صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
16. باب الْفِتْنَةِ مِنَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ:
باب: مشرق سے فتنوں کا بیان جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہو گا۔
ترقیم عبدالباقی: 2905 ترقیم شاملہ: -- 7295
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَقَالَ: " رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي الْمَشْرِقَ ".
عکرمہ بن عمار نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”کفر کا سر ادھر سے ظاہر ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“ آپ کی مراد مشرق (کی سمت) سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7295]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے نکلے اور فرمایا: ”کفر کی چوٹی ادھر ہے جہاں سے شیطان نمودار ہوتا ہے۔“ یعنی مشرق سے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7295]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2905 ترقیم شاملہ: -- 7296
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَيَقُولُ: " هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ثَلَاثًا حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ ".
حنظلہ نے کہا: میں نے سالم سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرماتے ہوئے سنا: ”یاد رکھو! فتنہ اس طرف سے ہے، یاد رکھو! فتنہ اسی طرف سے ہے۔“ تین بار (فرمایا) ”جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ آپ کی مراد مشرق (کی سمت) سے تھی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7296]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”خبردار! فتنہ ادھر ہے، خبردار! فتنہ ادھر ہے،“ تین بار فرمایا: ”جہاں سے شیطان کے دو سینگ نمودار ہوتے ہیں۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7296]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2905 ترقیم شاملہ: -- 7297
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ، وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ، سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ، وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا سورة طه آية 40 "، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ سَالِمٍ، لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ.
عبداللہ بن عمر بن ابان، واصل بن عبدالاعلیٰ اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ ابن ابان کے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے سنا، کہہ رہے تھے: ”اے عراق والو! میں تم سے چھوٹے گناہ نہیں پوچھتا، نہ اس کو پوچھتا ہوں جو کبیرہ گناہ کرتا ہو، میں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنہ ادھر سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا، جہاں شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں۔ اور تم ایک دوسرے کی گردن مارتے ہو (حالانکہ مومن کی گردن مارنا کتنا بڑا گناہ ہے) اور موسیٰ علیہ السلام فرعون کی قوم کا ایک شخص غلطی سے مار بیٹھے تھے (نہ بہ نیت قتل کیونکہ گھونسے سے آدمی نہیں مرتا)، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’تو نے ایک خون کیا، پھر ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا‘۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7297]
فضیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اے اہل عراق! (تم کسی قدر زیرہ چھانتے ہو اور اونٹ نگلتے ہو) تم چھوٹے گناہوں کو کریدتے ہو اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہو، میں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”فتنہ ادھر سے آئے گا“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا، ”جہاں سے شیطان کے دو سینگ نمودار ہوتے ہیں۔“ اور تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے ہو، اور موسیٰ علیہ السلام نے تو بس ایک فرعونی کو چوک کر قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا: ﴿وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا﴾ [سورة طه: 40] ”اور تو نے ایک نفس کو قتل کیا تو ہم نے تجھے اس غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا۔“ احمد بن عمر کی روایت میں سالم نے «سَمِعْتُ» ”میں نے سنا“ نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7297]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2905
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
17. باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَعْبُدَ دَوْسٌ ذَا الْخَلَصَةِ:
باب: قیامت سے قبل دوس کی عورتوں کا ذوالخلصہ کی عبادت کرنے کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2906 ترقیم شاملہ: -- 7298
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ بْنُ حميد: أَخْبَرَنَا، وقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَضْطَرِبَ أَلَيَاتُ نِسَاءِ دَوْسٍ حَوْلَ ذِي الْخَلَصَةِ، وَكَانَتْ صَنَمًا تَعْبُدُهَا دَوْسٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ بِتَبَالَةَ ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ دوس کی عورتوں کے سرین، ذوالخلصہ کے ارد گرد (دوران طواف) منکیں گے۔“ وہ (ذوالخلصہ) تبالہ میں ایک بت تھا، جاہلی دور میں قبیلہ دوس اس کی پوجا کیا کرتا تھا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7298]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک دوس قبیلہ کی عورتوں کے سرین ذوالخلصہ کے گرد (طواف کرنے میں) حرکت کرنے نہیں لگیں گی، قیامت قائم نہیں ہو گی۔“ ذوالخلصہ تبالہ مقام میں ایک بت تھا، جس کی جاہلیت کے دور میں وہ بندگی کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7298]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2906
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2907 ترقیم شاملہ: -- 7299
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، وَأَبُو مَعْنٍ زَيْدُ بْنُ يَزِيدَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي مَعْنٍ قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا يَذْهَبُ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ حَتَّى تُعْبَدَ اللَّاتُ وَالْعُزَّى "، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ حِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ سورة التوبة آية 33، أَنَّ ذَلِكَ تَامًّا، قَالَ: " إِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا طَيِّبَةً فَتَوَفَّى كُلَّ مَنْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، فَيَبْقَى مَنْ لَا خَيْرَ فِيهِ فَيَرْجِعُونَ إِلَى دِينِ آبَائِهِمْ "،
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے اسود بن علاء سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات اور دن اس وقت تک ختم نہ ہوں گے جب تک لات اور عزیٰ (جاہلیت کے بت) پھر نہ پوجے جائیں گے۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں تو سمجھتی تھی کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ﴾ [سورہ الفتح: 28] ”اللہ وہ ہے جس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ اس کو سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرک لوگ برا مانیں“ کہ یہ وعدہ پورا ہونے والا ہے (اور اسلام کے سوا اور کوئی دین غالب نہ رہے گا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہو گا، ایسا ہی ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا بھیجے گا کہ جس سے ہر مومن مر جائے گا، یہاں تک کہ ہر وہ شخص بھی جس کے دل میں دانے کے برابر بھی ایمان ہے اور وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جن میں بھلائی نہیں ہو گی۔ پھر وہ لوگ اپنے (مشرک) باپ دادا کے دین پر لوٹ جائیں گے۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7299]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”شب و روز اس وقت تک ختم نہیں ہوں گے جب تک لات اور عزیٰ کی بندگی شروع نہیں ہو جائے گی۔“ تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! جب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿اللہ ہی وہ ذات ہے، جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام ادیان پر غالب کر دے اگرچہ مشرکوں کو یہ چیز ناگوار گزرے۔﴾ [سورة التوبة: 33] تو میں نے خیال کر لیا ہے کہ یہ وعدہ مکمل ہے (اسلام کے سوا اب کوئی دین غالب نہیں ہو گا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک اللہ کو منظور ہو گا یہ غالب ہی رہے گا، پھر اللہ ایک پاکیزہ عمدہ ہوا بھیجے گا تو ہر اس انسان کی روح قبض ہو جائے گی جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا، صرف وہی لوگ رہ جائیں گے جو ایمان سے خالی ہوں گے، چنانچہ وہ اپنے آبائی دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7299]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2907
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2907 ترقیم شاملہ: -- 7300
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ وَهُوَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ابوبکر حنفی نے کہا: ہمیں عبدالحمید بن جعفر نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7300]
اس قسم کی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7300]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2907
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
18. باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلاَءِ:
باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 7301
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ، فَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي مَكَانَهُ ".
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی، یہاں تک کہ ایک شخص دوسرے آدمی کی قبر کے پاس سے گزرے گا تو کہے گا: کاش! اس کی جگہ میں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7301]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی، حتی کہ ایک شخص دوسرے شخص کی قبر سے گزرے گا، تو کہے گا: اے کاش! اس کی جگہ میں ہوتا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7301]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 157 ترقیم شاملہ: -- 7302
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ، فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ، وَلَيْسَ بِهِ الدِّينُ إِلَّا الْبَلَاءُ ".
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک رخصت نہیں ہو گی، یہاں تک کہ ایک شخص (کسی کی) قبر کے پاس سے گزرے تو اس پر لوٹ پوٹ ہو گا اور کہے گا: کاش! اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا اور اس کے پاس دین نہیں ہو گا، بس آزمائش ہو گی۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7302]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہوگی، حتیٰ کہ ایک آدمی قبر کے پاس سے گزرے گا تو اس پر لوٹ پوٹ ہوگا اور کہے گا: اے کاش! اس قبر والے کی جگہ میں ہوتا، اور یہ دین کی خاطر نہیں بلکہ محض مصیبت کی بنا پر ہوگا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7302]
ترقیم فوادعبدالباقی: 157
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2908 ترقیم شاملہ: -- 7303
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَتَلَ، وَلَا يَدْرِي الْمَقْتُولُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ قُتِلَ ".
ابن ابی عمر مکی نے ہمیں یہ حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مروان نے یزید سے، اور وہ ابن کیسان ہے، حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہو گا کہ اس نے کیوں قتل کیا اور نہ مقتول کو پتہ ہو گا کہ اسے کس بات پر قتل کیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7303]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا، قاتل کو پتہ نہیں ہوگا، اس نے قتل کیوں، کس سبب کی بنا پر کیا ہے اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا، اسے اس وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔“ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7303]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2908
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2908 ترقیم شاملہ: -- 7304
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ، وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ "، فَقِيلَ: كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ؟، قَالَ: " الْهَرْجُ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبَانَ، قَالَ هُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ: عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، لَمْ يَذْكُرْ الْأَسْلَمِيَّ.
عبداللہ بن عمر بن ابان اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن فضیل نے ابواسماعیل اسلمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ لوگوں پر ایسا دن آ جائے جس میں قاتل کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ پتہ نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا گیا۔“ عرض کی گئی: یہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھا دھند خونریزی ہو گی، قاتل اور مقتول دونوں (جہنم کی) آگ میں جائیں گے۔“ ابن ابان کی روایت میں (اس طرح) ہے: کہا: وہ یزید بن کیسان ہے (جس کے بارے میں کہا گیا ہے) ابواسماعیل سے روایت ہے (اس کا پورا نام ابواسماعیل یزید بن کیسان ہے) انہوں نے (اس کی نسبت) ”اسلمی“ کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7304]
امام صاحب نے عبداللہ بن عمر بن ابان اور واصل بن عبدالاعلیٰ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا فنا نہیں ہو گی، حتیٰ کہ لوگوں پر ایسا وقت آئے گا کہ قاتل کو پتہ نہیں ہو گا کہ اس نے قتل کیوں کیا ہے اور نہ مقتول کو علم ہو گا کہ اسے کیوں قتل کیا گیا ہے۔“ تو پوچھا گیا: یہ کیوں کر ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قتل و غارت عام ہو گی، قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہوں گے۔“ (کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے قتل کے درپے تھے) ابن ابان کی روایت میں ہے کہ ابو اسماعیل سے مراد یزید بن کیسان ہے اور اس نے ابو اسماعیل کے بعد اسلمی نہیں کہا۔ [صحيح مسلم/كتاب الفتن وأشراط الساعة/حدیث: 7304]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2908
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة