الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَاب مَا جَاءَ فِي إِجْبَارِ الْبِكْرِ وَاسْتَثَمَارِ التَّيبِ
کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6888
عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَدِيٍّ الْكِنْدِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ فَقَالُوا إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الثَّيِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِهَا بِلِسَانِهَا وَالْبِكْرُ رَضَاهَا صَمْتُهَا
۔ سیدنا عدی بن عدی کندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں ان سے مشورہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرما جاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیوہ بول کر اپنے نفس کے بارے میں وضاحت کرے گی اور کنواری کی رضامندی خاموشی ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6888]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1872، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17876»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6889
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْمِرُوا النِّسَاءَ فِي إِبْضَاعِهِنَّ قِيلَ إِنَّ الْبِكْرَ تَسْتَحْيِي أَنْ تَتَكَلَّمَ قَالَ سُكُوتُهَا إِذْنُهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے وجود کی شادی میں مشورہ کیا کرو۔ کسی نے کہا: کنواری بچی تو بات کرنے سے ہی شرماتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6889]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6946، 6971، ومسلم: 1420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26191»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6946
حدیث نمبر: 6890
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ عَنْ يَحْيَى عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُزَوِّجَ شَيْئًا مِنْ بَنَاتِهِ جَلَسَ إِلَى خِدْرِهَا فَقَالَ إِنَّ فُلَانًا يَذْكُرُ فُلَانَةً يُسَمِّيهَا وَيُسَمِّي الرَّجُلَ الَّذِي يَذْكُرُهَا فَإِنْ هِيَ سَكَتَتْ زَوَّجَهَا وَإِنْ كَرِهَتْ نَقَرَتِ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْهُ لَمْ يُزَوِّجْهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تو گھر کے کونے میں اس کے پاس لٹکے ہوئے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: فلاں آدمی فلاں خاتون کا ذکر کر رہا تھا۔ ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مرد اور اس بیٹی کا نام ذکر کرتے، اگر وہ خاموش رہتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح کر دیتے اور اگر وہ ناپسند کرتی تو اپنا ہاتھ پردے پر مارتی، پس اگر وہ اپنا ہاتھ پردے پر مار دیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا نکاح نہ کرتے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6890]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ايوب بن عتبة اليمامي، أخرجه البيھقي: 7/ 123، وعبد الرزاق: 10277، وابويعلي: 3883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24494 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24999»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ايوب بن عتبة اليمامي
حدیث نمبر: 6891
عَنْ ذَكْوَانَ مَوْلَى عَائِشَةَ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا تَقُولُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ جَارِيَةٍ يُنْكِحُهَا أَهْلُهَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لَهُ فَإِنَّهَا تَسْتَحْيِي فَتَسْكُتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَلِكَ إِذْنُهَا إِذَا هِيَ سَكَتَتْ
۔ مولائے عائشہ ذکوان سے مروی ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ایک لڑکی کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں، کیا اس لڑکی سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بالکل مشورہ طلب کیا جائے گا۔ میں نے کہا: وہ شرم کے مارے خاموش ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6891]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1420، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25838»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1420
حدیث نمبر: 6892
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا ابْنَةُ سِتِّ سِنِينَ وَفِي لَفْظٍ سَبْعِ سِنِينَ بِمَكَّةَ مُتَوَفَّى خَدِيجَةَ وَدَخَلَ بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ بِالْمَدِينَةِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی، ایک روایت میں سات برس کا ذکر ہے، یہ نکاح مکہ میں اور سیدنا خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے موقع پر ہوا تھا، اور جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو برس تھی، رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6892]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3894، 5133، 5134، ومسلم: 1422، ابوداود!: 4933، 4934، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24867 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25379»
وضاحت: فوائد: … نکاح کے وقت سیدہ کی عمر چھ برس اور کچھ ماہ تھی، اسی لیے کبھی اس کسر کو پورا کر کے سات سال کہہ دیا جاتا ہے اور کبھی اس کو چھوڑ کر چھ برس کہا جاتا ہے، ۲ھمیں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تھی۔
ہجرت سے ایک سال پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ، یا بیوہ، اس کے نکاح کی درستی کے لیے ولی کی رضامندی ضروری ہے، جیسے کہ سابق باب میں وضاحت ہو چکی ہے، البتہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے رائے دینے کا حق ضرور ہے اور ولی کو چاہیے کہ وہ ان کی رائے کا لحاظ کرے۔
ہجرت سے ایک سال پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہوا تھا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت کنواری ہو، یا مطلقہ، یا بیوہ، اس کے نکاح کی درستی کے لیے ولی کی رضامندی ضروری ہے، جیسے کہ سابق باب میں وضاحت ہو چکی ہے، البتہ بیوہ اور مطلقہ کو اپنے رائے دینے کا حق ضرور ہے اور ولی کو چاہیے کہ وہ ان کی رائے کا لحاظ کرے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3894
11. بَابُ عَدَمِ اجْبَارِ الْيَّتْمَةِ وَأَنَّهَا لَا تُزَوِّجُ إِلَّا بِإِذْنِهَا وَرَضَاهَا
نکاح میں یتیم بچی کو مجبور نہ کرنے اور اس کی اجازت اور رضامندی سے اس کی شادی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6893
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تُوُفِّيَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ وَتَرَكَ ابْنَةً لَهُ مِنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ بْنِ حَارِثَةَ بْنِ الْأَوْقَصِ قَالَ وَأَوْصَى إِلَى أَخِيهِ قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَهُمَا خَالَايَ قَالَ فَخَطَبْتُ إِلَى قُدَامَةَ بْنِ مَظْعُونٍ ابْنَةَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَزَوَّجَنِيهَا وَدَخَلَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ يَعْنِي إِلَى أُمِّهَا فَأَرْغَبَهَا فِي الْمَالِ فَحَطَّتْ إِلَيْهِ وَحَطَّتِ الْجَارِيَةُ إِلَى هَوَى أُمِّهَا فَأَبَيَا حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ قُدَامَةُ بْنُ مَظْعُونٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةُ أَخِي أَوْصَى بِهَا إِلَيَّ فَزَوَّجْتُهَا ابْنَ عَمَّتِهَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَلَمْ أُقَصِّرْ بِهَا فِي الصَّلَاحِ وَلَا فِي الْكَفَاءَةِ وَلَكِنَّهَا امْرَأَةٌ وَإِنَّمَا حَطَّتْ إِلَى هَوَى أُمِّهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِيَ يَتِيمَةٌ وَلَا تُنْكَحُ إِلَّا بِإِذْنِهَا قَالَ فَانْتُزِعَتْ وَاللَّهِ مِنِّي بَعْدَ أَنْ مَلَكْتُهَا فَزَوَّجُوهَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے،وہ کہتے ہیں: سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اور ایک بیٹی چھوڑ گئے، وہ سیدہ خویلہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے بطن سے پیدا ہوئی تھی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی قدامہ بن مظعون کو وصیت کی کہ وہ اس کی پرورش کرے، یہ دونوں قدامہ اور عثمان میرے ماموں تھے، میں نے سیدنا قدامہ کے ہاں ماموں عثمان کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، انہوں نے اس کی مجھ سے شادی کردی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اس لڑکی کی ماں کے پاس آئے اور انہیں مال کی رغبت دلائی، پس وہ مال کی طرف مائل ہو گئی اور اس کی بیٹی کا میلان ماں کی طرف ہو گیا، پس ان دونوں نے انکار کر دیا،یہاں تک کہ ان کا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیدنا قدامہ بن مظعون رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میری بھتیجی ہے، میرے بھائی نے وصیت کے ذریعہ میرے سپرد کی ہے۔ میں نے اس کی پھوپھی کے بیٹے عبد اللہ بن عمر سے اس کی شادی کر دی ہے اور میں نے اس کی بہتر ی کے لیے کوئی کمی نہیں کی، لیکن یہ عورت ذات ہے، اس کی ماں مال کی طرف مائل ہو گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بچی سن تمیز والی ہے، اس کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جاسکتا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! یہ بچی میری ملکیت و زوجیت میں آنے کے بعد مجھ سے چھن گئی۔ انہوں نے اس کی رضا کے مطابق سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے اس کی شادی کردی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6893]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الدارقطني: 3/ 230، وأخرجه مختصرا دون المرفوع ابن ماجه: 1878، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6136 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6136»
وضاحت: فوائد: … وصییا کفیلیا سرپرست کو یتیم بچی پر اپنی مرضی ٹھونسنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ یتیم بچی کسی کامل انسان کی طرح اپنا اختیار رکھتی ہے، نکاح کے معاملے میں اس کی رضامندی اور عدم رضامندی کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ اگلی روایات سے اس کے اختیار اور مرضی کی مزید وضاحت ہو رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 6894
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَبَتْ لَمْ تُكْرَهْ
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ لیا جائے، اگر وہ خاموش رہے تو یہی اس کی اجازت ہو گی اور اگر اس نے انکار کر دیا تو اسے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6894]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 4/ 139، والدارمي: 2185، وابويعلي: 7229، والحاكم: 2/ 166، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19516 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19745»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 6895
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنْ رَضِيَتْ فَلَهَا رَضَاهَا وَإِنْ كَرِهَتْ فَلَا جَوَازَ عَلَيْهَا يَعْنِي الْيَتِيمَةَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کنواری لڑکی رضا مند ہو جائے تو ٹھیک ہے، اسے راضی ہونے کا حق ہے اور اگر وہ ناپسند کرے تو ولی کو اس پر جبر کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6895]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2093، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8988 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8976»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
12. بَابُ اسْتِثْمَارِ النِّسَاءِ فِي بَنَاتِهِنَّ
عورتوں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6896
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ صَالِحٍ وَاسْمُهُ الَّذِي يُعْرَفُ بِهِ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمَّاهُ صَالِحًا أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ اخْطُبْ عَلَى ابْنَةِ صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ لَهُ يَتَامَى وَلَمْ يَكُنْ لِيُؤْثِرَنَا عَلَيْهِمْ قَالَ فَانْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى عَمِّهِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ لِيَخْطُبَ فَانْطَلَقَ زَيْدٌ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَرْسَلَنِي إِلَيْكَ يَخْطُبُ ابْنَتَكَ فَقَالَ لِي يَتَامَى وَلَمْ أَكُنْ لِأَتْرِبَ لَحْمِي وَأَرْفَعَ لَحْمَكُمْ أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَنْكَحْتُهَا فُلَانًا وَكَانَ هَوَى أُمِّهَا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ خَطَبَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ابْنَتِي فَأَنْكَحَهَا أَبُوهَا يَتِيمًا فِي حَجْرِهِ وَلَمْ يُؤَامِرْهَا فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى صَالِحٍ فَقَالَ أَنَكَحْتَ ابْنَتَكَ وَلَمْ تُؤَامِرْهَا فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ أَشِيرُوا عَلَى النِّسَاءِ فِي أَنْفُسِهِنَّ وَهِيَ بِكْرٌ فَقَالَ صَالِحٌ فَإِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِمَا يُصْدِقُهَا ابْنُ عُمَرَ فَإِنَّ لَهُ فِي مَالِي مِثْلَ مَا أَعْطَاهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے باپ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا، صالح کی بیٹی کو منگنی کا پیغام بھیجیں۔ صالح، نُعیم بن نحام کے نام سے معروف تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نام صالح رکھا تھا، انہوں نے کہا: صالح کے ہاں یتیم بچے زیر پرورش ہیں، وہ انہیں چھوڑنا گوارا نہیں کرے گا، نکاح کے لئے انہیں ترجیح دے گا۔ یہ بات سن کر سیدنا عبد اللہ اپنے چچا زید بن خطاب کے پاس گئے تاکہ وہ منگنی کا پیغام دیں۔ چنانچہ زید، صالح کے پاس گئے اور کہا: عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے، وہ آپ کی بیٹی سے نکاح کرنے کا ارادہ رکھتاہے، اس نے کہا: میرے زیر پرورش یتیم بچے ہیں، میں نہیں چاہتا کہ اپنی توہین کر دوں اور تمہیں عزت دوں، میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے فلاں سے فلاں کا نکاح کر دیا ہے، مگر اس عورت کی ماں کا میلان سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب تھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے نبی! عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے میری بیٹی کیلئے پیغام نکاح بھیجا تھا، لیکن صالح نے زیر پرورش ایک یتیم سے اس کا نکاح کر دیا اور مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صالح کو پیغام بھیجا، جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تو نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے اور بیوی سے مشوہ ہی نہیں کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان عورتوں سے مشورہ کیا کرو۔ جبکہ بچی کنواری ہو۔ صالح نے کہا: میں نے ایسا اس لئے کیا ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہمانے اس کے مہر کی جو مقدار رکھی، اتنی مقدار تو میرے مال سے یتیم کا حصہ بنتی تھی، اس لیے میں نے پھر اسی کو ترجیح دی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6896]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 4/ 369، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5720 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5720»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 6897
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ خَطَبَ إِلَى نَسِيبٍ لَهُ ابْنَتَهُ قَالَ فَكَانَ هَوَى أُمِّ الْمَرْأَةِ فِي ابْنِ عُمَرَ وَكَانَ هَوَى أَبِيهَا فِي يَتِيمٍ لَهُ قَالَ فَزَوَّجَهَا الْأَبُ يَتِيمَهُ ذَلِكَ فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ آمِرُوا النِّسَاءَ فِي بَنَاتِهِنَّ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے نسب میں اپنے قریبی کو اس کی بیٹی کے لئے منگنی کا پیغام بھیجا، اس لڑکی کی والدہ کا میلان ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف ہی تھا، لیکن باپ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے زیر تربیت یتیم سے اس کا نکاح کر دے، تو اس نے اس یتیم سے اس کی شادی کر دی، اس کی ماں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور اس چیز کا آپ سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی بیویوں سے بیٹیوں کی شادی کے سلسلے میں مشورہ کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6897]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرج المرفوع منه فقط ابوداود: 2095، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4905 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4905»
وضاحت: فوائد: … ماؤں سے ان کی بیٹیوں کے بارے میں مشورہ کرنا اس بنا پر نہیں ہے کہ وہ نکاح کے عقد میں ولی کی طرح کا کوئی اختیار رکھتی ہیں، بلکہ یہ حسن معاشرت کا تقاضا ہے، اس سے مائیں خوش ہو جائیں گی اور اس مشورے کی برکت سے بیٹیوں اور ان کے خاوندوں میں الفت، محبت اور اتفاق پیدا ہو گا، وگرنہ زیادہ تر بیٹیوں کا میلان ماؤں کی طرف ہوتا ہے، اس لیے اگر اس معاملے میں ماؤں کو راضی نہ کیا گیاتو فساد کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن