🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
9. بَابُ تَحْرِيمِ النَّظْرِ إِلَى الْمَرْأَةِ الْأَجْنَبِيَّةِ لِأَنَّهُ مِنْ مُقَدِّمَاتِ الزنا
اجنبی عورت کو دیکھنے کے حرام ہونے کا بیان، کیونکہیہ زنا کے مقدمات میں سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6660
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ وَالرِّجْلَانِ تَزْنِيَانِ وَالْفَرْجُ يَزْنِي
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دونوں آنکھیں بھی زنا کرتی ہیں، دونوں ہاتھ بھی زنا کرتے ہیں، دونوں پاؤں بھی زنا کرتے ہیں اور شرمگاہ بھی زنا کرتی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6660]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 5364، والبزار: 1550، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 10303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3912 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3912»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابويعلي: 5364
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6661
عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كُلُّ ابْنِ آدَمَ لَهُ حَظُّهُ مِنَ الزِّنَا فَزِنَا الْعَيْنَيْنِ النَّظَرُ وَزِنَا الْيَدَيْنِ الْبَطْشُ وَزِنَا الْرِّجْلَيْنِ الْمَشْيُ وَزِنَا الْفَمِ الْقُبَلُ وَالْقَلْبُ يَهْوَى وَيَتَمَنَّى وَيُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ الْفَرْجُ وَحَلَّقَ عَشْرَةً ثُمَّ أَدْخَلَ أُصْبُعَهُ السَّبَّابَةَ فِيهَا يَشْهَدُ عَلَى ذَلِكَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَحْمُهُ وَدَمُهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم کے ہر بیٹے کا زنا میں حصہ ہے، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے، پاؤں کا زنا چلنا ہے،منہ کا زنا بوسہ لینا ہے اور دل اس کی خواہش اور تمنا کرتا ہے اور پھر شرمگاہ ان امور کی تصدیق کرتی ہے یا تکذیب۔ پھر سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دس کے عدد کا حلقہ بنایا اور دوسرے ہاتھ کی انگشت ِ شہادت کو اس میں داخل کیا اور کہا:ابوہریرہ کا گوشت اور خون اس پر گواہی دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6661]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2657، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10920 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10933»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2657
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6662
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ عَيْنٍ زَانِيَةٌ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آنکھ سے زنا سرزد ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6662]
تخریج الحدیث: «اسناده جيّد۔ أخرجه ابن خزيمة: 1681، وابن حبان: 4424، والبيھقي: 3/ 246، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19748 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19986»
وضاحت: فوائد: … ان تمام احادیث سے ثابت ہوا کہ مرد کا غیر محرم عورت کو دیکھنا حرام ہے، آنکھ ہی زنا کا مقدمہ ہے، جو آدمی اپنی نظر کی حفاظت کرے گا، وہ بدکاری کے تمام متعلقات سے محفوظ رہے گا، ان شاء اللہ تعالی۔

الحكم على الحديث:
اسناده جيّد۔ أخرجه ابن خزيمة: 1681
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
10. )
اجنبی عورت پر اچانک پڑ جانے والی نگاہ کی معافی کا اور ایسی نگاہ کے بعد نظر جھکا لینے کے ثواب بیان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان کہ ’’جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو پسند آ جائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس پہنچے (اور جماع کرے)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6663
عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَظْرَةِ الْفَجْأَةِ فَأَمَرَنِي أَنْ أَصْرِفَ بَصَرِي
۔ سیدنا جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اچانک پڑ جانے والی نظر کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں نظر پھیر لیا کروں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6663]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2159، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19373»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالی ہے: {قُلْ لِلْمُوْمِنِیْنَیَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا یَصْنَعُوْنَ۔ وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَھُنَّ} … (النور:۳۰، ۳۱) ”مؤمنوں کو کہہ دیجئے کہ وہ اپنی آنکھوں کو پست رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت رکھں، یہی ان کے لیے پاکیزگی ہے، لوگ جو کچھ کریں اللہ تعالی سب سے باخبر ہے۔ اور مسلم خواتین سے بھی کہہ دیں کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں۔“ پہلا حکم تو یہی ہے کہ خواتین و حضرات اپنی نگاہیں پست رکھیں، لیکن خدانخواستہ اگر نگاہ کسی ایسی چیز پر پڑ جاتی ہے، جس کو شریعت نے دیکھنے سے منع کیا تو فوراً نظر کو پھیر لینا چاہیے، فی الفور نظر کو ہٹانے سے یا تو شہوت کے اثرات پیدا ہی نہیں ہوتے یا پھر جلد ہی کم پڑ جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2159
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6664
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ يَغُضُّ بَصَرَهُ إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِبَادَةً يَجِدُ حَلَاوَتَهَا
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کی پہلی مرتبہ کسی عورت کے محاسن پر نظر پڑتی ہے، لیکن پھر وہ اپنی نظر کو پست کر لیتاہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسی عبادت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ اس کی مٹھاس محسوس کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6664]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، علي بن يزيد بن أبي ھلال الالھاني واھي الحديث وعبيد الله بن زحر ضعيفيعتبر به۔ أخرجه البيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 5431، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 7842، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22278 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22634»
وضاحت: فوائد: … بہرحال اس قسم کے حرام کردہ امور سے بچتے وقت مؤمن کو اپنے مزاج میں لذت اور حلاوت محسوس ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ حرام سے اجتناب کرنا عبادت گزاری کی بڑی اقسام میں سے ہے، اس لیے ایسا کرتے وقت اللہ تعالی کے قرب کا احساس ہوتا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت بڑھ جاتی ہے، جس کا لازمی نتیجہیہ ہے کہ مزاج فرحت و مسرت محسوس کریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6665
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَأَتَى زَيْنَبَ وَهِيَ تَمْعَسُ مَنِيئَةً فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَقَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُقْبِلُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ وَتُدْبِرُ فِي صُورَةِ شَيْطَانٍ فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ فَلْيَأْتِ أَهْلَهُ فَإِنَّ ذَاكَ يَرُدُّ مَا فِي نَفْسِهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اچھی لگی، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی حرم پاک سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے، جبکہ وہ چمڑا مل رہی تھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اپنی حاجت پوری کی اور فرمایا: بے شک عورت شیطان کی صورت میں متوجہ ہوتی ہے اور شیطان کی صورت میں ہی پیٹھ پھیر کر جاتی ہے، اس لیے جب کوئی آدمی کسی عورت کو دیکھے اور وہ اس کو اچھی لگے تو وہ اپنی بیوی کے پاس جائے اور (اپنی حاجت پوری کر لے)، یہ چیز اس کے نفس کے برے خیال کو ختم کر دے گی۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6665]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1403، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14591»
وضاحت: فوائد: … انسان پاکباز اور پاکدامن رہنے کی فکر رکھتا ہو، تو اس حدیث میں بیان کیا ہوا اصول اس کا سب سے بڑا معاون ہو گا، کیونکہ پاکدامنی اسی وقت متاثر ہوتی، جب آدمی غیر محرم خواتین کے پیچھے پڑتا ہے اور پھر دن بدن شیطان اس کے دل میں گھر کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اگر کوئی اس قانون پر عمل کرے گا تو اس کو دو برکتوں کا حصول ہو گا، ایک غیر محرم عورت سے بے رخی اختیار کرنا اور دوسرا اپنی بیوی سے مجامعت کرنا، مؤخر الذکر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باعث ِ اجر قرار دیا ہے، شیطان ایسے آدمی سے بہت دور ہو جاتا ہے۔ اس حدیث ِ مبارکہ کے شروع والے حصے میں میں ایک بات قابل توجہ ہے کہ وہ خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی لگی، اس کے بارے میں ابن عربی لکھتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے دل میں جو خیال آیا،یہ ایسا معاملہ ہے، جس پر نہ شرعاً مؤاخذہ ہو گا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعت و منزلت میں کوئی کمی آئے گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیز محسوس کی ہے، یہ آدمی کی جبلّت ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم اور حکیم تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق زوجیت ادا کر کے پاکدامنی کے ساتھ اس جبلی اور فطرتی خیال کو ختم کر دیا۔
قارئین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عصمت و عظمت کا اعتراف کرنے کے بعد ان امور میں فرق کرنا چاہیے: محض کسی چیز کا خیال آ جانا، برائی کا باقاعدہ ارادہ کرنا اور پھر اس کو نافرمانی سمجھ کر اس سے باز رہنے کا ارادہ کرنا، برائی کا عزم کرنا اور
اس کا ارتکاب کرنے کی کوشش میں رہنا، عملی طور پر برائی کرنا۔ مؤخر الذکر تین امور عصمت کے منافی ہیں، پہلی چیز قابل مؤاخذہ نہیں ہے، بالخصوص جب اس کے اثر کو نیکی کے ذریعے زائل کر دیا جائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1403
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6666
عَنْ أَبِي كَبْشَةَ الْأَنْمَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ جَالِسًا فِي أَصْحَابِهِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ وَقَدِ اغْتَسَلَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ كَانَ شَيْءٌ قَالَ أَجَلْ قَدْ مَرَّتْ بِي فُلَانَةُ فَوَقَعَ فِي قَلْبِي شَهْوَةُ النِّسَاءِ فَأَتَيْتُ بَعْضَ أَزْوَاجِي فَأَصَبْتُهَا فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا فَإِنَّهُ مِنْ أَمَاثِلِ أَفْعَالِكُمْ إِتْيَانُ الْحَلَالِ
۔ سیدنا ابو کبشہ انماری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے درمیان تشریف فرما تھے کہ اچانک آپ گھر داخل ہوئے اور پھر باہر تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غسل بھی کیا ہوا تھا، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول!کچھ ہوا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں، فلاں عورت میرے پاس سے گزری، اس سے میرے دل میں عورتوں کی خواہش بیدار ہوئی، اس لیے میں اپنی بیوی کے پاس گیا اور حق زوجیت ادا کیا، تم بھی اسی طرح کیا کرو، حلال کو اختیار کرنا تمہارے افضل اعمال میں سے ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6666]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 848، والبخاري: في ’’التاريخ‘‘: 6/ 139، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18191»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 848
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
11. بَاب مَا جَاءَ فِي نَظرِ الْمَرْأَةِ إِلَى الرَّجُلِ الْأَجْنَبِي
عورت کا اجنبی مرد کو دیکھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6667
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَيْمُونَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ وَذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أَمَرَنَا بِالْحِجَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ احْتَجِبَا مِنْهُ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا وَلَا يَعْرِفُنَا قَالَ أَفَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا أَلَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ
۔ سیدنا ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا دونوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس داخل ہوئے، یہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے کے بعد کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمایا: اس سے پردہ کرو۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ تو نابینا آدمی ہیں، نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہمیں پہچان سکتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو، کیا تم اس کو دیکھ نہیں رہی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6667]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال نبھان۔ أخرجه ابوداود: 4112، والترمذي: 2778، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27072»
وضاحت: فوائد: … یہ روایت تو ضعیف ہے، لیکن اللہ تعالی کے اس فرمان سے یہی مسئلہ ثابت ہوتا ہے: {وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِھِنَّ} … (النور: ۳۰) ”اور ایماندار عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگائیں جھکا کر اس مسئلہ کے معارض جتنی روایات پیش کی جاتی ہیں، ان میں احتمال پایا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال نبھان۔ أخرجه ابوداود: 4112
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
12. باب النَّهْيِ عَنِ الْخَلْوَةِ بِالْمَرْأَةِ الاجنبية
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6668
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَخْلُوَنَّ بِامْرَأَةٍ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ مِنْهَا فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ اس عورت کے ساتھ تنہائی اختیار نہ کرے، جس کا محرم موجود نہ ہو، کیونکہ ان دو کا تیسرا شیطان ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6668]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 2801، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14651 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14705»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره۔ أخرجه الترمذي: 2801
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6669
عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ لَا تَحِلُّ لَهُ فَإِنَّ ثَالِثَهُمَا الشَّيْطَانُ إِلَّا مَحْرَمٌ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ وَهُوَ مِنَ الْاثْنَيْنِ أَبْعَدُ مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ
۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! ہرگز کوئی آدمی بھی کسی ایسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے،جو اس کے لئے حلال نہ ہو، کیونکہ تیسرا شیطان آجاتا ہے، ما سوائے محرم کے، شیطان ایک کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو سے زیادہ سےدور ہو جاتا ہے اور جس شخص کو اس کی برائی بری لگے اور اس کو اس کی اچھائی اچھی لگے، تو وہ مؤمن ہوگا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6669]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه البزار و ابو يعلي و الطبراني، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15785»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه البزار و ابو يعلي و الطبراني
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں