🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بَابُ عَدَدِ الرَّضْعَاتِ الْمُحَرِّمَةِ وَمَا جَاءَ فِي رَضَاعَةِ الكبير
حرام کرنے والی رضعات کی تعداد اور بڑے آدمی کی رضاعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6968
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ أَتَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا كَانَ مِنَّا حَيْثُ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّا كُنَّا نَعُدُّهُ وَلَدًا فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ كَيْفَ شَاءَ وَلَا نَحْتَشِمُ مِنْهُ فَلَمَّا أَنْزَلَ فِيهِ وَفِي أَشْبَاهِهِ مَا أَنْزَلَ أَنْكَرْتُ وَجْهَ أَبِي حُذَيْفَةَ إِذَا رَآهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ قَالَ فَأَرْضِعِيهِ عَشْرَ رَضَعَاتٍ ثُمَّ لِيَدْخُلْ عَلَيْكِ كَيْفَ شَاءَ فَإِنَّمَا هُوَ ابْنُكِ فَكَانَتْ عَائِشَةُ تَرَاهُ عَامًّا لِلْمُسْلِمِينَ وَكَانَ مَنْ سِوَاهَا مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرَى أَنَّهَا كَانَتْ خَاصَّةً لِسَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ الَّذِي ذَكَرَتْ سَهْلَةُ مِنْ شَأْنِهِ رُخْصَةً لَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلۃ بنت سہیل رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ جانتے ہیں کہ سالم کا ہمارے ہاں کیا مقام تھا، بس ہم اس کو بیٹا ہی سمجھتے تھے، وہ میرے پاس جیسے چاہتا، آجاتا تھا، ہم اس کی کوئی پرواہ نہ کرتے تھے، اب اس کے بارے میں اور اس قسم کے لے پالک لڑکوں کے بارے میں نیا حکم نازل ہو چکا ہے، اب جب سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کو دیکھتے ہیں تو ان کا چہرہ متغیرہو جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دس مرتبہ دودھ پلادے، پھر وہ جیسے چاہے، تیرے پاس آ جائے، وہ تیرا بیٹا بن جائے گا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اس حکم کو عام سمجھتی تھیں، لیکن دوسری ازواج مطہرات کا خیال تھا کہ یہ حکم مولائے ابی حذیفہ سالم کے ساتھ خاص تھا، کیونکہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا نے اس کی ایک خاص صورت ذکر کی تھی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6968]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح دون قوله: ’’فارضعيه عشر رضعات‘‘ فقد انفرد فيه ابن اسحاق، والصحيح ’’أرضعيه خمس رضعات‘‘ وانظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26846»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6969
عَنْ سَهْلَةَ امْرَأَةِ أَبِي حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرْضِعِيهِ فَقَالَتْ كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ ذُو لِحْيَةٍ فَأَرْضَعَتْهُ فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا
۔ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا ابوحذیفہ کا آزاد شدہ غلام میرے پاس آتا ہے، جبکہ اب تو وہ داڑھی والا جوان ہو چکا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اسے کیسے دودھ پلا ؤں وہ تو داڑھی والا ہے؟ پھر انھوں نے اس کو دودھ پلا دیا تھا اور وہ ان کے پاس آتا جاتا تھا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6969]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في ’’الكبير‘‘: 24/ 742، وأخرجه بنحوه مسلم: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27545»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6970
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا كَانَتْ تَقُولُ أَبَى سَائِرُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُدْخِلْنَ عَلَيْهِنَّ أَحَدًا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ وَقُلْنَ لِعَائِشَةَ وَاللَّهِ مَا نَرَى هَذَا إِلَّا رُخْصَةً أَرْخَصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِسَالِمٍ خَاصَّةً فَمَا هُوَ بِدَاخِلٍ عَلَيْنَا أَحَدٌ بِهَذِهِ الرَّضَاعَةِ وَلَا رَائِينَا
۔ زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی تھیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ باقی تمام ازواجِ مطہرات نے اس سے انکار کر دیا تھا کہ سالم جیسی رضاعت کی وجہ سے کوئی آدمی ان کے پاس آئے، اور انھوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ہماری تو صرف یہ رائے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی یہ رخصت سالم کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا ایسی رضاعت کی وجہ سے نہ کوئی ہم پر داخل ہو اور نہ ہمیں دیکھے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6970]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1454، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26660 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27196»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6971
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ لِعَائِشَةَ: إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكِ الْغُلَامُ الْأَيْفَعُ الَّذِي مَا أُحِبُّ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: أَمَا لَكِ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قَالَتْ: إِنَّ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ سَالِمًا يَدْخُلُ عَلَيَّ وَهُوَ رَجُلٌ، وَفِي نَفْسِ أَبِي حُذَيْفَةَ مِنْهُ شَيْءٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (أَرْضِعِيهِ حَتَّى يَدْخُلَ عَلَيْكِ) )
۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: عائشہ! آپ کے پاس بلوغت کے قریب ایک لڑکا آتا ہے، میں پسند نہیں کرتی کہ وہ میرے پاس آئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بہترین نمونہ نہیں ہے؟ ابو حذیفہ کی بیوی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سالم میرے پاس آتا ہے اور اب وہ مرد بن چکا ہے اور ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ اس کے آنے کو اچھا نہیں سمجھتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو اسے دودھ پلا دے تاکہ وہ تیرے پاس آ سکے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6971]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25415 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25929»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6972
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي أَرَى فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا مِنْ دُخُولِ سَالِمٍ عَلَيَّ، فَقَالَ: ( (أَرْضِعِيهِ) ) ، فَقَالَتْ: كَيْفَ أُرْضِعُهُ وَهُوَ رَجُلٌ كَبِيرٌ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ( (أَلَسْتُ أَعْلَمُ أَنَّهُ رَجُلٌ كَبِيرٌ؟) ) ثُمَّ جَاءَتْ فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِي وَجْهِ أَبِي حُذَيْفَةَ شَيْئًا أَكْرَهُهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب سالم میرے پاس داخل ہوتا ہے تو مجھے اپنے خاوند سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے چہرے پر تبدیلی نظر آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تواسے دودھ پلا دے۔ اس نے کہا: میں اس کو کیسے دودھ پلاؤں، وہ اتنا بڑا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے اور فرمایا: کیا میں نہیں جانتا کہ وہ بڑا ہے۔ پھر جب وہ آئی تو اس نے کہا:اب حذیفہ کے چہرے میں کوئی کراہت نظر نہیں آتی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6972]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1453، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24108 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24609»
وضاحت: فوائد: … یہ بڑا اہم مسئلہ ہے اور اس میں غورو فکر کی ضرورت ہے۔سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو متبنّٰی (منہ بولا بیٹا) بنا رکھا تھا، وہ گھر میں بیٹوں کی طرف رہتا اور آتا جاتا تھا، جب یہ حکم اترا کہ منہ بولے بیٹے حقیقی بیٹوں کی طرح نہیں ہیں اور نہ ان پر حقیقی بیٹوں کے احکام لاگو ہوتے ہیں، تو اب اس سے پردہ فرض ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مشکل کو یوں حل کیا کہ سیدنا ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی سیدہ سہلہ رضی اللہ عنہا، سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کو پانچ بار دودھ پلا دے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا نظریہیہ تھا کہ جہاں ضرورت پڑے، وہاں اس رخصت پر عمل کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری امہات المؤمنین ان کے اس نظریے سے متفق نہیں تھیں۔
اگر رضاعت سے متعلقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قولی اور عمومی ارشادات کو دیکھا جائے تو ان میں صغرِ سنییعنی مدتِ رضاعت کو معتبر اور مشروط قرار دیا گیا ہے، بلکہ اگلے باب کی پہلی حدیث میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پلانے کی تردید کی ہے۔
صحابہ کی اکثریت اس رخصت کو سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاص سمجھتے تھے، لیکن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا موقف یہ تھا کہ اشد ضرورت کے موقع پر اس رخصت سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، امام ابن تیمیہ اور امام شوکانی وغیرہ کے نزدیک بھی اس رخصت پر عمل کی گنجائش موجود ہے۔
لیکن ہمارا نظریہ امہات المومنین اور صحابہ کی اکثریت والا ہے، اس رائے کی تائید کی دو وجوہات ہیں:
(۱) اب لے پالک اور منہ بولے بیٹوں کے احکام واضح کیے جا چکے ہیں کہ ان کی شریعت میں کوئی حقیقت نہیں ہے، لہذا اب وہ مجبوری کہاں پیدا ہو سکتی ہے، جو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گھر کا مسئلہ بنی تھی، اب جو آدمی متبنیٰ بیٹے کو حقیقی بیٹے کے احکام دے گا، وہ پہلے سے ہی حرام امور کا مرتکب ہو رہا ہو گا، اس کو مزید کیا رخصت دی جائے۔
(۲) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رضاعت کے بارے عام قوانین اور ارشادات، جن میں سے بعض احادیث میں مدت ِ رضاعت کے بعد دودھ پینے کو غیر معتبر سمجھا گیا ہے۔
جو آدمی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کا حامل ہو، اس کو از راہِ احتیاط اس پر عمل نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ سیدنا سالم رضی اللہ عنہ کے لیے خصوصیت کا امکان ہے، اگرچہ خصوصیت کا کوئی دلیل نہیںہے، لیکن رجحان کا میلان ضرور ہے اور اس میں زیادہ احتیاط بھی ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔
یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ مسئلہ لے پالک کے حوالہ سے پیش آئے۔ بعض دفعہ اس کے علاوہ بھی پیش آسکتا ہے۔ عورت بعض حالات کے تحت ایک بچے کو اس کے بچپن میں کھلاتی ہے، دیکھتی ہے، وہ بھی اس کے پاس بلا جھجک آتا جاتا ہے پھر بعد وہ وہ جوان ہو جاتا ہے اوراس سے پردہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے تو اس کے لیےیہ سالم اور سعلہ والی صورت پیش آجائے گی۔ ایسے حالات میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے نظریے کے مطابق رخصت حاصل کی جاسکتی ہے جس کی اصل بنیاد حدیث نبوی ہے۔ (عبداللہ رفیق)
امکان سے تو مسئلہ ثابت نہیں ہوگا۔ خصوصیت کے لیے تو دلیل کی ضرورت ہے عمومی دلائل سے یہ خاص شکل منع نہیں ہوگی۔ بلکہ حالات کے تحت یہ خصوصی شکل مستثنیٰ سمجھی جائے گی۔ (عبداللہ رفیق)
کس قدر دودھ پینے سے حرمت ثابت ہو گی؟
اگلے باب کی احادیث میں دو امور بیان کیے گئے ہیں: (۱) مدت ِ رضاعت دو سال ہے، رضاعت کے ثبوت کے لیے اس مدت کے اندر اندر دودھ پلانا ضروری ہے، اور (۲) ایک دو دفعہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہو گی۔
اس موضوع پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت مفصل ہے، وہ کہتی ہیں: کَانَ فِیمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ یُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ فَتُوُفِّیَ رَسُولُ اللَّہِV وَہُنَّ فِیمَایُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ۔ … جو قرآن مجید میںپہلے حکم نازل ہوا تھا، اس کے مطابق بچے کے دس بار واضح طور پر دودھ پی لینے سے حرمت ثابت ہوتی تھی، پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور پانچ دفعہ واضح طور پر دودھ پینے کا حکم لاگو کر دیا گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے یہ حکم قرآن مجید میں پڑھا جاتا تھا۔ (صحیح مسلم: ۱۴۵۲)
قرآن مجید میںپڑھے جانے کا مطلب یہ ہے کہ پانچ رضعات کا حکم بالکل آخری دور میں نازل ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک سب لوگوں کو اس کی تلاوت کے منسوخ ہو جانے کا علم نہ ہو سکا، اس لیے بعض صحابہ کچھ دیر تک اس کو قرآن سمجھ کر پڑھتے رہے، آہستہ آہستہ سب کو پتہ چل گیا اور پھر سب نے اس کی تلاوت چھوڑ دی، البتہ حکم باقی ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بچہ پانچ بار کسی کا دودھ پی لے تو تب رضاعت ثابت ہو گی، ایک دو بار دودھ پینے سے رضاعت کا ثابت نہ ہونا، یہ اسلام کا حسن ہے۔
اب ایک بار دودھ پینے کی کیفیت کیا ہو گی، تو گزارش ہے کہ جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے، اس کو ایک رَضْعَۃ کہتے ہیں۔ جب بچہ پانچ بار اس انداز میں دودھ پی لے گا تو اس کی رضاعت ثابت ہو جائے گی۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
5. بَابُ مَا جَاءَ فِي الرَّضَاعِ الَّذِي لَا يَحْصُلُ بِهِ التَّحْرِيمُ
رضاعت کی وہ مقدار جس سے حرمت ثابت نہیں ہوتی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6973
عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا رَجُلٌ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ شَقَّ عَلَيْهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (انْظُرْنَ مَا إِخْوَانُكُنَّ فَإِنَّمَا الرَّضَاعَةُ مِنَ الْمَجَاعَةِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، جبکہ میرے پاس ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ متغیر ہوگیا، ایسے لگ رہا تھا کہ آپ کو یہ بات سخت ناگوار گزری، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا رضاعی بھائی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ذرا غور کر لو کہ تمہارے بھائی کون ہیں، رضاعت تو بھوک سے ثابت ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6973]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5102، ومسلم: 1455، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25139»
وضاحت: فوائد: … حدیث کے آخری جملے کامطلب یہ ہے کہ جب بچہ اتنا چھوٹا ہو کہ اس کی خوراک صرف دودھ بن سکتا ہو تو اس عمر میں دودھ پلانے سے رضاعت ثابت ہوتی ہے اور مدت ِ رضاعت دو سال ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالی ہے: {وَالْوَالِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَھُنَّ حَوْلَیْنِکَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَاَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ} … اور مائیں اپنی اولاد کو دو سال کامل دودھ پلائیں، جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔ (سورۂ بقرہ: ۲۳۳) مدت رضاعت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6974
عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي سَفَرٍ فَوَلَدَتِ امْرَأَتُهُ فَاحْتُبِسَ لَبَنُهَا، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ فَدَخَلَ حَلْقَهُ فَأَتَى أَبَا مُوسَى فَقَالَ: حُرِّمَتْ عَلَيْكَ، فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (لَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ إِلَّا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَأَنْشَرَ الْعَظْمَ) )
۔ ابو موسیٰ ہلالی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر میں تھا، اس کی بیوی نے بچہ جنا، لیکن اس کا دودھ رک گیا، اس لیے اس آدمی نے اس کا دودھ چوسنا اور پھر منہ سے باہر پھینکنا شروع کر دیا، (تاکہ دودھ رواں ہو جائے)، لیکن ہوا یوں کہ کچھ دودھ اس کے حلق میں اتر گیا، پس وہ سیدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور سوال کیا، انھوں نے کہا: تیری بیوی تو تجھ پر حرام ہو چکی ہے، پھر وہ آدمی سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رضاعت اس وقت تک حرام نہیں کرتی، جب تک وہ گوشت نہ اگائے اور ہڈیوں کو مضبوط نہ کرے۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6974]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بشواھده، أخرجه ابوداود: 2060، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4114 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4114»
وضاحت: فوائد: … بچہ مدت ِ رضاعت میں جو دودھ پیتا ہے، اس سے اس کا گوشت اگتا ہے اور اس کی ہڈیاں بڑتی اور مضبوط ہوتی ہیں، اس طرح سے وہ دودھ پلانے والی کا ایسا جزو بن جاتا ہے، جیسے وہ اپنے والدین کا جزو ہوتاہے اور یہی حرمت کی وجہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6975
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ الرَّضْعَةُ وَالرَّضْعَتَانِ) )
۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ چوسنے یا دو دفعہ چوسنے سے رضاعت، حرام نہیں کرتی۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6975]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي في ’’الكبري‘‘: 5458، والبيھقي: 7/ 454، وابن حبان: 4227، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16110 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16209»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6976
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (لَا تُحَرِّمُ الرَّضْعَةُ وَلَا الرَّضْعَتَانِ) )
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دفعہ پینایا دو دفعہ پینا حرام نہیں کرتا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6976]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25812 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26332»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6977
عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَانَتْ لِي امْرَأَةٌ فَتَزَوَّجْتُ عَلَيْهَا امْرَأَةً أُخْرَى فَزَعَمَتِ امْرَأَتِي الْأُولَى أَنَّهَا أَرْضَعَتْ امْرَأَتِي الْحَدْثَى إِمْلَاجَةً أَوْ إِمْلَاجَتَيْنِ، وَقَالَ مَرَّةً: رَضْعَةً أَوْ رَضْعَتَيْنِ، فَقَالَ: ( (لَا تُحَرِّمُ الْإِمْلَاجَةُ وَلَا الْإِمْلَاجَتَانِ) ) أَوْ قَالَ: ( (الرَّضْعَةُ أَوِ الرَّضْعَتَانِ) )
۔ سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے گھر میں تشریف فرما تھے، ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی تھی، میں نے اس پر ایک اور شادی کر لی ہے، اب میری پہلی بیوی کا کہنا ہے کہ اس نے میری نئی بیوی کو ایک یا دو دفعہ دودھ پلایا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک یا دو دفعہ دودھ پلانے سے رشتہ حرام نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/بيان موانع النكاح/حدیث: 6977]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1451، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26873 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27410»
وضاحت: فوائد: … اَلرَّضْعَۃُ (ایک بار دودھ پلانا): جب بچہ ماں کے وجود کو اپنے منہ میں ڈال کر چوستا ہے اور دودھ پیتا ہے اور پھر کسی عارضے کے بغیر اپنی مرضی سے پستان کو چھوڑتا ہے تو یہ ایک بار دودھ پینا شمار ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں