الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِ
جدّ کی وراثت کا بیان
حدیث نمبر: 6367
وَمِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: إِنَّ الَّذِي قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا سِوَى اللَّهِ حَتَّى أَلْقَاهُ لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ) ) جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا
۔ (دوسری سند) سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: بیشک وہ شخصیت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کے بارے میں فرمایا تھا: اگر میں نے اللہ تعالی کے علاوہ کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر کو بناتا۔ اس ذات نے جدّ کو باپ کے قائم مقام قرار دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6367]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16219»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16219
9. باب مَا جَاءَ فِي مِيرَاتِ ذَوِي الْأَرْحَامِ
ذوی الارحام کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 6368
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ الْكِنْدِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: ( (مَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعَةً فَإِلَيَّ، وَأَنَا وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، أَفُكُّ عَنْهُ وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ، يَفُكُّ عَنْهُ وَيَرِثُ مَالَهُ) ) وَفِي لَفْظٍ: ( (وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَرِثُهُ وَأَعْقِلُ عَنْهُ) )
۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو ترکہ میں مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کا ہوگا اور جس نے قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا، جس کا کوئی سرپرست نہیں ہو گا، میں اس کا سرپرست ہوں،میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا اور اس کاوارث بنوں گا، اور جس کا کوئی وارث نہیں ہوگا، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا اور وہی اس کی طرف سے ادائیگی کرے گا، اور اس کا وارث بنے گا۔ ایک روایت میں ہے: ماموں اس کا وارث ہو گا، جس کا کوئی وارث نہیں ہو گا اورجس کا بالکل کوئی وارث نہیں ہو گا، میں اس کا وارث بنوں گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6368]
تخریج الحدیث: «حديث جيّد۔ أخرجه ابوداود: 2899، وابن ماجه: 2738، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17199 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17331»
وضاحت: فوائد: … ”میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا۔“ سے مراد یہ ہے کہ میت کے بعض جرائم کی وجہ سے جو ادائیگیاں اس کے ذمے تھیں اور عصبہ نے جن کو ادا کرنا ہوتا ہے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ادا کریں گے۔ فوائد: … ذوی الارحام وہ رشتہ دار ہیں جو نہ اصحاب الفروض ہوں اور نہ عصبہ، مثلا: ماموں، خالہ، پھوپھی، نواسی وغیرہ۔ جب میت کے رشتہ داروں میں اصحاب الفروض، عصبہ نسبی اور عصبہ سببی میں سے کوئی بھی نہ ہو تو اس کا ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم کیا جائے گا، ان کی کیفیت ِ توریث میں بڑا اختلاف ہے، اس فن سے متعلقہ کسی کتاب کا مطالعہ کریں۔
اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ جب میت کا کوئی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ ماموں کو دے دیا جائے گا، جبکہ ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔
اس حدیث ِ مبارکہ میںیہ وضاحت کی گئی ہے کہ جب میت کا کوئی وارث موجود نہ ہو تو اس کا ترکہ ماموں کو دے دیا جائے گا، جبکہ ماموں ذوی الارحام میں سے ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث جيّد۔ أخرجه ابوداود: 2899
حدیث نمبر: 6369
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ، فَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ إِلَى الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ إِلَى غُلامٍ فَقَتَلَهُ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ أَصْلٌ وَكَانَ فِي حَجْرِ خَالٍ لَهُ، فَكَتَبَ فِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: إِلَى مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَهُ؟ فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: ( (اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ) )
۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کہ طرف یہ تحریری حکم بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور جنگجوؤں کو تیر اندازی کی تعلیم دو،پس وہ لوگ اپنے اہداف کو سامنے رکھ کر نشانہ بازی کرتے تھے، ایک دن ایک تیر ایک لڑکے کو لگا اور وہ فوت ہو گیا، کوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس کی نسل سے ہے، البتہ وہ اپنے ایک ماموں کی پرورش میں تھا، سیدنا ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ اس لڑکے کی دیت کس کے سپرد کروں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اللہ اور اس کا رسول اس کے سرپرست ہوں گے اور ماموں اس کا وارث بنے گا، جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6369]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2737، والترمذي: 2103، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 323 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 323»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2737
10. بَاب مَا جَاءَ فِي مِبْرَاتِ الْمَوْلَى مِنْ أَسْفَلِ وَمَنْ أَسْلَمَ عَلَى يَدِهِ رَجُلٌ
غلام کی اور اس شخص کی میراث کا بیان جو کسی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہو
حدیث نمبر: 6370
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَجُلٌ مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَتْرُكْ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ أَعْتَقَهُ، فَأَعْطَاهُ مِيرَاثَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عہد ِ نبوی میں ایک آدمی فوت ہو گیا اور کوئی وارث نہیں چھوڑا، البتہ اس کا ایک آزاد کیا ہوا غلام تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی میراث اس کو دے دے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6370]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عوسجه لايعرف۔ أخرجه ابوداود: 2905، وابن ماجه: 2741، والترمذي: 2106، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1930 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1930»
وضاحت: فوائد: … غلام کے آزاد کنندہ کو عصبہ سببی کہتے ہیں، عصبہ نسبی کی عدم موجودگی میں عصبہ سببی ان کے قائم مقام ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6371
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ فَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، الْتَمِسُوا لَهُ ذَا رَحِمٍ) ) قَالَ: فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَدْفِعُوهُ إِلَى أَكْبَرِ خُزَاعَةَ) )
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ از دقبیلے کا ایک آدمی فوت ہو گیا اور اس کا کوئی وارث نہ تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا کوئی وارث تلاش کرو، اس کا کوئی رشتہ دار تلاش کرو۔ لیکن کوئی قرابتدار نہ مل سکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خزاعہ قبیلے کے سب سے بڑے کو یہ میراث دے دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6371]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو بكر جبريل بن احمر الجملي ليس بالقوي۔ أخرجه ابوداود: 2904، والنسائي: 6396، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22944 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23332»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت ضعیف ہے، جب میت کا کوئی رشتہ دار نہیں ہو گا تو مال بیت المال میں جمع کر دیا جائے گا، یا حکمران کسی مصلحت کو سامنے رکھ کر مال کو تقسیم کر دے گا، جیسا کہ اگلی حدیث ِ مبارکہ میں ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6372
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَعَ مِنْ نَخْلَةٍ فَمَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک غلام کھجور سے گر کر فوت ہو گیا، اس کا کچھ ترکہ تو تھا، لیکن اس کی اولاد تھی نہ رشتہ دار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی میراث کے بارے میں فرمایا: اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6372]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2902، وابن ماجه: 2733، والترمذي: 2105، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25054 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25568»
وضاحت: فوائد: … بستی کے آدمی کا نہ ترکہ کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ وہ مستقل طور پر وارث بنتا ہے، دراصل جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ اس کا کوئی وارث موجود نہیں ہے تو یہ فیصلہ کر دیا کہ یہ ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فیصلہ بیت المال میں ترکہ جمع کروا دینے کے مترادف ہے، یعنی حکمران کویہ حق حاصل ہو گا کہ وہ جیسے چاہے فیصلہ کر دے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 2902
حدیث نمبر: 6373
عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: مَا السُّنَّةُ فِي الرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْكُفْرِ يُسْلِمُ عَلَى يَدِ الرَّجُلِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قَالَ: ( (هُوَ أَوْلَى النَّاسِ بِحَيَاتِهِ وَمَوْتِهِ) )
۔ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا کہ کافروں میں سے ایک آدمی کسی مسلمان کے ہاتھ پر مسلمان ہوتا ہے، اس کے بارے میں کیا طریقہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ مسلمان دوسروں کی بہ نسبت اس کی زندگی اور موت میں اس کا سب سے زیادہ حقدار ہو گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6373]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2918، والترمذي: 2112، وابن ماجه: 2752، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16953 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17077»
وضاحت: فوائد: … سعید بن منصور کی روایت میںیہ الفاظ زیادہ ہیں: ((یَرِثُہٗ وَیَعْقِلُ عَنْہُ)) … ”وہ اس کا وارث بنے گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔“ لیکن اس کی سند میں احوص بن حکیم راوی ضعیف الحفظ ہے، لیکن اس کے بارے میں امام البانی نے کہا: فیستشھد بہ۔ (صحیحہ: ۲۳۱۶)
امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا شخص وارث بنے گا۔ امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۲۰، ۹/ ۳۹)
یاد رہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ۹ھمیں مسلمان ہوئے، اس لیے اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیے۔
امام عبد اللہ بن مبارک نے کہا: دوسرے ورثاء کی عدم موجودگی میں ایسا شخص وارث بنے گا۔ امام ثوری نے کہا: یہ وارث بنے گا اور یہ دوسروں سے زیادہ حقدار ہو گا۔ (مصنف عبد الرزاق: ۶/ ۲۰، ۹/ ۳۹)
یاد رہے کہ سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ ۹ھمیں مسلمان ہوئے، اس لیے اس حدیث کے منسوخ ہونے کا دعوی نہیں کرنا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 2918
11. بَابُ مِيرَاتِ ابْنِ الْمُلَاعَنَةِ وَالزَّانِيَّةِ مِنْهُمَا وَمِبْرَائِهِمَا مِنْهُ وَانْقِطَاعِهِ مِنَ الأب
لعان اور زنا والی اولاد کا اپنی ماؤں کا اور ان کی ماؤں کا ان کا وارث بننا اور ایسی¤اولاد کا باپ سے منقطع ہو جانا
حدیث نمبر: 6374
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي وَلَدِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَنَّهُ يَرِثُ أُمَّهُ وَتَرِثُهُ، وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ، وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ اپنی ماں کی وارث بنے گی اور اس کی ماں اس اولاد کی، لیکن جس نے اس عورت پر زنا کی تہمت لگائی، اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جس نے اس کی اولاد کو زنا کی اولاد کہا، اس کو بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6374]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، محمد بن اسحاق مدلس وقد عنعن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7028»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6375
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ: عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي تُلَاعِنُ عَلَيْهِ) )
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت تین قسم کی میراثیں سمیٹتی ہے، اپنے آزاد کر دہ غلام کی، گرے پڑے بچے کی اور اس بچے کی جس پر اس نے لعان کیا ہو۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6375]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمرو بن رؤبة، وفيه بقية بن الوليد مدلس تدليس التسوية۔ أخرجه ابوداود: 2906، والترمذي: 2115، وابن ماجه: 2742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16011 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16107»
وضاحت: فوائد: … مذکورہ بالا دو روایات ضعیف ہیں، درج ذیل دو احادیث ملاحظہ ہوں: سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اِنَّ النَّبِیَّV جَعَلَ مِیْرَاثَ ابْنِ الْمُلَاعَنَۃِ لِأُمِّہٖوَلِوَرَثَتِھَامِنْبَعْدِھَا۔ … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان والے بیٹے کی میراث اس کی ماں کے لیے اور اس کے بعد اس کے ورثاء کے لیے مقرر فرمائی۔ (ابوداود: ۲۹۰۷) لعان والے ایک قصے کے بارے میں سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: وَکَانَ ابْنُھَا یُنْسَبُ اِلٰی اُمِّہٖ،فَجَرَتِالسُّنَّۃُ اَنَّہٗیَرِثُھَا وَتَرِثُ مِنْہُ مَا فَرَضَ اللّٰہُ لَھَا۔ … اس لعان والی عورت کے بیٹے کو صرف اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جاتا تھا، پس یہ سنت جاری ہو گئی کہ ایسا بیٹا اپنی ماں کا وارث بنے گا اور اس کی ماں اس کی وارث بنے گی۔ (صحیح بخاری: ۵۳۰۹، صحیح مسلم: ۱۴۹۲) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ جس بچے پر میاں بیوی میں لعان ہو جائے، وہ صرف اپنی ماں کی طرف منسوب ہو گا اور اس کی میراث کا سلسلہ بھی صرف ماں سے ہو گا، زنا کے بچے کا بھییہی حکم ہو گا۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عمرو بن رؤبة
حدیث نمبر: 6376
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا مُسَاعَاةَ فِي الْإِسْلَامِ، مَنْ سَاعَى فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَدْ أَلْحَقْتُهُ بِعَصَبَتِهِ، وَمَنِ ادَّعَى وَلَدَهُ مِنْ غَيْرِ رِشْدَةٍ فَلَا يَرِثُ وَلَا يُورَثُ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: اسلام میں کوئی زنا نہیں ہے اور جس نے جاہلیت میں زنا کیا، میں نے (اس کے سبب پیدا ہونے والی اولاد کو) اس کے عصبہ کے ساتھ ملا دیا ہے اور جس نے بغیر نکاح کے کسی بچے کا دعویٰ کیا تو وہ آدمی نہ اس بچے کا وارث ہوگا اور نہ یہ بچہ اس کا وارث ہوگا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6376]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3416 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3416»
وضاحت: فوائد: … باپ اور بیٹا نسب کی وجہ سے ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں، جبکہ زنا سے نسب ثابت نہیں ہوتا، نسب کے لیے نکاحِ شرعی ضروری ہے، لہذا زنا کے نتیجے میں جنم لینے والی اولاد باپ کی طرف نسبت سے محروم ہو جائے گی اور ان کا باپ سے میراث کا سلسلہ بھی منقطع ہو جائے گا، ایسی اولاد کی نسبت اور میراث کا سلسلہ صرف ان کی ماں سے ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه ابوداود: 2264