةِ أَعْزَبُ "،
اسماعیل بن علیہ نے کہا: ہمیں ایوب نے محمد بن سیرین سے خبر دی کہ (حصول علم کے لیے جمع ہونے والے مردوں اور عورتوں نے) باہمی اظہار، تفاخر یا علمی مذاکرہ کرتے ہوئے (اس موضوع پر) بات کی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ تھا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہو گی۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی (ایسے شفاف اور منور جسم والی کہ) ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (پوری) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہو گا“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7147]
محمد بن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، لوگوں نے فخر و مباہات کے لیے کہا، یا باہمی مباحثہ کیا کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟ تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ”جنت میں داخل ہونے والا یہ پہلا گروہ اس کی صورت چودہویں کے ماہِ کامل کی سی ہوگی اور جو گروہ اس کے بعد ہوگا وہ آسمان کے سب سے زیادہ روشن اور جگمگاتے ستارے کی طرح ہوگی، ان میں سے ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی جن کی پنڈلیوں کا مغز، گوشت کے اندر سے دکھائی دے گا اور جنت میں کوئی انسان کنوارا نہیں رہے گا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7147]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7148
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: وَالنِّسَاءُ أَيُّهُمْ فِي الْجَنَّةِ أَكْثَرُ، فَسَأَلُوا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَقَالَ: اخْتَصَمَ الرِّجَالُ قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ.
سفیان نے ایوب سے اور انہوں نے محمد بن سیرین سے روایت کی، کہا: مردوں اور عورتوں میں بحث ہو گئی کہ ان میں سے جنت میں زیادہ کون ہوگا؟ پھر انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سے زیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہو گی۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی (ایسے شفاف اور منور جسم والی کہ) ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا۔ (پوری) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہو گا“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7148]
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مردوں اور عورتوں کا جھگڑا ہوا کہ جنت میں کس کی تعداد زیادہ ہو گی، چنانچہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے مذکورہ حدیث سنائی۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7148]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2834 ترقیم شاملہ: -- 7149
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ. ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِقُتَيْبَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ عَلَى أَشَدِّ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ إِضَاءَةً، لَا يَبُولُونَ وَلَا يَتَغَوَّطُونَ وَلَا يَمْتَخِطُونَ وَلَا يَتْفُلُونَ أَمْشَاطُهُمُ الذَّهَبُ، وَرَشْحُهُمُ الْمِسْكُ وَمَجَامِرُهُمُ الْأَلُوَّةُ وَأَزْوَاجُهُمُ الْحُورُ الْعِينُ أَخْلَاقُهُمْ عَلَى خُلُقِ رَجُلٍ وَاحِدٍ عَلَى صُورَةِ أَبِيهِمْ آدَمَ سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي السَّمَاءِ ".
قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی“۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی، الفاظ قتیبہ کے ہیں۔ دونوں نے کہا: ہمیں جریر نے عمارہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہو گی، وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہو گی۔ جو ان کے (فوراً) بعد جائیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن چمکتے ہوئے ستارے کی شکل میں ہوں گے، انھیں پیشاب کی حاجت ہو گی نہ پاخانے کی، نہ تھوکیں گے، نہ ناک سنکیں گے، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی، پسینہ کستوری کا ہو گا، ان کی انگیٹھیاں معطر عود (سلگتا) ہو گا، ان کی بیویاں غزال چشم حوریں ہوں گی، ان سب کے اخلاق و عادات ایک ہی آدمی کے خلق کے مطابق ہوں گے۔ اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل پر، (قامت میں) آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ساٹھ ہاتھ کے برابر“۔ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7149]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ۔“ [صحيح مسلم/كتاب الجنة وصفة نعيمها وأهلها/حدیث: 7149]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2834
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں