🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلاَءِ:
باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2921 ترقیم شاملہ: -- 7335
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ، فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ "،
محمد بن بشیر نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود تم سے جنگ کریں گے اور تم انھیں اچھی طرح قتل کرو گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ یہودی ہے، آگے بڑھ، اس کو قتل کر۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7335]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری یہودیوں سے یقیناً جنگ ہوگی اور تم ان کو قتل کرو گے، حتیٰ کہ پتھر بول کر بتائے گا: اے مسلمان! ادھر یہودی کھڑا ہے، آؤ اس کو قتل کردو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7335]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2921 ترقیم شاملہ: -- 7336
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي.
یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی حدیث میں کہا: ”یہ یہودی میرے پیچھے ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7336]
امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں، اس میں ہے: ”یہ یہودی میرے پیچھے ہے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7336]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2921 ترقیم شاملہ: -- 7337
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي تَعَالَ فَاقْتُلْهُ ".
عمر بن حمزہ نے کہا: میں نے سالم کو کہتے ہوئے سنا: ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور یہود آپس میں جنگ کرو گے، یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ میرے پیچھے ایک یہودی ہے، آگے بڑھ، اسے قتل کر دے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7337]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمھاری یہودیوں کے ساتھ جنگ ہو گی، حتیٰ کہ پتھر بول کر بتائے گا: اے مسلمان! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، آؤ اس کو قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7337]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2921 ترقیم شاملہ: -- 7338
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ: يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ ".
ابن شہاب نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی تم سے جنگ کریں گے (آخر کار) تمھیں ان پر تسلط عطا کر دیا جائے گا، یہاں تک کہ پتھر (بھی) کہے گا: اے مسلمان! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اس کو قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7338]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودی تمہارے ساتھ جنگ کریں گے، چنانچہ تمہیں ان پر غلبہ دیا جائے گا، حتیٰ کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، اس کو قتل کر دو۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7338]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2921
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2922 ترقیم شاملہ: -- 7339
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ الْيَهُودَ، فَيَقْتُلُهُمُ الْمُسْلِمُونَ حَتَّى يَخْتَبِئَ الْيَهُودِيُّ مِنْ وَرَاءِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ، فَيَقُولُ الْحَجَرُ أَوِ الشَّجَرُ: يَا مُسْلِمُ يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا يَهُودِيٌّ خَلْفِي فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ، إِلَّا الْغَرْقَدَ فَإِنَّهُ مِنْ شَجَرِ الْيَهُودِ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ مسلمان یہودیوں کے خلاف جنگ لڑیں گے اور مسلمان ان کو قتل کریں گے حتیٰ کہ یہودی درخت یا پتھر کے پیچھے چھپے گا اور پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! میرے پیچھے یہ ایک یہودی ہے، آگے بڑھ، اس کو قتل کر دے، سوائے غرقد کے درخت کے (وہ نہیں کہے گا) کیونکہ وہ یہود کا درخت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7339]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، حتیٰ کہ مسلمان یہودیوں سے لڑیں گے، چنانچہ مسلمان انہیں قتل کریں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان! اے اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے ہے، آؤ اسے قتل کر دو، سوائے غرقد کے درخت کے، کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7339]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2922
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2923 ترقیم شاملہ: -- 7340
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ كَذَّابِينَ "، وَزَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: آنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَعَمْ،
ابوالاحوص اور ابوعوانہ نے سماک سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت سے پہلے کئی کذاب ہوں گے۔“ ابوالاحوص کی حدیث میں انہوں (ابوبکر بن ابی شیبہ) نے مزید کہا کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے یہ (بات) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7340]
امام صاحب مختلف اساتذہ کی سند سے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت سے پہلے جھوٹے لوگ نمودار ہوں گے۔“ ابو الاحوص کی روایت میں ہے کہ سماک نے پوچھا: کیا آپ نے براہِ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7340]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2923
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2923 ترقیم شاملہ: -- 7341
وحَدَّثَنِي ابْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ سِمَاكٌ: وَسَمِعْتُ أَخِي ، يَقُولُ: قَالَ جَابِرٌ : فَاحْذَرُوهُمْ.
اور ابن مثنیٰ اور ابن بشار نے مجھے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ سماک نے کہا: میں نے اپنے بھائی کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ان (جھوٹوں) سے بچ کر رہو۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7341]
امام صاحب مذکورہ بالا حدیث دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔ سماک کہتے ہیں: میں نے اپنے بھائی کو یہ کہتے سنا، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ان سے بچ کر رہنا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7341]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2923
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 7342
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ، حَتَّى يُبْعَثَ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ قَرِيبٌ مِنْ ثَلَاثِينَ كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ "،
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ دجالوں اور کذابوں کو بھیجا جائے گا جو تیس کے قریب ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک دعویٰ کرتا ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7342]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، حتیٰ کہ بہت بڑے دھوکے باز، انتہائی جھوٹے تقریباً (30) کی تعداد میں اٹھائے جائیں گے، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7342]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 7343
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: يَنْبَعِثَ.
ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی، مگر انہوں نے کہا: یہاں تک کہ وہ (شیطان کی طرف سے) مبعوث بن کر آئیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7343]
امام صاحب ایک اور استاد سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ یہاں «يُبْعَثَ» کی بجائے «يَنْبَعِثَ» ہے ”اٹھیں گے“۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7343]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. باب ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ:
باب: ابن صیاد کا بیان۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2924 ترقیم شاملہ: -- 7344
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "، فَقَالَ: لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی ہے جو تمھارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7344]
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، چنانچہ ہمارا گزر بچوں کے پاس سے ہوا جن میں ابن صیاد بھی تھا، تو بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا، سو گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کو پسند نہ کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ تو اس نے کہا: نہیں، بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ سو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے اجازت دیجیے تاکہ میں اس کو قتل کر دوں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی ہے جو تم سمجھتے ہو (یعنی دجال ہے) تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔“ (کیونکہ دجال کو حضرت عیسیٰ نے قتل کرنا ہے) [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7344]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2924
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں