🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
26. بَابُ الْأَمْرِ بِأَخْذِ مَا تُسَاقِطْ مِنَ اللُّقَيْمَاتِ وَلَعْقِ الأَصَابِع بَعْدَ إِنْتِهَاءِ الْأَكْلِ وَمَا جَاءَ فِي لَحْسِ الْقَصْعَةِ وَاسْتِغْفَارِهَا لِلْآكِلِ
زمین پر گرے ہوئے لقمے کو اٹھانے، کھانے کے بعد انگلیوں کو چاٹنے، پلیٹ کو صاف کرنے اور برتن کا کھانے والے کے لیے بخشش طلب کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7420
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَلْعَقَنَّ أَصَابِعَهُ فَإِنَّهُ لَا يَدْرِي فِي أَيَّتِهِنَّ الْبَرَكَةُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھانا کھائے تو ضرورضرور اپنی انگلیوں کوچاٹے، کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کی کون سی انگلی میں برکت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7420]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2035، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9369 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9358»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2035
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7421
عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْعَقُ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ مِنَ الطَّعَامِ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی تین انگلیوں کو کھانا کھانے کی وجہ سے چاٹا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7421]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2032، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15767 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15859»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2032
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7422
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَبِيهِ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ بِثَلَاثِ أَصَابِعَ فَلَا يَمْسَحُ يَدَهُ حَتَّى يَلْعَقَهَا
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین انگلیوں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اوراپنے ہاتھ کو صاف کرنے سے پہلے انگلیوں کو چاٹ لیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7422]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27709»

الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27709
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7423
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ الْهُذَلِيُّ قَالَ حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي أُمُّ عَاصِمٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُ نُبَيْشَةُ الْخَيْرِ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَتْ دَخَلَ عَلَيْنَا نُبَيْشَةُ وَنَحْنُ نَأْكُلُ فِي قَصْعَةٍ فَقَالَ لَنَا حَدَّثَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَنْ أَكَلَ فِي قَصْعَةٍ ثُمَّ لَحَسَهَا اسْتَغْفَرَتْ لَهُ الْقَصْعَةُ
۔ سیدنا نبیشہ الخیر ہذلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، یہ اس وقت کی بات ہے جب ام عاصم نے کہا کہ ہم ایک پیالہ میں کھا رہے تھے کہ یہ نبیشہ ہذلی ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیان کیا کہ جو آدمی پیالہ میں کھائے اور پھر اسے (انگلی سے یا چاٹ کر) صاف کرتا ہے تو وہ پیالہ اس کے لیے بخشش طلب کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7423]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال ام عاصم جدة ابي اليمان المعلي، أخرجه ابن ماجه: 3271، 3272، والترمذي: 1804، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20724 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21001»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال ام عاصم جدة ابي اليمان المعلي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7424
عَنْ أَبِي أَيُّوبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ قِيلَ وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ قَالَ فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ
۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ اور عطاء سے مروی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خلال والے کتنے ہی اچھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا وہ خلال والے کون ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7424]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، واصل الرقاشي و ابو سورة مجمع علي تضعيفھما، وابوسورة لا يعرف له سماع من ابي ايوب، أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 12، وعبد بن حميد: 1271، والطبراني في في الكبير: 4061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23924»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا پہلا جملہ ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط: ۱/۳۹ـ، صحیحہ:۲۵۶۷)

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف جدا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
27. بابُ مَا يَقُولُ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنَ الْأَكْلِ
کھانے کے بعد کی دعاؤں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7425
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَطْعَمَهُ اللَّهُ طَعَامًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَأَطْعِمْنَا خَيْرًا مِنْهُ وَمَنْ سَقَاهُ اللَّهُ لَبَنًا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيهِ وَزِدْنَا مِنْهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ يُجْزِئُ مَكَانَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ غَيْرُ اللَّبَنِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جسے اللہ تعالیٰ کھانا نصیب کرے، وہ کہے: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَاَطْعِمْنَا خَیْرًا مِنْہُ۔ (اے میرے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے اور ہمیں اس سے بہتر کھلا) اور جسے اللہ تعالیٰ دودھ پینا نصیب کرے، وہ یہ دعا پڑھے: اَللّٰہُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیْہِ وَزِدْنَا مِنْہ۔ (اے اللہ! ہمارے لیے اس میں برکت کر دے اور اس میں اضافہ فرما۔)، دودھ ہی ہے جو کھانے اور پینے دونوں کی جگہ پر کفایت کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7425]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابوداود: 3730، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1978 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1978»

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7426
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرِغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِينَ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنَا وَسَقَانَا وَجَعَلَنَا مُسْلِمِیْنَ۔ (تمام تعریف اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا پلایا اور مسلمان بنایا۔) [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7426]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لابھام راويه عن ابي سعيد، ولاضطرابه، أخرجه ابوداود: 3850، والترمذي: 3457، وابن ماجه: 3283، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11934 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11956»
وضاحت: فوائد: … عام لوگوں میں یہی دعا مشہور ہے، لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لابھام راويه عن ابي سعيد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7427
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَرْضَى عَنِ الْعَبْدِ أَنْ يَأْكُلَ الْأُكْلَةَ أَوْ يَشْرَبَ الشُّرْبَةَ فَيَحْمَدَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمَا
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ بندے پر اس بات سے راضی ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی چیز کھائے یا کوئی مشروب پئے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی تعریف کر دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7427]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2734، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12168 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12192»
وضاحت: فوائد: … معلوم ہوا کہ ہر ماکول اور مشروب کے بعد اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے، تقریباً کھانے کے بعد والی تمام دعاؤں میں اللہ تعالی کی تعریف کا ذکر ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2734
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7428
عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَكَلَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کھانا کھایا اور پھر کہا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ اَطْعَمَنِیْ ھٰذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِنِّیْ وَلَا قُوَّۃٍ (ساری تعریف اس اللہ کے لیے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور مجھے میری طاقت اور قوت کے بغیر یہ رزق دیا) تو اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7428]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الترمذي: 3458، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15632 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15717»

الحكم على الحديث:
اسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7429
عَنْ نُعَيْمِ بْنِ سَلَامَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَيْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ غَيْرَ مَكْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْكَ
۔ نعیم بن سلامہ، بنی سلیم کے اس آدمی سے روایت بیان کرتے ہیں، جنہیں شرف ِ صحابیت حاصل تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ أَطْعَمْتَ وَسَقَیْتَ وَأَشْبَعْتَ وَأَرْوَیْتَ فَلَکَ الْحَمْدُ غَیْرَ مَکْفُورٍ وَلَا مُوَدَّعٍ وَلَا مُسْتَغْنًی عَنْکَ۔ (اے اللہ! تیرے لیے تعریف ہے، تونے کھلایا، تونے پلایا، تونے سیر کیا، تونے سیراب کیا، تیرے لیے تعریف ہے، جس کا انکار نہیں اور نہ ہی جس کو چھوڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی تجھ سے لاپرواہی اختیار کی جا سکتی ہے۔) [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7429]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الاسلمي، أخرجه البيھقي في الشعب: 6039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18071 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18239»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف عبد الله بن عامر الاسلمي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں