الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ اسْتِحْبَابِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ بِالْيَمِينِ وَكَرَاهَتُهُ بالشمال
دائیں ہاتھ سے کھانا اور پینا مستحب اور بائیں ہاتھ کے ساتھ مکروہ ہے
حدیث نمبر: 7400
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَأْكُلْ بِيَمِينِهِ وَإِذَا شَرِبَ فَلْيَشْرَبْ بِيَمِينِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ وَيَشْرَبُ بِشِمَالِهِ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کھائے تو دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب پیے تو دائیں ہاتھ سے پیے (اور بائیں ہاتھ سے نہ کھائے پیے) کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا اور پیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7400]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4537 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4537»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2020
حدیث نمبر: 7401
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْكُلُوا بِالشِّمَالِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَأْكُلُ بِالشِّمَالِ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ نہ کھاؤ، کیونکہ شیطان اپنے بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7401]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2019، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14587 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14641»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2019
حدیث نمبر: 7402
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ أَكَلَ بِشِمَالِهِ أَكَلَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ وَمَنْ شَرِبَ بِشِمَالِهِ شَرِبَ مَعَهُ الشَّيْطَانُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بائیں ہاتھ کے ساتھ کھاتا ہے، اس کے ساتھ شیطان کھاتا ہے اور جو بائیں ہاتھ کے ساتھ پیتا ہے، شیطان اس کے ساتھ پیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7402]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس، أخرجه الطبراني في الاوسط: 294، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24479 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24984»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال موسي بن سرجس
حدیث نمبر: 7403
عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِرَجُلٍ يُقَالُ لَهُ بُسْرُ بْنُ رَاعِي الْعَيْرِ وَفِي رِوَايَةٍ ابْنُ رَاعِي الْعَيْرِ مِنْ أَشْجَعَ أَبْصَرَهُ يَأْكُلُ بِشِمَالِهِ فَقَالَ لَهُ كُلْ بِيَمِينِكَ فَقَالَ لَا أَسْتَطِيعُ فَقَالَ لَا اسْتَطَعْتَ قَالَ فَمَا وَصَلَتْ يَمِينُهُ إِلَى فِيهِ بَعْدُ
۔ سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشجع قبیلہ کے بسر بن راعی العیر نامی ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بائیں ہاتھ سے کھا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: دائیں ہاتھ کے ساتھ کھاؤ۔ اس نے کہا: مجھ سے دائیں ہاتھ سے کھانے کی استطاعت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تجھے استطاعت ہی نہ ہو۔ اس کے بعد اس کا دایاں ہاتھ اس کے منہ تک اٹھنے کے قابل نہ رہا تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7403]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16499 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16613»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2021
حدیث نمبر: 7404
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْقُدَ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُمْنَى لِطَعَامِهِ وَشَرَابِهِ وَكَانَتْ يَدُهُ الْيُسْرَى لِسَائِرِ حَاجَتِهِ
۔ سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو اپنا دایاں ہاتھ اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا پڑھتے: اَللّٰہُمَّ قِنِیْ عَذَابَکَ یَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَکَ۔ (اے اللہ مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو اٹھائے گا۔) یہ کلمات تین مرتبہ آپ کہتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دایاں ہاتھ کھانے پینے کے لیے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر (کچھ) ضروریات کے لیے تھا۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7404]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة حال سواء الخزاعي، أخرجه ابوداود: 5045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26465 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26997»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ میں کھانے پینے کے آداب بیان کیے گئے ہیں، تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں، ساتھ ساتھ تبلیغ کا پہلو بھی اجاگر ہو رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اصلاح کے ہر پہلو کو سامنے رکھتے تھے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة حال سواء الخزاعي
23. بَابُ النَّهْي عَنِ الْقِرَانِ وَالنُّهْبَةِ وَالنَّفْخِ فِي الطَّعَامِ والشراب
ایک سے زائد اکٹھی کھجوریں کھانے، لوٹنے اور کھانے اور مشروب میں پھونک مارنے سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 7405
عَنْ سَعْدٍ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدَّمْتُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَمْرًا فَجَعَلُوا يَقْرُنُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْرُنُوا
۔ مولائے ابو بکر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھجوریں پیش کیں، لوگوں نے دو تین تین کھجوریں اکٹھی منہ میں ڈالنا شروع کر دیں، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس طرح ملا کر نہ کھاؤ (یعنی ایک ایک کھجور منہ میں ڈال کر کھاؤ، نہ کہ دو تین تین)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7405]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3332، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1716 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1716»
الحكم على الحديث:
حسن لغيره
حدیث نمبر: 7406
حَدَّثَنَا جَبَلَةُ قَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ فِي بَعْثِ أَهْلِ الْعِرَاقِ فَأَصَابَتْنَا سَنَةٌ فَجَعَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَرْزُقُنَا التَّمْرَ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَمُرُّ بِنَا فَيَقُولُ لَا تُقَارِنُوا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْقِرَانِ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْمِرَ الرَّجُلُ مِنْكُمْ أَخَاهُ وَفِي لَفْظٍ إِلَّا أَنْ يَسْتَأْذِنَ الرَّجُلُ أَخَاهُ قَالَ شُعْبَةُ لَا أَرَى فِي الِاسْتِئْذَانِ إِلَّا أَنَّ الْكَلِمَةَ مِنْ كَلَامِ ابْنِ عُمَرَ
۔ جبلہ بن سحیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم مدینہ میں تھے، یہ اہل عراق کی جانب ایک لشکر بھیجنے کے دور کی بات ہے، ہم قحط سالی سے دو چار ہو گئے۔ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ہمیں کھجوریں دیں، سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمارے قریب سے گزرے اور کہا: دو تین تین ملا کر نہ کھانا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ملا کر کھانے سے منع فرمایا ہے الا کہ آدمی اپنے بھائی سے اجازت لے لے۔ امام شعبہ کہتے ہیں: یہ اجازت دینے والا جملہ میرے خیال میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہماکا اپنا کلام ہے، (حدیث کا حصہ نہیں ہے)۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7406]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2045، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5435 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5435»
وضاحت: فوائد: … امام نووی نے کہا: یہ امام شعبہ کا اپنا گمان ہے، اس سے حدیث کا مرفوع ہونا متاثر نہیں ہو گا، کیونکہ امام سفیان نے دوسری روایت کے مطابق یہ حدیث اس طرح بیان کی ہے: سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَنْ یَقْرِنَ الرَّجُلُ بَیْنَ التَّمْرَتَیْنِ حَتّٰی یَسْتَأْذِنَ اَصْحَابَہٗ۔ … رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز سے منع فرمایا ہے کہ آدمی دو دو کھجوریں ملا کر کھائے، الا یہ کہ اپنے ساتھیوں سے اجازت لے لے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2045
حدیث نمبر: 7407
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّهْبَةِ وَمَنِ انْتَهَبَ فَلَيْسَ مِنَّا
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوٹ مار سے منع کیا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے لوٹ مار کی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7407]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ابي شيبة: 7/ 57، والبزار: 1733، والطحاوي في شرح مشكل الآثار: 1316، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12598 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12626»
وضاحت: فوائد: اس حدیث کو یہاں لانے کا مقصد یہ ہے کہ کھانے کی چیز بکھیر دینا اور پھر اس پر جھپٹ پڑنا، جیسا کہ بعض علاقوں میں شادیوں کے موقع پر ہوتا ہے، اس کا کیا حکم ہے؟ دیکھیں حدیث نمبر (۷۰۵۲)
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 7408
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّفْخِ فِي الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھانے اور پینے کی چیز میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7408]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط البخاري، أخرجه ابوداود: 3728، وابن ماجه: 3429، والترمذي: 1888، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2817 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2817»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط البخاري
24. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأَكْلِ مِنْ جَوَانِبِ الْقَصْعَةِ مِمَّا يَلِي الْآكِلَ
کھانے والے کا پلیٹ کے اس حصے سے کھانا، جو اس کے سامنے ہو
حدیث نمبر: 7409
عَنْ أَبِي رَجْزَةَ السَّعْدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ زَادَ فِي رِوَايَةٍ رَبِيبُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ يَأْكُلُهُ فَقَالَ ادْنُ فَسَمِّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُلْ مِمَّا يَلِيكَ
۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پروردہ سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کھانے کے لیے بلایا، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھا رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قریب ہو جاؤ، اللہ تعالیٰ کا نام لو، دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7409]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5378، ومسلم: 2022، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16339 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16449»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5378