🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
3. باب صفة المرأة التي تُستحب خطبتها صِفَةِ الْمَرْأَةِ
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6848
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْمَرْأَةَ تُنْكَحُ لِدِينِهَا وَمَالِهَا وَجَمَالِهَا فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت سے اس کے دین، اس کے مال اور اس کے جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، تو دین والی کو لازم پکڑ۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6848]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ماجه: 1860، والنسائي: 6/ 65، أخرجه مختصرا الترمذي: 1086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14237 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14286»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6849
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَنْكِحُوا أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ فَإِنِّي أُبَاهِي بِهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: زیادہ بچے جنم دینی والی خواتین سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت کی وجہ سے فخرکروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6849]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6598»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6850
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالْبَاءَةِ وَيَنْهَى عَنِ التَّبَتُّلِ نَهْيًا شَدِيدًا وَيَقُولُ تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأَنْبِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شادی کرنے کا حکم دیتے اور تبتّل سے سختی کے ساتھ منع کرتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پیار کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو، کیونکہ میں روزِ قیامت تمہاری کثرت ِ تعداد کی وجہ سے دیگر انبیائے کرام پر فخر کروں گا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6850]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في ’’الاوسط‘‘: 5095، والبزار: 1400، وابن حبان: 4028، والبيھقي: 7/ 81، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12613 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12640»
وضاحت: فوائد: … یہ کیسے پتہ چلے گا کہ فلاں خاتون زیادہ بچے جنم دینے والی ہے؟ خاندان کی شادی شدہ خواتین سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کس خاندان کی عورتوں کی زیادہ اولاد ہوتی ہے اور یہ بھی ممکن ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کنواری خواتین ہوں، کیونکہ وہ بیوہ کے مقابلے میں زیادہ بچے جنم دینے والی ہوتی ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6851
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النِّسَاءِ خَيْرٌ قَالَ الَّتِي تَسُرُّهُ إِذَا نَظَرَ وَتُطِيعُهُ إِذَا أَمَرَ وَلَا تُخَالِفُهُ فِيمَا يَكْرَهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسی عورت سب سے بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ ہے کہ جب خاوند اسے دیکھے تو وہ اس کو خوش کر دے اور جب وہ اس کو حکم دے تو وہ فرمانبرداری کرے اور خاوند اس کے نفس اور اپنے مال کے بارے میں جس چیز کو ناپسند کرتا ہے، وہ اس کی مخالفت نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6851]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه النسائي: 6/ 68، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7421 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7415»
وضاحت: فوائد: … میاں بیوی کی موافقت کے بغیر معاشرہ پرسکون نہیں رہ سکتا اور اگر دونوں کی مساوی حیثیت ہو تو موافقت کا امکان بہت کم ہے، اس لیے بیوی کو خاوند کے تابع کر دیا گیا ہے، کیونکہ مرد بلکہ مذکر کی فضیلت فطرتاً اور عملاً مسلم ہے، لہذا بہترین بیوی وہ ہے جو اپنے خاوند کے تابع فرمان رہے تاکہ معاشرہ جنت نظیر بن سکے۔ جس معاشرے میں مرد و زن کی حیثیت مساوی ہے، وہاں معاشرتی بے سکونی اور ازدواجی ابتری عام ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6852
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ يُمْنِ الْمَرْأَةِ تَيْسِيرُ خِطْبَتِهَا وَتَيْسِيرُ صَدَاقِهَا وَتَيْسِيرُ رَحِمِهَا
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عورت کی برکت میں سے یہ (بھی) ہے کہ اس کی منگنی آسانی سے ہوئی ہو، مہر آسان ہو اور جلدی حاملہ ہونے والی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6852]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البزار: 1417، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 3637، والبيھقي: 7/ 235، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24983»
وضاحت: فوائد: … موجودہ معاشرے کے رسم و رواج نے عورتوں سے یہ برکت چھین لی ہے، اب تو منگنی بھی اچھی خاصی تقریب میں طے کی جاتی ہے اور اس وقت سے لینے دینے کے وہ سلسلے شروع ہو جاتے ہیں کہ جن کی وجہ سے عوام کا دم گھٹنے لگ گیا ہے، لیکن کیا کیا جائے، ظاہر پرستی کا غلبہ ہے، بناوٹی عزتوں کے تحفظ کا مسئلہ ہے، معاشرے کی رفتار کے ساتھ چلنا ہے، منگنی کے بعد والی عیدوں پر تحائف کے تبادلے کا سلسلہ جاری ہو جاتا ہے، دبی زبانوں کے ساتھ والدین شکوہ کر رہے ہیں، لیکن جب ان کو شرعی مسئلہ سمجھایا جاتا ہے تو کہتے ہیں: اب کیا کریں جی، فلاں ناراض ہوتا ہے، فلاں باتیں کرتے ہیں، بچہ مانتا نہیں ہے، ایک علاقے میںیہ رواج ہے کہ دولہا کی طرف سے شادی کے دن کا تعین کرنے کے لیے جتنے لوگ دلہن کے گھر آئیں گے، ان سب کو ایک ایک قیمتی سوٹ دیا جائے گا، اتفاق سے ایک غریب گھرانے کی بچی کا دن رکھنے کے لیےپچیس افراد آ گئے اور ان کو کرنڈی کے بہترین پچیس سوٹ دیئے، جبکہ عام دنوں میں گھر میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا اور وہ سوٹ تیار کرنے کے لیے صرف قرض نہیں مانگا گیا، بلکہ بھیک بھی مانگی گئی اور دست ِ سوال بھی پھیلایا گیا۔
منگنی کی رسم کے بعد جہیز کی تیاری، مہندی اور ابٹن کی رسمیں، پھر سینکڑوں افراد پر مشتمل بارات، اس میں دودھ پلائی رسم، عام سطح پر پندرہ بیس بیس ہزار روپے دے کر دلہن کا بیوٹی پارلر میں میک اپ کرانا، حاضرین کا دلہن کو دیکھنے کا کرایہ دینا، پھر ولیمہ اور اس میں شرکت کرنے والے کا نیندرا اور ملبوسات کی صورت میں تحائف دینا، تقریب کے بعد تحائف کی چیکنگ اور گلے شکوے۔ ایتھے کوئی ہک مصیبت اے!!! اور تقریباً بیشتر گھرانوں میں شادی کے کچھ دنوں کے بعد ماحول میںکشیدگی کا آغاز ہو جاتا ہے، کہیں ساس بہو کا مسئلہ، کہیں بیٹے اور اس کے والدین کا مسئلہ، کہیں بھاوج اور دیور دیوارنیوں کا مسئلہ، کہیں گھر علیحدہ کرنے کا مطالبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو لینے کے لیے اکیلے گئے تھے اور گھر والوں نے سیدہ کو فی الفور تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کر دیا۔
اللہ تعالی خیر کرے، اگر بیوی کو حمل نہ ٹھہرنے کا مسئلہ پیدا ہو جائے یا کچھ ماہ کے بعد حمل ساقط ہو جاتا ہویا ولادت کے وقت آپریشن وغیرہ کی ضرورت پڑ جائے تو اس سے خوشکن ماحول کم ہونے لگتا ہے، ذہنی اذیت میں اضافہ ہوتا ہے اور اخراجات بہت بڑھ جاتے ہیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6853
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَ أُمَّ سُلَيْمٍ تَنْظُرُ إِلَى جَارِيَةٍ فَقَالَ شُمِّي عَوَارِضَهَا وَانْظُرِي إِلَى عُرْقُوبِهَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو ایک لڑکی دیکھنے کے لئے بھیجا اور فرمایا: اس لڑکی کے سائیڈوں والے دانت سونگھنا اور اس کی ایڑھی کے اوپر کا پٹھا دیکھنا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6853]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الحاكم: 2/ 166، والبيھقي: 7/87، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13457»
وضاحت: فوائد: … اس پٹھے سے موٹے اور پتلے دبلے جسم کا اندازہ کیا جا سکتاہے، اگر یہ پٹھا واضح نظر آ رہا ہو توباقی جسم پتلا ہوتا ہے اور اگر یہ واضح نہ ہو تو جسم موٹا ہوتا ہے۔
امام حاکم اور امام بیہقی کی روایات میںیہ تفصیل ہے: جب سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ان کے پاس گئیں تو انھوں نے کہا: اے ام فلاں! ہم آپ کو کھانا کھلائیں؟ انھوں نے کہا: لیکن میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گی، جب تک فلاں لڑکی کھانا پیش نہ کرے، پس وہ ایک کارنس کی طرف چڑھی، اُدھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے اس کا پٹھا دیکھ لیا، پھر اس سے کہا: بیٹی! میری جوئیں نکالو، پس وہ جوئیں نکالنے لگ گئی اور وہ اس کے دانتوں کو سونگنے لگ گئی، پھر وہ واپس آئی اور رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تفصیل بتائی۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
4. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي التَّزَوجِ بِالْأَبْكَارِ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا لِمَصْلَحَةٍ فِي التَّيْبِ
دو شیزائوں سے نکاح کرنے کی کوشش کی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6854
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ أَلَكَ امْرَأَةٌ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَثَيِّبًا نَكَحْتَ أَمْ بِكْرًا قَالَ قُلْتُ لَهُ تَزَوَّجْتُهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ قَالَ فَقَالَ لِي فَهَلَّا تَزَوَّجْتَهَا جُوَيْرِيَةً قَالَ قُلْتُ لَهُ قُتِلَ أَبِي مَعَكَ يَوْمَ كَذَا وَكَذَا وَتَرَكَ جَوَارِيَ فَكَرِهْتُ أَنْ أَضُمَّ إِلَيْهِنَّ جَارِيَةً كَإِحْدَاهُنَّ فَتَزَوَّجْتُ ثَيِّبًا تَقْصَعُ قَمْلَةَ إِحْدَاهُنَّ وَتَخِيطُ دِرْعَ إِحْدَاهُنَّ إِذَا تَخَرَّقَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّكَ نِعْمَ مَا رَأَيْتَ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: رسو ل اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے جابر! کیا تمہاری بیوی ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا بیوہ تھی یا کنواری؟ میں نے کہا: جی جب میں نے اس سے شادی کی تھی تووہ بیوہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی؟ میں نے کہا: میرے والد آپ کے ساتھ فلاں غزوے میں شہید ہوگئے تھے اور ان کی بیٹیاں پیچھے رہ گئی تھیں، میں نے پسند نہیں کیا کہ ان جیسی نو عمر لڑکی ان میں ملا دوں، بلکہ اس بیوی سے شادی کر لی تاکہ میری بہنوں کی جوئیں صاف کر دیا کرے، اگر ان کی قمیض پھٹ جائے تو سلائی کر دیا کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے تو بہت اچھا فیصلہ کیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6854]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2406، 2967، 3631، 5161، ومسلم: 715، 2083، 5161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14861 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14922»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2406
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6855
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ نَكَحْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَبِكْرًا أَمْ ثَيِّبًا قَالَ قُلْتُ ثَيِّبًا قَالَ فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُتِلَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ سَبْعَ بَنَاتٍ وَكَرِهْتُ أَنْ أَجْمَعَ إِلَيْهِنَّ خَرْقَاءَ مِثْلَهُنَّ وَلَكِنِ امْرَأَةً تَمْشُطُهُنَّ وَتُقِيمُ عَلَيْهِنَّ قَالَ أَصَبْتَ
۔ (دوسری سند) سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: کیا تو نے نکاح کر لیا ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری خاتون تھی یا بیوہ؟ میں نے کہا: جی بیوہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنواری سے شادی کیوں نہیں کی، وہ تجھ سے کھیلتی اور تو اس سے کھیلتا؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے باپ احد کے دن شہید ہوگئے تھے اور سات بیٹیاں پس ماندگان میں چھوڑ گئے تھے،اب میں نے یہ پسند نہیں کیا کہ ان جیسی ایک ناتجربہ کار کا اور اضافہ کر دوں، میں نے ایسی عورت کا انتخاب کیا ہے کہ جو ان کی کنگھی کرے اور ان کی نگرانی کرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے درست کیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6855]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15090»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15090
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6856
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ قَالَ لَكُمْ أَنْمَاطٌ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَّى قَالَ خِفْ أَمَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَنَا الْيَوْمَ أَقُولُ لِامْرَأَتِي نَحِّي عَنِّي أَنْمَاطَكِ فَتَقُولُ نَعَمْ أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا سَتَكُونُ لَكُمْ أَنْمَاطٌ فَأَتْرُكُهَا
۔ (تیسری سند) اسی طرح کی روایت ہے، البتہ اس میں ہے: رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہارے پاس بیڈ شیٹس ہیں؟ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم بیڈ شیٹیں کہاں سے لائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اب تو فقیر اور قلیل المال ہو، لیکن خبردار! عنقریب چادریں ہوں گی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آج جب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ اپنی چادریں مجھ سے دور کر لے، تو وہ کہتی ہے: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں تھا کہ عنقریب تمہارے لیے بیڈ شیٹیں ہوں گی۔ سو میں اس کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6856]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14178»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنواری عورت سے شادی کرنے کی ترغیب دلائی ہے، لیکن جب سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیوہ سے شادی کرنے کی مصلحت کو واضح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اقدام کو سراہا۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14178
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي التَّزْوِيجِ مَنْ ذِي الدِّينِ وَالْخُلُقِ المرضي وَإِنْ كَانَ فَقِيرًا أَوْ دَمِيمَ الْخِلْقَةِ
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6857
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى جُلَيْبِيبٍ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى أَبِيهَا فَقَالَ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ أُمَّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَعَمْ إِذًا فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا فَقَالَتْ لَا هَا اللَّهِ إِذَا مَا وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا جُلَيْبِيبًا وَقَدْ مَنَعْنَاهَا مِنْ فُلَانٍ وَفُلَانٍ قَالَ وَالْجَارِيَةُ فِي سِتْرِهَا تَسْتَمِعُ قَالَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ يُرِيدُ أَنْ يُخْبِرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَقَالَتِ الْجَارِيَةُ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَرُدُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمْرَهُ إِنْ كَانَ قَدْ رَضِيَهُ لَكُمْ فَأَنْكِحُوهُ فَكَأَنَّهَا جَلَّتْ عَنْ أَبَوَيْهَا وَقَالَا صَدَقْتِ فَذَهَبَ أَبُوهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ قَدْ رَضِيتَهُ فَقَدْ رَضِينَا قَالَ فَإِنِّي قَدْ رَضِيتُهُ فَزَوَّجَهَا ثُمَّ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ فَرَكِبَ جُلَيْبِيبُ فَوَجَدُوهُ قَدْ قُتِلَ وَحَوْلَهُ نَاسٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ قَتَلَهُمْ قَالَ أَنَسٌ فَلَقَدْ رَأَيْتُهَا وَإِنَّهَا لَمِنْ أَنْفَقِ بَيْتٍ فِي الْمَدِينَةِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا جلیبیب رضی اللہ عنہ کیلئے ایک انصاری عورت کے باپ کو منگنی کا پیغام بھیجا، اس کے باپ نے کہا: میں اس کی ماں سے مشورہ کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ وہ آدمی اپنی بیوی کے پاس گیا اور اس سے اس بات کا ذکر کیا، اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! یہ نہیں ہوسکتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہمارے لئے صرف جلیبیب ہی ملا ہے، ہم نے تو فلاں فلاں سے بھی رشتہ نہیں کیا،یہ بات لڑکی پردے کے پیچھے سن رہی تھی، وہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دینے کیلئے چل پڑا، لڑکی نے کہا:کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کو ردّ کر رہے ہو، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے پسند کرلیا ہے تو پھر نکاح کر دو، یہ کہہ کر لڑکی نے گویا اپنے ماں باپ پر مخفی معاملہ کھول دیا، انہوں نے کہا: یہ سچ کہتی ہے، اس کے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: اگر آپ راضی ہیں تو اس رشتہ میں ہم بھی راضی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں راضی ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جلیبیب کی اس لڑکی سے شادی کر دی۔ بعد ازاں ایک دفعہ اہل مدینہ خوفزدہ ہوگئے، سیدنا جلیبیب اس کو دور کرنے کیلئے سوار ہوئے لیکن جب مسلمان وہاں پہنچے تو انھوں نے جلیبیب کو اس حال میں پایا کہ وہ قتل ہو چکے تھے اور ان کے ارد گرد کچھ مشرک بھی قتل ہوئے پڑے تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا کہ اس کا گھر مدینہ کے گھروں میں سے سب سے زیادہ بارونق تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6857]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه عبد الرزاق: 10333، والبزار: 2741، وابن حبان: 4059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12393 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12420»
وضاحت: فوائد: … سیدنا جلبیب رضی اللہ عنہ خوبصورت نہیں تھے، اس لیے ان کے بارے میںیہ باتیں کی گئیں، لیکن جب اِس انصاری خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کو ترجیح دی تو اس کی قسمت ہری ہو گئی۔
”مدینہ میں اس خاتون کا گھر سب سے زیادہ بارونق تھا“: اس کا مطلب یہ ہے کہ سیدنا جلبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد بہت سارے لوگ اس خاتون کے ساتھ نکاح کرنے کا پیغام لے کر آئے، اس اعزاز کی وجہ یہ تھی کہ لوگ جس جلیبیب کو پسند نہیں کرتے تھے، اس خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کا لحاظ کرتے ہوئے اس سے شادی کی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے برکت کی دعا بھی کی تھی۔
سیدنا ابو برزہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ! ہَا ہُوَ ذَا إِلٰی جَنْبِ سَبْعَۃٍ، قَدْ قَتَلَہُمْ ثُمَّ قَتَلُوہُ فَأَتَاہُ النَّبِیُّV فَقَامَ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((قَتَلَ سَبْعَۃً وَقَتَلُوہُ ہٰذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ ہَذَا مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ۔)) مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ وَضَعَہُ رَسُولُ اللَّہِV عَلَی سَاعِدَیْہِ وَحُفِرَ لَہُ، مَا لَہُ سَرِیرٌ إِلَّا سَاعِدَا رَسُولِ اللَّہِV ثُمَّ وَضَعَہُ فِی قَبْرِہِ وَلَمْ یُذْکَرْ أَنَّہُ غَسَّلَہُ۔ … صحابۂ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ جلیبیبیہ پڑا ہے، سات کافروں کے پہلومیں،یعنی اِس نے اُن سات کو قتل کیا اور انھوں نے اس ایک کو قتل کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس آئے اور اس کی میت پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”اس نے سات کافروں کو قتل کیا اور انھوں نے اس ایک کو قتل کیا، پس یہ جلیبیب مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔“ دو یا تین بار ارشاد فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اپنے بازوؤں پر رکھا اور اس کے لیے قبر کھودی گئی، اس صحابی کی میت کے لیے کوئی چارپائی نہیں تھی، ما سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بازوؤں کے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبر میں رکھ دیا،یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو غسل دیا ہو۔ (صحیح مسلم: ۴۵۱۹)

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں