🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. بَابُ الْأَلْفَاظِ الْوَارِدَةِ فِي الرُّقْى
دم کے الفاظ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7730
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَوِّذُ حَسَنًا وَحُسَيْنًا يَقُولُ أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ وَكَانَ يَقُولُ كَانَ إِبْرَاهِيمُ أَبِي يُعَوِّذُ بِهِمَا إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو ان کلمات کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پناہ دیا کرتے تھے: أُعِیذُکُمَا بِکَلِمَاتِ اللّٰہِ التَّامَّۃِ مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ وَہَامَّۃٍ وَمِنْ کُلِّ عَیْنٍ لَامَّۃٍ۔ (میں تم کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ہر شیطان،ہر نظر بد اور زہریلی چیز سے) نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹوں سیدنا اسماعیل علیہ السلام اور سیدنا اسحق علیہ السلام کو ان کلمات کے ذریعہ ہی اللہ تعالیٰ کی پنا میں دیا کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7730]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3371، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2112 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2112»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3371
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7731
عَنْ عَمْرِو بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ أَلَمًا فَلْيَضَعْ يَدَهُ حَيْثُ يَجِدُ أَلَمَهُ ثُمَّ لِيَقُلْ سَبْعَ مَرَّاتٍ أَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ
۔ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو تکلیف ہو تو جہاں تکلیف ہو وہاں ہاتھ رکھے پھر سات مرتبہ یہ دعا پڑھے: أَعُوذُ بِعِزَّۃِ اللّٰہِ وَقُدْرَتِہِ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ مِنْ شَرِّ مَا أَجِدُ۔ (میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور قدرت کے ساتھ ہر اس چیز کی برائی سے پناہ مانگتا ہوں، جس کو میں پاتا ہوں۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7731]
تخریج الحدیث: «صحيح لكن من حديث عثمان بن ابي العاص، انظر الحديث رقم 1844، وھذا اسناد ضعيف لضعف ابي معشر، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 179، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27179 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27721»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں بہت ساری دعاؤں کا ذکر ہے، جن کے ذریعے دم کیا جاتا ہے، ان دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے، مزید دعائیں اور قرآن مجید کی آیات اور سورتیں ان کے علاوہ ہیں۔

الحكم على الحديث:
صحيح لكن من حديث عثمان بن ابي العاص
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
16. باب الرقية بِالقُرآن
قرآن مجید کے ذریعے دم کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7732
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ لِي أَخًا وَبِهِ وَجَعٌ قَالَ وَمَا وَجَعُهُ قَالَ بِهِ لَمَمٌ قَالَ فَأْتِنِي بِهِ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَعَوَّذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَأَرْبَعِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ وَآيَةِ الْكُرْسِيِّ وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَآيَةٍ مِنْ آلِ عِمْرَانَ شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَآيَةٍ مِنَ الْأَعْرَافِ إِنَّ رَبَّكُمُ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَآخِرِ سُورَةِ الْمُؤْمِنِينَ فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ وَآيَةٍ مِنْ سُورَةِ الْجِنِّ وَأَنَّهُ تَعَالَى جَدُّ رَبِّنَا وَعَشْرِ آيَاتٍ مِنْ أَوَّلِ الصَّافَّاتِ وَثَلَاثِ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْحَشْرِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ فَقَامَ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَشْتَكِ قَطُّ
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، ایک دیہاتی آدمی آیا اور اس نے کہا: اے اللہ کے نبی! میرے ایک بھائی کو تکلیف ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو کیا تکلیف ہے؟ اس نے کہا: اس کو جنونی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے سامنے بٹھا لیا اور سورۂ فاتحہ، سورۂ بقرہ کی پہلی چار آیات، {وَإِلَہُکُمْ إِلٰہٌ وَاحِدٌ}والی دو آیتیں، آیۃ الکرسی، سورۂ بقرہ کی آخری تین آیتیں، سورۂ آل عمران کی آیت {شَہِدَ اللّٰہُ أَنَّہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ}، سورۂ اعراف کی آیت {إِنَّ رَبَّکُمْ اللّٰہُ الَّذِی خَلَقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ}، سورۂ مومنون کا آخر {فَتَعَالَی اللّٰہُ الْمَلِکُ الْحَقُّ}، سورۂ جن کی آیت{وَأَنَّہُ تَعَالٰی جَدُّ رَبِّنَا}، سورۂ صافات کی ابتدائی دس آیات، سورۂ حشر کی آخری تین آیات، سورۂ اخلاص اور سورۂ فلق اور سورۂ ناس کے ساتھ دم کیا۔ اور اس دم کے بعد وہ آدمی اس طرح کھڑا ہوا، جیسے اسے تکلیف ہی نہیں تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7732]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابي جناب، وقد اضطرب في اسناده، أخرجه الحاكم: 4/ 412، وابو يعلي: 1594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21174 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21493»

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لضعف ابي جناب
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7733
عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ عَنْ عَمِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَا عَلَى حَيٍّ مِنَ الْعَرَبِ فَقَالُوا أُنْبِئْنَا أَنَّكُمْ جِئْتُمْ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ (وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّا قَدْ حُدِّثْنَا أَنَّ صَاحِبَكُمْ هَذَا قَدْ جَاءَ بِخَيْرٍ) فَهَلْ عِنْدَكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رُقْيَةٌ فَإِنَّ عِنْدَنَا مَعْتُوهًا فِي الْقُيُودِ قَالَ فَقُلْنَا نَعَمْ قَالَ فَجَاءُوا بِالْمَعْتُوهِ فِي الْقُيُودِ قَالَ فَقَرَأْتُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً (زَادَ فِي رِوَايَةٍ كُلَّ يَوْمٍ مَرَّتَيْنِ) أَجْمَعُ بُزَاقِي ثُمَّ أَتْفُلُ قَالَ فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ فَأَعْطَوْنِي جُعْلًا (وَفِي رِوَايَةٍ فَأَعْطَوْنِي مِائَةَ شَاةٍ) فَقُلْتُ لَا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُلْ (وَفِي رِوَايَةٍ فَقَالَ خُذْهُ) لَعَمْرِي مَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةِ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةِ حَقٍّ
۔ خارجہ بن صلت اپنے چچا سے بیان کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں:ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے، انہوں نے ہم سے کہا: ہمیں اطلاع ملی ہے کہ تم اس آدمی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے خیر لے کر لوٹے ہو، تو کیا تمہارے پاس کوئی دوا یا دم ہے، ہمارے ہاں ایک مریض ہے، اس کو جنون کی بیماری لاحق ہو گئی ہے اوراس کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہے، خارجہ کے چچا کہتے ہیں: میں اسے تین دن روزانہ صبح و شام دو دو مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ کر اپنا لعاب منہ میں جمع کرتا، پھر اس پر پھوہار مار کر دم کرتا رہا، وہ ایسے شفایاب ہوا، جیسے اس کو رسیوں سے کھول دیا گیا ہو، انہوں نے مجھے انعام کے طور پر سو بکریاں دیں، میں نے کہا: میں یہ وصول نہیں کروں گا، جب تک کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھ نہ لوں، جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے میری عمر کی قسم! یہ اس کے لئے حرام ہیں، جو باطل دم کے ذریعہ وصول کرے، تم نے توحق دم کے ذریعہ وصول کی ہیں، لے لو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7733]
تخریج الحدیث: «اسناده محتمل للتحسين، أخرجه ابوداود: 3420، 3897، 3901، وابن ماجه: 6111، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21836 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22179»
وضاحت: فوائد: … عمر کی قسم اٹھانا، یہ دراصل بات میں تاکید پیدا کرنے کے لیے عربوں کی عادت تھی، اس سے عمر کی وہ تعظیم مراد نہیں ہے، جو اللہ تعالی کی قسم اٹھاتے وقت ہوتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده محتمل للتحسين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7734
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَوْا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ فَلَمْ يَقْرُوهُمْ (وَفِي رِوَايَةٍ فَاسْتَضَافُوهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ) فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ لُدِغَ سَيِّدُ أُولَئِكَ فَقَالُوا هَلْ فِيكُمْ دَوَاءٌ أَوْ رَاقٍ فَقَالُوا إِنَّكُمْ لَمْ تَقْرُونَا وَلَا نَفْعَلُ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَجَعَلُوا لَهُمْ قَطِيعًا مِنْ شَاءٍ قَالَ فَجَعَلَ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَيَجْمَعُ بُزَاقَهُ وَيَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْهُمْ بِالشَّاءِ فَقَالُوا لَا نَأْخُذُهَا حَتَّى نَسْأَلَ عَنْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ فَضَحِكَ وَقَالَ مَا أَدْرَاكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ خُذُوهَا وَاضْرِبُوا لِي فِيهَا بِسَهْمٍ
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام میں سے کچھ لوگ عرب کے ایک قبیلہ کے پاس آئے اور ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا، اس قبیلہ والوں نے مہمانی سے انکار کردیا، اسی دوران ان کے سردار کو کسی زہریلی چیزنے ڈس لیا، انہوں نے ان صحابہ کرام سے کہا: کیا تم میں سے کوئی دم کرسکتا ہے یا اس کا علاج کرسکتا ہے؟ انہوں نے کہا: تم نے ہماری مہمانی کرنے سے انکار کردیا ہے، اس لیے ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے، جب تک تم اس کی مزدوری نہ دو گے،پس انہوں نے بکریوں کا ایک ریوڑ دینا مقرر کر دیا، دم کرنے والے نے سورۂ فاتحہ پڑھنی شروع کی اور تھوک منہ میں جمع کی اور تھوک کی پھوہار سے دم کیا، وہ آدمی صحت یاب ہوگیا، وہ بکریاں لائے، انہوں نے کہا: یہ بکریاں ہم نہیں لیں گے، یہاں تک کہ ہم ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت نہ کرلیں، پس جب انہوں نے اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے اور دم کرنے والے سے فرمایا: تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ اس سورت سے دم کیا جاتا ہے، یہ بکریاں لے لو اور بیچ میں میرا حصہ بھی مقرر کردو۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7734]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5736، ومسلم: 2201، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11399 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11419»

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 5736
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7735
(وَعَنْهُ أَيْضًا) قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا فَكُنْتُ فِيهِمْ فَأَتَيْنَا عَلَى قَرْيَةٍ فَاسْتَطْعَمْنَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا شَيْئًا فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْقَرْيَةِ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ فِيكُمْ رَجُلٌ يَرْقِي فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ قُلْتُ وَمَا ذَاكَ قَالَ مَلِكُ الْقَرْيَةِ يَمُوتُ قَالَ فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَرَقَيْتُهُ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَرَدَّدْتُهَا عَلَيْهِ مِرَارًا فَعُوفِيَ فَبَعَثَ إِلَيْنَا بِطَعَامٍ وَبِغَنَمٍ تُسَاقُ فَقَالَ أَصْحَابِي لَمْ يَعْهَدْ إِلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا بِشَيْءٍ لَا نَأْخُذُ مِنْهُ شَيْئًا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسُقْنَا الْغَنَمَ حَتَّى أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثْنَاهُ فَقَالَ كُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَكَ وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ قَالَ قُلْتُ أُلْقِيَ فِي رَوْعِي
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دستہ بھیجا، سیدنا ابو سعید کہتے ہیں: میں بھی ان میں شامل تھا، ہم ایک بستی میں آئے، ہم نے وہاں کے رہنے والوں سے کھانا طلب کیا، انہوں نے ہمیں کھانا کھلانے سے انکار کردیا، ہمارے پاس بستی والوں میں سے ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: اے گروہ عربٖ! تم میں کوئی ایسا آدمی ہے جو دم کرلیتا ہو؟ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: کیسا دم کرنا ہے؟ اس نے کہا: اس بستی کا رئیس موت کی کشمکش میں ہے، پس ہم اس کے ساتھ گئے، میں نے اسے سورۂ فاتحہ پڑھ کر دم کیا، میں نے کئی مرتبہ اسے دہرا کر پڑھا، پس اس کو عافیت ہو گئی، اس نے ہمارے لئے کھانا اور بکریاں بھیجیں، جو ہانک کر ہمارے پاس لائی گئیں، میرے ساتھیوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں ہمیں کوئی حکم نہیں دیا، ہم اس میں سے کچھ نہیں لیں گے، یہاں تک کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوں، ہم نے بکریاں ہانکیں، حتی کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے، جب ہم نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کھالو اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلاؤ، تمہیں کس طرح معلوم تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7735]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11492»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں سورۂ فاتحہ کے ساتھ دم کرنے کا ذکر ہے، دیگر احادیث میں دوسری آیات اور احادیث کا ذکر موجود ہے، جیسے سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس وغیرہ، قرآن مجید سارے کا سارا اللہ تعالی کا کلام ہے اور انتہائی بابرکت ہے، البتہ بعض آیات اللہ تعالی کی زیادہ صفات پر مشتمل ہونے کی وجہ سے زیادہ اثر کر سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11492
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
17. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الرُّقى وَالتَّمَائِمِ وَنَحْوِهَا
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7736
حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ قُلْتُ أَنَا ثُمَّ قُلْتُ أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ وَلَكِنِّي لُدِغْتُ قَالَ وَكَيْفَ فَعَلْتَ قُلْتُ اسْتَرْقَيْتُ قَالَ وَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ قُلْتُ حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ أَوْ حُمَةٍ فَقَالَ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ جُبَيْرٍ قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّهْطُ وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالنَّبِيَّ وَلَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمَّتِي فَقِيلَ هَذَا مُوسَى وَقَوْمُهُ وَلَكِنِ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ ثُمَّ قِيلَ انْظُرْ إِلَى هَذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ فَقِيلَ هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ثُمَّ نَهَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَخَاضَ الْقَوْمُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ فَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا قَطُّ وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا الَّذِي كُنْتُمْ تَخُوضُونَ فِيهِ فَأَخْبَرُوهُ بِمَقَالَتِهِمْ فَقَالَ هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ وَلَا يَسْتَرْقُونَ وَلَا يَتَطَيَّرُونَ (وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا يَعْتَافُونَ بَدَلَ يَكْتَوُونَ) وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ الْأَسَدِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ أَنْتَ مِنْهُمْ ثُمَّ قَامَ الْآخَرُ فَقَالَ أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ
۔ حصین بن عبدالرحمن کہتے ہیں: میں سیدنا سعید بن جبیر کے پاس تھا، انہوں نے کہا: تم میں سے کس نے وہ ستارا دیکھا ہے، جو کل ٹوٹا تھا، میں نے کہا: جی میں نے دیکھا تھا، پھر میں نے کہا: یہ میں نے اس لئے نہیں دیکھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، یہ اس وجہ سے کہ مجھے کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا تھا (اور میں جاگ رہا تھا)، سیدنا سعید نے کہا: پھر تم نے کیا کیا تھا، میں نے کہا: میں نے دم کیا تھا، انھوں نے کہا: ایسے کیوں کیا تھا؟ میں نے کہا: ایک حدیث کی وجہ سے جو ہم سے شعبی نے بیان کی ہے، انہوں نے سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے سنی کہ دم نہیں ہے، مگر نظر بد سے یا زہریلی چیز کے ڈسنے سے۔ سعید بن حبیر نے کہا: وہ شخص بہت اچھا کرتا ہے جو اسی پر اکتفا کرتا ہے جو اس نے سنا ہے اس میں اضافہ نہیں کرتا۔پھر انھوں نے کہا: ہم سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمانے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے سامنے امتیں پیش کی گئی ہیں، میں نے دیکھا ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ ایک گروہ ہے، ایک نبی ہے اس کے ساتھ ایک دو آدمی ہیں، ایک نبی ہے اور اس کے ساتھ کوئی بھی نہیں ہے، اچانک میرے سامنے ایک بہت بڑی جماعت پیش کی گئی، میں نے سمجھا کہ یہ میری امت ہو گی، لیکن اتنے میں مجھے کہا گیا کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم ہیں، اب آپ ذرا کناروں کی جانب دیکھیں، میں نے دیکھا تو ایک بہت بڑی جماعت تھی، پھر مجھ سے کہا گیا دوسری جانب دیکھیں، اُدھر بھی بہت بڑی جماعت تھی، پھر مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے اور ان کے ساتھ ستر ہزار ایسے افراد ہیں جو بغیر حساب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ لوگوں نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیت کا شرف پایا ہے، بعض نے کہا: شاید یہ وہ لوگ ہیں، جو اسلام میں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا اور بھی کئی اقوال بیان کیے، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے اور پوچھا: یہ کیا ہے جس میں تم مگن ہو؟ انہوں نے اپنی تفصیل بیان کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ خوش نصیب ہیں جو نہ تو داغ لگواتے ہیں، نہ ہی دم کرواتے ہیں،نہ بدشگونی لیتے ہیں اور اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں۔ سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ان میں سے ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ان میں شامل ہے۔ ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی ان میں شامل ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم سے بازی لے گیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7736]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6541، ومسلم: 220، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2448 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2448»
وضاحت: فوائد: … دم سے متعلقہ حدیث سے معلوم ہوا کہ نظر بد اور زہریلی چیز کے ڈسنے سے دم کروانا چاہیے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6541
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7737
عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذَا جَاءَ مِنْ حَاجَةٍ فَانْتَهَى إِلَى الْبَابِ تَنَحْنَحَ وَبَزَقَ كَرَاهِيَةَ أَنْ يَهْجُمَ مِنَّا عَلَى شَيْءٍ يَكْرَهُهُ قَالَتْ وَإِنَّهُ جَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَتَنَحْنَحَ قَالَتْ وَعِنْدِي عَجُوزٌ تَرْقِينِي مِنَ الْحُمْرَةِ فَأَدْخَلْتُهَا تَحْتَ السَّرِيرِ فَدَخَلَ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي فَرَأَى فِي عُنُقِي خَيْطًا قَالَ مَا هَذَا الْخَيْطُ قَالَتْ قُلْتُ خَيْطٌ أُرْقِيَ لِي فِيهِ قَالَتْ فَأَخَذَهُ فَقَطَعَهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ آلَ عَبْدِ اللَّهِ لَأَغْنِيَاءُ عَنِ الشِّرْكِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الرُّقَى وَالتَّمَائِمَ وَالتِّوَلَةَ شِرْكٌ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ لِمَ تَقُولُ هَذَا وَقَدْ كَانَتْ عَيْنِي تَقْذِفُ فَكُنْتُ أَخْتَلِفُ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ يَرْقِيهَا وَكَانَ إِذَا رَقَاهَا سَكَنَتْ قَالَ إِنَّمَا ذَلِكَ عَمَلُ الشَّيْطَانِ كَانَ يَنْخُسُهَا بِيَدِهِ فَإِذَا رَقَيْتِهَا كَفَّ عَنْهَا إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكِ أَنْ تَقُولِي كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِي لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَاؤُكَ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا
۔ سیدہ زنیب رضی اللہ عنہا جو کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب باہر کا کام ختم کرکے گھر آتے تو دروازے تک پہنچ کر کھنکارتے، تاکہ گھر والے کسی ناپسندیدہ حالت پر نہ ہوں،ایک دن وہ آئے تو کھنکارا، میرے پاس ایک بڑھیا تھی، جو مجھے ورم کا دم کررہی تھی، میں نے اسے چار پائی کے نیچے بٹھا دیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور میرے ایک پہلو میں بیٹھ گئے، جب انھوں میری گردن میں ایک دھاگا دیکھا تو کہا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: یہ دھاگا ہے، میرے لئے دم کیا گیا ہے، وہ باندھا ہوا ہے،ا نھوں نے اسے پکڑا اور کاٹ ڈالا اور کہا: عبداللہ کی آل اس شرک سے بے پرواہ ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک جھاڑ پھونک، تعویذات اور محبت کے اعمال سب شرک ہیں۔ میں نے کہا: آپ ایسا نہ کہیں، میری آنکھ پھڑکتی تھی، میں فلاں یہودی کے پاس گئی، جو دم کرتا تھا، جب وہ دم کرتا تھا تو آنکھ پر سکون طاری ہو جاتا تھا، انھوں نے کہا: یہ شیطانی عمل تھا، وہ شیطان اپنے ہاتھ کے ساتھ مارتا تھا تو آنکھ پھڑکنے لگ جاتی تھی، جب تو دم کرواتی تو وہ شیطان ہاتھ روک لیتا تھا، تجھے وہ دعا کافی ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھا کرتے تھے: أَذْہِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ اشْفِ أَنْتَ الشَّافِی لَا شِفَاءَ إِلَّا شِفَائُکَ شِفَاءً لَا یُغَادِرُ سَقَمًا۔ (تکلیف دور کردے اے لوگوں کے رب! شفاء دے تو ہی شفاء دینے والا ہے، نہیں ہے کوئی شفاء، مگر تیری شفاء،ایسی شفاء دے جو بیماری باقی نہ چھوڑے۔) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7737]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه بطوله ابوداود: 3883، وابن ماجه: 3530، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3615 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3615»
وضاحت: فوائد: شارح ابوداود علامہ عظیم آبادیl نے کہا: خطابی کہتے ہیں کہ وہ دم منع ہے، جو غیر عربی زبان میں ہو اور اس چیز کا علم نہ ہو کہ وہ کیا ہے۔ رہا مسئلہ اس دم کا کہ جس کی عبارت کا مفہوم سمجھا جا سکے اور وہ اللہ تعالی کے ذکر پر مشتمل ہو تو وہ مستحب ہو گا اور اس سے برکت حاصل کی جائے گی۔ تمیمہ کی جمع تمائم ہے، ان سے مراد وہ تعویذ ہیں، جو بچوں پر لٹکائے جاتے ہیں اور ان میں اللہ تعالی کے نام ہوتے ہیں نہ کہ اس کی آیات اور نہ منقول دعائیں۔ نہایہ میں کہا: تمائم سے مراد وہ منکے، دانے اور نگینے ہیں، جو عرب لوگ اپنے بچوں پر لٹکاتے تھے، تاکہ وہ نظرِ بد سے بچ سکیں، لیکن اسلام نے ان کے اس خیال کو باطل قرار دیا۔ تِوَلہ کی وضاحت کرتے ہوئے خطابی کہتے ہیں: یہ جادو کی ایک قسم ہے۔ اصمعی نے کہا: اس سے مراد وہ عمل ہے جو عورت کو اس کے خاوند کا محبوب بنا دیتا ہے۔ جبکہ ملا علی قاری نے کہا: یہ جادو کی ایک قسم ہے یا دھاگہ ہے، جس پر جادو والی عبارتیں پڑھی جاتی ہے یا ورق ہے، جس میں جادو کی عبارتیں لکھی جاتی ہیں، مقصد محبت وغیرہ کا حصول ہوتا ہے۔

الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7738
عَنِ الْحَسَنِ قَالَ أَخْبَرَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ عَلَى عَضُدِ رَجُلٍ حَلْقَةً أُرَاهُ قَالَ مِنْ صُفْرٍ فَقَالَ وَيْحَكَ مَا هَذِهِ قَالَ مِنَ الْوَاهِنَةِ قَالَ أَمَا إِنَّهَا لَا تَزِيدُكَ إِلَّا وَهْنًا انْبِذْهَا عَنْكَ فَإِنَّكَ لَوْ مِتَّ وَهِيَ عَلَيْكَ مَا أَفْلَحْتَ أَبَدًا
۔ سیدنا عمران بن حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کے بازو پر پیتل کا کڑا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو ہلاک ہو جائے، یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: یہ واہنہ کی وجہ سے ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ تیری اس بیماری میں اور اضافہ کرے گا، پھینک دے اس کو، اگر تو اس حال میں مرا کہ یہ تجھ پر ہوگا تو تو کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7738]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الحسن البصري لم يسمع من عمران، والذي في ھذا الحديث من تصريح الحسن بسماعه من عمران خطأ من مبارك، أخرجه ابن ماجه: 3031، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20000 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20242»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث درج سیاق کے ساتھ صحیح ہے:

الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7739
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ تَعَلَّقَ تَمِيمَةً فَلَا أَتَمَّ اللَّهُ لَهُ وَمَنْ تَعَلَّقَ وَدَعَةً فَلَا وَدَعَ اللَّهُ لَهُ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو تمیمہ لٹکائے، اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری نہ کرے اور جو سفید منکے لٹکاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کو سکون نہ دے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7739]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 1759، وابن حبان: 6086، والطبراني في الكبير: 17/ 820، وابن حبان: 6086، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17539»
وضاحت: فوائد: … تمیمہ کی وضاحت پہلے ہو چکی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں