الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابُ التَّرْغِيبِ فِي التَّزْوِيجِ مَنْ ذِي الدِّينِ وَالْخُلُقِ المرضي وَإِنْ كَانَ فَقِيرًا أَوْ دَمِيمَ الْخِلْقَةِ
دین اور پسندیدہ اخلاق والی خاتون سے شادی کرنے کی رغبت کا بیان، اگرچہ وہ فقیریا بدصورت ہو
حدیث نمبر: 6858
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ مُطَوَّلًا وَفِي آخِرِهِ قَالَ ثَابِتٌ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا وَحَدَّثَ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ثَابِتًا قَالَ هَلْ تَعْلَمُ مَا دَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُمَّ صُبَّ عَلَيْهَا الْخَيْرَ صَبًّا وَلَا تَجْعَلْ عَيْشَهَا كَدًّا كَدًّا قَالَ فَمَا كَانَ فِي الْأَنْصَارِ أَيِّمٌ أَنْفَقُ مِنْهَا
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، مذکورہ بالا روایت کی طرح، البتہ اس کے آخر میں ہے: سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا: انصار میں سے خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ خرچ کرنے والی ہو۔ اسحاق بن عبد اللہ نے سیدناثابت رضی اللہ عنہ کو بیان کیا اور کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کیلئے کیا دعاء فرمائی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی تھی: اے اللہ! اس پر بکثرت بھلائی ڈال دے اور اس کی زندگی کو محنت و مشقت والا نہ بنا۔ انصاریوں میں خاوند کے بغیر کوئی ایسی خاتون نہیں تھی، جو اس سے زیادہ مشہور اور خیر وبرکت والی ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6858]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه البغوي في ’’شرح السنة‘‘: 3997، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20022»
وضاحت: فوائد: … ”اَیِّم“ اس خاتون کو کہتے ہیں، جس کا فی الحال خاوند نہ ہو، وہ بیوہ ہو یا کنواری۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا پاس و لحاظ رکھنے کے فیوض اور برکات ہیں۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کا پاس و لحاظ رکھنے کے فیوض اور برکات ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 6859
عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ تَأَيَّمَتْ حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مِنْ خُنَيْسِ بْنِ حُذَافَةَ أَوْ حُذَيْفَةَ شَكَّ عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَتُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ فَلَقِيتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ قَالَ سَأَنْظُرُ فِي ذَلِكَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَلَقِينِي فَقَالَ مَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا قَالَ عُمَرُ فَلَقِيتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَكُنْتُ أَوْجَدَ عَلَيْهِ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَخَطَبَهَا إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِينِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِينَ عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ إِلَيْكَ شَيْئًا قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ شَيْئًا حِينَ عَرَضْتَهَا عَلَيَّ إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُهَا وَلَمْ أَكُنْ لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا لَنَكَحْتُهَا
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میری بیٹی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سیدنا خنیس بن حذافہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد بیوہ ہوگئی،یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے اور غزوئہ بدر میں حاضر ہوئے تھے اور انھوں نے مدینہ میں وفات پائی تھی، میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو ملا اور ان پر حفصہ کو پیش کیا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں حفصہ سے تمہارا نکاح کر دیتا ہوں؟ انہوں نے کہا: میں اس بارے میں غور کروں گا، میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا، پھر وہ مجھے ملے اور کہا: میں ان دنوں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے کہا: اگر تم چاہتے ہو تو میں اپنی بیٹی حفصہ کا تم سے نکاح کر دیتا ہوں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، اس وجہ سے ان پر مجھے عثمان سے بھی زیادہ افسوس ہوا، بہرحال میں چند دن ٹھہرا رہا، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب سے میری بیٹی کے نکاح کا پیغام آگیا اور میں نے اس کا نکاح آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کر دیا، بعد میں جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھے ملے تو انہوں نے کہا: جب تم نے مجھ پر حفصہ کو پیش کیا تھا اور میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا تو تم مجھ سے ناراض ہوئے ہو گے؟ میں نے کہا: جی بالکل، انھوں نے کہا: مجھے آپ کی پیشکش کا جواب دینے میں صرف ایک چیز رکاوٹ تھی کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے ہوئے سنا تھا، یہ ایک راز تھا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز افشا نہیں کرنا چاہتا تھا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ رشتہ نہ کرتے تو میں حفصہ سے نکاح کر لیتا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6859]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5129، 4005، 5122، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 74 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 74»
وضاحت: فوائد: … کتنی بڑی بات ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اورسیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو عظیم سمجھ کر ان پر اپنی بیٹی پیش کی، لیکن ان کو کیا پتہ ہے کہ ان کی بیٹی ام المومنین بننے والی ہے، یہ سب شریعت کا پاس و لحاظ کرنے کی برکتیں ہیں۔ غور کریں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کس انداز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کی، وہ کس قدر گہرائی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت کو سمجھتے تھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5129
حدیث نمبر: 6860
عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ جَالِسًا وَعِنْدَهُ ابْنَةٌ لَهُ فَقَالَ أَنَسٌ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِيَّ حَاجَةٌ فَقَالَتِ ابْنَتُهُ مَا كَانَ أَقَلَّ حَيَاءَهَا فَقَالَ هِيَ خَيْرٌ مِنْكِ رَغِبَتْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَعَرَضَتْ عَلَيْهِ نَفْسَهَا
۔ ثابت بنانی کہتے ہیں: میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور ان کے پاس ان کی ایک بیٹی بھی موجود تھی، سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ میرے ساتھ شادی کرنے کی رغبت رکھتے ہیں؟ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کی بیٹی کہنے لگی کہ اس عورت میں کس قدر حیا کی کمی تھی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بیٹی! وہ تجھ سے بہتر تھی، کیونکہ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں رغبت کا اظہار کیا تھا اور اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6860]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5120، 61123، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13835 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13871»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! اس خاتون نے اپنی ذات کے لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسی عظیم ہستی کا انتخاب کیا۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کو لڑکی درکار ہو یا لڑکا، ہر ایک کی ترجیح دینداری ہونی چاہیے۔
اس باب کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کو لڑکی درکار ہو یا لڑکا، ہر ایک کی ترجیح دینداری ہونی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5120
6. بَابُ فَضْلٍ مَنْ حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى أَبْنَائِهَا وَلَمْ تَتزوج وَفَضْلٍ نِسَاءِ قُرَيْشٍ وَغَيْرِ ذَلِكَ
بچوں کی پرورش کی خاطر دوسرا نکاح نہ کرنے والی خاتون کی فضیلت اور قریشی عورتوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 6861
عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ كَهَاتَيْنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) (وَفِي لَفْظٍ: ( (أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ فِي الْجَنَّةِ كَهَاتَيْنِ) ) وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى) امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ آمَتْ مِنْ زَوْجِهَا حَبَسَتْ نَفْسَهَا عَلَى أَيْتَامِهَا حَتَّى بَانُوا أَوْ مَاتُوا.
۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اور سیاہی مائل رخسار والی عورت روز قیامت جنت میں ان دو انگلیوں کی مانند قریب قریب ہوں گے، ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انگشت ِ شہادت اور درمیانی انگلی کو جمع کر کے اشارہ کیا، وہ خاتون جو منصب اور جمال والی ہو، لیکن بیوہ ہو جانے کے بعد اپنے نفس کو اپنے یتیموں کی خاطر پابند کیے رکھے،یہاں تک کہ وہ اس سے الگ ہو کر (اپنے پاؤں پر کھڑے) ہو جائیں یا فوت ہو جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6861]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 5149، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24507»
وضاحت: فوائد: … سیاہی مائل رخساروں سے مراد یہ ہے کہ اس عورت نے زیب و زینت اور خوشحالی و آسودہ حالی کو چھوڑ دیا اور اپنے یتیم بچوں کی خدمت میں مشقتیں برداشت کرتی رہی، جس کی وجہ سے اس کی شکل و صورت تبدیل ہو گئی۔
دراصل اس حدیث میںیتیم بچوں کی کفالت کرنے والوں کی عظمت بیان کی جا رہی ہے۔
دراصل اس حدیث میںیتیم بچوں کی کفالت کرنے والوں کی عظمت بیان کی جا رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 6862
عَنِ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي قَدْ كَبُرْتُ وَلِيَ عِيَالٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ) ) . قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَلَمْ تَرْكَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا.
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام ہانی بنت ابی طالب کو منگنی کا پیغام بھیجا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری عمر بڑی ہے اور میرے بال بچے بھی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین عورتیں جو اونٹ پر سوار ہوتی ہیں، وہ قریش کی عورتیں ہیں، وہ اپنے چھوٹے بچوں پر بے حد شفقت کرتی ہیں اور خاوند کی ملکیت کی بے حد حفاظت کرتی ہیں۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا مریم بنت عمران کبھی اونٹ پر سوار نہیں ہوئی تھیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6862]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5365، ومسلم: 2527، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7650 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7637»
وضاحت: فوائد: … سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سیدہ مریم رضی اللہ عنہا کی بات کر کے یہ بات سمجھانا چاہتے ہیں کہ قریشی خواتین سیدہ مریم سے افضل نہیں ہیں۔
دراصل قریشی خواتین کو ان کی صفات کی وجہ سے باقی عرب عورتوں پر فضیلت دی جا رہی ہے۔
دراصل قریشی خواتین کو ان کی صفات کی وجہ سے باقی عرب عورتوں پر فضیلت دی جا رہی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5365
حدیث نمبر: 6863
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ امْرَأَةً مِنْ قَوْمِهِ يُقَالُ لَهَا: سَوْدَةُ وَكَانَتْ مُصْبِيَةً، كَانَ لَهَا خَمْسَةُ صِبْيَةٍ أَوْ سِتَّةٌ مِنْ بَعْلٍ لَهَا مَاتَ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (مَا يَمْنَعُكِ مِنِّي؟) ) قَالَتْ: وَاللَّهِ! يَا نَبِيَّ اللَّهِ! مَا يَمْنَعُنِي مِنْكَ إِلَّا أَنْ لَا تَكُونَ أَحَبَّ الْبَرِيَّةِ إِلَيَّ، وَلَكِنِّي أُكْرِمُكَ أَنْ يَضْغُوَ هَؤُلَاءِ الصِّبْيَةُ عِنْدَ رَأْسِكَ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً، قَالَ: ( (فَهَلْ مَنَعَكِ مِنِّي شَيْءٌ غَيْرُ ذَلِكَ؟) ) قَالَتْ: لَا، وَاللَّهِ! قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (يَرْحَمُكِ اللَّهُ، إِنَّ خَيْرَ نِسَاءٍ رَكِبْنَ أَعْجَازَ الْإِبِلِ، صَالِحُ نِسَاءِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرٍ وَأَرْعَاهُ عَلَى بَعْلٍ بِذَاتِ يَدٍ) ) .
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی قوم کی سودہ نامی ایک خاتون کو منگنی کا پیغام بھیجا، وہ صاحب اولاد تھی، اس کے فوت ہونے والے خاوند سے اس کے پانچ یا چھ بچے تھے، اس لیے اس نے انکار کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ شادی کرنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ اس نے کہا:اللہ کی قسم! اے اللہ کے نبی! کوئی رکاوٹ نہیں ہے، آپ مجھے روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب ہیں، لیکن میں آپ کو اس سے برتر اور اعلی سمجھتی ہوں کہ صبح و شام یہ بچے آپ کے سرہانے رونا دھونا کرتے رہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے علاوہ تو کوئی چیز رکاوٹ نہیں ہے؟ اس نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے، بہترین وہ عورتیں جو اونٹوں پر سوار ہوتی ہیں، قریش کی صالح عورتیں ہیں، جو چھوٹے بچوں سے انتہائی شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی سب سے زیادہ حفاظت کرتی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6863]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون ذكر اسم المرأة التي خطبھا النبيA وشھر بن حوشب علي ضعف فيه حديثه حسن في الشواھد، أخرجه ابويعلي: 2686، والطبراني: 13014، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2923»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ بچوں کے حق میں شفیق ہونا اور خاوند کے مال کی حفاظت کرنا خاتون کی بڑی صفات میں سے ہیں۔
ممکن ہے کہ یہ سودہ نامی خاتون، ام ہانی ہی ہو، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں ہوا ہے، شاید اس کا لقب سودہ ہو، کیونکہ مشہور بات یہ ہے کہ اس کا نام فاختہ تھا، لیکن اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ کوئی اور خاتون ہو۔
بہرحالیہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ وہ سودہ نہیں ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، وہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان سے شادی کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ زندہ تھیں۔
ممکن ہے کہ یہ سودہ نامی خاتون، ام ہانی ہی ہو، جس کا ذکر پچھلی حدیث میں ہوا ہے، شاید اس کا لقب سودہ ہو، کیونکہ مشہور بات یہ ہے کہ اس کا نام فاختہ تھا، لیکن اس بات کا بھی احتمال ہے کہ یہ کوئی اور خاتون ہو۔
بہرحالیہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ وہ سودہ نہیں ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی تھیں، وہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے بعد ان سے شادی کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو وہ زندہ تھیں۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره دون ذكر اسم المرأة التي خطبھا النبيA وشھر بن حوشب علي ضعف فيه حديثه حسن في الشواھد
حدیث نمبر: 6864
عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ فَتَرْجُو لِي أَنِ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا رَأَيْنَاكَ فَعَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ) ) .
۔ سیدہ سلمی بنت جابر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند شہید ہو گیا، میں سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئی او رکہا: میرے پاس آدمیوں کے منگنیوں کے پیغام آرہے ہیں، جبکہ میں نے شادی سے انکار کر دیا ہے، میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے خاوند سے اسی حال میں ملوں، کیا آپ امید دلاتے ہیں کہ اگر میں اور میرا خاوند جمع ہو گئے تو میں اس کی بیویوں میں سے ہوں گی؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، یہ سن کر ایک بندے نے ان سے کہا: جب سے ہم آپ کے ساتھ بیٹھے ہیں، ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے کیا ہو؟ انھوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: میری امت میں سے جو خاتون سب سے جلدی مجھے جنت میں ملے گی، وہ احمس سے ہوگی۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6864]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، كريم بن ابي حازم لم يرو عنه غير ابان بن عبد الله، ولم يوثقه غير ابن حبان، أخرجه ابويعلي: 5328، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3822 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3822»
وضاحت: فوائد: … قریش، کنانہ، جدیلہ اور دورِ جاہلیت میں ان کے پیروکاروں کالقب احمس تھا، اس کی وجہ تسمیہیہ ہے کہ وہ اپنے مذہب کے معاملے میں پکے تھے یایہ ہے کہ وہ ”حمسائ“ میںپناہ لیتے تھے، حمساء سے مراد کعبہ ہے۔ اس حدیث میں اس خاتون کا تعیین کے ساتھ ذکر نہیں ہے، تو پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا کو اس کا مصداق کیسے ٹھہرایا؟
اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا قریشی تھیں اور انھوں نے اپنے خاوند کے شہید ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس وجہ سے مزید نکاح کرنے سے روکا ہوا تھا کہ وہ اپنے اُسی خاوند کے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہیں، جبکہ شہداء جنت میں ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس یہ استدلال کشید کر لیا،یا ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا ہو۔
اس کا جواب یہ ہے کہ سیدہ سلمی رضی اللہ عنہا قریشی تھیں اور انھوں نے اپنے خاوند کے شہید ہو جانے کے بعد اپنے آپ کو اس وجہ سے مزید نکاح کرنے سے روکا ہوا تھا کہ وہ اپنے اُسی خاوند کے ساتھ جنت میں رہنا چاہتی ہیں، جبکہ شہداء جنت میں ہوتے ہیں، اس لیے انھوں نے اس یہ استدلال کشید کر لیا،یا ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بتلایا ہو۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
7. بَابُ النَّهْيِ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ وَمَا جَاءَ فِي التَّعْرِيْضِ بِالْخِطْبَةِ فِي الْعِدَّةِ
منگنی پہ منگنی کا پیغام دینے سے ممانعت اور عدت میں اشارے کنائے سے منگی کی بات کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6865
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَخْطُبَ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَدَعَهَا الَّذِي خَطَبَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ أَوْ يَأْذَنَ لَهُ.
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایاہے کہ آدمی اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے، الّا یہ کہ پہلے منگنی کا پیغام بھیجنے والا اس خاتون کو چھوڑ دے یا دوسرے کو بھی اجازت دے دے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6865]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5142، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6036 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6036»
وضاحت: فوائد: … جب کسی خاتون کا ایک مرد کی طرف میلان ہو جائے اور وہ دونوں شادی کے لیے راضی ہوں، بس صرف نکاح باقی ہو، تو کسی دوسرے کے لیے جائز نہیں کہ وہ زیادہ حق مہر کی پیش کش کر کے یا اپنے سرمائے یا حسن کا اظہار کر کے اس عورت کو اپنی طرف مائل کر لے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5142
حدیث نمبر: 6866
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ( (لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مُسْلِمٍ يَخْطُبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ، وَلَا يَبِيعْ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ حَتَّى يَتْرُكَ) ) .
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی منگنی پر منگنی کا پیغام بھیجے،یہاں تک کہ وہ اس کو چھوڑ دے، اسی طرح کوئی آدمی اپنے بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، الّا یہ کہ وہ اسے چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6866]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1414، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17329 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17461»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1414
حدیث نمبر: 6867
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ، وَلَا يَسُومُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَلَا عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا تَسْأَلُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا وَلِتَنْكِحَ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَهَا) ) .
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اپنے بھائی کی منگنی پرمنگنی کا پیغام نہ بھیجے، اور نہ اپنے بھائی کے سودے پر سودا کرے،کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں نکاح نہ کیا جائے، کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے کہ وہ اس کے پیالے کی چیز کو انڈیل دے، اس کو چاہیے کہ وہ بھی نکاح کر لے، بے شک اسے وہ مل کر رہے گا، جو اللہ تعالی نے اس کے لیے لکھا ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل النكاح/حدیث: 6867]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1408، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10613»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1408