الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَاب مَا جَاء فِي التَّسْمِيةِ عَلَى الْأَكْلِ وَالدُّعَاءِ فِي أَوَّلَهِ وَآخِرِه وَإِنَّ أَشْرَفَ الْقَوْمِ هُوَ الَّذِي يَبْدَأ بالاكل
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
حدیث نمبر: 7390
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقُرِّبَ طَعَامًا فَلَمْ أَرَ طَعَامًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ أَوَّلَ مَا أَكَلْنَا وَلَا أَقَلَّ بَرَكَةً فِي آخِرِهِ قُلْنَا كَيْفَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِأَنَّا ذَكَرْنَا اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حِينَ أَكَلْنَا ثُمَّ قَعَدَ بَعْدُ مَنْ أَكَلَ وَلَمْ يُسَمِّ فَأَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ
۔ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا گیا، میں نے ایسا کوئی کھانا نہیں دیکھا کہ کوئی کھانا شروع میں اس سے زیادہ برکت والا ہو، لیکن اس کے آخر میں اس سے کم برکت والا کھانا نہیں دیکھا، ہم نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ کیسے؟ آپ نے فرمایا: وجہ یہ ہے کہ جب ہم نے اسے کھانا شروع کیا تھا تو اللہ تعالیٰ کا نام لیا تھا، لیکن بعد میں جو لوگ کھانے کے لیے بیٹھے، انہوں نے بسم اللہ نہیں کہی، سو ان کے ساتھ شیطان بیٹھ گیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7390]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، راشد اليافعي و حبيب بن اوس كلاھما ليس له الا راو واحد، وابن لھيعة سييء الحفظ، أخرجه الترمذي في الشمائل: 189، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23522 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23919»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
حدیث نمبر: 7391
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةِ نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنَّهُ لَوْ كَانَ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ طَعَامًا فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں سے چھ افراد کے ساتھ مل کر کھانا کھا رہے تھے، ایک دیہاتی آیا، اس نے دو لقموں میں کھانا ختم کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بسم اللہ پڑھ کر کھاتا توتمہیں یہ کھانا کفایت کر جاتا، جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو اسے بسم اللہ پڑھنی چاہیے اور اگر کھانے کے شروع میں بسم اللہ بھول جائے تو کہے بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہُ وَآخِرَہُ پڑھ لیا کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7391]
تخریج الحدیث: «حديث حسن بشواھده، أخرجه ابن ماجه: 3264، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25106 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25619»
وضاحت: فوائد: … یہ احادیث ِ مبارکہ اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھی جائے، وگرنہ شیطان شریک ہو جاتا ہے اور برکت ختم ہو جاتی ہے، اگر بتقاضۂ بشریت بسم اللہ پڑھنا یاد نہ رہے تو یاد آنے کی صورت میں بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہُ وَآخِرَہُ پڑھا جائے، کھانے کے بعد مزید دعاؤں کا بیان حدیث نمبر (۷۴۲۵) میں دیکھیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن بشواھده
21. بَابُ كَرَاهَةِ الْأَكْلِ قَائِمًا وَمُتَّكِنًا
کھڑے ہو کر اور ٹیک لگا کرکھانا کھانے کے مکروہ ہونے کا حکم
حدیث نمبر: 7392
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الشُّرْبِ قَائِمًا قُلْتُ فَالْأَكْلُ قَالَ ذَاكَ أَشَدُّ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: اور کھانا؟ انھوں نے کہا: اس کا معاملہ تو اور سخت ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7392]
تخریج الحدیث: «أخرجه بذكر النھي عن الشرب قائما فقط مسلم: 2044، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12902»
وضاحت: فوائد: … کھانے کو پینے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، کھڑے ہو کر کھانے کو جواز کی حد تک درست قرار دیا جا سکتا ہے، البتہ پینے کے بارے میں درج ذیل بحث ملاحظہ فرمائیں:
الحكم على الحديث:
أخرجه بذكر النھي عن الشرب قائما فقط مسلم: 2044
حدیث نمبر: 7393
عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا آكُلُ مُتَّكِئًا
۔ سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں ٹیک لگا کر نہیں کھاتا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7393]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5398، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18764 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18971»
وضاحت: فوائد: … ایک حدیث کے الفاظ یہ ہیں: ((لَاتَأْکُلْ مُتَّکِئاً۔)) تو ٹیک لگا کر نہ کھا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5398
حدیث نمبر: 7394
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ فَجَعَلَ يُقْسِمُهُ بِمِكْتَلٍ وَاحِدٍ وَأَنَا رَسُولُهُ بِهِ حَتَّى فَرَغَ مِنْهُ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَهُوَ مُقْعٍ أَكْلًا ذَرِيعًا فَعَرَفْتُ فِي أَكْلِهِ الْجُوعَ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھجوروں کا ہدیہ دیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ٹوکرے کی مدد سے ان کو تقسیم کرنا شروع کر دیا اور میں درمیان میں نمائندہ تھا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تقسیم کرنے سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجوریں کھائیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پنڈلیاں اٹھائے اور پشت زمین پر جمائے ہوئے بیٹھے تھے اور تیزی سے کھجوریں کھا رہے تھے، میں نے محسوس کیا کہ آپ کو بھوک لگی ہوئی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7394]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه مختصرا مسلم: 2044، وابوداود: 3771، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13101 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13132»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 7395
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ فَجِئْتُ وَهُوَ يَأْكُلُ تَمْرًا وَهُوَ مُقْعٍ
۔ (دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کام کے لیے بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ پنڈلیاں کھڑے کئے ہوئے پشت زمین پر رکھے کھجوریں کھا رہے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7395]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12891»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12891
22. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ بِالْيَمِينِ وَكَرَاهَتُهُ بالشمال
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
حدیث نمبر: 7396
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَأْكُلْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلَا يَشْرَبْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا أَخَذَ فَلَا يَأْخُذْ بِشِمَالِهِ وَإِذَا أَعْطَى فَلَا يُعْطِ بِشِمَالِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب بھی کوئی کھائے توبائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور جب بھی پانی پیے تو بائیں ہاتھ سے نہ پیےاور کوئی چیز پکڑے تو بائیں ہاتھ سے نہ پکڑے اور جب کوئی چیز کسی کو دے تو بائیں ہاتھ سے نہ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7396]
تخریج الحدیث: «رجاله رجال الصحيح، قاله الھيثمي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23033»
الحكم على الحديث:
رجاله رجال الصحيح
حدیث نمبر: 7397
عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَأْكُلَنَّ أَحَدُكُمْ بِشِمَالِهِ وَلَا يَشْرَبَنَّ بِهَا فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِهَا وَيَشْرَبُ بِهَا قَالَ وَزَادَ نَافِعٌ وَلَا يَأْخُذَنَّ بِهَا وَلَا يُعْطِيَنَّ بِهَا
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی ہرگز بائیں ہاتھ سے نہ کھائے اور نہ پیے، کیونکہ بائیں ہاتھ کے ساتھ شیطان کھاتا پیتا ہے اور ہر گز نہ بائیں ہاتھ کے ساتھ کوئی چیز لے اور نہ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7397]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6117 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6117»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2020
حدیث نمبر: 7398
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ الرَّجُلُ بِشِمَالِهِ أَوْ يَشْرَبَ بِشِمَالِهِ قَالَ رَوْحٌ فِي حَدِيثِهِ وَيَشْرَبَ بِشِمَالِهِ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ آدمی بائیں ہاتھ سے کھائے پیے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7398]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابويعلي: 4273، وابن ابي شيبة: 8/ 292، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13128»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 7399
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا آكُلُ بِشِمَالِي وَكُنْتُ امْرَأَةً عَسْرَاءَ فَضَرَبَ يَدِي فَسَقَطَتِ اللُّقْمَةُ فَقَالَ لَا تَأْكُلِي بِشِمَالِكِ وَقَدْ جَعَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لَكِ يَمِينًا أَوْ قَالَ قَدْ أَطْلَقَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَمِينَكِ قَالَ فَتَحَوَّلَتْ شِمَالِي يَمِينًا فَمَا أَكَلْتُ بِهَا بَعْدُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن محمد اپنے قبیلہ کی ایک عورت سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور میں اپنے بائیں ہاتھ سے کھا رہی تھی، جبکہ میں بائیں ہاتھ سے کام کرنے والی خاتون تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ہاتھ پر مارا اور میرا لقمہ گر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بائیں ہاتھ سے مت کھاؤ جبکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دایاں ہاتھ دیا ہے یا فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارا دایاں ہاتھ درست بنایا ہے۔ پس میرا بائیاں ہاتھ دائیں ہاتھ میں بدل گیا (یعنی میں نے آسانی کے ساتھ دائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا شروع کر دیا)، وہ کہتی ہیں: پس میں نے اس کے بعد کبھی بائیں ہاتھ کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7399]
تخریج الحدیث: «عبد الله بن محمد، ھكذا وقع غير منسوب، ولم نعرفه، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23224 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23612»
الحكم على الحديث:
عبد الله بن محمد