🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. بَابُ الرُّقْيَةِ مِنَ الْعَيْنِ
نظر لگنے سے دم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7750
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهَا أَنْ تَسْتَرْقِيَ مِنَ الْعَيْنِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ نظر لگ جانے سے دم کیا کروں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7750]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5738، ومسلم: 2195، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25068 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25582»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5738
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7751
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِيٍّ يَبْكِي فَقَالَ مَا لِصَبِيِّكُمْ هَذَا يَبْكِي فَهَلَّا اسْتَرْقَيْتُمْ لَهُ مِنَ الْعَيْنِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر داخل ہوئے اور ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اس بچے کو کیا ہو گیا ہے، یہ کیوں رو رہا ہے، تم اسے نظر کا دم کیوں نہیں کرواتے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7751]
تخریج الحدیث: «اسناد ضعيف لضعف ابي اويس الاصبحي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24442 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24946»

الحكم على الحديث:
اسناد ضعيف لضعف ابي اويس الاصبحي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7752
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعَيْنِ فَأَصْنَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ امْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر کا دم کیا کرتی تھی، میں اپنا ہاتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سینۂ مبارک پر رکھتی اور یہ دعا پڑھتی: اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ! بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا کَاشِفَ لَہٗ اِلَّا اَنْتَ۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تکلیف دور کردے، شفاء تیرے ہاتھ ہی میں ہے، تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7752]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5744، ومسلم: 2191، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24995 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25509»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5744
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7753
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ عُمَيْسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بَنِي جَعْفَرٍ تُصِيبُهُمُ الْعَيْنُ أَفَأَسْتَرْقِي لَهُمْ قَالَ نَعَمْ فَلَوْ كَانَ شَيْءٌ سَابِقَ الْقَدَرِ لَسَبَقَتْهُ الْعَيْنُ
۔ سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کے بیٹے نظر زدہ ہوجاتے ہیں، کیا میں انہیں دم کرلیا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز تقدیر پر غالب آ سکتی ہوتی تو وہ نظر ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7753]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الترمذي: 2059، وابن ماجه: 3510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27470 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28018»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کے آخری جملے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ ہے کہ نظر واقعی اثر کر سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. الْعَدْوَى وَالطَّيَرَةُ وَالْفَأَلُ وَالطَّاعُونُ وَمَوْتُ الْفَحْأَة¤ بابُ مَا جَاءَ فِي نَفِي الْعَدْوَى
بیماری کا متعدی ہونا، بدشگونی لینا، اچھی فال لینا، طاعون اور اچانک موت¤بیماری کے متعدی ہونے کی نفی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7754
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَّةَ قَالَ أَعْرَابِيٌّ فَمَا بَالُ الْإِبِلِ تَكُونُ فِي الرَّمْلِ كَأَنَّهَا الظِّبَاءُ فَيُخَالِطُهَا الْبَعِيرُ الْأَجْرَبُ فَيُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ كَانَ أَعْدَى الْأَوَّلَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ بیماری متعدی ہے،نہ بد شگونی ہے اور نہ صفر کا مہینہ منحوس ہے اور نہ ہی الو (کی کوئی حقیقت ہے)۔ ایک بدو نے کہا: تو پھر اونٹ جب ریت میں ہرن کی طرح چل رہے ہوتے ہیں (یعنی صحت مند ہوتے ہیں)، لیکن جب خارشی اونٹ اس سے خلط ملط ہوتا ہے تو انہیں بھی خارش لگ جاتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (اچھا یہ بتلاؤ کہ) پہلے اونٹ کو خارش کس نے لگائی؟ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7754]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5770، 5773، ومسلم: 2220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7620 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7609»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5770
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7755
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا ثَلَاثًا فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ النُّقْبَةُ مِنَ الْجَرَبِ تَكُونُ بِمِشْفَرِ الْبَعِيرِ أَوْ بِذَنَبِهِ فِي الْإِبِلِ الْعَظِيمَةِ فَتَجْرَبُ كُلُّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَا أَجْرَبَ الْأَوَّلَ لَا عَدْوَى وَلَا هَامَّةَ وَلَا صَفَرَ خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ فَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَمُصِيبَاتِهَا وَرِزْقَهَا
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا: کوئی بیماری دوسرے تک متعدی نہیں ہوتی۔ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو اونٹ کے ہونٹ یا دم پر خارش کا پہلا سوراخ نمودار ہوتا ہے، پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورے کا پورا بڑا اونٹ خارش زدہ ہو جاتا ہے (اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیماری متعدی ہے)؟ یہ سن کر آپ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: سب سے پہلے اونٹ کو کس نے بیماری لگائی تھی، نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ الو کی نحوست ہے اور نہ کوئی صفر کی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی، موت اور مصیبت اور رزق کو لکھ دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7755]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابويعلي: 6112، وابن حبان: 6119، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8343 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8325»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7756
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا فَذَكَرَ مِثْلَهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: کوئی چیز کسی کے لئے متعدی نہیں ہوتی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7756]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2143، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4198 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4198»

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7757
حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا عَدْوَى وَلَا صَفَرَ وَلَا غُولَ وَسَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ يَذْكُرُ أَنَّ جَابِرًا فَسَّرَ لَهُمْ قَوْلَهُ لَا صَفَرَ فَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ الصَّفَرُ الْبَطْنُ قِيلَ لِجَابِرٍ كَيْفَ هَذَا الْقَوْلُ فَقَالَ دَوَابُّ الْبَطْنِ قَالَ وَلَمْ يُفَسِّرِ الْغُولَ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ مِنْ قِبَلِهِ هَذَا الْغُولُ الشَّيْطَانَةُ الَّتِي يَقُولُونَ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ کوئی صفر ہے اور نہ غول۔ اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ صفر سے مراد پیٹ ہے، جب ان سے کہا گیا کہ اس قول سے کیا مراد ہے، تو انھوں نے کہا: پیٹ کے کیڑے ہیں، پھر انھوں نے غول کی تعریف نہیں کی، البتہ ابو زبیر نے اپنی طرف سے کہا کہ غول سے مراد وہ چیز ہے، جس کو لوگ چڑیل یا جن کہتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7757]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15169»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2222
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7758
عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا غُولَ
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بیماری متعدی نہیں ہے، نہ کوئی بدشگونی ہے اور نہ غول۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7758]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه مسلم: 2222، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14349 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14401»

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7759
عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا عَدْوَى وَلَا طِيَرَةَ وَلَا صَفَرَ وَلَا هَامَةَ فَذَكَرَ سِمَاكٌ أَنَّ الصَّفَرَ دَابَّةٌ تَكُونُ فِي بَطْنِ الْإِنْسَانِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَكُونُ فِي الْإِبِلِ الْجَرِبَةُ فِي الْمِائَةِ فَتُجْرِبُهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَنْ أَعْدَى الْأَوَّلَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ کوئی بیماری متعدی ہے، نہ بدشگونی ہے، نہ صفر ہے اور نہ الو کی کوئی حقیقت ہے۔ سماک بیان کرتے ہیں کہ صفر سے مراد ایک کیڑا ہے جو انسانی پیٹ میں پیدا ہوتا ہے، ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! سو اونٹوں میں اگر ایک اونٹ کو خارش لگتی ہے، پھر اس کی وجہ سے سب خارش زدہ ہو جاتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اچھا پہلے یہ بتاؤ کہ پہلے کو بیماری کس نے لگائی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7759]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابن ماجه: 3539، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2425 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2425»
وضاحت: فوائد: … یہ بات بڑی معقول ہے کہ اگر بیماری کی بنیاد اس کے متعدی ہونے پر ہے تو پہلے جاندار کو بیماری کہاں سے لگ جاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں