🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ النَّهْي عَنِ الْاخْتِصَاءِ وَالتَّبَتْلِ
خصی ہونے اور دنیا سے علیحدگی اختیار کرنے سے ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6838
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ شَابٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَأْذَنُ لِي فِي الْخِصَاءِ فَقَالَ صُمْ وَسَلِ اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ مجھے خصی ہونے کی اجازت دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: روزے رکھ اور اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کا سوال کر۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6838]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15102»
وضاحت: فوائد: … یہ بہت خوبصورت جواب ہے، فی الوقت کسی چیز کے اسباب نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ آدمی اپنے آپ کو مستقل طور پر اس چیز سے محروم کر دے، اس کو چاہیے کہ وہ اپنے وجود کو کنٹرول کرنے کے لیے عارضی بندوبست کرے اور اللہ تعالی سے اس کے فضل کا سوال کرے، روزہ اپنی جگہ پر مستقل عبادت ہے، لیکن غیر شادی شدہ آدمی کے لیے شہوت کو کنٹرول کرنے کا عارضی بندو بست ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6839
عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَرَادَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ أَنْ يَتَبَتَّلَ فَنَهَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ أَجَازَ ذَلِكَ لَاخْتَصَيْنَا
۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے تبتّل کا ارادہ کیا، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو منع کر دیا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6839]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5074، ومسلم: 1402، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1514»
وضاحت: فوائد: … ”تبتّل“ سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت میں مصروف ہونے کی وجہ سے عورتوں سے کنارہ کشی اختیار کی جائے اور نکاح کو چھوڑ دیا جائے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5074
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6840
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّبَتُّلِ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تبتّل سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6840]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 1849، والترمذي: 1082، والنسائي: 6/ 59، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20455»
وضاحت: فوائد: … جامع ترمذی اور سنن ابن ماجہ کی روایت کے مطابق یہ حدیث بیان کرنے کے بعد امام قتادہ نے یہ آیت تلاوت کی: {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِکَ و َجَعَلْنَا لَھُمْ اَزْوَاجًا وَ ذُرِّیَّۃً } … ”اور ہم نے آپ سے پہلے رسول بھیجے اور ان کو بیویاں اور اولاد عطا کی۔“ (سورۂ رعد: ۳۸)
امام قتادہ کی مراد یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سابقہ انبیاء کی اقتدار کرنے کا حکم دیا گیا، جیسا کہ اللہ تعالی نے فرمایا: {فَبُہُدٰھُمُ اقْتَدِہْ} … ”ان کی ہدایت کی پیروی کر۔“ اور سابقہ انبیاء کی بیویاں اور اولادیں تھیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادیاں کیں اور اللہ تعالی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اولاد بھی عطا کی۔
گویا نکاح سنت ِ انبیاءhہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6841
عَنِ الْحَسَنِ عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنِ التَّبَتُّلِ فَمَا تَرَيْنَ فِيهِ قَالَتْ فَلَا تَفْعَلْ أَمَا سَمِعْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ {وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً} [الرعد 38] فَلَا تَبَتَّلْ قَالَ فَخَرَجَ وَقَدْ فَقِهَ وَقَدِمَ الْبَصْرَةَ فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ إِلَى أَرْضِ مَكْرَانَ فَقُتِلَ هُنَاكَ عَلَى أَفْضَلِ عَمَلِهِ
۔ سعد بن ہشام سے مروی ہے کہ انھوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں آپ سے تبتّل کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انھوں نے کہا:ایسا نہ کرو، کیا تم نے اللہ تعالی کا یہ فرمان نہیں سنا اور تحقیق ہم نے آپ سے پہلے پیغمبر بھیجے ہیں اور ان کے لئے بیویاں اور اولاد بنائی۔ اس لئے تبتّل سے بچ، پھر وہ باہر تشریف لے گئے، جبکہ وہ فہم و فقہ حاصل کر چکے تھے، پھر وہ بصرہ چلے گئے، وہاں کچھ عرصہ ہی رہے تھے کہ مکران کی سرزمین کی طرف چلے گئے، پھر وہاں افضل ترین عمل سرانجام دیتے ہوئے شہید ہو گئے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6841]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه مختصرا النسائي: 3/ 242، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24658 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25165»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6842
وَعَنْهَا فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَتْ لَا تَفْعَلْ أَمَا تَقْرَأُ {لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ} [الأحزاب 21] فَقَدْ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ وُلِدَ لَهُ
۔ (دوسری سند) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تبتّل سے بچ، کیا تم نے یہ آیت نہیں پڑھی، اللہ تعالی نے فرمایا: البتہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شادیاں بھی کی ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد بھی ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6842]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25108»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25108
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6843
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لَا صَرُورَةَ فِي الْإِسْلَامِ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسلام میں صرورت نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6843]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عمر بن عطائ، وھو ابن وراز، ليس ھو بشيئ، وھم يضعفونه، أخرجه ابوداود: 1729، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2844 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2844»
وضاحت: فوائد: … صرورت کے دو معانی ہیں: (۱) تبتّل، جس کی تفصیل حدیث نمبر ۶۸۳۹ میں گزر چکی ہے اور (۲) حج نہ کرنا، یعنی اسلام میں حج کو ترک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، بشرطیکہ استطاعت ہو۔
یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن اسلام میں دونوں چیزوں کی گنجائش نہیں ہے، نہ تبتّل کی اور نہ حج کو ترک کرنے کی۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
3. باب صفة المرأة التي تُستحب خطبتها صِفَةِ الْمَرْأَةِ
اس عورت کے اوصاف کا بیان، جس سے نکاح کرنا مستحب ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6844
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الدُّنْيَا كُلَّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیاساری کی ساری متاع ہے اور دنیا کا بہترین سرمایہ نیک عورت ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6844]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1467، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6567 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6567»
وضاحت: فوائد: … ”متاع“ اس چیز کو کہتے ہیں، جس سے تھوڑا سا فائدہ اٹھایا جائے اور وہ جلد ہی ختم ہو جائے، دنیا اور اس کی ہر چیز متاع ہے، آخرت کے مقابلے میں اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور وہ بھی جلد زائل ہو جانے والا ہے۔
نیک خاتون دنیا کا سب سے بہترین سرمایہ ہے، کیونکہ وہ خاوند کو حرام سے بچاتی ہے اور اس کے دنیوی اور دینی امور کو سرانجام دینے پر اس کا تعاون کرتی ہے اور ہر وہ لذت جو آخرت کی لذتوں کے حصول کے لیے معاون ہو، وہ اللہ تعالی کی محبوب اور پسندیدہ چیز ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1467
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6845
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِمَالِهَا وَجَمَالِهَا وَحَسَبِهَا وَدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چار وجوہات کی بنا پر عورتوں سے نکاح کیا جاتا ہے، مال، جمال، حسب اور دین، تو دین والی کے ساتھ کامیاب ہو، تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6845]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5090، ومسلم: 1466، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9521 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9517»
وضاحت: فوائد: … اسلام میں اللہ کا خوف اور عمل صالح کی سب سے زیادہ اہمیت ہے، اللہ تعالی کے ہاں وہی زیادہ معزز ہے، جو اس سے زیادہ ڈرنے والا ہے، اس لیے نیک اور دین دار خاتون کو ترجیح دینی چاہیے، اسی میں دین و دنیا کی خیر و بھلائی ہے۔
تیرے ہاتھ خاک آلود ہو جائیں، تیری ماں تجھے گم پائے،تیرا ناک خاک آلود ہو جائے، تجھ پر افسوس ہے، تیری ماں مر جائے، عرب اس قسم کے جملوں کے اصل معانی مراد نہیں لیتے، جو کہ بد دعا پر مشتمل ہیں، بلکہ ان کا مقصود ان امور میں سے کوئی ایک ہوتا ہے: مدح کرنا، مذمت کرنا، انکار کرنا، رغبت دلانا، تعجب کرنا۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5090
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6846
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى إِحْدَى خِصَالٍ ثَلَاثَةٍ تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى مَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى جَمَالِهَا وَتُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى دِينِهَا فَخُذْ ذَاتَ الدِّينِ وَالْخُلُقِ تَرِبَتْ يَمِينُكَ
۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عورت سے تین خصلتوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، عورت سے اس کے مال کی وجہ سے شادی کی جاتی ہے، ایک عورت سے اس کے حسن و جمال کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے اور ایک عورت سے اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو جائے تو دین اور اخلاق والی خاتون کو منتخب کر لے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6846]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 4/ 310، والبزار: 1403، وابويعلي: 1012، وابن حبان: 4037، والحاكم: 2/161، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11765 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11787»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6847
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6847]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25191 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25706»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں