الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. بَابُ الْأَوْعِيَةِ الْمُنْهَى عَنِ الْانْتِبَادِ فِيهَا وَنَسْخِ تَحْرِيم ذَلِكَ
ان برتنوں کابیان، جن میں نبیذ بنانے سے منع کیا گیا، لیکن پھر ان کی حرمت منسوخ ہو گئی
حدیث نمبر: 7524
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْحَنْتَمِ وَهُوَ الْجَرُّ وَالدُّبَّاءِ وَالنَّقِيرِ وَعَنِ الْمُزَفَّتِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مٹکے، کدو سے تیار شدہ برتن، درخت تنے سے کرید کر بنائے گئے برتن اور تارکول لگے برتن کے استعمال سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7524]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1995، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25163»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 1995
حدیث نمبر: 7525
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ حَيْثُ قَدِمُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَاهُمْ عَنِ الْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ وَالْمُزَفَّتِ وَالْمَزَادَةِ الْمَجْبُوبَةِ وَقَالَ انْتَبِذْ فِي سِقَائِكَ وَأَوْكِهِ وَاشْرَبْهُ حُلْوًا طَيِّبًا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي مِثْلِ هَذِهِ قَالَ إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ قَالَ يَزِيدُ وَفَتَحَ هِشَامٌ يَدَهُ قَلِيلًا فَقَالَ إِذَنْ تَجْعَلَهَا مِثْلَ هَذِهِ وَفَتَحَ يَدَهُ شَيْئًا أَرْفَعَ مِنْ ذَلِكَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبد القیس کا وفد جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو مٹکے، تنا کرید کر تیار کردہ برتن، تارل کول لگے برتن اور وہ مشک، جس کا منہ کاٹ دیا گیا ہو، کے استعمال سے منع کیا تھا، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنی مشک میں نبیذ بناؤ اور اس کا تسمہ باندھو اورعمدہ میٹھا نبیذ پیو۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ان کی معمولی سی اجازت دے دو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ کشادہ کرتے ہوئے اسے اشارہ دیا اگر تجھے تھوڑی سی اجازت دی تو پھر یہ کام بڑھ جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7525]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه النسائي: 8/ 309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10378»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 7526
عَنْ سَمُرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ فَنَهَى عَنِ الدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ
۔ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا اور کدو سے تیار شدہ برتن اورتار کول لگے برتن کے استعمال سے منع فرما دیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7526]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 116، والطحاوي في شرح معاني الآثار: 4/ 227، والطبراني في الكبير: 6758، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20186 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20448»
وضاحت: فوائد: … اس باب کی احادیث میں کچھ برتنوں کو استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے، یہ ممانعت شراب کی حرمت کے موقع پر عارضی طور پر تھی، بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان برتنوں کو استعمال کرنے کی اجازت دے دی تھی، جیسا کہ درج ذیل باب کی احادیث سے معلوم ہو رہا ہے۔
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
18. بَابُ نَسْحَ تَحْرِيمِ الْانْتِبَادِ فِي الْأَرْعِيَةِ الْمُتَقَدِّمِ ذِكْرُهَا
سابق احادیث میں جن برتنوں میں نبیذ بنانے کو حرام قرار دیا گیا¤ان کے اس حکم کے منسوخ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 7527
عَنْ يَحْيَى بْنِ غَسَّانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ أَبِي فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ وَفَدُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَبْدِ قَيْسٍ فَنَهَاهُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ قَالَ فَأَتْخَمْنَا ثُمَّ أَتَيْنَاهُ الْعَامَ الْمُقْبِلَ قَالَ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ نَهَيْتَنَا عَنْ هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ فَأَتْخَمْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْتَبِذُوا فِيمَا بَدَا لَكُمْ وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا فَمَنْ شَاءَ أَوْكَأَ سِقَاءَهُ عَلَى إِثْمٍ
۔ یحییٰ بن غسان تیمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے ابا جان اس وفد میں تھے، جو عبد قیس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تھا، آپ نے انہیں ان چار برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا تھا، وہ کہتے ہیں: ہم نے ان برتنوں کا استعمال چھوڑ دیا تھا، لیکن ہم وبا زدہ ہو گئے تھے، جب ہم آئندہ سال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے ان برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ہے اور ہمارا علاقہ وبائی ہے، ہم وبا زدہ ہو گئے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب جس برتن میں چاہو نبیذ بنا سکتے ہو، بس نشہ آور چیز نہ پینا،جو چاہے وہ اپنے مشکیزے کا منہ بند کر سکتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7527]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف يحيي بن عبد الله التيمي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15949 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16045»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ اگر وہ مشروب نشہ آور ہو چکا ہے تو تم نے اس کا منہ باندھ کر معصیت کا ارتکاب کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف يحيي بن عبد الله التيمي
حدیث نمبر: 7528
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ قَيْسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كُلُّ امْرِئٍ حَسِيبُ نَفْسِهِ لِيَشْرَبْ كُلُّ قَوْمٍ فِيمَا بَدَا لَهُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب عبد القیس کاوفد آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہرآدمی اپنی ذات کا خود ذمہ دارہے، ہرقوم جس برتن میں چاہے پیے، البتہ نشہ آور نہ ہو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7528]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8336 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8318»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 7529
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ إِنِّي لَشَاهِدٌ لِوَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يَشْرَبُوا فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ الْحَنْتَمِ وَالدُّبَّاءِ وَالْمُزَفَّتِ وَالنَّقِيرِ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ لَا ظُرُوفَ لَهُمْ قَالَ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ يَرْثِي لِلنَّاسِ قَالَ فَقَالَ اشْرَبُوا مَا طَابَ لَكُمْ فَإِذَا خَبُثَ فَذَرُوهُ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب وفد عبد القیس آیا تھا، میں بھی اس وقت حاضر تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان برتنوں میں سے پینے سے منع فرمایا: کدو سے تیار شدہ برتن، تارکول لگا مٹکا اور تنا سے تیار شدہ، ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کے پاس اور برتن نہیں ہیں، سیدنا ابوہریرہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو لوگوں کی حالت پر ترس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان برتنوں میں پیو جتنا تمہاری مرضی، بس جب نشہ پیدا ہو جائے تو پھرچھوڑ دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7529]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب، ولجھالة حفص بن خالد، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8656 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8641»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف شھر بن حوشب
حدیث نمبر: 7530
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَمَّا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ فَلَا بُدَّ لَنَا قَالَ فَلَا إِذَنْ
۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان برتنوں سے پینے پر پابندی لگائی تو انصارکہنے لگے: ان کے استعمال کے بغیر ہمارے لیے کوئی چارہ کار نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر کوئی حرج نہیں انھیں استعمال کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7530]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14294»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5592
حدیث نمبر: 7531
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ أَبِيهِ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا عِظَةً وَعِبْرَةً وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِي فَوْقَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَادَّخِرُوا وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي هَذِهِ الْأَسْقِيَةِ فَاشْرَبُوا وَلَا تَشْرَبُوا حَرَامًا (وَفِي لَفْظٍ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ فَانْتَبِذُوا فِي كُلِّ وِعَاءٍ وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ)
۔ سیدنا بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، لیکن اب میں یہ حکم دیتا ہوں کہ ان کی زیارت کیا کرو، کیونکہ ان کی زیارت سے نصیحت اور عبرت حاصل ہوتی ہے، اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب کھاؤ اور ذخیرہ کرو اور میں نے تمہیں ان برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، اب تم ہرقسم کے برتن سے پیو، بس حرام نہ پینا۔ ایک روایت میں ہے: میں نے تمہیں مٹکے میں نبیذ بنانے سے منع کیا تھا، اب تم ہر برتن میں نبیذ بنا سکتے ہو، بس ہر نشہ آور مشروب سے اجتناب کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7531]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 977، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23015 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23403»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 977
حدیث نمبر: 7532
( (وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ) وَفِيهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ وَإِنَّ مُحَمَّدًا أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ وَإِنَّ الظُّرُوفَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا وَلَا تُحِلُّهُ
۔ (دوسری سند) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا، اب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی ماں کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے اور میں نے تمہیں چند برتنوں سے منع کیا تھا، جبکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کر سکتے (اس لیے تم ان کو استعمال کیا کرو)۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7532]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23404»
الحكم على الحديث:
انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23404
حدیث نمبر: 7533
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ نَحْوُهُ وَفِيهِ وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مَا أَسْكَرَ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: میں نے تمہیں برتنوں سے منع کیا تھا، پس اب ان میں پی سکتے ہو، البتہ ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب الاشربة/حدیث: 7533]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ابي شيبة: 8/ 111، وابويعلي: 278، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1236 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1236»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره