🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
16. بَابُ بَرْكَةِ الْاجْتِمَاعِ عَلَى الطَّعَامِ
اجتماعی کھانے میں برکت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7370
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامُ الْوَاحِدِ يَكْفِي الْاثْنَيْنِ وَطَعَامُ الْاثْنَيْنِ يَكْفِي لِأَرْبَعَةٍ وَطَعَامُ الْأَرْبَعَةِ يَكْفِي الثَّمَانِيَةَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کا کھانا دو کو کافی ہے، دو افراد کا کھانا چار کے لیے کافی ہے اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7370]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14222 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14271»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2059
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7371
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح بیان کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7371]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5392، ومسلم: 2058، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7320 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7318»
وضاحت: فوائد: … برکت کا معاملہ غیر محسوس انداز میں ہوتا ہے، ہمیں چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بہر صورت یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہر حدیث برحق اور حقیقت کے عین مطابق ہے، زندگی میں جس کا واسطہ احادیث سے پڑا اسے عملی طور پر ان کی حقانیت کا تجربہ بھی ہو گیا۔ مذکورہ بالا حدیث پر سب سے زیادہ اعتقاد اس کو ہو گا جو حدیث پر عمل کرنے کو سعادت سمجھتا ہو، حدیث کو عقلی فیصلے پر ترجیح دیتا ہو، خورد و نوش کو مقصدِ زندگی نہ سمجھتا ہواور برکتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہو، نہ کہ نوع بنوع کھانوں کی طرف۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5392
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَا جَاءَ فِي ذَمِّ كَثْرَةِ الْأَكْلِ
زیادہ کھانے کی مذمت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7372
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِيكَرِبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ حَسْبُ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ فَثُلُثٌ طَعَامٍ وَثُلُثٌ شَرَابٍ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ
۔ سیدنا مقدام بن معد یکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدم کے بیٹے نے کوئی ایسا برتن نہیں بھرا، جو اس کے پیٹ کی بہ نسبت برا ہو، حالانکہ ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر کو سیدھا رکھیں، اگر اس نے زیادہ کھانا ہی ہو تو پھر پیٹ کا تیسرا حصہ کھانے کے لیے، تیسرا حصہ پینے کے لیے اور تیسرا حصہ سانس کے لیے رکھا جائے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7372]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 2380، وابن ماجه: 3349، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17318»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7373
عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ رَأَى ابْنُ عُمَرَ مِسْكِينًا فَجَعَلَ يُدْنِيهِ وَيَضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَجَعَلَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا فَقَالَ لِي لَا تُدْخِلَنَّ هَذَا عَلَيَّ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
۔ نافع سے مروی ہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک مسکین دیکھا، اس کو قریب کیا اور اس کے سامنے کھانے والی چیزیں رکھیں، اس نے بہت زیادہ کھایا، سو انہوں نے نافع سے کہا: آئندہ اس کو میرے پاس نہ لانا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7373]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5393، ومسلم: 2060، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5020 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5020»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5393
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7374
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مومن ایک انتڑی میں اور کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7374]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4718»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4718
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7375
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ كَافِرٌ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا كَثِيرًا ثُمَّ أَنَّهُ أَسْلَمَ فَكَانَ يَأْكُلُ أَكْلًا قَلِيلًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَإِنَّ الْمُسْلِمَ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، اس وقت وہ کافر تھا اور بسیار خور تھا، پھر جب وہ مسلمان ہوا تو کم کھانا کھانے لگا، جب اس نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مسلمان ایک انتڑی میں کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7375]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5397، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9874 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9875»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5397
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7376
عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمَّا هَاجَرْتُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ أُسْلِمَ فَحَلَبَ لِي شُوَيْهَةً كَانَ يَحْتَلِبُهَا لِأَهْلِهِ فَشَرِبْتُهَا فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَسْلَمْتُ وَقَالَ عِيَالُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَبِيتُ اللَّيْلَةَ كَمَا بِتْنَا الْبَارِحَةَ جِيَاعًا فَحَلَبَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةً فَشَرِبْتُهَا وَرَوِيتُ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَرَوِيتَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَوِيتُ مَا شَبِعْتُ وَلَا رَوِيتُ قَبْلَ الْيَوْمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْكَافِرَ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ
۔ سیدنا ابو بصرہ غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اسلام لانے سے پہلے جب میں نے ہجرت کی تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے میرے لیے بکری کا دودھ دوہا جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے گھر والوں کے لیے دوہا کرتے تھے، میں نے وہ سارا پی لیا، جب صبح ہوئی تو میں مسلمان ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروالوں نے کہا:آج بھی ہماری رات اسی طرح بھوک میں ہی گزرے گی، جس طرح گزشتہ رات گزری تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے لیے بکری کا دودھ دوہا، میں نے پیا اور سیراب ہو گیا، مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا سیراب ہو گیاہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! میں خوب سیر ہو گیا ہوں، اتنا تو میں آج تک کبھی بھی سیراب نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک انتڑی میں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7376]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الاوسط: 9344، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27226 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27768»

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7377
عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْكَافِرُ يَأْكُلُ فِي سَبْعَةِ أَمْعَاءٍ وَالْمُؤْمِنُ يَأْكُلُ فِي مِعًى وَاحِدٍ
۔ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کافر سات انتڑیوں میں کھاتا ہے اور مومن ایک انتڑی میں کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7377]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 5/ 430، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2008، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26845 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27382»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں بسیارخوری اور زیادہ شکم پروری سے روکا گیا ہے۔ کم خوری سے جہاں اس حدیث کے ساتھ موافقت ہوتی ہے، وہاں صحت و توانائی بھی برقرار رہتی ہے۔ اگر تمام لوگ اس حدیث پر عمل کرنے پر متفق ہو جائیں تو حکماء و اطبّاء کا اتفاق ہے کہ بیماریاں خود بخود دم توڑ جائیں گی۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. باد مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْيَدَيْنِ قَبْلِ الْأَكْلِ وَبَعْدَهُ وجو از تركِهِ
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7378
عَنْ سَلْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ بَعْدَهُ قَالَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخْبَرْتُهُ بِمَا قَرَأْتُ فِي التَّوْرَاةِ فَقَالَ بَرَكَةُ الطَّعَامِ الْوُضُوءُ قَبْلَهُ وَالْوُضُوءُ بَعْدَهُ
۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے تورات میں پڑھا کہ کھانے کے بعد ہاتھ دھونا باعث برکت ہے، میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا اور میں نے آپ کو بتایا جو میں نے تورات میں پڑھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھانے کی برکت اس طرح ہوتی ہے کہ اس سے پہلے بھی وضوء کیا جائے اور اس کے بعد بھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7378]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف من اجل قيس بن الربيع، أخرجه ابوداود: 3761، والترمذي: 1846، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24133»
وضاحت: فوائد: … ممکن ہے کہ اس وضو سے مراد لغوی وضو ہو، یعنی ہاتھ منہ دھونا، تاکہ چکناہٹ وغیرہ کے اثرات ختم ہو جائیں۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف من اجل قيس بن الربيع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7379
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو اس حال میں سویا کہ اس کے ہاتھ میں چکناہٹ تھی اور اس نے اس کو دھویا نہیں تھا اور پھر کسی موذی چیز نے اسے کوئی نقصان پہنچایا تو وہ صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7379]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3852، وابن ماجه: 3297، والترمذي: 1860، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10940 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10953»
وضاحت: فوائد: … اسلام ہمدردی و خیرخواہی پر مشتمل ہدایات کا مجموعہ ہے، اسلام کو یہ بات انتہائی ناگوار گزرتی ہے کہ مسلمان اپنے ہاتھوں اپنا نقصان کر بیٹھے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم بھی اس قابل صد افتخار مذہب کو اپنے لیے باعث ِ فخر اور عزت و عظمت کا نشان سمجھ کر اس کے اشاروں کے مطابق زندگی گزاریں۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں