🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ الْأَخَوَاتِ مَعَ الْبَنَاتِ عَصَبَةٌ، وَقَرْضُ الْبِنْتِ مَعَ بِنْتِ الابْنِ
بہنوں کا بیٹیوں کی وجہ سے عصبہ بننے اورپوتی کے ساتھ بیٹی کا حصہ مقرر ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6357
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي مُوسَى وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَسَأَلَهُمَا عَنْ ابْنَةٍ وَابْنَةِ ابْنٍ وَأُخْتٍ لِأَبٍ فَقَالَا لِلْبِنْتِ النِّصْفُ وَلِلْأُخْتِ النِّصْفُ وَأْتِ ابْنَ مَسْعُودٍ فَإِنَّهُ سَيُتَابِعُنَا قَالَ فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ وَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَا فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَقَدْ ضَلَلْتُ إِذًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُهْتَدِينَ سَأَقْضِي بِمَا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِلْابْنَةِ النِّصْفُ وَلِابْنَةِ الْابْنِ السُّدُسُ تَكْمِلَةً لِلثُّلُثَيْنِ وَمَا بَقِيَ فَلِلْأُخْتِ
۔ ہزیل بن شرحبیل سے روایت ہے کہ ایک آدمی سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اور سیدنا سلمان بن ربیع رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اوران سے سوال کیا کہ وارثین میں ایک بیٹی،ایک پوتی اور ایک علاتی بہن ہے؟ انہوں نے کہا: نصف مال بیٹی کو اور نصف بہن کو ملے گا اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ، وہ بھی ہمارے اس فتویٰ کی موافقت کریں گے۔ لیکن جب سائل سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان کو ان دونوں کے فتویٰ کی خبر دی تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر میں بھی اسی طرح فیصلہ کروں تو میں راہ راست سے بھٹک جاؤں گا، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والا فیصلہ کروں گا اور وہ یہ ہے کہ نصف بیٹی کو، چھٹا حصہ پوتی کو، تاکہ دو تہائی پورا ہو جائے اور جو مال بچے گا، وہ بہن کو ملے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6357]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6742، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4195»
وضاحت: فوائد: … اس مسئلہ میں بہن عصبہ مع الغیر ہے، اس لیے بیٹی اور پوتی سے بچ جانے والا ترکہ اس کو مل جائے گا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6742
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. بَابُ سُقُوطِ وَلَدِ الْآبِ بِالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبَوَيْنِ
عینی بھائیوں کی وجہ سے علاتی بھائیوں کے ساقط ہو جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6358
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالدَّيْنِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ وَأَنَّ أَعْيَانَ بَنِي الْأُمِّ يَتَوَارَثُونَ دُونَ بَنِي الْعَلَّاتِ يَرِثُ الرَّجُلُ أَخَاهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ دُونَ أَخِيهِ لِأَبِيهِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: تم لوگ یہ آیت پڑھتے ہو کہ (ترکہ تقسیم کیا جائے گا)میت کی طرف سے کی گئی وصیت یا قرض کے بعد جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت کو نافذ کرنے سے پہلے قرض ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ فیصلہ بھی کیا ہے کہ (جب عینی اور علاتی بہن بھائی جمع ہو جائیں تو) حقیقی بہن بھائی وارث ہوں گے، نہ کہ علاتی، آدمی اپنے عینی بھائی کا وارث بنے گا، نہ کہ علاتی۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6358]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه الترمذي: 2095، 2122، وابن ماجه: 2739، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1222»
وضاحت: فوائد: … عینی اور علاتی بھائی عصبہ ہیں اور عصبہ کے وارث بننے کے دو قوانین ہیں، ایک درجۂ قرابت اور دوسرا قوت قرابت، سب سے پہلے درجۂ قرابت کو دیکھا جائے گا، ہر قریبی دور والے کو محجوب کر دے گا، اگر دو یا زائد فریقوں کا درجۂ قرابت ایک ہو تو قوتِ قرابت کو دیکھ کر فیصلہ کیا جائے گا، اگر سب افراد قوت میں برابر ہوئے تو سب کو وارث بنایا جائے گا، بصورتِ دیگر ہر قوی القرابہ، ضعیف القرابہ کو محجوب کر دے گا۔ عینی بھائی قوی القرابہ ہیں اور علاتی ضعیف القرابہ۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف الحارث الاعور۔ أخرجه الترمذي: 2095
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. بَاب مَا جَاءَ فِي مِيرَاتِ الْجَنَّةِ وَالْجَدَّاتِ
دادیوں اور نانیوں کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6359
عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ جَاءَتِ الْجَدَّةُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَتْهُ مِيرَاثَهَا فَقَالَ مَا أَعْلَمُ لَكِ فِي كِتَابِ اللَّهِ شَيْئًا وَلَا أَعْلَمُ لَكِ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى أَسْأَلَ النَّاسَ فَسَأَلَ فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ جَعَلَ لَهَا السُّدُسَ فَقَالَ مَنْ يَشْهَدُ مَعَكَ أَوْ مَنْ يَعْلَمُ مَعَكَ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَأَنْفَذَهُ لَهَا
۔ سیدنا قبیصہ بن ذؤیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک جدہ،سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور اپنی میراث کامطالبہ کیا، لیکن انہوں نے کہا: میں اللہ تعالی کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت میں تو کوئی ایسی دلیل نہیں جانتا تو تیرے حق میں ہو، البتہ میں اس بارے میں لوگوں سے دریافت کرتا ہوں، پھر آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے پوچھا، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدہ کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا تھا۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر تیرے ساتھ کون گواہی دے گا، پس سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور وہی بات کی جو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کی، پس سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیےیہ حصہ نافذ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6359]
تخریج الحدیث: «الحديث صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابوداود: 2894، والترمذي: 2101، وابن ماجه: 2724، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18143»
وضاحت: فوائد: … عربی زبان میں دادی اور نانی دونوںکو ”جَدَّۃ“ کہتے ہیں، علم میراث میں”جَدَّۃ“کی دو قسمیں ہیں: (۱)جدہ صحیحہ اور (۲) جدہ فاسدہ، صرف اول الذکر یعنی جدہ صحیحہ وارث بن سکتی ہے۔
جدہ صحیحہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسد نہ آئے۔مثلا: نانی، دادی، پڑدادی
جدہ فاسدہ: … وہ جدہ کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں جد فاسدآ جائے۔ مثلانانے کی ماں۔ اگلے باب کے شروع میں جد فاسد کی وضاحت دیکھیں۔

الحكم على الحديث:
الحديث صحيح بالشواھد۔ أخرجه ابوداود: 2894
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6360
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي لَهَا بِالسُّدُسِ فَأَعْطَاهَا أَبُو بَكْرٍ السُّدُسَ
۔ (دوسری سند)اس میں ہے: سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جدّہ کے لیے چھٹے حصے کا فیصلہ کیا، پس سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کے لیے چھٹا حصہ نافذ کر دیا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6360]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18141»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18141
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6361
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَضَى لِلْجَدَّتَيْنِ مِنَ الْمِيرَاثِ بِالسُّدُسِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوَاءِ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دادی اور نانی دونوں کو وراثت میں سے چھٹا حصہ برابر برابر تقسیم کر کے دینے کا فیصلہ فرمایا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6361]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الفضيل بن سليمان النميري لين الحديث، واسحاق بن يحيي بن الوليد مجھول الحال، ثم روايته عن جده عبادة مرسلة۔ أخرجه الحاكم: 4/ 340، والبيھقي: 6/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22778 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23159»
وضاحت: فوائد: … ان روایات سے معلوم ہوا کہ جدہ صحیحہ کا حصہ چھٹا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي مِيرَاثِ الْجَدِ
جدّ کی وراثت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6362
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنَ ابْنِي مَاتَ، فَمَا لِي مِنْ مِيرَاثِهِ؟ قَالَ: ( (لَكَ السُّدُسُ) ) قَالَ: ( (فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ) ) قَالَ: ( (لَكَ سُدُسٌ آخَرُ) ) فَلَمَّا أَدْبَرَ دَعَاهُ قَالَ: ( (إِنَّ السُّدُسَ الْآخَرَ طُعْمَةٌ) )
۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: میرا پوتا فوت ہو چکا ہے، مجھے اس کی میراث سے کیا ملے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرے لئے چھٹا حصہ ہے۔ جب وہ واپس جانے کے لئے مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: تجھے چھٹا حصہ بھی ملے گا۔ پھر جب وہ جانے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلا کر فرمایا: یہ چھٹا حصہ تیرے لیے زائد ہے، (یہ حصہ کے طور پر نہیں دیا گیا)۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6362]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يمسع من عمران بن حصين۔ أخرجه ابوداود: 2896، والترمذي: 2099، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19915 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20157»
وضاحت: فوائد: … عربی زبان میں دادے اور نانے دونوںکو ”جَدّ“ کہتے ہیں، علم میراث میں”جَدّ“کی دو قسمیں ہیں: (۱)جد صحیح اور (۲) جد فاسد، صرف اول الذکر یعنی جد صحیح وارث بن سکتا ہے۔
جد صحیح: … وہ جد کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں عورت نہ آئے۔مثلا: دادا، پڑدادا۔
جد فاسد: … وہ جد کہ میت کی طرف جس کی وساطت میں کوئی عورت آ جائے۔ مثلا نانا، دادی کا باپ۔
باپ اور جد صحیح اصحاب الفروض بھی ہیں اور عصبہ بھی،یہ پہلے اپنا مقررہ حصہ لیتے ہیں، اس کے بعد ترکہ کی کچھ مقدار ان کو بطورِ عصبہ بھی مل سکتی ہے۔
مسئلے کی صورت یہ ہے کہ سائل کا پوتا فوت ہوا ہے اور اس نے دو بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ ان دو بیٹیوں کے لیے دو تہائی (۳/۲) حصہ ہے اور (سائل) دادے کے لیے چھٹا (۶/۱) حصہ ہے۔ عصبہ چونکہ اور کوئی نہیں، اس لیے دادا (سائل) باپ کی جگہ پر ہوکر عصبہ بھی بن رہا ہے اور اسے باقی (۶/۱) بھی مل جائے گا اس بعد والے چھٹے حصہ کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ زائد ہے یعنییہ مقرر و فرض حصے کے علاوہ عصبہ کے طور پر دیا گیا ہے۔
(عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6363
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ: أَنْشُدُ اللَّهَ رَجُلًا سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا؟ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُ الثُّلُثَ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ
۔ سیدناعمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے جدّ کی میراث کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہو؟ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: جی میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِس کو ایک تہائی حصہ دیا تھا، انھوں نے کہا: کن وارثوں کے ساتھ؟ اس نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو پھر تونے سمجھا ہی نہیں۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6363]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الحميدي: 833، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 6336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19994 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20236»
وضاحت: فوائد: … جد صحیح کا حصہ چھٹا ہے، نہ کہ ایک تہائی، البتہ یہ ممکن ہے کہ جب جد صحیح کو دو طرف سے ترکہ ملے، یعنی فرضی حصہ بھی اور بطورِ عصبہ بھی، تو اس کا مجموعی حصہ ایک تہائی بن جائے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف علي بن زيد بن جدعان۔ أخرجه الحميدي: 833
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6364
عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ شَهِدْتُ عُمَرَ قَالَ: وَقَدْ كَانَ جَمَعَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَيَاتِهِ وَصِحَّتِهِ فَنَاشَدَهُمُ اللَّهَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فِي الْجَدِّ شَيْئًا، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِفَرِيضَةٍ فِيهَا جَدٌّ فَأَعْطَاهُ ثُلُثًا أَوْ سُدُسًا، قَالَ: وَمَا الْفَرِيضَةُ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: مَا مَنَعَكَ أَنْ تَدْرِيَ
۔ عمرو بن میمون سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے، آپ رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی اور صحت کی حالت میں صحابہ کرام کو جمع کیا اور ان کو اللہ تعالی کا واسطہ دے کر پوچھا کہ آیا کسی نے جدّ کی میراث کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی حدیث سنی ہے؟ سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک مسئلہ لایا گیا اور اس میں دادا بھی تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دادے کو چھٹا یا تیسرا حصہ دیا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ مسئلہ کیا تھا، یعنی اس مسئلے کے افراد کون تھے؟ انھوں نے کہا: یہ تو میں نہیں جانتا، آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھے یہ جاننے سے کس چیز نے منع کر دیا تھا؟ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6364]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20575»
وضاحت: فوائد: … کسی وارث کا حصہ معلوم ہونے کے ساتھ ساتھ یہ ضروری ہے کہ وہ حصہ اس کو دوسرے کن وارثوں کی موجودگی میں ملتا ہے، وگرنہ بات ادھوری رہ جائے گی اور کوئی علمی فائدہ نہیں ہو گا، مثلا دادے کی مندرجہ ذیل مختلف صورتیں ہیں:(۱) جب باپ موجود ہو تو جد کو کچھ نہیں ملتا۔
(۲) ہر قریبی جد دور والے جد کو ساقط کر دیتا ہے۔
(۳) جب باپ موجود نہ ہو اور میت کی وارث بننے والی نرینہ اولاد ہو تو جد کو چھٹا حصہ ملے گا۔
(۴) جب باپ موجود نہ ہو اور میت کی وارث بننے والی صرف مؤنث اولاد ہو تو جد کو چھٹا حصہ بھی ملے گا اور وہ عصبہ بھی بنے گا۔
(۵) جب نہ باپ موجود ہو اور نہ میت کی وارث بننے والی اولاد تو جد صرف عصبہ بنے گا۔
آپ غور کریں کہ پانچ صورتوں میں سے صرف ایک صورت میں جد صرف چھٹے حصے کا مستحق ٹھہرتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وارث کے حصے کا بھی علم ہو اور اس چیز کا بھی علم ہو کہ دوسرے کن وارثوں کی موجودگی میںیہ حصہ ملے گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2722
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6365
عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ عَنْ فَرِيضَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي الْجَدِّ، فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ، فَقَالَ: قَضَى فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَاذَا؟ قَالَ: السُّدُسُ، قَالَ: مَعَ مَنْ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا
۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے وراثت سے جدّ کے فرضی حصے کے بارے میں لوگوں سے دریافت کیا، سیدنا معقل بن یسار مزنی رضی اللہ عنہ نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک فیصلہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا: کیا؟ انھوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھٹا حصہ دیا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کن افراد کے ساتھ؟ انہوں نے کہا: یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے مسئلہ سمجھا ہی نہیں، تجھے یہ کیا کفایت کرے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6365]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2897، وابن ماجه: 2723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20310 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20576»

الحكم على الحديث:
حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 2897
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6366
عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ جَعَلَهُ عَلَى الْقَضَاءِ إِذْ جَاءَهُ كِتَابُ ابْنِ الزُّبَيْرِ: سَلَامٌ عَلَيْكَ، أَمَّا بَعْدُ: فَإِنَّكَ كَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الْجَدِّ، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَكِنَّهُ أَخِي فِي الدِّينِ وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ) ) جَعَلَ الْجَدَّ أَبًا، وَأَحَقُّ مَا أَخَذْنَاهُ قَوْلُ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
۔ سعید بن جبیرسے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے قضاء کا عہدہ ان کے سپرد کیا ہوا تھا، ان کو سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما کا یہ خط موصول ہوا: السلام علیکم، اما بعد! تم نے جدّ کی میراث معلوم کرنے کے لیے مجھے خط لکھا ہے، تو گزارش ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اگر میں نے اس امت سے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابن ابی قحافہ کا انتخاب کرتا، لیکن وہ میرا دینی بھائی اور غار کا ساتھی ہے۔ اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جدّ کو باپ کے قائم مقام قرار دیا تھا اور سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا قول اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ ہم اس پر عمل کریں۔ [الفتح الربانی/أبواب الفرائض/حدیث: 6366]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا البخاري: 3658، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16107 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16206»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حدیث کی روشنی میں جد کو چھٹا حصہ دیا تھا۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه مختصرا البخاري: 3658
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں