🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
18. باد مَا جَاءَ فِي غُسْلِ الْيَدَيْنِ قَبْلِ الْأَكْلِ وَبَعْدَهُ وجو از تركِهِ
کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے اور نہ دھونے کے جواز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7380
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ لَبَنًا فَمَضْمَضَ وَقَالَ إِنَّ لَهُ دَسَمًا
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ پی کر کلی کی اور فرمایا کہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7380]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5609، ومسلم: 358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1951 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1951»
وضاحت: فوائد: … ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا شَرِبْتُمُ اللَّبَنَ فَمَضْمِضُوْا فَإِنَّ لَہُ دَسَماً)) … جب تم دودھ پیو تو کلی کر لیا کرو، کیونکہ اس میں چکناہٹ ہوتی ہے۔ (ابن ماجہ: ۱/۱۸۱، صحیحہ:۱۳۶۱)

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5609
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7381
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرَّ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَائِطِ فَدَعَوْنَاهُ إِلَى عَجْوَةٍ بَيْنَ أَيْدِينَا عَلَى تُرْسٍ فَأَكَلَ مِنْهَا وَلَمْ يَكُنْ تَوَضَّأَ قَبْلَ أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے بعد ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عجوہ کھجوریں کھانے کی دعوت دی، جوہم نے اپنے سامنے ایک ڈھال میں رکھی ہوئی تھیں، آپ نے ان میں سے کھائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں کھانے سے پہلے ہاتھ نہیں دھوئے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7381]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو الزبير لم يصرح بسماعه من جابر، أخرجه ابوداود: 3762، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15345»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7382
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَى الْغَائِطَ ثُمَّ خَرَجَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ وَقَالَ مَرَّةً فَأُتِيَ بِالطَّعَامِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَوَضَّأُ قَالَ لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ وَفِي لَفْظٍ فَقَالَ إِنَّمَا أُمِرْتُ بِالْوُضُوءِ إِذَا قُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، آپ قضائے حاجت والی جگہ میں گئے اور قضائے حاجت کر کے باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کھانا لایا گیا، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے نماز تو نہیں پڑھنی کہ وضو کروں، مجھے وضو کا حکم صرف اس وقت دیا گیا ہے، جب میں نے نماز پڑھنی ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7382]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 374، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1932 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1932»
وضاحت: فوائد: … احادیث ِ صحیحہ کا معنی و مفہوم واضح ہے، اگر ظاہری طور پر پاک ہوں اور ان پر کوئی گندگی لگی ہوئی نہ ہو تو کھانے پینے کے لیے ان کو دھو لینا مسلمان کا طبعی مسئلہ ہے، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہے، البتہ جب آدمی جنابت کی حالت میں ہو تو درج ذیل حدیث پر عمل کرے:

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 374
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَابُ تَقْدِيمِ الْعَشَاءِ إِذَا وُضِعَ وَحَضَرِتِ الصَّلَاةُ
جب کھانا پیش کر دیا جائے اور نماز کا وقت ہو تو کھانا پہلے کھانا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7383
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا وُضِعَ الْعَشَاءُ وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ وَفِي لَفْظٍ وَأُقِيمَتْ بَدَلَ وَحَضَرَتْ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا رکھ دیا جائے اور نماز کا وقت بھی ہو جائے (ایک روایت کے مطابق اور اقامت کہہ دی جائے) تو پہلے کھانا کھا لیا کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7383]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5463، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13600 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13635»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5463
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7384
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ عَشَاءُ أَحَدِكُمْ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَفْرُغَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی ایک کے سامنے شام کا کھانا رکھ دیا گیا ہو اور نماز کی اقامت ہو جائے تو وہ کھانے سے فارغ ہو کر ہی اٹھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7384]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 673، ومسلم: 559، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4709»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث ِ مبارکہ سے یہ اندازہ لگانا آسان ہو جاتا ہے کہ نماز میں کس قدر دل جمعی اور توجہ کی ضرورت ہے، بشری کمزوری کو سامنے رکھتے ہوئے اور نماز کے اصل مقصود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم دیا ہے کہ ایسی صورت میں پہلے کھانا کھا لینا چاہیے تاکہ اس سے فارغ ہوکر دل جمی کے ساتھ نماز کو ادا کیا جا سکے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 673
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
20. بَاب مَا جَاء فِي التَّسْمِيةِ عَلَى الْأَكْلِ وَالدُّعَاءِ فِي أَوَّلَهِ وَآخِرِه وَإِنَّ أَشْرَفَ الْقَوْمِ هُوَ الَّذِي يَبْدَأ بالاكل
کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنے اور اس کے شروع اور آخر میں دعائیں پڑھنے کا بیان اور اس چیز کی وضاحت کہ قوم کا معزز آدمی کھانا کھانے کا آغاز کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7385
عَنِ ابْنِ أَعْبُدَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَا ابْنَ أَعْبُدَ هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الطَّعَامِ قَالَ قُلْتُ وَمَا حَقُّهُ يَا ابْنَ أَبِي طَالِبٍ قَالَ تَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِيمَا رَزَقْتَنَا قَالَ وَتَدْرِي مَا شُكْرُهُ إِذَا فَرَغْتَ قَالَ قُلْتُ وَمَا شُكْرُهُ قَالَ تَقُولُ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا
۔ ابن اعبد کہتے ہیں: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: اے ابن اعبد تجھے معلوم ہے کہ کھانے کا کیا حق ہے؟ میں نے کہا: اے ابن ابی طالب! آپ ہی بیان کر دیں کہ اس کا کیا حق ہے؟ انہوں نے کہا: جب تو کھانا کھائے تو کہے: بِسْمِ اللّٰہِ، اللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِیمَا رَزَقْتَنَا (بسم اللہ! اے اللہ! اس میں ہمارے لیے برکت کر دے جو تونے ہمیں دیا ہے) پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: اچھا تجھے یہ پتہ ہے جب کھانے سے فراغت پائیں تو کیا کہنا ہے کہ اس کا شکر ادا ہو جائے، میں نے کہا: اس کے شکر کے لیے کیا کہنا چاہے؟ انھوں نے کہا: تو یہ کہا کر: اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی أَطْعَمَنَا وَسَقَانَا۔ (تمام تعریف اس اللہ کے لیے جس نے ہمیں کھلایا اور ہمیں پلایا۔) [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7385]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة علي بن اعبد، وابوالورد ليس بالمعروف، أخرجه الطبراني في الدعائ: 235، وابن ابي شيبة: 8/ 310، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1313 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1313»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة علي بن اعبد
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7386
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ حَدَّثَهُ رَجُلٌ خَدَمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِي سِنِينَ وَفِي رِوَايَةٍ أَوْ تِسْعَ سِنِينَ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُرِّبَ إِلَيْهِ طَعَامُهُ يَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ وَإِذَا فَرَغَ مِنْ طَعَامِهِ قَالَ اللَّهُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَيْتَ وَأَغْنَيْتَ وَأَقْنَيْتَ وَهَدَيْتَ وَأَحْيَيْتَ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى مَا أَعْطَيْتَ
۔ عبد الرحمن بن جبیر بیان کرتے ہیں مجھ سے اس آدمی نے بیان کیا، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آٹھ یا نو برس خدمت کی، اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھانا پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بسم اللہ پڑھتے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: اَللّٰھُمَّ أَطْعَمْتَ وَأَسْقَیْتَ وَأَغْنَیْتَ وَأَقْنَیْتَ وَہَدَیْتَ وَأَحْیَیْتَ فَلَکَ الْحَمْدُ عَلٰی مَا أَعْطَیْتَ (اے اللہ! تونے کھلایا، تونے پلایا، تونے غنی کیا،تونے راضی کیا، تونے ہدایت دی اور تونے زندہ کیا، پس جوکچھ تونے دیا اس پر تعریف صرف تیرے لے ہے۔) [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7386]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه النسائي في الكبري: 6898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16595 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16712»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7387
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا إِذَا حَضَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى طَعَامٍ لَمْ نَضَعْ أَيْدِيَنَا حَتَّى يَبْدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعَ يَدَهُ وَإِنَّا حَضَرْنَا مَعَهُ طَعَامًا فَجَاءَتْ جَارِيَةٌ كَأَنَّمَا تُدْفَعُ فَذَهَبَتْ تَضَعُ يَدَهَا فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهَا وَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ كَأَنَّمَا يُدْفَعُ فَذَهَبَ يَضَعُ يَدَهُ فِي الطَّعَامِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَسْتَحِلُّ الطَّعَامَ إِذَا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ جَاءَ بِهَذِهِ الْجَارِيَةِ لِيَسْتَحِلَّ بِهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهَا وَجَاءَ بِهَذَا الْأَعْرَابِيِّ لِيَسْتَحِلَّ بِهِ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ يَدَهُ فِي يَدِي مَعَ يَدِهِمَا يَعْنِي الشَّيْطَانَ
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک کھانے پر حاضر تھے، ہماری عادت تھی ہم کھانے کے لیے اس وقت تک ہاتھ نہ بڑھاتے تھے جب تک پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا شروع نہیں کرتے تھے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک کھانے میں شریک تھے کہ ایک لڑکی بہت تیز رفتاری سے آئی اور وہ اپنا ہاتھ کھانے میں رکھنے ہی والی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا، پھر ایک دیہاتی آیا وہ بھی بہت جلد بازی سے ہاتھ کھانے میں ڈالنے ہی والا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کھانے پر بسم اللہ نہ پڑھی جائے تو وہ کھانا شیطان بھی کھاتا ہے، یہ لڑکی آئی تھی کہ شیطان کے لیے کھانا کھانے کی گنجائش پیدا کرے، لیکن میں نے اس کاہاتھ پکڑ لیا ہے اور یہ دیہاتی بھی آیا تھا تاکہ شیطان کے لیے کھانے کا باعث بنے، لیکن میں نے اس کا ہاتھ بھی پکڑ لیا، قسم ہے اس ذات کی جس ہاتھ میں میری جان ہے! ان دونوں کے ہاتھوں کے ساتھ شیطان کا ہاتھ میرے ہاتھ میں ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7387]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23249 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23638»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2017
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7388
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يَضَعُونَ أَيْدِيَهُمْ فِي الطَّعَامِ حَتَّى يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هُوَ يَبْدَأُ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام اس وقت تک کھانا کھانا شروع نہ کرتے، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے کا آغاز نہ فرماتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7388]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14926 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14988»
وضاحت: فوائد: … یہ صحابۂ کرام کے اذہان و قلوب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقام و مرتبہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کھانا کھانا شروع نہیں کرتے تھے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7389
حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ صُبْحٍ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُثَنَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْخُزَاعِيُّ وَصَحِبْتُهُ إِلَى وَاسِطٍ وَكَانَ يُسَمِّي فِي أَوَّلِ طَعَامِهِ وَفِي آخِرِ لُقْمَةٍ يَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ فَقُلْتُ لَهُ إِنَّكَ تُسَمِّي فِي أَوَّلِ مَا تَأْكُلُ أَرَأَيْتَ قَوْلَكَ فِي آخِرِ مَا تَأْكُلُ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ قَالَ أُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ إِنَّ جَدِّي أُمَيَّةَ بْنَ مَخْشِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ رَجُلًا كَانَ يَأْكُلُ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ فَلَمْ يُسَمِّ حَتَّى كَانَ فِي آخِرِ طَعَامِهِ لُقْمَةٌ فَقَالَ بِسْمِ اللَّهِ أَوَّلَهُ وَآخِرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَا زَالَ الشَّيْطَانُ يَأْكُلُ مَعَهُ حَتَّى سَمَّى فَلَمْ يَبْقَ فِي بَطْنِهِ شَيْءٌ إِلَّا قَاءَهُ
۔ جابر بن صبح کہتے ہیں: مثنیٰ بن عبد الرحمن خزاعی نے مجھے بیان کیا، میں اس کے ساتھ واسط تک ہم نشین رہا،وہ کھانے کے شروع میں بسم اللہ پڑھتے اور آخری لقمہ پرکہتے: بِسْمِ اللّٰہِ فِی أَوَّلِہِ وَآخِرِہِ۔ میں نے ان سے کہا: آپ کھانے کے شروع میں بسم اللہ کہتے ہیں اور آخر میں بِسْمِ اللّٰہِ فِی أَوَّلِہِ وَآخِرِہِ کہتے ہیں، انہوں نے کہا: اس کے بارے میں تمہیں بتاتا ہوں میرے دادا سیدنا امیہ بن مخشی رضی اللہ عنہ، جو صحابہ میں سے تھے، میں نے ان سے سنا، انھوں نے کہا: ایک آدمی کھانا کھا رہا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے دیکھ رہے تھے، اس نے بسم اللہ نہیں پڑھی تھی، جب کھانے کا آخری لقمہ تھا تو اس نے کہا بِسْمِ اللّٰہِ فِی أَوَّلِہِ وَآخِرِہِ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شیطان اس کے ساتھ کھاتا رہا، یہاں تک کہ جب اس نے بسم اللہ پڑھی تو شیطان کے پیٹ میں جو کچھ تھا اس نے قے کر دی۔ [الفتح الربانی/كتاب الأطعمة/حدیث: 7389]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة المثني بن عبد الرحمن الخزاعي، أخرجه ابوداود: 3768، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18963 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19171»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة المثني بن عبد الرحمن الخزاعي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں