الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ مَا جَاءَ فِي تَزْوِيجِ الْآبِ بِنتَهُ الشَّيْبَ أَوِ الْبِكْرَ الْبَالِغَ بِغَيْرِ رَضَاهَا
باپ کا اپنی بیوہیا بالغ کنواری بچی کا اس کی رضامندی کے بغیر شادی کر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 6898
عَنْ حَجَّاجِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ أَبِي لُبَابَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ جَدَّتَهُ أُمَّ السَّائِبِ خُنَاسَ بِنْتَ خِذَامِ بْنِ خَالِدٍ كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ قَبْلَ أَبِي لُبَابَةَ تَأَيَّمَتْ مِنْهُ فَزَوَّجَهَا أَبُوهَا خِذَامُ بْنُ خَالِدٍ رَجُلًا مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفِ بْنِ الْخَزْرَجِ فَأَبَتْ إِلَّا أَنْ تَحُطَّ إِلَى أَبِي لُبَابَةَ وَأَبَى أَبُوهَا إِلَّا أَنْ يَلْزِمَهَا الْعَوْفِيَّ حَتَّى ارْتَفَعَ أَمْرُهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِيَ أَوْلَى بِأَمْرِهَا فَأَلْحِقْهَا بِهَوَاهَا قَالَ فَانْتُزِعَتْ مِنَ الْعَوْفِيِّ وَتَزَوَّجَتْ أَبَا لُبَابَةَ فَوَلَدَتْ لَهُ أَبَا السَّائِبِ بْنَ أَبِي لُبَابَةَ
۔ حجاج بن سائب سے مروی ہے کہ اس کی جدہ (دادی یا نانی) ام سائب خُناس بنت خذام،ابو لبابہ کے زیر نکاح آنے سے پہلے ایک اور آدمی کی بیوی تھی، وہ آدمی فوت ہو گیا اور وہ بیوہ بن گئی، پھر اس کے باپ خذام نے بنو عمرو بن عوف بن خزرج کے ایک آدمی سے اس کی شادی کر دی، لیکن اس نے اس کے ہاں جانے سے انکار کر دیا اوراس کی یہی رٹ تھی کہ اس نے ابو لبابہ سے شادی کرنی ہے، مگر اس کا باپ اس چیز پر بضد تھا کہ یہ جائے گی تو صرف عوف قبیلہ کے آدمی کے گھر ہی جائے گی،یہاں تک کہ ان کا یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ خاتون اپنے اس معاملے کی زیادہ حقدار ہے، اس لیے تو اس کی مرضی کے مطابق اس کی شادی کر دے۔ پس اس کو عوفی سے علیحدہ کر لیا گیا اور اس نے ابو لبابہ سے شادی کرلی، ان سے سائب بن ابی لبابہ پیدا ہوا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6898]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، حجاج بن السائب من رجال ’’التعجيل‘‘، وقد تفرد بالرواية عنه ابن اسحاق، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان، وابن اسحاق مدلس وقد عنعن، واختلف عليه فيه، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 643، والدارقطني: 3/ 231، والبيھقي: 7/ 119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26790 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27326»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا صحیح سیاق اگلی حدیث میں مذکورہ ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف بھذه السياقة
حدیث نمبر: 6899
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ عَنْ خَنْسَاءَ بِنْتِ خِذَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ وَكَانَتْ ثَيِّبًا فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ
۔ سیدنا خنساء بنت خذام رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اس کے باپ نے جس سے اس کی شادی کی، وہ اس کو ناپسند کرتی تھی، جبکہ وہ پہلے بیوہ بھی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا نکاح ردّ کروادیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6899]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5138، 6945، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26786 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27322»
وضاحت: فوائد: … خاتون بیوہ ہو یا کنواری، نکاح میں اس کی رضامندی ضروری ہے، اس معاملے میں قطعی طور پر اس پر جبر نہیں کیا جا سکتا۔ نکاح میں عورت کی رضامندی شرط ہے، وگرنہ نکاح باطل ہو گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5138
حدیث نمبر: 6900
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ خِذَامًا أَبَا وَدِيعَةَ أَنْكَحَ ابْنَتَهُ رَجُلًا فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَتْ إِلَيْهِ أَنَّهَا أُنْكِحَتْ وَهِيَ كَارِهَةٌ فَانْتَزَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَوْجِهَا وَقَالَ لَا تُكْرِهُوهُنَّ قَالَ فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ أَبَا لُبَابَةَ الْأَنْصَارِيَّ وَكَانَتْ ثَيِّبًا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ابو ودیعہ خذام نے ایک آدمی سے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا، لیکن وہ بچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور آپ سے یہ شکایت کی کہ اس کا نکاح کر دیا گیا ہے، جبکہ وہ ناپسند کر رہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اس خاوند سے علیحدہ کروا دیا اور فرمایا: عورتوں کو مجبور نہ کیا کرو۔ پھر اس نے ابو لبابہ انصاری سے شادی کر لی تھی، جبکہ وہ خاتون پہلے سے بیوہ تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6900]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عطاء بن ابي مسلم الخراساني صاحب اوھام كثيرة، ثم ھو لم يسمع من ابن عباس، أخرجه عبد الرزاق: 10308، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3440 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3440»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 6901
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ.
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا کہ اس کے با پ نے ایسے آدمی سے اس کی شادی کر دی ہے، جس کو وہ ناپسند کرتی ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دے دیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6901]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 2096، وابن ماجه: 1875، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2469 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2469»
وضاحت: فوائد: … ولی کو مصلحت اور حکمت کے ساتھ بچیوں کے نکاح کے معاملات طے کرنے چاہئیں اور ایسی سبیل پیدا کرنی چاہیے کہ وہ بھی راضی ہو اور اس کی بچیاں بھی اسی کی رائے کو ترجیح دیتی ہوں، زبردستی کرتے ہوئے بچی کو بظاہر راضی تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کی زندگی میں سکون نہیں لایا جا سکتا، بلکہ بعد میں اس لڑکے اور لڑکی دونوں کے والدین کو بھی سخت ذہنی اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
14. بَابُ مَا جَاءَ فِي إِنْكَاحِ الا بْنِ أُمَّهُ
بیٹے کا اپنی ماں کا کسی سے نکاح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6902
عَنِ ابْنِ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَوْلِيَائِي تَعْنِي شَاهِدًا، فَقَالَ: ( (إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِكِ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ يَكْرَهُ ذَلِكَ) ) . فَقَالَتْ: يَا عُمَرُ! زَوِّجْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، فَتَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، الْحَدِيثَ.
۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نکاح کا پیغام بھیجا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے اولیاء موجود نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کوئی بھی ولی ایسا نہیں ہے، جو اس شادی کو ناپسند کرے، وہ حاضر ہو یا غائب۔ یہ سن کر سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہانے اپنے بیٹےسے کہا: اے عمر! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میری شادی کر دے، پس انہوں نے ان کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شادی کر دی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6902]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن عمر بن ابي سلمة، أخرجه مطولا ومختصرا ابن حبان: 2949، والحاكم: 2/ 178، وابويعلي: 6907، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27064»
وضاحت: فوائد: … ائمۂ ثلاثہ سمیت جمہور اہل علم کا مسلک یہ ہے کہ بیٹا اپنی ماں کا ولی بن سکتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن عمر بن ابي سلمة
15. باب مَا جَاءَ فِي الْكَفَائَةِ فِي النِّكَاحِ
نکاح میں کفو (برابری) کے مسئلے کا بیان
حدیث نمبر: 6903
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (ثَلَاثَةٌ يَا عَلِيُّ! لَا تُؤَخِّرُهُنَّ، الصَّلَاةُ إِذَا آذَنَتْ، وَالْجَنَازَةُ إِذَا حَضَرَتْ، وَالْأَيِّمُ إِذَا وَجَدْتَ كُفُؤًا) ) .
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! تین کاموں میں تاخیر نہ کرنا:(۱)نماز کو،جب اس کو وقت ہو جائے، (۲) جنازہ کو جب وہ حاضر ہو جائے اور (۳) عورت کی شادی کو، جب اس کا کفو اور ہمسر مل جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6903]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن عبد الله الجھني، أخرجه ابن ماجه: 1486، والترمذي: 171، 1075، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 828 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 828»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة سعيد بن عبد الله الجھني
حدیث نمبر: 6904
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِي خَسِيسَتَهُ، فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، فَقَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ لِلْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ.
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک نوجوان خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میری شادی کر دی ہے، وہ میرے ساتھ شادی کو اس کے لیے سربلندی کا باعث بنانا چاہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس معاملے میں مجھے اختیار دے دیا، میں نے کہا: جو کچھ میرے باپ نے کیا ہے، میں اسی کو اختیار کرتی ہوں، لیکن میرا ارادہ یہ تھا کہ عورتوں کو علم ہو جانا چاہیے کہ ان کے اس معاملے میں ان کے آباء کا کوئی حق نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6904]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1874، والنسائي: 6/86، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25043 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25557»
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 6905
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِنَّ أَحْسَابَ أَهْلِ الدُّنْيَا الَّذِينَ يَذْهَبُونَ إِلَيْهِ هَذَا الْمَالُ) ) .
۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا والے جس حسب کو اختیار کرتے ہیں، وہ مال ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6905]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 64، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22990 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23378»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 6906
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (الْحَسَبُ: الْمَالُ، وَالْكَرَمُ: التَّقْوَى) )
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: حسب مال ہے اور کرم تقویٰ ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6906]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 4219، والترمذي: 3271، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20362»
وضاحت: فوائد: … ”حسب مال ہے“ اس سے مراد دنیا کا مال و دولت ہے، جس کے ذریعے جاہ و حشمت ملتی ہے۔ ”کرم تقوی ہے“ یعنی وہ کرم جو آخرت میں معتبر ہو گا اور جس کا نتیجہ بلند درجات کے ساتھ اکرام کی صورت میں نکلے گا، وہ تقوی ہے، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … ”بیشک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔“ (سورۂ حجرات: ۱۳)
ایک قول کے مطابق اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ امور تھے، جو لوگوں میں متعارف ہیں، لوگوں میں فقیر آدمی کا کوئی حسب نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی عزت ہوتی ہے اور نہ اس کو مجلس میں بٹھایا جاتا ہے، گویا کہ دنیا والوں کا حسب مال ہے، مال والا ہی لوگوں کے ہاں شرف و فضیلت والا قرار پاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے ہاں اس شخص کو عزت و کرم والا نہیں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارگاہِ عالیہ میں معیار تقوی ہے، نہ کہ مال و دولت اور حسب و نسب، اس لیے اللہ تعالی کے ہاں کریم اور معزز وہ ہو گا، جو تقوی کے لباس سے مزین ہو گا۔
ایک قول کے مطابق اس حدیث کا مفہوم یہ ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد وہ امور تھے، جو لوگوں میں متعارف ہیں، لوگوں میں فقیر آدمی کا کوئی حسب نہیں ہے، کیونکہ نہ اس کی عزت ہوتی ہے اور نہ اس کو مجلس میں بٹھایا جاتا ہے، گویا کہ دنیا والوں کا حسب مال ہے، مال والا ہی لوگوں کے ہاں شرف و فضیلت والا قرار پاتا ہے، لیکن اللہ تعالی کے ہاں اس شخص کو عزت و کرم والا نہیں سمجھا جاتا ہے، کیونکہ بارگاہِ عالیہ میں معیار تقوی ہے، نہ کہ مال و دولت اور حسب و نسب، اس لیے اللہ تعالی کے ہاں کریم اور معزز وہ ہو گا، جو تقوی کے لباس سے مزین ہو گا۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 6907
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَتْ بَرِيرَةُ عِنْدَ عَبْدٍ فَعُتِقَتْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهَا بِيَدِهَا (وَفِي لَفْظٍ) فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُيِّرَتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ بریرہ رضی اللہ عنہا ایک غلام کے زیر نکاح تھی، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا معاملہ اس کے ہاتھ میں دے دیا، ایک روایت میں ہے: جب اس کو آزاد کیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6907]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 4436، والبيھقي: 7/ 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25755 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26274»
وضاحت: فوائد: … جب غلام اور لونڈی میاں بیوی ہوں اور بیوی کو آزاد کر دیا جائے تو اس کو اپنے خاوند کے پاس رہنے یا نہ رہنے کا اختیار مل جاتا ہے۔ شادی میں کفو اور ہمسر کے بارے میں مختلف اقوال بیان کیے گئے ہیں، مثلا: دین، آزادی، نسب، پیشہ، خوشحالی، عیب سے سلامتی، کمائی کا اچھا ذریعہ، صلاحیت، وغیرہ۔ لیکن حقیقتیہ ہے کہ معتبر وصف صرف اور صرف اسلام ہے، اس کے بعد لڑکے اور لڑکی کی رضامندی ہے، لیکن ان کو بھییہ ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ حسب و نسب، حسن و جمال اور مال و دولت کے بجائے دینداری کو ترجیح دیں، اسلام میں سب سے بڑی صفت تقوی اور پرہیز گاری ہے، اسی میں عزت ہے اور اسی میں حسن انجام ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} ”بیشک تم میں سے اللہ تعالی کے ہاں سب سے زیادہ معزز وہ ہے، جو سب سے زیادہ تقوی والا ہے۔“ (سورۂ حجرات: ۱۳)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح