الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. باب ماجاء في النفير مِنَ الزَّنَا وَوَعِيدِ فَاعِلِهِ لا سِيَمَا بِحَلِيلَةِ الْجَارِ وَالْمُغِيبة
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور¤اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
حدیث نمبر: 6650
عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ مَا تَقُولُونَ فِي الزِّنَا قَالُوا حَرَّمَهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ حَرَامٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ لَأَنْ يَزْنِيَ الرَّجُلُ بِعَشْرِ نِسْوَةٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَزْنِيَ بِامْرَأَةِ جَارِهِ قَالَ فَمَا تَقُولُونَ فِي السَّرِقَةِ قَالُوا حَرَّمَهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَهِيَ حَرَامٌ قَالَ لَأَنْ يَسْرِقَ الرَّجُلُ مِنْ عَشَرَةِ أَبْيَاتٍ أَيْسَرُ عَلَيْهِ مِنْ أَنْ يَسْرِقَ مِنْ جَارِهِ
۔ سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: تم لوگ زنا کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اوراس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے اور یہ قیامت کے دن تک حرام ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس عورتوں سے زنا کرنا، اس کا جرم ہمسائے کی بیوی سے زنا کرنے کے جرم سے کم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا تم لوگ چوری کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کو حرام قرار دیا ہے، پس یہ حرام ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا دس گھروں سے چوری کرنا، اس کا جرم پڑوسی کے گھر سے چوری کرنے کے جرم سے کم ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6650]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 605، وفي ’’الاوسط‘‘: 6329، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23854 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24355»
وضاحت: فوائد: … پڑوسی کو اپنے پڑوسی پر حسن ظن ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس کا پڑوسی اس کی عزتوں کا محافظ ہے، اُدھر اللہ تعالی اور اس کے رسول نے پڑوسی کے بہت زیادہ حقوق بیان کیے ہیں، جو آدمی ان سب حد بندیوں کو پامال کر جاتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے جرم کو دس گنا سے بھی بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده جيّد۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 20/ 605
حدیث نمبر: 6651
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ قَعَدَ عَلَى فِرَاشِ مُغِيبَةٍ قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُعْبَانًا
۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس عورت کے بستر پر بیٹھا، جس کا خاوند گھر سے غائب ہو، اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر ایک سانپ مقرر کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6651]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3278، وفي ’’الاوسط‘‘: 3237، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22557 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22924»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن لھيعة۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 3278
حدیث نمبر: 6652
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَلِجُوا عَلَى الْمُغِيبَاتِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنْ أَحَدِكُمْ مَجْرَى الدَّمِ قُلْنَا وَمِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ وَمِنِّي وَلَكِنَّ اللَّهَ أَعَانَنِي عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: جن عورتوں کے خاوند موجود نہ ہوں، ان پر داخل نہ ہوا کرو، کیونکہ شیطان تمہارے اندر خون کی طرح گردش کرتا ہے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ایسے شیطان کا تعلق آپ سے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اس کے خلاف میری مدد کی، پس وہ میرا مطیع ہو گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6652]
تخریج الحدیث: «ھذه ثلاثة احاديث، وھي صحيحة، لكن جمعھا مجالد في ھذا المتن الواحد، واسناد ھذا الحديث ضعيف لضعف مجالد بن سعيد۔ أخرجه الترمذي: 1172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14375»
وضاحت: فوائد: … صحیح مسلم (۲۱۷۱) میں سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((أَلَاَ لَایَبِیِْتَنَّ رَجُلٌ عِنْدَ اِمْرَأَۃٍ ثَیِّبٍ، اِلَّا اَنْ یَّکُوْنَ نَاکِحًا اَوْ ذَا مَحْرَمٍ۔)) … ”خبردار کوئی آدمی کسی بیوہ عورت کے پاس رات نہ گزارے، الایہ کہ وہ اس کا خاوند ہو یا محرم رشتہ دار۔“
کنواری اور غیر شادی شدہ عورتوں کی بہ نسبت شادی شدہ خواتین کے لیے برائی پر آمادہ ہو جانا قدرے آسان ہوتا ہے، ان میں غیرت کے تقاضوں کے معاملے نرمی آ جاتی ہے، جبکہ عیب کے چھپ جانے کا بھی امکان ہوتا ہے، بیوہ کا معاملہ بھی اسی قسم کا ہوتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ان خواتین کے ساتھ بیٹھنےیا ان کے ساتھ رات گزارنے سے منع کیا، وگرنہ کسی غیر محرم خاتون کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا ہی منع ہے، رات گزارنا تو درکنار۔
کنواری اور غیر شادی شدہ عورتوں کی بہ نسبت شادی شدہ خواتین کے لیے برائی پر آمادہ ہو جانا قدرے آسان ہوتا ہے، ان میں غیرت کے تقاضوں کے معاملے نرمی آ جاتی ہے، جبکہ عیب کے چھپ جانے کا بھی امکان ہوتا ہے، بیوہ کا معاملہ بھی اسی قسم کا ہوتا ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر ان خواتین کے ساتھ بیٹھنےیا ان کے ساتھ رات گزارنے سے منع کیا، وگرنہ کسی غیر محرم خاتون کے ساتھ خلوت میں بیٹھنا ہی منع ہے، رات گزارنا تو درکنار۔
الحكم على الحديث:
ھذه ثلاثة احاديث
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي وَلَدِ الزَّنَا
زنا کی اولاد کا حکم
حدیث نمبر: 6653
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زنا کی اولاد تین افراد میں سے زیادہ برا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6653]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3963، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8098 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8084»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 3963
حدیث نمبر: 6654
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ أَشَرُّ الثَّلَاثَةِ إِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ أَبَوَيْهِ يَعْنِي وَلَدَ الزِّنَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زنا کی اولاد اس وقت تینوں میں سے سب سے بدتر ہوتی ہے، جب وہ اپنے ماں باپ جیسا کام کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6654]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، فيه ابراهيم ابن اسحاق، وھو ابراهيم بن الفضل، وھو متروك، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25294»
وضاحت: فوائد: … امام سفیان کہتے ہیں: … اِذَا عَمِلَ بِعَمِلِ اَبَوَیْہِ۔ … اس حدیث کو اس کے مفہوم پر اس وقت محمول کیا جائے گا جب وہ بیٹا بھی اپنے والدین والا فعل کرے گا۔ اس قول کی تائید درج ذیل مرفوع روایت سے ہوتی ہے:
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّـلَاثَۃِ اِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ اَبَوَیْہِ۔)) … ”زنا کا بیٹا تین افراد میں سے ہے، جب وہ بھی اپنے والدین والی کاروائی شروع کر دے۔“ اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابو لیلی سوء حفظ کی بنا پر ضعیف ہے۔
امام البانی نے بھییہی مفہوم پسند کیا ہے۔ (صحیحہ: ۶۷۲)
لیکن فی الحقیقت زنا کی وجہ سے ہونے والی اولاد، اپنے والدین کے کیے سے بری ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلٰی وَلَدِ الْزِّنَا مِن وِزْرِ أَبَوَیْہِ شَیْئٌ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی}۔)) [فاطر:۱۸] (صحیحہ: ۲۱۸۶) ”زنا کی اولاد پر اپنے والدین کے گناہ کا کوئی وبال نہیں ہو گا، ارشادِ باری تعالی ہے: ”(اور قیامت کے دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“
زنا سنگین جرم ہے، لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی اولاد بے قصور ہے، ایسے بچوں کو ان کے والدین کے کئے کا کبھی بھی طعنہ نہیں دینا چاہئے۔
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّـلَاثَۃِ اِذَا عَمِلَ بِعَمَلِ اَبَوَیْہِ۔)) … ”زنا کا بیٹا تین افراد میں سے ہے، جب وہ بھی اپنے والدین والی کاروائی شروع کر دے۔“ اس کی سند میں محمد بن عبد الرحمن بن ابو لیلی سوء حفظ کی بنا پر ضعیف ہے۔
امام البانی نے بھییہی مفہوم پسند کیا ہے۔ (صحیحہ: ۶۷۲)
لیکن فی الحقیقت زنا کی وجہ سے ہونے والی اولاد، اپنے والدین کے کیے سے بری ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((لَیْسَ عَلٰی وَلَدِ الْزِّنَا مِن وِزْرِ أَبَوَیْہِ شَیْئٌ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ أُخْرٰی}۔)) [فاطر:۱۸] (صحیحہ: ۲۱۸۶) ”زنا کی اولاد پر اپنے والدین کے گناہ کا کوئی وبال نہیں ہو گا، ارشادِ باری تعالی ہے: ”(اور قیامت کے دن) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“
زنا سنگین جرم ہے، لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی اولاد بے قصور ہے، ایسے بچوں کو ان کے والدین کے کئے کا کبھی بھی طعنہ نہیں دینا چاہئے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
حدیث نمبر: 6655
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مَنَّانٌ وَلَا وَلَدُ زِنْيَةٍ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین کا نافرمان اور ہمیشہ کا شرابی اور احسان جتانے والا اورولد الزنا جنت میں داخل نہ ہوں گے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6655]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره دون قوله: ’’ولا ولد زنية‘‘ وھذ اسناد ضعيف، علته جابان، وھو لا يدري من ھو، وقال ابو حاتم: ليس بحجة، وقال البخاري: لا يعرف لجابان سماع من عبد الله۔ أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 4915، والدارمي: 2/ 112، وابن حبان: 3383، والطيالسي: 2295، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6892 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6892»
وضاحت: فوائد: … کوئی شک نہیں کہ ولد الزنا اپنا سبب بننے والے دو افراد کی برائی کا ذمہ دار نہیں ہے، نہ اس کو اس چیز کا طعنہ دیا جا سکتاہے، لیکن دیکھایہ گیا ہے کہ ایسے بچے معاشرے کے قیمتی افراد نہیں بنتے، ان کا رجحان گھٹیا افراد کی طرف ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره دون قوله: ’’ولا ولد زنية‘‘ وھذ اسناد ضعيف
9. بَابُ تَحْرِيمِ النَّظْرِ إِلَى الْمَرْأَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ لِأَنَّهُ مِنْ مُقَدِّمَاتِ الزنا
اجنبی عورت کو دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان، کیونکہیہ زنا کے مقدمات میں سے ہے
حدیث نمبر: 6656
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ الْأُولَى لَكَ وَلَيْسَ لَكَ الْأَخِيرَةُ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: نظر کے پیچھے نظر نہ لگانا، پہلی نظر تو معاف ہے، جبکہ دوسری کی تجھے اجازت نہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6656]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الدارمي: 2709، والبزار: 907، وابن حبان: 5570، والحاكم: 3/ 123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1369»
وضاحت: فوائد: … پہلی نظر سے مراد بلا ارادہ پڑ جانے والی نظر ہے، اگر آدمی ان احادیث پر عمل کرتے ہوئے غیر محرم خاتون پر پڑنے والی نظر کو فوراً پھیر لے تو اس خاتون کی شکل دماغ میں محفوظ نہیں ہو سکتی، جبکہ اس عمل کی وجہ سے وجود میں برکت آ جاتی ہے، اس طرح سے آدمی گندے خیالات سے مکمل طور پر بچ جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الدارمي: 2709
حدیث نمبر: 6657
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا عَلِيُّ إِنَّ لَكَ كَنْزًا مِنَ الْجَنَّةِ وَإِنَّكَ ذُو قَرْنَيْهَا فَلَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَ لَكَ الْآخِرَةُ
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! آپ کے لئے جنت میں ایک خزانہ ہے، تم جنت کے دونوں کناروں میں رہو گے، لہذا نظر کے پیچھے نظر نہ ڈالنا، بے شک تجھے پہلی نظر کی اجازت ہے، دوسری کی اجازت نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6657]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1373»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1373
حدیث نمبر: 6658
عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا تُتْبِعِ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ فَإِنَّ لَكَ الْأُولَى وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ
۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: نظر کے پیچھے نظر نہ لگانا، پہلی نظر تو معاف ہے، جبکہ دوسری کی تجھے اجازت نہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6658]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة:)۔ أخرجه ابوداود: 2149، والترمذي: 2777، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22991 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23379»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 6659
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُتِبَ عَلَى ابْنِ آدَمَ نَصِيبُهُ مِنَ الزِّنَا أَدْرَكَ لَا مَحَالَةَ فَالْعَيْنُ زِنْيَتُهَا النَّظَرُ وَيُصَدِّقُهَا الْأَعْرَاضُ وَاللِّسَانُ زِنْيَتُهُ النُّطْقُ وَالْقَلْبُ الْمُتَمَنِّي وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ مَا ثَمَّ وَيُكَذِّبُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم کے بیٹے پر اللہ تعالیٰ نے اس کے زنا کا حصہ لکھ دیا ہے، وہ اس کو لا محالہ طور پر پائے گا، آنکھ کا زنا دیکھنا ہے، پھر مختلف (روحانی) بیماریاں اس کی تصدیق کرتی ہیں، زبان کا زنا بولنا ہے، دل تمنا کرنے والا ہوتا ہے اور شرمگاہ ان سب امور کی تصدیق کرتی ہے یا پھر تکذیب۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6659]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 4421، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8215 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8199»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالی نے لوح محفوظ میں وہ نیکیاں اور برائیاں بھی لکھ دی ہیں، جو ہر انسان نے کرنی ہیں، اسی چیز کو اللہ تعالی کا علم یا تقدیر کہتے ہیں، لیکن اس ریکارڈ کا یہ معنی نہیں کہ انسان برے اعمال کر کے گنہگار نہیں ہو گا، اگر اللہ تعالی کو علم ہے کہ فلاں بندے نے بدکاری کرنی ہے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس معاملے میں بندے کو معذور سمجھا جائے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين۔ أخرجه ابن حبان: 4421