🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب موانع الارث
میراث کے موانع کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6337
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَذَلِكَ زَمَنَ الْفَتْحِ فَقَالَ هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيلٌ مِنْ مَنْزِلٍ ثُمَّ قَالَ لَا يَرِثُ الْكَافِرُ الْمُؤْمِنَ وَلَا الْمُؤْمِنُ الْكَافِرَ وَفِي لَفْظٍ الْمُسْلِمُ بَدَلَ الْمُؤْمِنِ
۔ سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر اللہ تعالی نے چاہا تو آپ کل مکہ میں کہاں اتریں گے؟ یہ فتح مکہ کے زمانے کی بات تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا عقیل نے ہمارے لئے کوئی جگہ چھوڑی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر مؤمن کا اورمؤمن کافر کا وارث نہیں بن سکتا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6337]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4282، 4283، ومسلم: 1351، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21752 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22095»
وضاحت: فوائد: … جب ابو طالب فوت ہوا تو اس کے دو بیٹے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے ترکہ سے محروم رہے، ایک سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور اس کے دو بیٹے عقیل اور طالب اس کے ساتھ کفر پر قائم تھے، سو سارا ترکہ ان دونوں میں تقسیم کر دیا گیا، پھر جب غزوۂ بدر میں طالب مارا گیا تو عقیل ساری جائداد کا وارث بن گیا اور پھر اس کو بیچ دیا، بعد میں سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ مسلمان ہو گئے تھے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کوئی کافر مسلمان کا اور کوئی مسلمان کافر کا وارث نہیں بن سکتا، کل موانع ارث تین ہیں: کفر، غلامی، قتل۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4282
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6338
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَتَوَارَثُ أَهْلُ مِلَّتَيْنِ شَتَّى
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو مختلف دینوں والے آپس میں ایک دوسرے کے وارث نہیں بنیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6338]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2911، وابن ماجه: 2731، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6664»
وضاحت: فوائد: … امام عظیم آبادی نے کہا: جمہور اہل علم کے نزدیک دو دینوں سے مراد اسلام اور کفر ہیں، اس طرح یہ حدیث سابق حدیث کے ہم معنی ہے، مختلف کفریہ ادیان والوں کا ایک دوسرے کا وارث بننا ثابت ہے، صرف امام اوزاعی اس حدیث کے عموم کے قائل ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہودی عیسائی کا اور عیسائییہودی کا وارث نہیں بنے گا، اسی طرح باقی ادیان والوں کی صورتحال ہو گی۔ (عون المعبود: ۲/ ۱۳۱۴)

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2911
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6339
عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ فَارْتَفَعُوا إِلَيْهِ فِي يَهُودِيٍّ مَاتَ وَتَرَكَ أَخَاهُ مُسْلِمًا فَقَالَ مُعَاذٌ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْإِسْلَامَ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ فَوَرَّثَهُ
۔ ابو اسود دیلی کہتے ہیں کہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں تھے، لوگ ان کے پاس ایک یہودی کا مقدمہ لے کر آئے، وہ مر گیا تھا اور ایک مسلمان بھائی کو بطورِ وارث چھوڑا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام اضافہ کرتا ہے، کمی نہیں کرتا۔ پھر انھوں نے اس مسلمان کو یہودی کا وارث بنایا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6339]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، ابو الاسود الديلي لايعرف له سماع من معاذ۔ أخرجه ابوداود: 2912، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22355»
وضاحت: فوائد: … راجح مسلک یہی ہے کہ مسلمان یہودی کا وارث نہیں بن سکتا، جیسا کہ اس باب کی پہلی دو احادیث سے پتہ چل رہا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6340
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ ابْنَهُ عَمَدًا فَرُفِعَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَجَعَلَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً وَقَالَ لَا يَرِثُ الْقَاتِلُ وَلَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُقْتَلُ وَالِدٌ بِوَلَدِهِ لَقَتَلْتُكَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے اپنے بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کردیا، جب اس کا مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پیش ہوا تو انہوں نے بطورِ دیت اس قاتل پر تیس حِقّوں، تیس جذعوں اور چالیس دو دانتے اونٹوں کا تعین کیا اور کہا: قاتل وارث نہیں بنتا، پھر کہا: اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ والد کو اولاد کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔ تو میں نے تجھے قصاصاً قتل کر دینا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6340]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2662،و الترمذي: 1400، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 346 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 346»
وضاحت: فوائد: … اگر باپ بیٹے کو جان بوجھ کر قتل کر دے تو اس کو قصاصاً قتل نہیں کیا جا سکتا ہے، البتہ وہ دیت ادا کرے گا، جو قتل ہونے والے کے وارثوں میں تقسیم ہو گی اور ایسے باپ کو مقتول کے ترکہ اور دیت سے محروم کر دیا جائے گا، کیونکہ قاتل قتل کی وجہ سے اپنے مقتول کی میراث سے محروم ہو جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2662
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6341
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ عُمَرُ لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ لِلْقَاتِلِ شَيْءٌ لَوَرَّثْتُكَ قَالَ وَدَعَا أَخَا الْمَقْتُولِ فَأَعْطَاهُ الْإِبِلَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ قاتل کو وراثت سے کچھ نہیں ملتا۔ تو میں تجھے مقتول بیٹے کا وارث قرار دیتا، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایا اور اسے اونٹ دے دئیے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6341]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 6/ 219، ومالك في ’’المؤطأ‘‘: 2/ 867، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 6368، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 347 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 347»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه البيھقي: 6/ 219
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6342
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ أَخَذَ عُمَرُ مِنَ الْإِبِلِ ثَلَاثِينَ حِقَّةً وَثَلَاثِينَ جَذَعَةً وَأَرْبَعِينَ ثَنِيَّةً إِلَى بَازِلِ عَامِهَا كُلُّهَا خَلِفَةٌ قَالَ ثُمَّ دَعَا أَخَا الْمَقْتُولِ فَأَعْطَاهَا إِيَّاهُ دُونَ أَبِيهِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ لِقَاتِلٍ شَيْءٌ وَفِي لَفْظٍ مِيرَاثٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تیس حِقّے، تیس جذعے اور چالیس ایسی اونٹنیاں لیں جو دو دانتے سے نویں سال میں داخل ہونے تک تھیں اور وہ ساری کی ساری حاملہ تھیں، پھر انھوں نے مقتول کے بھائی کو بلایایہ سارے اونٹ اسے دے دیئے اور باپ کو کچھ نہ دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میراث میں سے قاتل کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6342]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، وانظر الحديث السابق۔ أخرجه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 348 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 348»
وضاحت: فوائد: … ”بازِل“ ایسے اونٹ کو کہتے ہیں جو اپنی عمر کے نویں سال میں داخل ہو چکا ہو۔

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
2. بَابُ أَنَّ دِيَةَ الْمَقْتُولِ لِجَمِيعِ وَرَتَيْهِ، وَمَا جَاءَ فِي ميرَاتِ الْحَمْلِ بَعْدَ وَضْعِهِ إِنِ اسْتَهَلَّ
مقتول کی دیت تمام ورثاء کے لیے ہونے کا اور اس حمل کی میراث کا بیان، جس نے پیدا ہونے کے بعد چیخ ماری ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6343
عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَامَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: میری رائے یہ ہے کہ دیت صرف عصبہ کو دی جائے، کیونکہ یہی لوگ دیت بھرتے ہیں، کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں کوئی بات سنی ہے؟ سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو بدّو لوگوں کا عامل بنایا تھا، وہ کھڑے ہو ئے اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ تحریری حکم بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو ان کے خاوند کی دیت سے وارث قرار دوں۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6343]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15837»
وضاحت: فوائد: … خاوند بحیثیت ِ خاوند اپنی بیوی کا عصبہ نہیں ہوتا، اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے چاہاکہ مقتولہ کی دیت میں سے خاوند کو کچھ نہ دیا جائے، کیونکہ قاتل کی دیت ادا کرنے والے عصبہ ہوتے ہیں، لیکن جب ان کو حدیث ِ مبارکہ کا علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقتولہ بیوی کی دیت میںسے اس کے خاوند کو اس کا حصہ دیا تھا، تو انھوں نے اپنے ارادے کو ترک کر دیا۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15837
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6344
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ عُمَرَ قَالَ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضِّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِهِ
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: دیت مرد کے عصبہ میں تقسیم ہوگی اور بیوی اپنے خاوند کی دیت میں سے کسی حصے کی وارث نہیں ہوگی، لیکن جب سیدنا ضحاک بن سفیان کلابی رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے تحریری فرمان بھیجا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کی دیت کا وارث بناؤں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی رائے سے رجوع کر لیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6344]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15838»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15838
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6345
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى لِحَمْلِ بْنِ مَالِكٍ الْهُذَلِيِّ بِمِيرَاثِهِ عَنْ امْرَأَتِهِ الَّتِي قَتَلَتْهَا الْأُخْرَى وَقَضَى فِي الْجَنِينِ الْمَقْتُولِ بِغُرَّةٍ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ قَالَ فَوَرِثَهَا بَعْلُهَا وَبَنُوهَا قَالَ وَكَانَ لَهُ مِنْ امْرَأَتَيْهِ كِلْتَيْهِمَا وَلَدٌ الْحَدِيثَ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا حمل بن مالک ہزلی رضی اللہ عنہ کو ان کی بیوی سے، جسے ان کی دوسری بیوی نے قتل کیا تھا، اس مقتولہ بیوی کی دیت سے وارث بنایا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پیٹ کا بچہ قتل کر دینے کی وجہ سے ایک غلام یا لونڈی دینے کا فیصلہ کیا تھا، اس طرح اس مقتولہ کا خاوند اور اس کے بیٹے اس کے وارث بن گئے، سیدنا حمل رضی اللہ عنہ کی دونوں بیویوں سے اولاد تھی۔ الحدیث۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6345]
تخریج الحدیث: «صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابن ماجه: 2643، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … سیدنا حمل بن مالک رضی اللہ عنہ کی دو بیویاں تھیں، ایک بیوی نے دوسری کو قتل کر دیا، قتل ہونے والی خاتون حاملہ تھی، اس طرح اس کا بچہ بھی ضائع ہو گیا، اب مقتول عورت کی دیت الگ تھی اور اس کے ضائع ہو جانے والے بچے کی دیت الگ تھی، بچے کی دیت ایک غلام یا لونڈی تھی،ان دونوں کی دیت مقتول بیوی کے خاوند اور بیٹوں میں تقسیم کر دی گئی۔

الحكم على الحديث:
صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابن ماجه: 2643
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6346
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ الْعَقْلَ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى فَرَائِضِهِمْ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا کہ دیت، مقتول کے ورثاء کے حصوں کے بقدر ان کے درمیان تقسیم ہوگی۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6346]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2647، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7091 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7091»
وضاحت: فوائد: … جس طرح میت کا ترکہ اس کے ورثاء میں ان کے حصوں کے بقدر تقسیم کیا جاتا ہے، اسی طرح مقتول کی دیت اس کے ورثاء میں تقسیم کی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2647
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں