الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب النَّهْيِ عَنِ الْخَلْوَةِ بِالْمَرْأَةِ الاجنبية
اجنبی عورت کے ساتھ خلوت کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6670
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهَا وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ
۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہرگز کوئی آدمی بھی کسی عورت کے ساتھ خلوت اختیار نہ کرے، کیونکہ ان کا تیسرا شیطان ہوتا ہے، اور جس شخص کو اس کی اچھائی اچھی لگے اوراس کی برائی بری لگے تو وہ مؤمن ہوگا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6670]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2165، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 114»
وضاحت: فوائد: … اچھائی کا اچھا لگنا اور برائی کا برا لگنا، اللہ تعالی کے ساتھ گہرے تعلقات کے بعد مومن کو یہ سعادت نصیب ہوتی ہے، اس سعادت کے بعد دن بدن نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور برائیوں کی مقدار کم ہونے لگتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح۔ أخرجه الترمذي: 2165
حدیث نمبر: 6671
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ قَالَ الْحَمْوُ الْمَوْتُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم عورتوں پر داخل ہونے سے خصوصی طور پر بچو۔ ایک انصاری نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کا دیور کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دیور تو موت ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6671]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5232، ومسلم: 2172، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17396 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17531»
وضاحت: فوائد: … یعنی دیور سے خصوصی اجتناب کی ضرورت ہے، کیونکہ اگر اس سے مانوسیت ہو گئی تو ایک گھر ہونے کی وجہ سے یا ہمسایہ ہونے کی وجہ سے یا بھائی کے گھر میں آمد و رفت کی وجہ سے ایک دوسرے تک رسائی حاصل کرنا پہلے سے ہی آسان ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بعض خاندانوں میں مردوں کے نزدیک ان کی بھابیوں کی اتنی قدر اور تقدس ہوتا ہے کہ وہ کبھی بھی ان کے ساتھ بد فعلی کا نہیں سوچ سکتے،اس لیے ان لوگوں کو اس حدیث ِ مبارکہ پر تعجب ہوتا ہے کہ جب طبع اور مزاج کا تقاضا یہ ہے تو شریعت نے اس معاملے میں اس قدر سختی کیوں کی ہے۔ اس کا جواب یہہے کہ شریعت چندخاندانوں یا چند با ضمیر افراد کے مزاج کو نہیں دیکھتی، بلکہ اس کی نظر متوقع شرّ پر بھی ہوتی ہے، جبکہ ہمارے ہی معاشرے میں عملی طور پر ایسے بد کردار لوگ موجود ہیں، جن کی بد نگاہوں سے ان کی بھابیاں سالم نہ رہ سکیں اور انھوں نے دوسرے افراد کے ذریعے ان کو ورغلایا اور منہ کالا کیا۔ (نَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَنَتُوْبُ اِلَیْہِ) ان تمام روایات سے معلوم ہوا کہ غیر محرم مردو زن کا علیحدگی اختیار کرنا منع ہے، نظر کی طرح خلوت بھی بدکاری کے پھیل جانے کا بہت بڑا سبب ہے، ہمارے معاشرے میں اکثر فتنے اسی علیحدگی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ اگر کسی خاتون کو غیر محرم مردوں کے تعلقات سے بچانا ہو تو اس کا موبائل اور نیٹ کا استعمال بھی محدود ہونا چاہیے، کیونکہ موبائل اور نیٹ نے لڑکوں اور لڑکیوں کو گفتگو کے ذریعے خلوت کے جو مواقع مہیا کیے ہیں، وہی شرّ اور فساد کی بنیاد ہیں، اگر ایک لڑکی بظاہر تو گھر میں ہی بیٹھی ہے، لیکن موبائل وغیرہ کے ذریعے اس کے غیر محرم لڑکوں کے ساتھ رابطے جاری ہیں، تو یہ بھی وہی چیز ہو گی، جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں حرام قرار دیا ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5232
13. بَابُ النَّهْي عَنْ مُبَاشَرَةِ الرَّجُلِ الرَّجُلَ وَالْمَرْأَةِ الْمَرْأَةَ بِغَيْرِ حَائِلٍ
بغیر کسی اوٹ کے مرد کا مرد کے ساتھ اور عورت کا عورت کے ساتھ لیٹنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6672
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک ہی کپڑے میں مرد، مرد کے ساتھ اپنا جسم نہ ملائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6672]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه الحاكم: 4/287، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 5214، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14897»
وضاحت: فوائد: … عورت کا عورت کے ساتھ ا ور مرد کا مرد کے ساتھ ننگے ہو کر ایک لحاف یا کپڑے میں لیٹنا منع ہے، کیونکہیہ بے پردگی، بد تہذیبی اور گندے خیالات کے پیدا ہونے کا سبب ہے اور بعض صورتوں میں اس سے کسی بڑے حرام کام کے ارتکاب کا خطرہ ہوسکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره۔ أخرجه الحاكم: 4/287
حدیث نمبر: 6673
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ إِلَّا الْوَلَدَ وَالْوَالِدَ وَفِي رِوَايَةٍ أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ عورت عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں مباشرت نہ کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مرد مرد کے ساتھ اور عورت عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔ ایک روایت میں ہے: ہر گز کوئی مرد کسی مرد کے ساتھ اور کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ نہ لیٹے، ما سوائے اولاد اور والدین کے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6673]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ’’الا الولد والوالد‘‘، وھذا اسناد ضعيف لجھالة الطفاوي شيخ ابي نضرة۔ أخرجه ابوداود: 2174، والترمذي:2787، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9774»
وضاحت: فوائد: … اگرچہ اولاد اور والدین کے باہمی تقدس کی وجہ سے حرام کام کے ارتکاب کا خطرہ تو نہیں ہوتا، لیکن اس کے باوجود ان کے لیے بھی اس طرح لیٹنا ممنوع ہے، کیونکہیہ بھی بے پردگی، بد تہذیبی اور گندے خیالات کے پیدا ہونے کا مستلزم ہے۔ اس حدیث میں اولاد اور والدین کو مستثنی کیا گیا ہے، لیکن استثنا والے یہ الفاظ ضعیف ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح دون قوله: ’’الا الولد والوالد‘‘
حدیث نمبر: 6674
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ حَتَّى تَصِفَهَا لِزَوْجِهَا كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا زَادَ فِي رِوَايَةٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَيْنَهُمَا ثَوْبٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت، عورت کے ساتھ مل کر نہ سوئے حتیٰ کہ وہ اپنے خاوند کے لیے اس خاتون کا حلیہ بیان کرے گی گویا کہ وہ اس کو دیکھ رہا ہے۔ ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں: الا یہ کہ ان دونوں کے درمیان کپڑا ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6674]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3609 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3609»
وضاحت: فوائد: … کسی خاتون کے لیے منع ہے کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے دوسری خواتین کا حسن بیان کرے، ظاہر بات ہے کہ اس سے خاوند کے اندر غلط جذبات ابھر سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5241
حدیث نمبر: 6675
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَاشِرُ الرَّجُلُ الرَّجُلَ وَلَا الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی، آدمی کے ساتھ اور عورت، عورت کے ساتھ آپس میں مل کر نہ سوئیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6675]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 11728، وابن ابي شيبة: 4/ 398، والبزار: 2074، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2871»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 11728
حدیث نمبر: 6676
عَنْ أَبِي شَهْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ رَجُلًا بَطَّالًا قَالَ فَمَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ فَهَوَيْتُ إِلَى كَشْحِهَا وَفِي لَفْظٍ أَخَذْتُ بِكَشْحِهَا فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ فَقَبَضَ فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ قَالَ فَأَتَى النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُونَهُ فَأَتَيْتُهُ فَبَسَطْتُ يَدِي لِأُبَايِعَهُ فَقَبَضَ يَدَهُ وَقَالَ أُحِبُّكَ صَاحِبَ الْجُبَيْذَةِ يَعْنِي أَمَا إِنَّكَ صَاحِبُ الْجُبَيْذَةِ أَمْسِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايِعْنِي فَوَاللَّهِ لَا أَعُودُ أَبَدًا قَالَ فَنَعَمْ إِذًا
۔ ابو شہم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک بے کار سا آدمی تھا، ایک دن مدینہ منورہ کے کسی راستہ پر ایک لونڈی میرے پاس سے گزری، میں اس کے پہلو کی طرف جھکا، ایک روایت میں ہے: میں نے اس کا پہلو پکڑ لیا، اگلے دن جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کرنے کے لیے آئے تو میں بھی آیا اور بیعت کے لئے اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، اگلے دن پھر ایسے ہی ہوا کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کر رہے تھے، میں بھی آیا اور اپنا ہاتھ پھیلایا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ بند کر لیا، لیکن اس بار فرمایا: میں تجھے جبیذہ والا ساتھی گمان کر رہا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مراد یہ سوال تھا کہ کیا کل تو جبیذہ والا ساتھی نہیں تھا؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھ سے بیعت لے لیں، اللہ کی قسم! میں کبھی بھی یہ جرم نہیں کروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر ٹھیک ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6676]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 1543، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 932، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22512 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22879»
وضاحت: فوائد: … ایسے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت کے الفاظ ”أُحِبُّکَ“ کی اصل شکل ”أَحْسِبُکَ“ تھی، کسی کاتب سے غلطی ہو گئی ہے، ہم نے اصل لفظ کو سامنے رکھ کر ترجمہ کیا ہے۔ ”الجُبَیذۃ“ کا لفظ ”جبذ“ سے مشتق ہے اور یہ ”جذب“ کی ایک لغت ہے، جس کے معانی کھینچنے کے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تو ہی وہ آدمی ہے، جو کل لونڈی کے پہلو کو پکڑ کر اس کو کھینچ رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو شہم کے اس جرم کی وجہ سے بیعت نہیں لی تھی، پھر جب انھوں نے توبہ تائب ہو جانے کا اظہار کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت لے لی۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح۔ أخرجه ابو يعلي: 1543
14. بَابُ نَهْيِ الْمُخَيِّينَ عَنِ الدُّخُولِ عَلَى النِّسَاءِ
ہیجڑوں کا عورتوں پر داخل ہونے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 6677
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَهَا مُخَنِّثٌ وَعِنْدَهَا أَخُوهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ وَالْمُخَنِّثُ يَقُولُ لِعَبْدِ اللَّهِ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أُمَيَّةَ إِنْ فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمُ الطَّائِفَ غَدًا فَعَلَيْكَ بِابْنَةِ غَيْلَانَ فَإِنَّهَا تُقْبِلُ بِأَرْبَعٍ وَتُدْبِرُ بِثَمَانٍ قَالَتْ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِأُمِّ سَلَمَةَ لَا يَدْخُلَنَّ هَذَا عَلَيْكِ
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک ہیجڑا بیٹھا ہوا تھا، لیکن میرا بھائی سیدنا عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، اس ہیجڑے نے عبد اللہ سے کہا: اے عبد اللہ بن زمعہ! اگر کل اللہ تعالی نے تمہارے لیے طائف کو فتح کر لیا تو غیلان کی بیٹی کو تو نے لازمی طور پر پکڑ لینا ہے، کیونکہ وہ چار کے ساتھ آتی ہے اور آٹھ کے ساتھ جاتی ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے یہ الفاظ سنے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: آئندہ یہ ہیجڑا ہر گز تجھ پر داخل نہ ہونے پائے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6677]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 4324، 5235، ومسلم: 2180، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26490 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27023»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 4324
حدیث نمبر: 6678
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَجُلٌ يَدْخُلُ عَلَى أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مُخَنِّثٌ وَكَانُوا يَعُدُّونَهُ مِنْ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَهُوَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ وَهُوَ يَنْعَتُ امْرَأَةً فَقَالَ إِنَّهَا إِذَا أَقْبَلَتْ أَقْبَلَتْ بِأَرْبَعٍ وَإِذَا أَدْبَرَتْ أَدْبَرَتْ بِثَمَانٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا أَرَى هَذَا يَعْلَمُ مَا هَاهُنَا لَا يَدْخُلُ عَلَيْكُنَّ هَذَا فَحَجَبُوهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک ہیجڑا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کے پاس آتا رہتا تھا، لوگ سمجھتے تھے کہ وہ شہوانی خواہشات سے عاری ہے، ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب تشریف لائے تو وہ ہیجڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کسی اہلیہ کے پاس موجود تھا، وہ ایک عورت کا حسن یوں بیان کرنے لگا کہ وہ جب آتی ہے تو چار بَلْ کے ساتھ آتی ہے اور جب وہ جاتی ہے تو آٹھ بل کے ساتھ جاتی ہے، یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنا کچھ جانتا ہے، یہ آئندہ تمہارے پاس نہ آنے پائے۔ پس لوگوں نے اس کو منع کر دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6678]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2181، وابوداود!: 4109، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25185 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25700»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر یہی دیکھا گیا ہے کہ ہیجڑوں میں سنجیدگی اور شرم و حیا کم ہوتا ہے، بلکہ پایا ہی نہیں جاتا، یہ لوگ مردوں سے بھی شہوانی باتیں کرتے ہیں اور عورتوں سے بھی، درج بالا احادیث سے پتہ چلا کہ یہ مرد و زن کی کیفیت بھی بتلا سکتے ہیں، جبکہ ایسا کرنے سے پردہ بے معنی ہو جاتا ہے، پھر آگے سے ان کے مخاطَب افراد بھی غیر سنجیدہ ہو کر شرارت والی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اور شہوانی جذبات ابھرنا شروع ہو جاتے ہیں، ایسے ہیجڑوں کو خواتین و حضرات دونوں کے پاس آنے سے منع کر دینا چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2181
حدیث نمبر: 6679
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمُخَنِّثِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالْمُتَرَجِّلَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَقَالَ أَخْرِجُوهُمْ مِنْ بُيُوتِكُمْ فَأَخْرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا وَأَخْرَجَ عُمَرُ فُلَانًا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان مردوں پر لعنت کی ہے جو ہیجڑا پن اپناتے ہیں اور ان عورتوں پر بھی لعنت کی ہے جو مردانہ پن اپناتی ہیں اور فرمایا: ہیجڑوں کو اپنے گھروں سے نکال دو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فلاں کو اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فلاں کو گھر سے نکال دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6679]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5886، 6834، وابوداود!: 4930، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1982»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5886