الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَكْلِ مِنْ جَوَانِبِ الْقَصْعَةِ مِمَّا يَلِي الْآكِلَ
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
حدیث نمبر: 7410
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ مِنْ ثَرِيدٍ فَقَالَ كُلُوا مِنْ حَوْلِهَا وَفِي لَفْظٍ مِنْ جَوَانِبِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ وَسَطِهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ فِي وَسَطِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ثرید کا ایک پیالہ لایا گیا، آپ نے فرمایا: اس کے ارد گرد یا کناروں سے کھاؤاور اس کے درمیان سے نہ کھاؤ، کیونکہ درمیان میں برکت نازل ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7410]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 3772 وأخرجه بنحوه ابن ماجه: 3277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2730 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2730»
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 7411
عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَعْنَبَهَا ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ كُلُوا وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا
۔ سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں صفہ والوں میں سے تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن روٹی منگوائی، اس کے ٹکڑے کئے، ان کو ایک پیالہ میں ڈالا، پھر اس میں پانی،چربی اور چھنا ہوا آٹا ڈالا، پھر اسے خوب مکس کیا، پھر آپ نے اس کو کناروں سے ملا کر اونچا ڈھیر سا بنا دیا اور پھر مجھ سے فرمایا: جاؤ اور اپنے سمیت دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ میں انہیں لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ اور اس پیالہ کی نچلی جانب سے کھاؤ، اس کی اوپر والی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر والی جانب سے برکت نازل ہوتی ہے، پھر انہوں نے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7411]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا ابن ماجه: 3276، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16006 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16102»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے کے مختلف آداب کا بیان ہے، پلیٹ کی اس طرف سے کھانا کھانا شروع کیا جائے، جو آدمی کے سامنے ہو اور درمیان سے بھی کھانا شروع نہ کیا جائے، وگرنہ بے برکتی ہو جاتی ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
25. باب مَا يُسْتَحِبُّ فِي طَبخ اللحم ونهيه وتكثير الْمِرَقِ وَعَدْمِ تَعَاطِيْهِ حَارًا
گوشت کو پکانے، اس کو نوچ کر کھانے، اس میں زیادہ شوربا بنانے اور اس کو گرم گرم نہ کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 7412
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَبَخْتُمُ اللَّحْمَ فَأَكْثِرُوا الْمَرَقَ أَوْ الْمَاءَ فَإِنَّهُ أَوْسَعُ أَوْ أَبْلَغُ لِلْجِيرَانِ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم گوشت پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈال کر شوربا وافر بنایا کرو، اس سے پڑوسیوں کو دینے کے لیے بھی کافی گنجائش نکل آتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7412]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة، والبزار: 1901، والطبران في الاوسط: 3615، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15030 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15095»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں کئی مقامات پر پڑوسیوں سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے، اس کی حکم بجا آوری کا طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں سکھایا ہے کہ گوشت وغیرہ یا جو ہنڈیا بھی شوربا والی ہو اس میں پانی ڈال کر زیادہ شوربا بنا لیا جائے اور اگر ہمسایہ مانگنے آئے یا نہ بھی مانگنے آئے تو اسے دیا جائے یہ حسن سلوک معاشرتی زندگی میں ایک سنہری اصول ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7413
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ زَوَّجَنِي أَبِي فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ فَدَعَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ انْهَسُوا اللَّحْمَ نَهْسًا فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ أَوْ أَشْهَى وَأَمْرَأُ قَالَ سُفْيَانُ الشَّكُّ مِنِّي أَوْ مِنْهُ
۔ عبد اللہ بن حارث کہتے ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں میرے باپ نے میری شادی کی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ افراد کو بھی مدعو کیا، سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لائے، جو بہت بوڑھے ہو چکے تھے، انھوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گوشت دانتوں سے نوچ کر کھاؤ اس طرح کھانا زیادہ لذیز اور زود ہضم اور طبیعت و تمنا کے زیادہ موافق ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7413]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1835، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15374»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7414
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آخِذُ اللَّحْمَ عَنِ الْعَظْمِ بِيَدِي فَقَالَ يَا صَفْوَانُ قُلْتُ لَبَّيْكَ قَالَ قَرِّبِ اللَّحْمَ مِنْ فِيكَ فَإِنَّهُ أَهْنَأُ وَأَمْرَأُ
۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دیکھا کہ میں ہڈی سے گوشت ہاتھ کے ساتھ اتار رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے صفوان! میں نے کہا: جی میں حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: گوشت اپنے منہ کے قریب کر لو اور اسے دانتوں سے نوچ کرکھاؤ، یہ زیادہ لذیز بھی ہے اور زود ہضم بھی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7414]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 3779، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27643 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28195»
وضاحت: فوائد: … گوشت کی حقیقی لذت اسی میں ہے کہ اس کو نوچ کر کھایا جائے، اس طریقے سے کھانا زود ہضم بھی ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7415
عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ ثُمَّ تَقُولُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ
۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب وہ ثرید بناتیں تو اسے کچھ دیر کے لیے ڈھانپ دیتیں تاکہ اس کی گرمی کا جوش کم ہو جائے اور فرماتیں، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس طرح سے کھانے میں بہت زیادہ برکت آ جاتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7415]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الدارمي: 2047، والحاكم: 4/ 118، وابن حبان: 5207، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26958 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27498»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
26. بَابُ الْأَمْرِ بِأَخْذِ مَا تُسَاقِطْ مِنَ اللُّقَيْمَاتِ وَلَعْقِ الأَصَابِع بَعْدَ إِنْتِهَاءِ الْأَكْلِ وَمَا جَاءَ فِي لَحْسِ الْقَصْعَةِ وَاسْتِغْفَارِهَا لِلْآكِلِ
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 7416
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيَأْخُذْهَا وَلْيَمْسَحْ مَا بِهَا مِنَ الْأَذَى وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے ہاتھ سے لقمہ گر پڑے تو وہ اسے اٹھائے اور اس کے ساتھ لگی ہوئی چیز صاف کرکے اسے کھا لے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7416]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11964 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11986»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2035
حدیث نمبر: 7417
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ فِي الْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ الْبَرَكَةُ وَفِي لَفْظٍ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ حَتَّى يَمُصَّهَا فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامٍ يُبَارَكُ لَهُ فِيهِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھانے سے فارغ ہو تو رومال کے ساتھ اس وقت تک ہاتھ صاف نہ کرے، جب تک اسے چاٹ یا چٹوا نہ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: وہ اپنے ہاتھ اس وقت تک صاف نہ کرے جب تک کہ انہیں چوس نہ لے، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ کھانے کے کس حصہ میں اس کے لیے برکت دی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7417]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2033، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14221 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14270»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2033
حدیث نمبر: 7418
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ مِنَ الطَّعَامِ فَلَا يَمْسَحْ يَدَهُ زَادَ فِي رِوَايَةٍ بِالْمِنْدِيلِ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ ذَلِكَ سَمِعْتُهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَرْفَعُ الصُّحَيْفَةَ حَتَّى يَلْعَقَهَا أَوْ يُلْعِقَهَا فَإِنَّ آخِرَ الطَّعَامِ فِيهِ الْبَرَكَةُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی ایک کھانا کھائے تو اپناہاتھ صاف نہ کرے۔ ایک روایت میں یہ اضافہ ہے: رومال کے ساتھ صاف نہ کرے یہاں تک کہ انہیں چاٹ لے یا چٹوا لے۔ ابو زبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ نے فرمایا: پیالہ اٹھانے سے پہلے ہاتھوں کوچاٹے یا چٹوائے، کیونکہ کھانے کے آخری حصہ میں برکت ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7418]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن حبان: 3253، والنسائي في الكبري: 6767، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2672 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2672»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
حدیث نمبر: 7419
عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ كَانَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ ثُمَّ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ لَا تَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِكَ تَكُونُ الْبَرَكَةُ
۔ مجاہد بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہمااپنی انگلیاں چاٹا کرتے اور کہتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں یہ معلوم نہیں ہے کہ تمہارے کھانے کے کون سے حصہ میں برکت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7419]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البزار: 2885، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4514 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4514»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين