الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بابُ فِي أَنَّ الْأَنْبِيَاءَ علیہم السلام لِيْ لَا يُورَثُونَ
اس چیز کا بیان انبیائے کرام h کا وارث نہیں بنایا جاتا
حدیث نمبر: 6347
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّا مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْتُ بَعْدَ مَؤُونَةِ عَامِلِي وَنَفَقَةِ نِسَائِي صَدَقَةٌ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم جو انبیاء کی جماعت ہیں،ہمارا کوئی وارث نہیں بنتا، میں اپنے عاملوں اور بیویوں کے اخراجات کے بعد جو کچھ چھوڑوں، وہ صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6347]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2776، 3096، 6729، ومسلم: 1760، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9972 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9973»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2776
حدیث نمبر: 6348
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا وَفِي لَفْظٍ وَلَا دِرْهَمًا مَا تَرَكْتُهُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَؤُونَةِ عَامِلِي يَعْنِي عَامِلَ أَرْضِهِ فَهُوَ صَدَقَةٌ
۔ (دوسری سند)رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے وارث دینار و درہم کی صورت میں میری میراث سے حاصل نہیں کر سکتے، میں اپنی بیویوں اور زمین کے عاملوں کے خرچے کے بعد جو کچھ ترک کر کے جاؤں، وہ صدقہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6348]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8879»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8879
حدیث نمبر: 6349
عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَنْ يَرِثُكَ إِذَا مِتَّ قَالَ وَلَدِي وَأَهْلِي قَالَتْ فَمَا لَنَا لَا نَرِثُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ النَّبِيَّ لَا يُورَثُ وَلَكِنِّي أَعُولُ مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَعُولُ وَأُنْفِقُ عَلَى مَنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ
۔ سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: جب آپ فوت ہوں گے تو آپ کا وارث کون ہوگا؟ انہوں نے کہا: میری اولاد اور میری بیوی، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: پھر ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث کیوں نہیں بن سکتے؟ انہوں نے کہا:کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ بیشک نبی کا وارث نہیں بنا جاتا۔ ہاں میں (ابو بکر) ان کی کفالت کروں گا کہ جن کی کفالت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کرتے تھے اور میں ہر اس شخص پر خرچ کروں گا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس پر خرچ کیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6349]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1609، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 60 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 60»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1609
حدیث نمبر: 6350
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وفات پاگئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات نے چاہا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجیں، تاکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی میراث کا مطالبہ کر سکیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہمارے وارث نہیں بنتے، ہم جو کچھ چھوڑکر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6350]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6730، ومسلم: 1758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26790»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6730
حدیث نمبر: 6351
عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَطَلْحَةَ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ نَشَدْتُكُمْ بِاللَّهِ الَّذِي تَقُومُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِهِ أَعَلِمْتُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّا لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ
۔ سیدنا مالک بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سنا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہم سے مخاطب ہو کر کہا: میں تمہیں اس اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ جس کے حکم کے آسرے پر آسمان و زمین قائم ہیں، کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ہماری وراثت نہیں ہوتی، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں، وہ صدقہ ہوتا ہے۔ ان سب نے کہا: جی ہاں، ہم نے سنا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6351]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6730، ومسلم: 1758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1550»
وضاحت: فوائد: … تمام احادیث ِ مبارکہ کا تقاضا یہ ہے کہ انبیائے کرام hکا ترکہ ان کے ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاتا، وہ سارے کا سارا از خود صدقہ ہو جاتا ہے، البتہ اس ترکہ میں سے ان افراد کی کفالت کی جائے گی، جن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کفیل تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6730
4. بَابُ البَدْهِ بِذَوِي الْقُرُوضِ وَإِعْطَاءِ الْعَصَبَةِ مَا بَقِى
اصحاب الفروض سے ابتداء کرنے اور ان سے بچ جانے والی میراث کو عصبہ میں تقسیم کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6352
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِأَوْلَى رَجُلٍ ذَكَرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مقررہ حصے ان کے حقداروں کو دو، پھر جو بچ جائے، وہ قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6352]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6746، ومسلم: 1615، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2657»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں اصحاب الفروض اور عصبہ کی ترتیب بیان کی گئی ہے، ترکہ سب سے پہلے اصحاب الفروض میں تقسیم کیا جائے گا، ان سے جو مال بچ جائے گا، وہ عصبہ میں تقسیم ہو گا۔
اصحاب الفروض وہ رشتہ دار ہیں کہ شریعت نے جن کے حصے مقرر کر دیئے ہیں،یہ کل بارہ افراد ہیں، مثلا بیٹی، بہن، ماں، بیوی، خاوند، باپ وغیرہ۔
اصحاب الفروض وہ رشتہ دار ہیں کہ شریعت نے جن کے حصے مقرر کر دیئے ہیں،یہ کل بارہ افراد ہیں، مثلا بیٹی، بہن، ماں، بیوی، خاوند، باپ وغیرہ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6746
حدیث نمبر: 6353
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اقْسِمُوا الْمَالَ بَيْنَ أَهْلِ الْفَرَائِضِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَمَا تَرَكَتِ الْفَرَائِضُ فَلِأَوْلَى ذَكَرٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق مال کو اصحاب الفروض میں تقسیم کرو، مقررہ حصوں سے جو کچھ بچ جائے، وہ قریبی مذکر رشتہ دار کے لیے ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6353]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2860»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2860
حدیث نمبر: 6354
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةُ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِابْنَتَيْهَا مِنْ سَعْدٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَاتَانِ ابْنَتَا سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ قُتِلَ أَبُوهُمَا مَعَكَ فِي أُحُدٍ شَهِيدًا وَإِنَّ عَمَّهُمَا أَخَذَ مَالَهُمَا فَلَمْ يَدَعْ لَهُمَا مَالًا وَلَا يُنْكَحَانِ إِلَّا وَلَهُمَا مَالٌ قَالَ فَقَالَ يَقْضِي اللَّهُ فِي ذَلِكَ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْمِيرَاثِ فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمِّهِمَا فَقَالَ أَعْطِ ابْنَتَيْ سَعْدٍ الثُّلُثَيْنِ وَأُمَّهُمَا الثُّمُنَ وَمَا بَقِيَ فَهُوَ لَكَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ کی بیوی اپنی دو بیٹیاں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! یہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو دو بیٹیاں ہیں، ان کا باپ جنگ احد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شہید ہو چکا ہے، اب ان کے چچا نے تمام مال سمیٹ لیا ہے، ظاہر ہے اگر ان بیٹیوں کے پاس مال نہ ہوا تو کوئی آدمی ان سے نکاح کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں اللہ تعالیٰ کو ئی فیصلہ فرمائے گا۔ پھر میراث والی آیت نازل ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان بچیوں کے چچا کو بلایا اورفرمایا: سعد کی بیٹیوں کو دوتہائی اور ان کی ماں کو آٹھواں حصے دے، پھر جو کچھ بچ جائے وہ تیرا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6354]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2891، 2892، وابن ماجه: 2720، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14798 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14858»
وضاحت: فوائد: … جب میت کی دو یا زائد بیٹیاں ہوں تو ان کو دو تہائی ملتا ہے، جب خاوند کی اولاد ہو تو اس کی بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے، چچا عصبہ ہے، اس لیے دو قسم کے اصحاب الفروض سے جو کچھ بچے گا، وہ چچا کو ملے گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين۔ أخرجه ابوداود: 2891
حدیث نمبر: 6355
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ زَوْجٍ وَأُخْتٍ لِأُمٍّ وَأَبٍ فَأَعْطَى الزَّوْجَ النِّصْفَ وَالْأُخْتَ النِّصْفَ فَكُلِّمَ فِي ذَلِكَ فَقَالَ سَيِّدُنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِذَلِكَ
۔ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے میت کے خاونداور حقیقی بہن کے بارے میں سوال کیا گیا، پس انھوں نے نصف خاوند کو اور نصف بہن کو دیا اور جب ان سے اس بارے میں بات کی گئی تو انھوں نے کہا: ہمارے سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے ہی فیصلہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6355]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله، ولانقطاعه فان مكحولا وعطية وضمرة وراشدا لم يسمع واحد منھم من زيد بن ثابت، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21978»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن مسئلہ ایسے ہی ہے کہ جب کسی مسئلہ میں خاوند اور عینی بہن جمع ہو جائیں تو خاوند کو بھی نصف ملے گا اور بہن کو بھی نصف۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي بكر بن عبد الله
5. بَابُ الْأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةٌ، وَقَرْضُ الْبِنْتِ مَعَ بِنْتِ الابْنِ
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 6356
عَنْ هُزَيْلِ بْنِ شُرَحْبِيلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا مُوسَى الْأَشْعَرِيَّ عَنْ امْرَأَةٍ تَرَكَتْ ابْنَتَهَا وَابْنَةَ ابْنِهَا وَأُخْتَهَا فَقَالَ النِّصْفُ لِلْابْنَةِ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ وَقَالَ ائْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنِي قَالَ فَأَتَوْا ابْنَ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ أَبِي مُوسَى فَقَالَ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شُعْبَةُ وَجَدْتُ هَذَا الْحَرْفَ مَكْتُوبًا لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الْابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةَ الثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ فَأَتَوْا أَبَا مُوسَى فَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَالَ أَبُو مُوسَى لَا تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ مَا دَامَ هَذَا الْحِبْرُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ
۔ ہزیل بن شرحبیل کہتے ہیں ایک آدمی نے سیدناابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ ایک عورت فوت ہو گئی ہے اور اس نے اپنے ورثاء میں ایک بیٹی، ایک پوتی اور ایک بہن چھوڑی ہے، ان کو اس کی وراثت سے کتنا حصہ ملے گا؟ انھوں نے کہا: مال کا ایک نصف بیٹی کو اور ایک نصف بہن کو ملے گا اور پوتی محروم رہے گی، اور ساتھ ہی کہنے لگے کہ تم سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ، وہ بھی میرے ساتھ اتفاق کریں گے، پس وہ گیا اور جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: اگر میں بھی یہی فیصلہ کر دوں تو میں تو گمراہ ہو جاؤں گا اور راہ راست والا نہ رہوں گا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کروں گا اوروہ یہ ہے کہ بیٹی کو جائیداد کا نصف، پوتی کو چھٹا حصہ ملے گا، تاکہ اولاد میں مال کا دو تہائی پورا ہو جائے اور جو مال باقی بچے گا، وہ بہن کو دیا جائے، پھر سائل نے آکر سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ والے فتویٰ سے آگاہ کیا،یہ سند کر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب تک یہ علم کا سمندر تمہارے اندر موجود ہے، مجھ سے کوئی سوال نہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6356]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6736، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4420 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4420»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6736