الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب مَا جَاءَ فِيْمَنْ قَرَّ مِنْ تَوْرِيثِ وَارِثِهِ
اس شخص کا بیان جو اپنے وارث کو میراث سے محروم کرنا چاہے
حدیث نمبر: 6377
عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ غَيْلَانَ بْنَ سَلَمَةَ الثَّقَفِيَّ أَسْلَمَ وَتَحْتَهُ عَشْرُ نِسْوَةٍ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (اخْتَرْ مِنْهُنَّ أَرْبَعًا) ) فَلَمَّا كَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ طَلَّقَ نِسَاءَهُ وَقَسَّمَ مَالَهُ بَيْنَ بَنِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ، فَقَالَ: إِنِّي لَأَظُنُّ الشَّيْطَانَ فِيمَا يَسْتَرِقُ مِنَ السَّمْعِ سَمِعَ بِمَوْتِكَ فَقَذَفَهُ فِي نَفْسِكَ، وَلَعَلَّكَ أَنْ لَا تَمْكُثَ إِلَّا قَلِيلًا، وَأَيْمُ اللَّهِ! لَتُرَاجِعَنَّ نِسَاءَكَ وَلَتَرْجِعَنَّ فِي مَالِكَ، أَوْ لَأُوَرِّثَنَّهُنَّ مِنْكَ، وَلَآمُرَنَّ بِقَبْرِكَ فَيُرْجَمُ كَمَا رُجِمَ قَبْرُ أَبِي رِغَالٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا غیلان بن سلمہ ثقفی رضی اللہ عنہ جب مسلمان ہوا تو ان کی دس بیویا ں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو فرمایا: تم ان میں سے کل چار بیویاں منتخب کر لو۔ عہد فاروقی میں سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ نے تمام بیویوں کو طلاق دے دی اور سارا مال بیٹوں میں تقسیم کر دیا، جب یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو انھوں نے ان کو بلایا اور کہا: میرا خیال ہے کہ شیطان نے فرشتوں سے تیری موت کی خبر سن کر تیرے دل میں ڈال دی ہے، اب شاید تیری تھوڑی زندگی باقی رہ گئی ہو۔اللہ کی قسم ہے! یا تو تو اپنی بیویوں سے رجوع کرکے ان کو مال واپس کرے گا، یا میں خود ان بیویوں کو تیرا وارث بناؤں گا اور تیری قبر کے بارے میں حکم دوں گا کہ اس کو ایسے رجم کیا جائے، جیسے ابو رِغال کی قبر کو کیا گیا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6377]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا الترمذي: 1128، وابن ماجه: 1953، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4631»
وضاحت: فوائد: … سیدنا غیلان رضی اللہ عنہ دراصل جاہلیت کی عادات وا طوار کی طرف لوٹنا چاہتے تھے۔
ابو رغال کون تھا؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (أ)یہ ثمود سے تھا، جب اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا تو یہ حرم میں تھا، لیکن جب حرم سے نکلا تو قوم کے عذاب میں پھنس گیا۔ (ب) ابتدائے زمانہ میں ٹیکس وصول کرنے والا ایک آدمی تھا، اس کی قبر مکہ اور طائف کے درمیان ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کی قبر کو رجم کیا جائے گا۔
ابو رغال کون تھا؟ اس کے بارے میں دو اقوال ہیں: (أ)یہ ثمود سے تھا، جب اس کی قوم پر عذاب نازل ہوا تو یہ حرم میں تھا، لیکن جب حرم سے نکلا تو قوم کے عذاب میں پھنس گیا۔ (ب) ابتدائے زمانہ میں ٹیکس وصول کرنے والا ایک آدمی تھا، اس کی قبر مکہ اور طائف کے درمیان ہے، کہا جاتا ہے کہ اس کی قبر کو رجم کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا الترمذي: 1128
13. بَابُ الْمِيرَاتِ بالولاء
ولاء کی وجہ سے میراث کا بیان
حدیث نمبر: 6378
عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ولا ء، آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6378]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6759، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4817»
وضاحت: فوائد: … وَلاء وہ رشتہ ٔ وراثت ہے،جس کے ذریعے آزاد کنندہ یا اس کے عصبہ بنفسہ آزاد شدہ کے وارث بنتے ہیں۔ آزاد کنندہ اور اس کے عصبہ بنفسہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، جب اصحاب الفروض سے مال بچ جائے یا اصحاب الفروض سرے سے موجود نہ ہوں تو عصبہ نسبی وارث بنتے ہیں،اگر عصبہ نسبی نہ ہوں تو عصبہ سببی ترکہ کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔
یہ ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے نسب کی طرح ہی نہ اس کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکتاہے۔
یہ ولائ، نسب کی طرح کا ایک حق ہے، اس لیے نسب کی طرح ہی نہ اس کی خرید و فروخت کی جا سکتی ہے اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکتاہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6759
حدیث نمبر: 6379
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6379]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 456، ومسلم: 1504، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24150 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24651»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 456
حدیث نمبر: 6380
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَلْمَى بِنْتِ حَمْزَةَ أَنَّ مَوْلَاهَا مَاتَ وَتَرَكَ ابْنَةً، فَوَرَّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ النِّصْفَ وَوَرَّثَ يَعْلَى النِّصْفَ، وَكَانَ ابْنَ سَلْمَى
۔ سیدہ سلمیٰ بنت حمزہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کا آزاد کردہ غلام فوت ہو گیا اور اس نے ایک بیٹی وارث چھوڑی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصف مال کا اس کی بیٹی کو اور نصف مال کا یعلی رضی اللہ عنہ کو وارث بنایا۔ یہ یعلی رضی اللہ عنہ، سلمی رضی اللہ عنہا کا بیٹا تھا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6380]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمع من سلمي۔ أخرجه ابن ماجه: 2734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27827»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن ایسی صورت میں مسئلہ ایسے ہی ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 6381
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ) ) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَرِثُ الْمَالَ مَنْ يَرِثُ الْوَلَاءَ) )
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اولاد کے عوض والد سے قصاص نہ لیا جائے۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ولاء کاوارث ہوگا، وہی مال کا وارث بنے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6381]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، قتادة لم يسمع من سلمي۔ أخرجه ابن ماجه: 2734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27284 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 147»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لانقطاعه
حدیث نمبر: 6382
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَ عَمْرٌو جَاءَ بَنُو مَعْمَرِ بْنِ حَبِيبٍ يُخَاصِمُونَهُ فِي وَلَاءِ أُخْتِهِمْ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: أَقْضِي بَيْنَكُمْ بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (مَا أَحْرَزَ الْوَلَدُ وَالْوَالِدُ فَهُوَ لِعَصَبَتِهِ مَنْ كَانَ) ) فَقَضَى لَنَا بِهِ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ (شام سے) واپس آئے تو معمر بن حبیب کے بیٹے ان کے پاس آکر اپنی بہن کی ولاء کے بارے میں جھگڑنے لگے، مقدمہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تک پہنچا دیا گیا اور انہوں نے کہا: میں تمہارے درمیان رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے مطابق فیصلہ کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اولاد یا والدین جس مال کا احاطہ کر لیں، وہ ان کے عصبہ کو ملے گا، خواہ وہ کوئی بھی ہو۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسی حدیث کی روشنی میں ہمارے حق میں فیصلہ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6382]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2917، وابن ماجه: 2732، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 183 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 183»
وضاحت: فوائد: … اس کا پس منظر یہ ہے کہ رئاب بن حذیفہ نے ام وائل سے شادی کی، اس سے تین بچے پیدا ہوئے، پھر ام وائل وفات پاگئی، اس کے بیٹے اس کے وارث تھے۔ سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ان کو لے کر شام چلے گئے، جہاں وہ طاعون کی وجہ سے فوت ہوگئے، سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ ان کے عصبہ کی حیثیت سے ان کے وارث ہوئے، جب اس متوفی خاتون کے قبیلہ والے دعویٰ لے کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی عدالت پہ پہنچے تو تب انھوں نے اس حدیث کی روشنی میں فیصلہ کیا اور عصبہ کی حیثیت سے سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو مستحق قرار دیا۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2917
14. بَاب مَا جَاءَ فِي الكَلالَةِ
کلالہ کا بیان
حدیث نمبر: 6383
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: ( (تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ) ) فَقَالَ: لَأَنْ أَكُونَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَكُونَ لِي حُمْرُ النَّعَمِ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس بارے میں موسم گرما میں نازل ہونے والی آیت تجھے کفایت کرتی ہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ یقینی بات ہے کہ میں نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کر لیا ہوتا تو یہ چیز مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہوتی۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6383]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 262 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 262»
وضاحت: فوائد: … کلالہ سے مراد وہ میت ہے، جس کے والدین ہوں نہ اولاد۔ یہ اکلیل سے مشتق ہے، اکلیل ایسی چیز کو کہتے ہیں جو کہ سر کو اس کے اطراف یعنی کناروں سے گھیر لے، کلالہ کو بھی کلالہ اس لیے کہتے ہیں کہ اصول و فروع کے اعتبار سے تو اس کا وارث نہ بنے، لیکن اطراف و جوانب سے وارث قرار پا جائے، جیسے بہن بھائی وغیرہ۔
سورۂ نساء میں دو مقامات پر کلالہ کا ذکر ہے، آیت نمبر (۱۲) اور آیت نمبر (۱۷۶) میں، اول الذکر آیت موسم سرما میں اور آخر الذکر موسم گرما میں نازل ہوئی تھی۔
سورۂ نساء میں دو مقامات پر کلالہ کا ذکر ہے، آیت نمبر (۱۲) اور آیت نمبر (۱۷۶) میں، اول الذکر آیت موسم سرما میں اور آخر الذکر موسم گرما میں نازل ہوئی تھی۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6384
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: إِنِّي لَا أَدَعُ شَيْئًا أَهَمَّ إِلَيَّ مِنَ الْكَلَالَةِ، وَمَا اغْلَظَ لِيْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَيْءٍ مُنْذُ صَاحَبْتُهُ مَا اغْلَظَ لِيْ فِي الْكَلَالَةِ، وَمَا رَاجَعْتُهُ فِي شَيْءٍ مَا رَجَعْتُهُ فِي الْكَلَالَةِ حَتَّى طَعَنَ بِإِصْبَعِهِ فِي صَدْرِي وَقَالَ: ( (يَا عُمَرُ! أَلَا تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ الَّتِي فِي آخِرِ سُورَةِ النِّسَاءِ؟) ) فَإِنْ أَعْشِ أَقْضِ فِيهَا قَضِيَّةً يَقْضِي بِهَا مَنْ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَمَنْ لَا يَقْرَأُ الْقُرْآنَ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑوں گا، جو میرے نزدیک کلالہ کی بہ نسبت زیادہ اہم ہو، اُدھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مسئلے کے بارے میں مجھ پر اتنی سختی کی کہ جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ پر اتنی سختی نہیں کی تھی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جتنا مراجعہ کلالہ کے بارے میں کیا، اتنا کسی اور مسئلے میں نہیں کیا،یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سینے میں اپنی انگلی ماری اور فرمایا: اے عمر! کیا تجھے سورۂ نساء کے آخر والی آیت کافی نہیں ہے، جو موسم گرما میں نازل ہوئی تھی؟ پھر انھوں نے کہا: اگر میری زندگی رہی تو میں کلالہ کے بارے میں ایسا فیصلہ بیان کروں گا کہ ہر شخص اس کو سمجھ جائے گا، وہ قرآن پڑھتا ہو یا نہ پڑھتا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6384]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 567، 1617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 186»
وضاحت: فوائد: … سورۂ نساء کی آیت نمبر (۱۲) میں کلالہ کے اخیافی بہن بھائیوں کا اور آیت نمبر (۱۷۶) میں عینی اور علاتی بہن بھائیوں کا ذکر ہے، اگر دونوں مقامات کو غور کے ساتھ پڑھا جائے تو کلالہ سے متعلقہ مسائل سمجھ آ جاتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 567
حدیث نمبر: 6385
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْكَلَالَةِ، فَقَالَ: ( (تَكْفِيكَ آيَةُ الصَّيْفِ) )
۔ سیدنا براء بن عاز ب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: موسم گرما والی آیت تیرے لیے کافی ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6385]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سماع ابي بكر بن عياش من أبي اسحاق ليس بذاك القوي وثبت الحديث عن عمرB كما سلف۔ أخرجه ابوداود: 2889، والترمذي: 3042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18790»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف