🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. بَابُ حَدٍ مَنِ ارْتَدَّ عَنِ الْإِسْلَامِ وَمَا جَاءَ فِي الزَّنَادِقَةِ
اسلام سے مرتد ہونے والے کی حد اور زنادقہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6641
عَنْ أَبِي بُرْدَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ عَلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ قَالَ مَا هَذَا قَالُوا رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ وَنَحْنُ نُرِيدُ عَلَى الْإِسْلَامِ مُنْذُ قَالَ أَحْسَبُهُ شَهْرَيْنِ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى تَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ فَقَالَ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ مَنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ فَاقْتُلُوهُ أَوْ قَالَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ
۔ سیدنا ابو بردہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ یمن میں تھے اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک آدمی تھا، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ آدمی یہودی تھا، پھر مسلمان ہوا اور اب پھر یہودی ہو گیا ہے، دو ماہ ہو گئے ہیں کہ ہم اس سے اسلام پر کار بند رہنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کہا: اللہ کی قسم! جب تک تم اس کی گردن نہیں اڑاؤ گے، میں نہیں بیٹھوں گا،پس اس کو قتل کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ جو شخص اپنے دین کو ترک کر دے یا اپنے دین کو بدل ڈالے، اس کو قتل کر دو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6641]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22365»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6642
عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أُتِيَ بِقَوْمٍ مِنْ هَؤُلَاءِ الزَّنَادِقَةِ وَمَعَهُمْ كُتُبٌ فَأَمَرَ بِنَارٍ فَأُجِّجَتْ ثُمَّ أَحْرَقَهُمْ وَكُتُبَهُمْ قَالَ عِكْرِمَةُ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَوْ كُنْتُ أَنَا لَمْ أُحْرِقْهُمْ لِنَهْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَقَتَلْتُهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ
۔ عکرمہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس زندیق لوگوں کو لایا گیا، ان کے پاس ان کی کتابیں بھی تھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پہلے آگ جلانے کا حکم دیا، پس آگ بھڑ کائی گئی، پھر انھوں نے انہیں اور ان کی کتابوں کو جلا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلانے سے منع فرمایا ہے، البتہ میں ان کو قتل کر دیتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اپنا دین تبدیل کرے اسے قتل کر دو۔ نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6642]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22016 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2551»
وضاحت: فوائد: … زندیق اس کو کہتے ہیں جو بظاہر اسلام کا اظہار کرے، مگر باطن میں کفر رکھے اور احکام شریعت کو باطل تصور کرے، یہ لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کا کفر کرنے والے اور اسلام سے مرتد ہونے والے ہوتے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جن زنادقہ کو لایا گیا،یہ دراصل عبد اللہ بن سبا کے پیروکار تھے اور یہ ابن سبا یہودی تھا اور اس نے امت ِ محمدیہ میں فتنہ برپا کرنے کے لیے بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، اسی نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا، پھر وہ کچھ ہوا، جو ہوا، پھر اس نے اپنے خبیث نفس کو شیعہ لوگوں میں لا کھڑا کیا اور جاہلوں کی ایک جماعت سے یہ نعرہ لگانے میں کامیاب ہو گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی معبود ہیں۔ (تلخیص از الملل والنحل)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6643
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَرَّقَ نَاسًا ارْتَدُّوا عَنِ الْإِسْلَامِ فَبَلَغَ ذَلِكَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَمْ أَكُنْ لِأُحَرِّقَهُمْ بِالنَّارِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تُعَذِّبُوا بِعَذَابِ اللَّهِ وَكُنْتُ قَاتِلَهُمْ لِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَلِيًّا كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ فَقَالَ وَيْحَ ابْنِ عَبَّاسٍ
۔ (دوسری سند) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسلام سے مرتد ہونے والے چند لوگوں کو آگ میں جلا دیا، جب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: اگر میں ہوتا تو انہیں آگ میں نہ جلاتا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے ساتھ عذاب نہ دیاکرو۔ میں نے ان کو قتل کرنا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ اپنا دین بدل دے، اسے قتل کر دو۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے کہا: ابن عباس کے لیے افسوس۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6643]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1871»
وضاحت: فوائد: … اسلام کو اپنانے کے بعد اس سے مرتدّ ہو جانے والی کی سزا قتل ہے۔
وَیْحٌ لفظ کسی پر افسوس کے اظہار کے لیے استعمال ہوتا ہے اور بعض دفعہ تعریف اور تعجب کے لیے بھی آتا ہے۔ پہلا معنی اگر مراد ہو تو مفہوم ہوگا: افسوس، اس نے وقت سے پہلے کیوں نہ بتایا تاکہ حدیث کی مخالفت نہ ہوتی۔ اگر دوسرا معنی ہو تو پھر مطلب یہ ہے کہ انہوں نے ابن عباس کی بات کو پسند کیا اور تعجب کا اظہار کیا۔ (بلوغ الامانی) (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
6. باب
زنا کی حد کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: Q6644]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
7. باب ماجاء في النفير مِنَ الزَّنَا وَوَعِيدِ فَاعِلِهِ لا سِيَمَا بِحَلِيلَةِ الْجَارِ وَالْمُغِيبة
زنا سے نفرت دلانے کا اور زانی کی وعید کا بیان، بالخصوص جب وہ اپنے پڑوسی کی بیوی اور¤اس عورت سے زنا کرے، جس کا خاوند غائب ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6644
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَالتَّوْبَةُ مَعْرُوضَةٌ بَعْدُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زانی جس وقت زنا کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا، چورجب چوری کرتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور شرابی جس وقت شراب پیتا ہے، وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اور (ان جرائم کے بعد بھی) توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6644]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6810، ومسلم: 57، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10217 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10220»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں زانی، چور اور شرابی کی سخت سرزنش کی گئی ہے۔
وہ اس وقت مؤمن نہیں ہوتا اس سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ یہ امور ایمان کے منافی ہیں، ایمان ان سے روکتا ہے، جب کوئی شخص ان برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے تو وہ ایمان کے تقاضے پر عمل نہیں کر رہاہوتا، اس معنی میں گویا کہ وہ مؤمن نہیں ہوتا، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیںہے کہ وہ کلی طور پر ایمان سے خارج ہو جاتا ہے اور کافر بن جاتا ہے، کیونکہ اہل سنت کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ کسی بھی گناہ، خواہ وہ کبیرہ ہی ہو، کے ارتکاب سے مسلمان کافر نہیں بنتا، یہ اصول بہت سی آیات و احادیث سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ لیکن اس اصول کا مطلب ایسے مجرموں سے نرمی برتنا نہیں ہے، بلکہ یہ بتلانا مقصود ہے کہ یہ دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوئے اور ابدی طور پر جہنم کے مستحق نہیں ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6645
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةٌ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ يَعْنِي إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْإِمَامُ الْكَذَّابُ وَالشَّيْخُ الزَّانِي وَالْعَائِلُ الْمَزْهُوُّ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی رو زِ قیامت تین قسم کے افراد کی طرف نہیں دیکھے گا: جھوٹا امام، بوڑھا زانی اورمتکبر فقیر۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6645]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح۔ أخرجه النسائي: 5/86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9592»
وضاحت: فوائد: … زمان و مکاں اور شخصیت کی وجہ سے نیکییا برائی کی نوعیت میں فرق آ جاتا ہے، جیسے نوجوانی کی عمر میں نیکی کو زیادہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اسی طرح بڑھاپے کی عمر میں برائی کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے، ایسے تین مجرموں کا ذکر اس حدیث میں کیا گیا ہے، امام و حکمران ہو کر جھوٹ بولنا، بوڑھا ہو جانے کے بعد بھی زنا کرنا اور فقر و فاقہ کے باوجود تکبر کرنا۔ جھوٹ، زنا اور تکبر گناہ کے کام ہیں، لیکن جب یہ تین افراد ان امور کا ارتکاب کریں گے تو زیادہ ناپسند کیا جائے گا، کیونکہ ان افراد کا عہدہ، عمر اور ظاہری حالت کے تقاضے کچھ اور ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6646
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ النَّاسُ بِهِ النَّارَ قَالَ الْأَجْوَفَانِ الْفَمُ وَالْفَرْجُ وَسُئِلَ عَنْ أَكْثَرِ مَا يَلِجُ بِهِ النَّاسُ الْجَنَّةَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حُسْنُ الْخُلُقِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں پوچھا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیٹ سے متعلقہ دو چیزیں یعنی منہ اور شرمگاہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ زیادہ تر جس کی وجہ سے لوگ جنت میں جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ حسن اخلاق ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6646]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 4246، والترمذي: 2004، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7894»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6647
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فَقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے دو جبڑوں کے درمیان والی چیز اور شرمگاہ کی حفاظت کی، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6647]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 7275، والحاكم: 4/ 358، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 5755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19788»
وضاحت: فوائد: … یعنی اپنی زبان کو غیبت، چغلی، جھوٹی بات اور لغویات سے محفوظ رکھا اور شرمگاہ کو زنا اور ناجائز شہوات سے بچایا وہ جنت میں داخل ہوگا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6648
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ إِنَّ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَزَجَرُوهُ وَقَالُوا مَهْ مَهْ فَقَالَ ادْنُهُ فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا قَالَ فَجَلَسَ قَالَ أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرْ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَعْدَ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ
۔ سیدنا ابو امامہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری نوجوان، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے زنا کی اجازت دیں، لوگ اس پر پل پڑے اور کہا: خاموش ہو جا، خاموش ہو جا تو،لیکن آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نوجوان سے فرمایا: قریب ہو جا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوکر بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اپنی ماں کیلئے اس چیز کو پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ کی قسم! ہرگز نہیں، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسی طرح لوگ بھی اپنی ماؤں کیلئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو اپنی بیٹی کے لئے اس چیز کو پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کر دے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اس برائی کو اپنی بیٹیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا کیا تو زنا کو اپنی بہن کے لئے پسند کرتا ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر فدا کرے، میں اپنی بہن کے لیے اس کو کبھی بھی پسند نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ بھی اپنی بہنوں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو اس کو اپنی پھوپھی کے لئے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی پھوپھیوں کے لئے پسند نہیں کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا یہ بتاؤ کہ کیا تو اس برائی کو اپنی خالہ کے لیے پسند کرے گا؟ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کو پسند نہیں کروں گا، اللہ تعالیٰ مجھے آپ پر قربان کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر لوگ بھی اپنی خالاؤں کے لئے اس برائی کو پسند نہیں کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس پر رکھا اور اس کے حق میں یہ دعا فرمائی: اے میرے اللہ! اس کے گناہ بخش دے، اس کے دل کو پاک کر دے اور اس کی شرمگاہ کو محفوظ کر دے۔ اس کے بعد وہ نوجوان کسی چیز کی طرف مڑ کر بھی نہیں دیکھتا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6648]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ أخرجه ابويعلي: 7275، والحاكم: 4/ 358، والبيھقي في ’’شعب الايمان‘‘: 5755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19559 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22564»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکیمانہ انداز ہے، جس کا استعمال بعض افراد کے لیے مناسب سمجھا گیا۔ بعض لوگ ایسے مزاج کے ہوتے ہیں کہ صرف لفظ حرام ان کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں رکھتا، ایسے لوگوں کو ان کی ذات سے متعلقہ مثالیں دے کر بات سمجھائی جا سکتی ہے، جیسا حکمت و دانائی جیسی صفات سے متصف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس موقع پر کیا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6649
عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَيُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ
۔ ام المؤمنین سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت اس وقت تک بھلائی پر رہے گی، جب تک ان میں زنا کی اولاد کی کثرت نہ ہوگی، جب ان میں ولد الزنا کی کثرت ہو جائے گی تو قریب ہو گا کہ اللہ تعالیٰ ان پر عام عذاب مسلط کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الحدود/حدیث: 6649]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابن اسحاق مدلس وقد عنعن، ومحمد بن عبد الله و محمد بن عبدالرحمن ضعيفان، وعبيد الله بن ابي رافع لين الحديث۔ أخرجه ابويعلي: 7091، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 55، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26830 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27367»
وضاحت: فوائد: … ولد الزنا کی کثرت کا مطلب ہے کہ زنا عام ہو جائے، جس سے ناجائز بچے جنم لیں گے اور حسب و نسب کا نظام خراب ہو جائے گا۔
اگرچہ دورِ حاضر کے لوگوں میں بڑی بڑی اور کئی خرابیاں پائی جاتی ہیں، لیکن منصوبہ بندی کے اسباب اور الیکٹرانک، سوشل اور پرنٹ میڈیا کی وجہ سے جو بے غیرتی زنا اور اس سے متعلقہ گناہوں کی وجہ سے پھیلی ہے، اس کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی، غیرت و حمیت کی وجہ سے جن افراد اور خاندانوں کے بارے میں اس برائی کا سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا، ان کے وڈیرے زنا کی دلدل میں پھنس گئے اور ان کی بیویوں اور بچیوں نے اپنے لیے کرائے پر سانڈ لیے رکھے ہیں، ایسے خاندانوں کے پچاس ساٹھ ساٹھ برس عمر کے لوگوں کی نگاہیں تو شرم و حیا کا پیکر ہونی چاہیے تھیں، لیکن اب وہ چور نگاہوں سے اور ٹکٹکی باندھ کر ایسی بے پردہ لڑکیوں کو دیکھتے نظر آتے ہیں، جو ان کی بچیوں کی ہم عمر یا ان سے چھوٹی ہوتی ہیں۔ (اللہ کی پناہ) کیا کوئی چھٹی حس میں جا کر سوچ سکتا ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کی عزتیں لٹانے کے لیے ڈیلکریں گی؟ کیا کسی میںیہ چیز برداشت کرنے کی ہمت ہے کہ بچیاں پابندی لگانے والے باپ کے سامنے واقعی ننگا ہو کر یہ کہیں گی کہ پھر تم خود ہماری ضرورت پوری کرو، نہیں تو ہمیں باہر جانے دو، کیا کسی کے دماغ میںیہ بات سما لینے کی
گنجائش ہے کہ خاوند کمائی کرنے کے لیے دوسرے ممالک میں چلے جائیںاور ان کی بیویاں ان کی ہی آمدنیاں خرچ کر کے کرائے پر سانڈ رکھ لیں۔ جبکہ ایسا ہو رہا ہے اور ہر ملک کے ہر شہر میں ہو رہا ہے۔ لوگو! آؤ، شریعت ِ مطہرہ کو تھام لیں، اسی میں ہماری عزتوں کا دفاع ہے، یہی حمیت و غیرت والی زندگی کا دوسرا نام ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں