الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ نَهْيِ الْمُخَيِّينَ عَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ
ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6680
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنِّثِي الرِّجَالِ الَّذِينَ يَتَشَبَّهُونَ بِالنِّسَاءِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ الْمُتَشَبِّهَاتِ بِالرِّجَالِ وَرَاكِبَ الْفَلَاةِ وَحْدَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں کے ان ہیجڑوں پر لعنت کی ہے، جو عورتوں سے مشابہت اختیار کرتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی، جو مردوں کا سا انداز اپناتی ہیں اور ان کی مشابہت اختیار کرتی ہیں اور اس پر بھی لعنت کی ہے جو جنگل میں تنہا سفر کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6680]
تخریج الحدیث: «صحيح دون قوله ’’وراكب الفلاة وحده‘‘، وھذا اسناد ضعيف لجھالة طيب بن محمد۔ أخرجه البيھقي في ’’الشعب‘‘: 4728، وابن ابي شيبة: 9/ 63، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7855 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7842»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی نے مرد و زن دونوں کی وضع قطع، بول چال، چلن پھرن، نقل و حرکت اور دیگر کئی صفات علیحدہ علیحدہ بنائی ہیں اور ہر جنس کے لیے بعض خاص احکام نافذ کیے ہیں، مثلا لباس، خوشبو، سر کے بال، وغیرہ۔ ہر جنس کو چاہیے کہ وہ اپنی فطرتی صفات پر پابند رہے اور تکلف اختیار کرتے ہوئے مرد، عورت کی اور عورت، مرد کی صفات اختیار نہ کرے، وگرنہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کے مستحق ٹھہریں گے۔
الحكم على الحديث:
صحيح دون قوله ’’وراكب الفلاة وحده‘‘
حدیث نمبر: 6681
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَعَنَ الْمُخَنِّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مردوں میں سے بہ تکلف ہیجڑا پن اختیار کرنے والوں پر لعنت کی ہے اور عورتوں میں سے جو مردوں کا سا پن اپناتی ہیں، ان پر بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعنت کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6681]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لضعف ثوير۔ أخرجه البزار: 2075، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 13477، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5328»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
15. باب
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو¤کوڑے مارنے اور جلاوطن کرنے کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: Q6682]
16. بَابُ دَلِيلِ رَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَنِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
قرآن مجید سے شادی شدہ زانی کو رجم کرنے کی دلیل
حدیث نمبر: 6682
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ فَكَانَ فِيمَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ آيَةُ الرَّجْمِ فَقَرَأْنَاهَا وَعَقَلْنَاهَا وَوَعَيْنَاهَا فَأَخْشَى أَنْ يَطُولَ بِالنَّاسِ عَهْدٌ فَيَقُولُوا إِنَّا لَا نَجِدُ آيَةَ الرَّجْمِ فَتُرَكَ فَرِيضَةٌ أَنْزَلَهَا اللَّهُ تَعَالَى وَأَنَّ الرَّجْمَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى حَقٌّ عَلَى مَنْ زَنَى إِذَا أَحْصَنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ إِذَا قَامَتِ الْبَيِّنَةُ أَوْ كَانَ الْحَبْلُ أَوِ الْاعْتِرَافُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مبعوث کیا اور اس اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جو کتاب نازل کی، اس میں رجم والی آیت بھی تھی، ہم نے اس کو پڑھا تھا، سمجھا تھا اور خوب یاد کیا تھا، مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ لوگ یہ کہنا شروع کر دیں گے کہ ہم قرآن مجید میں رجم کی آیت نہیں پاتے،اس طرح اللہ تعالی کے نازل کردہ ایک فریضے کو چھوڑ دیا جائے گا، جبکہ رجم اللہ تعالی کی کتاب میں ثابت ہے، اس مرد اور عورت کو رجم کیا جائے گا، جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے، جب گواہی ہو، یا حمل ظاہر ہو جائے، یا مجرم اعتراف کر لے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6682]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6829، ومسلم: 1691، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 276 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 276»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6829
حدیث نمبر: 6683
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَفِي لَفْظٍ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ فَذَكَرَ الرَّجْمَ فَقَالَ لَا نُخْدَعَنَّ عَنْهُ فَإِنَّهُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ قَائِلُونَ زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ لَكَتَبْتُهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمُصْحَفِ شَهِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ أَلَا وَإِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمٌ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ وَبِالدَّجَّالِ وَبِالشَّفَاعَةِ وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ وَبِقَوْمٍ يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا امْتَحَشُوا
۔ (دوسری سند) سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہم سے خطاب کیا،اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی اور پھر رجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: اس معاملے میں ہمیں دھوکہ نہیں ہونا چاہیے، بیشک یہ حدودِ الٰہی میں سے ایک حد ہے، خبردار! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا، اگر کسی کہنے والے کے اس کہنے کا ڈر نہ ہوتا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کتاب اللہ تعالی میں اضافہ کر دیا ہے، تو میں قرآن پاک کے کنارے پر رجم کی آیت تحریر کر دیتا، سیدنا عمربن خطاب، سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما اور فلاں فلاں یہ گواہی دیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رجم کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم نے بھی رجم کیا۔ خبردار! تمہارے بعد کچھ ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے، جو رجم، دجال، شفاعت اور عذاب ِ قبر کو جھٹلائیں گے، اور حدیث کے مطابق کچھ لوگ جھلسنے کے بعد جہنم سے نکالے جائیں گے، یہ لوگ اس واقعہ کو بھی جھٹلا دیں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6683]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 156»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رجم کی جس آیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اس سے مراد یہ آیت ہے: ((اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ)) … ”جب شادی شدہ مرد اور عورت زنا کریں تو انھیں بہرصورت سنگسار کر دو۔“ یہ الفاظ منسوخ ہو گئے ہیں، لیکنان کا حکم باقی ہے۔ اللہ تعالی کے فرمان {اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلًا} اور متعلقہ احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ اس آیت کا تعلق رجم سے بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 156
حدیث نمبر: 6684
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ الرَّجْمَ سُنَّةٌ مِنْ سُنَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ كَانَتْ نَزَلَتْ آيَةُ الرَّجْمِ فَهَلَكَ مَنْ كَانَ يَقْرَؤُهَا وَآيًا مِنَ الْقُرْآنِ بِالْيَمَامَةِ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رجم کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے، رجم کی آیت بھی نازل ہوئی تھی، جو لوگ اس کی اور قرآن کی دوسری آیات کی تلاوت کرتے تھے، وہ یمامہ میں شہید ہو گئے تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6684]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد، وفي الخبر الفاظ منكرة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1210»
وضاحت: فوائد: … دراصل رجم سے متعلقہ واضح آیت کی تلاوت منسوخ ہو گئی تھی، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے واضح ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف مجالد بن سعيد
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي رَجْمِ الزَّانِي الْمُحْصَنِ وَجَلَدِ الْبِكْرِ وَتَغْرِيبِهِ عَامًا
شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے اور کنوارے زانی کو کوڑے لگانے اور ایک سال تک¤جلاوطن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6685
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ وَشَبْلًا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ بَعْضُ النَّاسِ ابْنَ مَعْبَدٍ وَالَّذِي حَفِظْتُ شَبْلًا قَالُوا كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ فَقَالَ صَدَقَ اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَائْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ قَالَ قُلْ قَالَ إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِائَةِ شَاةٍ وَخَادِمٍ ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ فَأَخْبَرُونِي أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ وَتَغْرِيبَ عَامٍ وَعَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْمِائَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا فَغَدَا عَلَيْهَا فَاعْتَرَفَتْ فَرَجَمَهَا
۔ سیدنا ابوہریرہ، سیدنا زید بن خالد جہنی اور سیدنا شبل رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس موجود تھے کہ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں آپ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ فرمائیں، اس کا مد مقابل بھی کھڑا ہوا جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا اور اس نے کہا: یہ سچ کہہ رہا ہے، آپ ہمارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق فیصلہ فرمائیں اور مجھے گفتگو کرنے کی اجازت دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کرو بات۔ اس نے کہا: میرا بیٹا اس کے ہاں مزدور تھا، اُس نے اِس کی بیوی کے ساتھ زنا کر لیا، میں نے اسے ایک سو بکریاں اور خادم فدیہ کے طور پر دیئے ہیں، پھر جب میں نے اہل علم سے دریافت کیا ہے تو انہوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے لگائے جائیں گے اور ایک سال کی جلاوطنی ہو گی اور اس آدمی کی بیوی کو سنگسار کر دیا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق ہی فیصلہ کروں گا، سو بکریاں اور خادم تجھ کو لوٹا دیئے جائیں گے اور تیرے بیٹے پر ایک سال کی جلاوطنی اور اس کو سو کوڑے بھی لگائیں جائیں گے، اور اے انیس! تو اس کی بیوی کے پاس جا،اگر وہ زنا کا اعتراف کرلے تو اسے رجم کر دینا۔ جب سیدنا انیس اس عورت کے پاس گئے تو اس نے اعتراف کرلیا، پس انھوں اسے رجم کر دیا۔ سیدنا انیس رضی اللہ عنہ بنواسلم قبیلہ کے آدمی تھے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6685]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6827، 6828، ومسلم: 1697، وابوداود!: 4445، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17042 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17168»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کنوارے کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی ہے اور شادی شدہ کی سزا یہ ہے کہ اس کو سنگسار کر دیا جائے، یعنی پتھر مار مار اس کی زندگی ختم کر دی جائے، ان معاملات میں فدیے نفع مند ثابت نہیں ہوتے۔
قارئین کرام! آپ غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فیصلے میں ان چیزوں کا ذکر کیا: سو بکریوں اور خادم کا لوٹا دیا جانا، بیٹے پر ایک سال کی جلا وطنی اور سو کوڑے، اعتراف کی صورت میں خاتون کو رجم کرنا۔ ان چیزوں میں سے قرآن مجید میں صرف سو کوڑوں کا ذکر ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ ”میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہیں اور ان کے بارے میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہیں۔ جو لوگ احادیث ِ مبارکہ کی حجیت پر طعن کرتے ہیں،یا ان کے ذریعے قرآن مجید پر زیادتی قبول نہیں کرتے، ان کو ایسی احادیث ِ نبویہ پر غور کرنا چاہیے، اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کو حجت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتاب کا مفسِّر اور شارح قرار دیا۔
قارئین کرام! آپ غور کریں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فیصلے میں ان چیزوں کا ذکر کیا: سو بکریوں اور خادم کا لوٹا دیا جانا، بیٹے پر ایک سال کی جلا وطنی اور سو کوڑے، اعتراف کی صورت میں خاتون کو رجم کرنا۔ ان چیزوں میں سے قرآن مجید میں صرف سو کوڑوں کا ذکر ہے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام امور کے بارے میں فرما رہے ہیں کہ ”میں تمہارے درمیان اللہ تعالی کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔“ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے دراصل قرآن مجید کی تفسیر ہیں اور ان کے بارے میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہیں۔ جو لوگ احادیث ِ مبارکہ کی حجیت پر طعن کرتے ہیں،یا ان کے ذریعے قرآن مجید پر زیادتی قبول نہیں کرتے، ان کو ایسی احادیث ِ نبویہ پر غور کرنا چاہیے، اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل کو حجت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی کتاب کا مفسِّر اور شارح قرار دیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6827
حدیث نمبر: 6686
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيْهِ كَرَبَ لِذَلِكَ وَتَرَبَّدَ فَأَوْحَى إِلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَقِيَ كَذَلِكَ فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ الثَّيِّبُ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ رُجِمَ بِالْحِجَارَةِ وَالْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ ثُمَّ نَفْيُ سَنَةٍ
۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر وحی نازل ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرب و اذیت کا سامنا کرتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رنگت تبدیل ہو جاتی، ایک دن جب آپ پر وحی کا نزول ہواتو آپ پر یہی کیفیت طاری ہو گئی، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد اور کنواری عورت کے ساتھ کنوارا مرد زنا کرے گا تو شادی شدہ کو سو کوڑے لگا کر رجم کیا جائے گا اور کنواروں کو سو کوڑے لگا کر ایک سال کے لیے جلا وطن کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6686]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1690، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22734 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23114»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث دراصل اس آیت کی تفسیر تھی: {وَالّٰتِیْیَاْتِیْنَ الْفَاحِشَۃَ مِنْ نِّسَآئِکُمْ فَاسْتَشْھِدُوْا عَلَیْھِنَّ اَرْبَعَۃً مِّنْکُمْ فَاِنْ شَھِدُوْا فَاَمْسِکُوْھُنَّ فِی الْبُیُوْتِ حَتّٰییَتَوَفّٰھُنَّ الْمَوْتُ اَوْ یَجْعَلَ اللّٰہُ لَہُنَّ سَبِیْلَا} … ”تمہاری عورتوں میں جو بے حیائی کا کام کریں، ان پر اپنے میں سے چار گواہ طلب کرو، اگر وہ گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں قید رکھو، یہاں تک کہ موت ان کی عمریں پوری کر دے، یا اللہ تعالیٰ ان کے لئے کوئی اورراستہ نکالے۔“ (سورۂ نسائ: ۱۵) اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم زانیوں کی سزائیں بیان کر کے اسی راستے کی وضاحت کررہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1690
حدیث نمبر: 6687
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُذُوا عَنِّي خُذُوا عَنِّي قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَنَفْيُ سَنَةٍ وَالثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَالرَّجْمُ
۔ سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیکھو مجھ سے سیکھو، اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے راستہ بیان کر دیا ہے، جب کنوارا مرد کنواری عورت سے زنا کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگائیں جائیں گے اور ایک سال کی جلا وطنی ہو گی اور جب شادی شدہ خاتون کے ساتھ شادی شدہ مرد برائی کرے گا تو ان کو سو کوڑے لگا کر سنگسار کر دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6687]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4417، وأخرجه مسلم (1690) عن عبادة بن الصامت، وقال ابو حاتم: ھذا الحديث عن سلمة بن المحبق خطأ، والصحيح عن عبادة بن الصامت، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15910 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16005»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ایک زائد حکم کا ذکر ہے، اور وہ ہے کہ شادی شدہ زانی کو رجم کرنے سے پہلے سو کوڑے لگانا، عام احادیث میں اس شادی شدہ کے لیے صرف رجم کا ذکر ہے، امام احمد، امام اسحاق اور امام داود ظاہری کی رائے یہی ہے کہ پہلے کوڑے لگائے جائیں، کیونکہ اس حدیث میں رجم کے ساتھ کوڑے لگانے کا ذکر موجود ہے، یہی مسلک راجح ہے، جن احادیث میں کوڑے لگانے کا ذکر نہیں ہے تو ان کے بارے میں گزارش ہے کہ کسی چیز کا عدم ذکر، اس کے معدوم ہونے کو مستلزم نہیں ہے۔
امام مالک اور امام شافعی سمیت جمہور اہل علم ایسے زانی کے لیے سو کوڑوں کے قائل نہیں ہے، لیکن درج بالا حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ کنوارے مرد وزن، دونوں کے لیے سوکوڑوں اور جلا وطنی کا حکم ہے، عورت کو جلاوطن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا انتظام بھی کیا جائے گا، عورت کو جلاوطنی سے مستثنی قرار دینا بلا دلیل ہے۔
اگر بعض احادیث میں کوڑوں کا ذکر نہیں تو کئی ثابت، صحیح احادیث میں ان کا ذکر ہے، وہ ایک زائد بات ہے لہٰذا زائد بات کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ مطلق کو مفید پر محمول کرنے کا قاعدہ بھی معروف ہے۔ اس کا تقاضا بھییہی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا دو طرح کی ہے، سو کوڑے اور پھر رجم۔ (عبداللہ رفیق)
امام مالک اور امام شافعی سمیت جمہور اہل علم ایسے زانی کے لیے سو کوڑوں کے قائل نہیں ہے، لیکن درج بالا حدیث میں ان کا ذکر موجود ہے۔ کنوارے مرد وزن، دونوں کے لیے سوکوڑوں اور جلا وطنی کا حکم ہے، عورت کو جلاوطن کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت کا انتظام بھی کیا جائے گا، عورت کو جلاوطنی سے مستثنی قرار دینا بلا دلیل ہے۔
اگر بعض احادیث میں کوڑوں کا ذکر نہیں تو کئی ثابت، صحیح احادیث میں ان کا ذکر ہے، وہ ایک زائد بات ہے لہٰذا زائد بات کا بھی اعتبار کیا جائے گا۔ مطلق کو مفید پر محمول کرنے کا قاعدہ بھی معروف ہے۔ اس کا تقاضا بھییہی ہے کہ شادی شدہ زانی کی سزا دو طرح کی ہے، سو کوڑے اور پھر رجم۔ (عبداللہ رفیق)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابوداود: 4417
حدیث نمبر: 6688
عَنِ الشَّعْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ عَلِيٌّ بِزَانٍ مُحْصَنٍ فَجَلَدَهُ يَوْمَ الْخَمِيسِ مِائَةَ جَلْدَةٍ ثُمَّ رَجَمَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقِيلَ لَهُ جَمَعْتَ عَلَيْهِ حَدَّيْنِ فَقَالَ جَلَدْتُهُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَرَجَمْتُهُ بِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ امام شعبی کہتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شادی شدہ زانی کو لایا گیا،انھوں نے اس کو جمعرات کے دن سو کوڑے لگائے اور پھر جمعہ کے دن اس کو رجم کر دیا، کسی نے ان سے کہا: آپ نے تو اس پر دو حدّیں جمع کر دیں ہیں؟ انھوں نے کہا: میں نے کتاب اللہ کی روشنی میں اس کو کوڑے مارے ہیں اور سنت ِ رسول کی روشنی میں رجم کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6688]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابويعلي: 290، والدارقطني: 3/ 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 941 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 941»
وضاحت: فوائد: … الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اجتہاد تھا، لیکن سابق حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابويعلي: 290