🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَمَا جَاءَ فِي التَّعْرِيْضِ بِالْخِطْبَةِ فِي الْعِدَّةِ
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6868
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ أَوْ يَبْتَاعَ عَلَى بَيْعِهِ.
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاکہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجےیا اس کے سودے پر سودا کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6868]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطيالسي: 912، والبزار: 1420، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 9898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20115 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20376»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6869
عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: طَلَّقَنِي زَوْجِي ثَلَاثًا فَأَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي بَيْتِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ.
۔ سیدنا فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: مجھے میرے خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر عدت گزاروں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6869]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الدارمي: 2275، والطبراني: 24/ 935، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27888»
وضاحت: فوائد: … یہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ابو عمرو بن حفص کی زوجیت میں تھیں۔ دو طلاقیں وہ پہلے دے چکے تھے۔ پھر اس نے تیسری آخری طلاق بھی دے دی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6870
عَنْ سُفْيَانَ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا أَحْلَلْتِ فَآذِنِينِي) ) . فَآذَنْتُهُ فَخَطَبَهَا مُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ وَأَبُو الْجَهْمِ وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ تَرِبٌ لَا مَالَ لَهُ، وَأَمَّا أَبُو الْجَهْمِ فَرَجُلٌ ضَرَّابٌ لِلنِّسَاءِ وَلَكِنْ أُسَامَةَ) ) . قَالَ: فَقَالَتْ بِيَدِهَا هَكَذَا أُسَامَةُ تَقُولُ لَمْ تُرِدْهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (طَاعَةُ اللَّهِ وَطَاعَةُ رَسُولِهِ خَيْرٌ لَكِ) ) . فَتَزَوَّجَتْهُ فَاغْتَبَطَتْهُ.
۔ سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی اور بتلایا کہ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان، سیدنا ابو جہم اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے مجھے منگنی کے پیغامات بھیجے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: معاویہ تو فقیر آدمی ہے، اس کے پاس مال نہیں ہے اور ابو جہم عورتوں کو بہت مارنے والا آدمی ہے، البتہ اسامہ، وہ ٹھیک ہے۔ میں نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اسامہ نہیں، میں اس کو نہیں چاہتی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت تیرےلیے بہتر ہے۔ پس میں نے اسامہ سے شادی کر لی اور مجھ پر رشک کیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6870]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1480، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27324 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27867»
وضاحت: فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ ”جب تو عدت سے فارغ ہو جائے تو مجھے بتانا۔“ یہ دراصل منگنی کی طرف اشارہ تھا، بعد میں پتہ چلا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ فاطمہ بنت قیس، اسامہ سے شادی کر لے۔
ارشادِ باری تعالی ہے: {وَلَا جُنَاحَ عَلَیْکُمْ فِیْمَا عَرَّضْتُمْ بِہٖمِنْخِطْبَۃِ النِّسَائِ اَوْ اَکْنَنْتُمْ فِیْ اَنْفُسِکُمْ} … ”تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارۃً کنایۃً ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو، یا اپنے دل میں پوشیدہ ارادہ کرو۔“ (سورۂ بقرہ: ۲۳۵)
یہ بیوہیا تین طلاق والی عورت کی بابت کہا جا رہا ہے کہ ان کی عدت کے دوران ان کو اشارے کنایے سے پیغام دیا جا سکتا ہے، لیکنیہ منع ہے کہ عدت کے دوران ان سے خفیہ وعدہ لے لیا جائے یا عقدِ نکاح پختہ کر لیا جائے۔
اسی سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی گئی ہو اسے عدت کے اندر پیغام نکاح نہیں دیا جاسکتا اور نہ کنایۃً اس سے بات ہو سکتی ہے۔ ہاں اس کا خاوند رجوع نہ کرے اور عدت گزر جائے تو اس کے ساتھ نکاح کے لیے کوشش کی جاسکتی ہے۔ (عبداللہ رفیق)

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1480
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
8. بَابُ مَا جَاءَ فِي اسْتِحْبَابِ النَّظْرِ إِلَى الْمَخْطُوبَةِ
منگیتر کو دیکھنے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6871
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ الْمَرْأَةَ فَإِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَنْظُرَ مِنْهَا مَا يَدْعُوهُ إِلَى نِكَاحِهَا فَلْيَفْعَلْ) ) قَالَ: فَخَطَبْتُ جَارِيَةً مِنْ بَنِي سَلَمَةَ، فَكُنْتُ أَخْتَبِئُ لَهَا تَحْتَ الْكَرَبِ حَتَّى رَأَيْتُ مِنْهَا بَعْضَ مَا دَعَانِي إِلَى نِكَاحِهَا فَتَزَوَّجْتُهَا
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی عورت کو منگنی کا پیغام دے تو اگر اس کو طاقت ہو تو وہ اس سے اس چیز کو دیکھ لے، جس کی وجہ سے وہ شادی کر رہا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے بنو سلمہ کی ایک لڑکی کو منگنی کا پیغام بھیجا تھا اور میں اسے دیکھنے کے لئے کھجور کے پتوں کے پیچھے چھپا رہتا تھا، یہاں تک کہ میں نے اس کی وہ چیز دیکھ لی، جو اس کے ساتھ نکاح کا سبب بنی تھی، پھر میں نے اس سے شادی کر لی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6871]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 2082، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14586 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14640»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6872
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ امْرَأَةً بِبَصَرِهِ (زَادَ فِي رِوَايَةٍ: يُرِيدُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا) فَقُلْتُ: تَنْظُرُ إِلَيْهَا وَأَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِذَا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي قَلْبِ امْرِئٍ خِطْبَةً لِامْرَأَةٍ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا) )
۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ بصرہ میں ایک خاتون کو دیکھنے کے لیے اس کے تعاقب میں رہتے تھے، پس میں نے ان سے کہا: تم اس خاتون کو دیکھتے ہو، جبکہ تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے ہو، انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جب اللہ تعالی کسی کے دل میں کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجنے کا خیال ڈال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ اس کو دیکھ لے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6872]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال محمد بن سليمان، وحجاج بن ارطاة مدلس، وقد عنعنه، أخرجه ابن ماجه: 1864، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16028 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16124»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال محمد بن سليمان
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6873
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: رَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ يُطَارِدُ بُثَيْنَةَ بِنْتَ الضَّحَّاكِ أُخْتَ أَبِي جَبِيرَةَ الضَّحَّاكِ وَهِيَ عَلَى إِجَّارٍ لَهُمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
۔ (دوسری سند) وہ کہتے ہیں: میں نے محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابو جبیرہ کی بہن بثینہ بنت ضحاک کو دیکھنے کی کوشش کر رہے تھے، جبکہ وہ ان کی اس چھت پر تھی، جس پر کوئی آڑ نہیں تھی، … الحدیث۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6873]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18139»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18139
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6874
عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ: ( (اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا) ) ، قَالَ: فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ، كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا فَتَزَوَّجْتُهَا فَذُكِرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا
۔ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک عورت کا ذکر کیا کہ میں اس کو منگنی کا پیغام بھیجنا چاہتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ، پہلے اسے دیکھ کر آؤ،پس زیادہ لائق ہو گا کہ یہ چیز تمہارے درمیان محبت اور اتفاق کا باعث ہو۔ میں اس انصاری خاتون کے پاس گیا اور اس کے والدین کو منگنی کا پیغام دیا اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان بھی سنا دیا۔ ایسے لگا کہ وہ اس چیز کو پسند نہیں کر رہے کہ میں اس کو دیکھو، لیکن اس عورت نے پسِ پردہ آواز سن لی اور اس نے کہا: اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لے، وگرنہ میں تجھے قسم دیتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، پس میں نے اس کو دیکھا اور اس سے شادی کر لی، پس اس میاں بیوی کی موافقت کی باتیں کی گئیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6874]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 1087، وابن ماجه: 1865، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18137 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18317»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6875
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا خَطَبَ أَحَدُكُمُ امْرَأَةً فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيْهَا إِذَا كَانَ إِنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا لِخِطْبَتِهِ وَإِنْ كَانَتْ لَا تَعْلَمُ) )
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی آدمی کسی عورت کو منگنی کا پیغام بھیجے تو اس کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، بشرطیکہ وہ صرف منگنی کی وجہ سے دیکھ رہا ہو، اگرچہ اس عورت کو اس کا علم نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6875]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في ’’شرح معاني الآثار‘‘: 3/ 14، والطبراني في ’’الاوسط‘‘: 915، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23604 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24000»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6876
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَطَبَ رَجُلٌ امْرَأَةً، فَقَالَ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (انْظُرْ إِلَيْهَا فَإِنَّ فِي أَعْيُنِ الْأَنْصَارِ شَيْئًا) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو منگنی کا پیغام بھیجا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو اس عورت دیکھ لے، کیونکہ عموماً انصار کی آنکھوں میں کوئی نقص ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6876]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1424، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7979 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7966»
وضاحت: فوائد: … نقص سے مراد کوئی ایسا عیب ہے، جس کی وجہ سے انسان طبعی طور پر متنفر ہو سکتا ہے، اس لیے بہتر ہے کہ مرد ایسی خاتون کو دیکھ لے، تاکہ اس کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا موقع مل سکے۔
نکاح ایک اہم ضرورت ہے، نیز ساری زندگی کا ساتھ ہے، اس لیے کسی ممکنہ بدمزگی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ پہلے اسے دیکھ لیا جائے، اس مقصد کے لیے کوئی حیلہ بہانہ استعمال کیا جا سکتا ہے، یا پھر گھریلوں عورتوں کے ذریعے دیکھنے دکھانے اور دیگر ضروری معلومات حاصل کرکے اندازہ کر لیا جائے۔
میاں بیوی کے مابین اچھے تعلقات، بہترین معاشرے اور خاندان کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، جہاں شریعت نے مردوں کے لیے غیر محرم عورتوں کو دیکھنا حرام قرار دیا ہے، وہاں کسی بڑے مقصد کے حصول کے لیے جواز کی گنجائش بھی پیدا کر دی ہے، اس سلسلے میں دونوں اطراف سے والدین کو دور رسی اور دور اندیشی کا ثبوت دیتے ہوئے لڑکی
اور لڑکے کی ملاقات اور ان کی رضامندی کا خیال رکھنا چاہیے۔
پاکستان کے حالات کے مطابق لڑکے کا لڑکی کو پسند نہ کرنابچی کے لیے کسی قیامت صغری سے کم نہیں ہوتا، ایسے حالات میں منگیتر کو بچی دیکھنے کا موقع دیا جائے، اگرچہ بچی کے والدین اور بھائی وغیرہ باخبر نہ ہوں، تاکہ کسی کی حوصلہ شکنی کیے بغیر شریعت کی رخصت پر عمل ہو جائے، جیسا کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے ایک لڑکی کو نکاح کا پیغام بھیجا اور چھپ کر اس کو دیکھ لیا۔ اس سلسلے میں بچی کی سہیلیاں اور دور کی رشتہ دار عورتیں اچھا کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ وہ خیرخواہ اور راز دار ہوں، اگر متعلقہ بچی کو بھی آگاہ نہ کیا جائے تو بہتر ہو گا تاکہ پسند نہ آنے کی صورت میں اس کی حوصلہ شکنی نہ ہو۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1424
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
9. بَابُ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَمَا جَاءَ فِي زِوَاجِ الْعَبْدِ بِغَيْرِ إذن سَيّدِهِ
ولی کے بغیر نکاح کے منعقد نہ ہونے اور غلام کا آقا کی اجازت کے بغیر شادی کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6877
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (إِذَا نَكَحَتِ الْمَرْأَةُ بِغَيْرِ أَمْرِ مَوْلَاهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ) ) قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَلَمْ يَعْرِفْهُ قَالَ: وَكَانَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى وَكَانَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ أَبِي: السُّلْطَانُ الْقَاضِي لِأَنَّ إِلَيْهِ أَمْرَ الْفُرُوجِ وَالْأَحْكَامِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب عورت اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کر لے تو اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا،اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر اس آدمی نے اس عورت سے جماع کر لیا،تو اس کو اس جماع کی وجہ سے اسے مہر دینا ہو گا، اگر وہ اختلاف میں پڑ جائیں تو جس کا کوئی ولی نہیں ہو گا، سلطان اس کا ولی ہو گا۔ ابن جریج کہتے ہیں: میں امام زہری سے ملا اور اس حدیث کے بارے میں پوچھا، لیکن وہ اس حدیث کو نہ پہنچان سکے،انھوں نے کہا: اور سلیمان بن موسی، پھر انھوں نے اس کی تعریف کی، عبد اللہ کہتے ہیں: میرے باپ امام احمد نے کہا: سلطان سے مراد قاضی ہے، کیونکہ عصمتوں سے متعلقہ معاملات اور احکام قاضی کی عدالت میں ہی پیش کیے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6877]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 1102، وابن ماجه: 1879، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24205 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24709»
وضاحت: فوائد: … جمہور اہل علم کے نزدیک عورت کے ولی سے مراد اس کے زیادہ قریبی عصبہ رشتہ دار ہیں، لیکن امام ابو حنیفہ اور امام مالک کی رائے یہ ہے کہ ذوی الارحام (ماموں اور نانا وغیرہ) بھی اولیاء میں شامل ہیں۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں