🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ عَدْمٍ قُبُولِ الْفِدْيَةِ فِي الْحُدُودِ أَنَّهُ مُكَفِّرٌ بِالذَّنْبِ
اس چیز کا بیان کہ حدود میں فدیہ قبول نہ کرنے کا عمل گناہوں کا کفارہ بنتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6631
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ امْرَأَةً سَرَقَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بِهَا الَّذِينَ سَرَقَتْهُمْ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذِهِ الْمَرْأَةَ سَرَقَتْنَا قَالَ قَوْمُهَا فَنَحْنُ نَفْدِيهَا بِخَمْسِ مِائَةِ دِينَارٍ قَالَ اقْطَعُوا يَدَهَا قَالَ فَقُطِعَتْ يَدُهَا الْيُمْنَى فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ هَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَنْتِ الْيَوْمَ مِنْ خَطِيئَتِكِ كَيَوْمِ وَلَدَتْكِ أُمُّكِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي سُورَةِ الْمَائِدَةِ {فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِهِ وَأَصْلَحَ فَإِنَّ اللَّهَ يَتُوبُ عَلَيْهِ} [المائدة 39] إِلَخِ الْآيَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں چوری کی، جن لوگوں کی چوری کی گئی تھی، وہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس عورت نے ہماری چوری کی ہے۔ اس عورت کے خاندان والے کہنے لگے: ہم اس چوری کے عوض پانچ سو دینار دیتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ہاتھ کاٹ دو سو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا گیا، وہ عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا میرے لئے توبہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، بلکہ تو تو آج اپنی غلطی سے اس طرح صاف ہو گئی ہے، جس طرح تیری ماں نے آج تجھے جنم دیا ہو۔ پس اللہ تعالی نے سورۂ مائدہ کی یہ آیت اتاری: جس نے ظلم کے بعد توبہ کی اور اپنی اصلاح کی، پس بیشک اللہ تعالیٰ اس پر رجوع کرتا ہے، بے شک اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6631]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحُيَيِّ بن عبد الله المعافري۔ أخرجه الطبري في ’’تفسيره‘‘ المائدة39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6657 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6657»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة وحُيَيِّ بن عبد الله المعافري۔ أخرجه الطبري في ’’تفسيره‘‘ المائدة39
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6632
عَنِ ابْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَصَابَ ذَنْبًا أُقِيمَ عَلَيْهِ حَدُّ ذَلِكَ الذَّنْبِ فَهُوَ كَفَّارَتُهُ
۔ سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور پھر اس پر اس گناہ کی حدّ نافذ کر دی گئی تو وہ اس کے لیے کفارہ ثابت ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6632]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة في ’’مسنده‘‘: 4780، وابو يعلي: 4781، والطبراني: 3728، والبيھقي: 8/ 328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21876 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22220»
وضاحت: فوائد: … کوئی کسی حد کے قابل گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اور حد اس پر قائم کر دی جائے تو یہ حد اس کے گناہ کا کفارہ بن جائے گی۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابن ابي شيبة في ’’مسنده‘‘: 4780
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6633
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَذْنَبَ فِي الدُّنْيَا ذَنْبًا فَعُوقِبَ بِهِ فَاللَّهُ أَعْدَلُ مِنْ أَنْ يُثْنِيَ عُقُوبَتَهُ عَلَى عَبْدِهِ وَمَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَسَتَرَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَفَا عَنْهُ فَاللَّهُ أَكْرَمُ مِنْ أَنْ يَعُودَ فِي شَيْءٍ قَدْ عَفَا عَنْهُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور پھر اسے یہیں اس کی سزا دی گئی تو اللہ تعالی اس سے زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ ایسے بندے کو دوبارہ سزا دے، اور جس نے دنیا میں کوئی گناہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی پردہ پوشی کی اور اس کو معاف کر دیا تو وہ اس سے زیادہ فضل و کرم والا ہے کہ وہ اس گناہ پر گرفت کرے، جس کو وہ معاف کر چکا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6633]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 2626، وابن ماجه: 2604، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 775»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ حد سے متعلقہ جرم معاف ہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملاً حدود کے نفاذ کے بعض مواقع پر بھی بخشش کی نویدیں سنائی ہیں۔ اور کوئی مجرم حد سے بچ جاتا ہے تو وہ اللہ تعالی کے سپرد ہے، اگر اس نے چاہا تو اس کو معاف کر دے گا اور چاہا تو عذاب دے گا، آخری حدیث میں دنیا میں گناہ کی پردہ پوشی کا اللہ تعالی کا جو قانون بیان کیا گیا ہے، یہ قانون ہر جرم کے بارے میں علی الاطلاق نہیں ہے کہ دنیا میں جس مجرم کی پردہ پوشی کی گئی، اس کو آخرت میں بخش دیا جائے، بلکہ اس خاص آدمی کے حق میں کہ جس کی اللہ تعالی نے دنیا میں پردہ پوشی کی اور اس کو بخش بھی دیا تو قیامت کے دن اس کے اس جرم کی سزا نہیں دی جائے گی۔ دوسری کئی نصوص سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔ خلاصۂ کلام یہ ہے کہ اگر کسی مجرم کے گناہ پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے تو اس کا نتیجہیہ نہیں ہونا چاہیے کہ وہ شخص یہسمجھے کہ اس کا گناہ تو معاف کیا جا چکا ہے، ممکن ہے کہ اللہ تعالی اس کو بخش دے اور اس چیز کا امکان بھی ہے کہ اس سے اس کے گناہ کا انتقام لیا جائے، مؤخر الذکر بات مؤمن کو ستاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ نیکیاں کرنے اور توبہ تائب ہونے کی کوشش کرتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن۔ أخرجه الترمذي: 2626
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. بَابُ مَنْ لا يَجِبُ عَلَيْهِ الْحَدُّ وَمَا جَاءَ فِي دَرْء الحدود بالشُّبُهَاتِ
ان افراد کا بیان جن پر حد واجب نہیں ہوتی، نیز شبہات کی بنا پر حدود نہ لگانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6634
عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ الْجَنْبِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أُتِيَ بِامْرَأَةٍ قَدْ زَنَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَذَهَبُوا بِهَا لِيَرْجُمُوهَا فَلَقِيَهُمْ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا هَذِهِ قَالُوا زَنَتْ فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا فَانْتَزَعَهَا عَلِيٌّ مِنْ أَيْدِيهِمْ وَرَدَّهُمْ فَرَجَعُوا إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا رَدَّكُمْ فَقَالُوا رَدَّنَا عَلِيٌّ فَقَالَ مَا فَعَلَ هَذَا عَلِيٌّ إِلَّا لِشَيْءٍ قَدْ عَلِمَهُ فَأَرْسَلَ إِلَى عَلِيٍّ فَجَاءَ وَهُوَ شِبْهُ الْمُغْضَبِ فَقَالَ مَا لَكَ رَدَدْتَ هَؤُلَاءِ قَالَ أَمَا سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَكْبَرَ وَعَنِ الْمُبْتَلَى حَتَّى يَعْقِلَ قَالَ بَلَى قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَإِنَّ هَذِهِ مُبْتَلَاةُ بَنِي فُلَانٍ فَلَعَلَّهُ أَتَاهَا وَهُوَ بِهَا فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا أَدْرِي قَالَ وَأَنَا لَا أَدْرِي فَلَمْ يَرْجُمْهَا
۔ ابو ظبیان جنبی سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی، اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا، پس انہوں نے اس کو رجم کرنے کا حکم دیا، لوگ اسے رجم کرنے کے لیے لے گئے،جب ان کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی انھوں نے پوچھا:یہ کیا کرنے جارہے ہو؟ انہوں نے کہا: اس نے زنا کیا ہے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم کر نے کا حکم دیا ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وہ عورت ان کے ہاتھوں سے چھڑائی اور لے جانے والوں کو واپس لوٹا دیا، جب وہ لوٹ کر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: کیوں واپس آ گئے ہو؟ انہوں نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں واپس بھیج دیا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کسی سبب کے علم کی بنا پر ایسا کیا ہو گا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلا بھیجا، جب وہ آئے تو ایسے لگ رہا تھا کہ وہ غصے میں ہیں، انھوں نے کہا: اے علی! تمہیں کیا ہواہے کہ ان کو واپس لوٹا دیا ہے؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نہیں سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے، (۱) سوئے ہوئے سے جب تک کہ وہ بیدار نہ ہو جائے، (۲) بچے سے جب تک وہ بالغ نہ ہو جائے اور (۳) پاگل سے جب تک وہ عقلمند نہ ہو جائے۔؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیوں نہیں ضرور سن رکھی ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ بنی فلاں قبیلہ کی کم عقل خاتون ہے، ممکن ہے متعلقہ مرد نے اس سے اس وقت زنا کیا ہو جب یہ جنون کی حالت میں ہو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے تو معلوم نہیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:یہ تو مجھے بھی معلوم نہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے رجم نہ کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6634]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1328 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1328»
وضاحت: فوائد: … سونے والا، نابالغ بچہ اور پاگل مرفوع القلم ہیں، کسی شخص پر حد نافذ کرنے کی بنیادیقین پر رکھی جاتی ہے، اور اس حدیث میں مذکورہ خاتون کا معاملہ یقینی نہیں ہے، بلکہ اس کے اس جنون کا قوی شبہ ہے، جس کی بنا پر اس کو حد سے مستثنی کیا جائے گا اور خلیفۂ راشد نے ایسے ہی کیا۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه ابوداود: 4402
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6635
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجَتِ امْرَأَةٌ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَتَجَلَّلَهَا بِثِيَابِهِ فَقَضَى حَاجَتَهُ مِنْهَا وَذَهَبَ وَانْتَهَى إِلَيْهَا رَجُلٌ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ الرَّجُلَ فَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الرَّجُلُ فِي طَلَبِهِ فَجَاءُوا بِالرَّجُلِ الَّذِي ذَهَبَ فِي طَلَبِ الرَّجُلِ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا فَذَهَبُوا بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هُوَ هَذَا فَلَمَّا أَمَرَ النَّبِيُّ بِرَجْمِهِ قَالَ الَّذِي وَقَعَ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا هُوَ فَقَالَ لِلْمَرْأَةِ اذْهَبِي فَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكِ وَقَالَ لِلرَّجُلِ قَوْلًا حَسَنًا فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرْجُمُهُ فَقَالَ لَقَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أَهْلُ الْمَدِينَةِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نماز کی ادائیگی کے لئے گھر سے باہر نکلی، راستے میں اسے ایک آدمی ملا، اس نے اپنے کپڑوں سے اس کو ڈھانپ لیا اور اپنی حاجت پوری کر لی اور فرار ہو گیا،اس عورت کے پاس ایک آدمی پہنچا، اس عورت نے اس سے کہا: فلاں آدمی نے مجھ سے برائی کی ہے، وہ آدمی اس کی تلاش میں گیا اورلوگ اس کو پکڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے آئے، اس عورت نے بھی (غلطی سے) کہہ دیا کہ وہ یہی ہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا تو وہ آدمی، جس نے واقعی اس عور ت سے برائی کی تھی، کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول!اس سے برائی کرنے والا میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا: تو چلی جا، اللہ تعالیٰ نے تجھے معاف کر دیا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کے حق میں اچھے کلمات ارشاد فرمائے، آپ سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! آپ اس کو رجم کیوں نہیں کرتے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے ایسی توبہ کی ہے اگر اس کی توبہ کو مدینہ والوں پر تقسیم کیا جائے تو ان سے بھی قبول کرلی جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6635]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، سماك بن حرب تفرد به، وھو ممن لا يحتمل تفرده، ثم انه قد اضطرب في متنه۔ أخرجه ابوداود: 4379، والترمذي: 1454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27240 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27782»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6636
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اسْتُكْرِهَتِ امْرَأَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَرَأَ عَنْهَا الْحَدَّ وَأَقَامَهُ عَلَى الَّذِي أَصَابَهَا وَلَمْ يَذْكُرْ أَنَّهُ جَعَلَ لَهَا مَهْرًا
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد مبارک میں ایک عورت سے زنا بالجبر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے حد روک لی اور جس مرد نے یہ برائی کی تھی، اس پر حد قائم کی، راوی نے اس بات کا ذکر نہیں کیا کہ اس خاتون کے لیے مہر مقرر کیا تھا یا نہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6636]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة ثم انه لم يسمع من عبد الجبار۔ أخرجه ابن ماجه: 2598، والترمذي: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18872 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19078»
وضاحت: فوائد: … لیکنیہ قانون شرعی ہے اور دوسری نصوص سے ثابت ہے کہ جس مرد و زن کو گناہ والے کسی کام پر مجبور کر دیا جائے، اس کو نہ اس کی سزا دی جائے گی اور نہ وہ گنہگار ہو گا۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف حجاج بن ارطاة ثم انه لم يسمع من عبد الجبار۔ أخرجه ابن ماجه: 2598
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ اسْتِحْبَابِ السَّشْرِ عَلَى مَنِ ارْتَكَبَ مَا يُوجِبُ الْحَدَّ قَبْلَ تَبْلِيغِهِ الْإِمَامَ
حکمران تک پہنچانے سے پہلے حد کو ثابت کرنے والے گناہ کا ارتکاب کرنے والے شخص¤پر پردہ ڈالنے کے مستحب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6637
عَنْ أَبِي مَاجِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى رَجُلٌ ابْنَ مَسْعُودٍ بِابْنِ أَخٍ لَهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا ابْنَ أَخِي وَقَدْ شَرِبَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ أَوَّلَ حَدٍّ كَانَ فِي الْإِسْلَامِ امْرَأَةٌ سَرَقَتْ فَقُطِعَتْ يَدُهَا فَتَغَيَّرَ لِذَلِكَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَغَيُّرًا شَدِيدًا ثُمَّ قَالَ {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور 22]
۔ ابو ماجد کہتے ہیں:ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: یہ میرا بھتیجا ہے، اس نے شراب پی ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں کہ اسلام میں سب سے پہلی حد اس عورت پر لگائی گئی تھی جس نے چوری کی تھی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ سخت متغیر ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاتھا: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6637]
تخریج الحدیث: «اسناده مسلسل بالضعفائ، يزيد بن هارون سمع من المسعودي بعد الاختلاط، ويحيي بن الحارث ضعيف، وابو ماجد الحنفي مجھول، وقال البخاري والنسائي: منكر الحديث۔ أخرجه ابويعلي: 5155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3711 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3711»

الحكم على الحديث:
اسناده مسلسل بالضعفائ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6638
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ أُتِيَ بِسَارِقٍ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ قَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي لَا تَكُونُوا عَوْنًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ {وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ} [النور 22]
۔ ابو ماجدسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے کہا: مجھے وہ پہلا آدمی یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس کا ہاتھ کاٹا تھا، ایک چور کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا، لیکن اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیاتھا، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے لگ رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے ہاتھ کے کٹنے کو ناپسند کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا کون سی چیز مجھے اس سے روک سکتی ہے، تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو، امام کے لئے یہی زیب دیتا ہے کہ جب اس تک حد کا معاملہ پہنچے تو وہ اسے قائم کر دے، بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند کرتا ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: لوگوں کو چاہیے کہ وہ درگزر کریں اور معاف کر دیں، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں بخش دے اور اللہ تعالیٰ بے حد بخشنے والا بہت مہربان ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6638]
تخریج الحدیث: «حسن بشواهده۔ أخرجه الحاكم: 4/ 382، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4168»

الحكم على الحديث:
حسن بشواهده۔ أخرجه الحاكم: 4/ 382
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6639
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) فَذَكَرَ مَعْنَاهُ وَقَالَ كَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذُرَّ عَلَيْهِ رَمَادٌ
۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: ایسے لگ رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہو گیا ہے اور آپ کے چہرے پر راکھ ڈال دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6639]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4169»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں ایک دو باتیں وضاحت طلب، دوسری حدیث کا مفہوم تو عیاں ہے۔
۱۔ بات یہ ہے کہ اس میں ایک روایت میں آتا ہے کہ آدمی نے سب سے پہلے چوری کی اور اس پر حد لگائی گئی جبکہ دوسری روایت میں آتا ہے وہ جس پر چوری کی سب سے پہلے حد لگائی گئی وہ عورت تھی تو ان میں مطابقت اس طرح ہے کہ عورتوں میں اسلام میں سب سے پہلے چوری میں جسے حد لگائی گئی وہ عورت تھی جس کا ذکر ہوا ہے اور جس میںیہ آیا ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے جو چوری کی حد لگائی گئی وہ مرد تھا تو یہ مردوں کے اعتبار سے سب سے پہلے تھا۔
۲۔ بظاہر اس حدیث سے احساس ابھرتا ہے کہ حد قائم کرنا کوئی اچھا کام نہیں اور اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے انداز میں غصے کا اظہار فرمایا کہ یوں لگ رہا ہے کہ حد لگانے سے درگزر سے کام لینا چاہیے، حالانکہ ہرگز ایسا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ِ مبارکہ اس لئے تلاوت فرمائی تھی کہ امام وقت کی عدالت تک پہنچنے سے پہلے پہلے معاف کر کے پردہ پوشی کی جائے اس کے خلاف فوراً عدالت میں معاملہ لانے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا ہے مگر جب معاملہ حد امام وقت کی عدالت میں پیش ہو جائے تو پھر تو حد قائم کرنے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ضرور بھر ضرور قائم ہوگی۔
حدیث نمبر (۶۶۲۷)میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ حاکم کی عدالت میں پہنچنے سے پہلے حد کو معاف کرنا یا کروا لینا درست ہے، تاہم شریعت نے جس چیز کو مستثنی قرار دیا ہے، اس میں حاکم کے پاس لانے کے بعد بھی معافی ہو سکتی ہے، جیسے مقتول کے ورثائ، قاتل کو بعد میں بھی معاف کر سکتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4169
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6640
عَنْ دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُلْتُ لِعُقْبَةَ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُوهُ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ قَالَ فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا قَالَ فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ فَقَالَ إِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَقَالَ عُقْبَةُ وَيْحَكَ لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَا مَوْؤُودَةً مِنْ قَبْرِهَا وَفِي لَفْظٍ كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْؤُودَةً مِنْ قَبْرِهَا
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے منشی دُخَین سے مروی ہے، وہ کہتا ہے: میں نے عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا:ہمارے کچھ پڑوسی ہیں،وہ شراب نوشی کرتے ہیں، میں پولیس کو اطلاع کرنے والا ہوں تاکہ وہ انہیں گرفتار کر لے۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہ کرو، انہیں نصیحت کرو اور ڈانٹ ڈپٹ کرو، اس نے ایسے ہی کیا مگر وہ باز نہ آئے، چنانچہ دخین دوبارہ آ گیا اور کہا: میں نے انہیں روکا تو ہے، مگر وہ باز نہیں آتے، اب تو میں پولیس کو ضرور بلاؤں گا، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: او تیرے لیے ہلاکت ہو، اس طرح نہ کر، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو مؤمن کے عیب پر پردہ ڈالتا ہے، وہ گویا کہ قبر میں زندہ درگور بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس شخص کی مانند ہے، جوقبر میں زندہ درگور کی گئی بچی کو زندہ کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6640]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطراب في اسناده، ولجھالة ابي الھيثم۔ أخرجه ابوداود: 4892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17530»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لاضطراب في اسناده
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں