🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الرُّقى وَالتَّمَائِمِ وَنَحْوِهَا
ناجائز دم اور تمیمہ کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7740
(وَعَنْهُ أَيْضًا) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ إِلَيْهِ رَهْطٌ فَبَايَعَ تِسْعَةً وَأَمْسَكَ عَنْ وَاحِدٍ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ بَايَعْتَ تِسْعَةً وَتَرَكْتَ هَذَا قَالَ إِنَّ عَلَيْهِ تَمِيمَةً فَأَدْخَلَ يَدَهُ فَقَطَعَهَا فَبَايَعَهُ وَقَالَ مَنْ عَلَّقَ تَمِيمَةً فَقَدْ أَشْرَكَ
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک گروہ آیا، آپ نے ان میں سے نو آدمیوں سے بیعت لے لی اور ایک سے ہاتھ روک لیا، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ نے نوآدمیوں سے بیعت لے لی ہے اور اس ایک کو چھوڑ دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس نے تمیمہ لٹکایا ہوا ہے۔ پس اس بندے نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور اس تعویذ کو کاٹ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے بیعت ے لی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بھی تمیمہ لٹکایا، اس نے شرک کیا۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7740]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، أخرجه الطبراني في الكبير: 17/ 885، والحاكم: 4/ 219، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17422 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17558»

الحكم على الحديث:
اسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7741
عَنْ عِيسَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَرِيضٌ نَعُودُهُ فَقِيلَ لَهُ لَوْ تَعَلَّقْتَ شَيْئًا فَقَالَ أَتَعَلَّقُ شَيْئًا وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ تَعَلَّقَ شَيْئًا وُكِّلَ إِلَيْهِ
۔ عیسیٰ بن عبدالرحمن کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عکیم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، وہ بیمار تھے، ہم ان کی تیمارداری کے لئے گئے اور ان سے کہا: اگر تم شفاء حاصل کرنے کے لئے گلے میں کوئی تعویذ لٹکا لو، انھوں نے کہا: میں کچھ لٹکا لوں، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے کچھ لٹکایا وہ اسی کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7741]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 2072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18781 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18988»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7742
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ النُّشْرَةِ فَقَالَ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ
۔ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نشرہ کے متعلق سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ شیطانی عمل ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7742]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 3868، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14135 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14181»
وضاحت: فوائد: … نشرہ۔ یہ ایک طریقہ علاج تھا یا دم تھا، جس کے ذریعے اس آدمی کا علاج کیا جاتا تھا، جس کو جن لگ جاتے تھے، اس سے وہ صحت یاب ہوجاتا تھا، یہ جادو کے ذریعہ بھی کیا جاتا تھا یا غیر واضح پوشیدہ سا کلام ہوتا تھا، اس لئے اسے آپ نے شیطانی منتر قرار دیا ہے، اگر اس بیماری کا علاج کتاب و سنت کے وظائف سے کیا جائے تو جائز ہے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بابُ مَا جَاءَ فِي الْعَيْنِ وَأَنَّهَا حَقٌّ
نظر اور اس کے سچ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7743
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ الْعَيْنُ حَقٌّ تَسْتَنْزِلُ الْحَالِقَ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہمابیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگ جانا سچ ہے، نظر کا لگ جانا سچ ہے یہ پہاڑ کو بھی ہلادیتی ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7743]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الطبراني: 12833، والحاكم: 4/ 215، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2681 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2681»

الحكم على الحديث:
حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7744
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَنَهَى عَنِ الْوَشْمِ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگ جانا سچ ہے۔ اور آپ نے گود نے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7744]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2187، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8245 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8228»

الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2187
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7745
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْعَيْنُ حَقٌّ وَيَحْضُرُ بِهَا الشَّيْطَانُ وَحَسَدُ ابْنِ آدَمَ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نظر کا لگ جانا حق ہے، اس کے ساتھ شیطان حاضر ہوتا ہے اور آدم کے بیٹے کا حسد بھی شامل ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7745]
تخریج الحدیث: «اسناده منقطع، مكحول لم يسمع من ابي ھريرة، وقوله العين حق صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9668 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9666»

الحكم على الحديث:
اسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7746
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْعَيْنَ لَتُولِعُ بِالرَّجُلِ بِإِذْنِ اللَّهِ حَتَّى يَصْعَدَ حَالِقًا ثُمَّ يَتَرَدَّى مِنْهُ
۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے حکم سے نظر آدمی کے ساتھ وابستہ ہوجاتی ہے، حتیٰ کہ آدمی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھتا ہے، پھر اس سے گر جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7746]
تخریج الحدیث: «اسنده ضعيف لجھالة محجن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21471 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21803»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نظر بد یا بد نظری برحق ہے، بسا اوقات اس کا ضرر بڑا قوی ہوتا ہے۔ بعض طبیعتوں میں ایسے خواص ہوتے ہیں کہ طبیب لوگ ان کی علتوں کو نہیں پہچان سکتے، بلکہ اس معاملے میں کوئی قیاس بھی ان کے لیے معاون ثابت نہیں ہوتا، اس کی ایک مثال یہ ہے کہ عصر حاضر میں ایسے لوگ موجود ہیں کہ ان کا ہر قسم کا طبی ٹیسٹ اس حقیقت پر دلالت کرتاہے کہ ان میں کوئی بیماری نہیں ہے، ماہر نفسیات کا بھی ان پر کوئی بس نہیں چلتا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو موذی بیماریوں میں مبتلا پاتے ہیں، ایسے لوگ جادو یا نظر بد میں مبتلا ہو سکتے ہیں اور کوئی اور وجہ بھی ہو سکتی ہے۔

الحكم على الحديث:
اسنده ضعيف لجھالة محجن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
19. بَاب مَا يَقُولُ مَنْ رَأَى شَيْئًا أَعْجَبَهُ وَمَا يَفْعَلْ بِالْمُصَابِ بِالْعَيْنِ
اگر کوئی چیز پسند آ جائے تو کیا کہنا چاہیے، نیز نظر زدہ آدمی کا علاج کیسے کیا جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7747
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَسَارُوا مَعَهُ نَحْوَ مَكَّةَ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِشِعْبِ الْخَزَّارِ مِنَ الْجُحْفَةِ اغْتَسَلَ سَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ حَسَنَ الْجِسْمِ وَالْجِلْدِ فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخُو بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ وَهُوَ يَغْتَسِلُ فَقَالَ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ وَلَا جِلْدَ مُخَبَّأَةٍ فَلُبِطَ سَهْلٌ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لَكَ فِي سَهْلٍ وَاللَّهِ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَمَا يُفِيقُ قَالَ هَلْ تَتَّهِمُونَ فِيهِ مِنْ أَحَدٍ قَالُوا نَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامِرًا فَتَغَيَّظَ عَلَيْهِ وَقَالَ عَلَامَ يَقْتُلُ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ هَلَّا إِذَا رَأَيْتَ مَا يُعْجِبُكَ بَرَّكْتَ ثُمَّ قَالَ لَهُ اغْتَسِلْ لَهُ فَغَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَمِرْفَقَيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَأَطْرَافَ رِجْلَيْهِ وَدَاخِلَةَ إِزَارِهِ فِي قَدَحٍ ثُمَّ صُبَّ ذَلِكَ الْمَاءُ عَلَيْهِ يَصُبُّهُ رَجُلٌ عَلَى رَأْسِهِ وَظَهْرِهِ مِنْ خَلْفِهِ يُكْفِئُ الْقَدَحَ وَرَاءَهُ فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ فَرَاحَ سَهْلٌ مَعَ النَّاسِ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ کی جانب لوٹنے کے لئے چلے تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھا، جحفہ کے قریب خرار گھاٹی میں پہنچے تو سہل بن حنیف نے غسل کیا، یہ سفید رنگ اور حسین جسم والے تھے، جلد بھی بہت اچھی تھی، بنوعدی بن کعب قبیلہ والے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے انہیں غسل کرتے ہوئے دیکھ کر کہا: میں نے اس جیسا خوبصورت بدن نہیں دیکھا، ایسا بدن تو کسی پردہ نشیں دوشیزہ کا بھی نہیں ہوتا، سہل تو وہیں بے ہوش ہوکر گر پڑے، انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا گیا: اے اللہ کے رسول! سہل کا کچھ سوچیں، اللہ کی قسم! یہ نہ تو سر اوپر اٹھاتے ہیں نہ ہوش میں آرہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ان کو کسی کے نظر لگانے کی تہمت لگاتے ہو؟ انہوں نے کہا: انہیں سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بلایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان پر سخت نالاں ہوئے، اور فرمایا: تم اپنے بھائی کو قتل کرنے سے گریز کیوں نہیں کرتے، جب تم نے انہیں دیکھا تھا اور یہ تمہیں پسند آئے تھے تو تم نے برکت کی دعا کیوں نہ کی تھی؟ پھر آپ نے سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کو غسل کرنے کا حکم دیا، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا، ہاتھ، کہنیاں، گھٹنے اور پاؤں کی انگلیاں اور تہبند کے اندر والا بدن کا حصہ دھو کر ایک پیالہ میں پانی دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس پانی کو سہل کے سر اور پشت پر ڈال دے اور پھر پچھلی جانب سے پیالہ انڈیل دے، اس نے ایسا ہی کیا، تو سیدنا سہل رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ ایسے چل رہے تھے کہ گویا کہ انہیں کوئی تکلیف ہی نہ تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7747]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15980 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16076»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث میں نظر زدہ کا علاج بیان ہوا ہے کہ جس کی نظر لگی ہو، اس کو استنجاء اور وضو کروایا جائے، وہ پانی برتن میں ڈال کر جسے نظر لگی ہے، اس کے وجود کے آگے اور پیچھے والے حصے پر انڈیلا جائے تو پھر غسل کروادیا جائے ساری نظر زدگی ختم ہوجاتی ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7748
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ انْطَلَقَ عَامِرُ بْنُ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَسَهْلُ بْنُ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُرِيدَانِ الْغُسْلَ قَالَ فَانْطَلَقَا يَلْتَمِسَانِ الْخَمَرَ قَالَ فَوَضَعَ عَامِرٌ جُبَّةً كَانَتْ عَلَيْهِ مِنْ صُوفٍ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَأَصَبْتُهُ بِعَيْنِي فَنَزَلَ الْمَاءَ يَغْتَسِلُ قَالَ فَسَمِعْتُ لَهُ فِي الْمَاءِ قَرْقَعَةً فَأَتَيْتُهُ فَنَادَيْتُهُ ثَلَاثًا فَلَمْ يُجِبْنِي فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَجَاءَ يَمْشِي فَخَاضَ الْمَاءَ كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ فَضَرَبَ صَدْرَهُ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَذْهِبْ عَنْهُ حَرَّهَا وَبَرْدَهَا وَوَصَبَهَا قَالَ فَقَامَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ مِنْ أَخِيهِ أَوْ مِنْ نَفْسِهِ أَوْ مِنْ مَالِهِ مَا يُعْجِبُهُ فَلْيُبَرِّكْهُ فَإِنَّ الْعَيْنَ حَقٌّ
۔ سیدنا عبداللہ بن عامر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عامر بن ربیعہ اور سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہما دونوں غسل کرنا چاہتے تھے، پس وہ دونوں کسی اوٹ کی تلاش میں نکلے، سیدنا سہل نے اپنا اونی جبہ اتارا، سیدنا عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے انہیں دیکھا تو انہیں میری نظر لگ گئی، وہ پانی میں غسل کے لئے اترے تو میں نے پانی میں ان کے پھڑ پھڑانے کی آواز سنی، میں ان کے پاس آیا اور تین آوازیں دیں، انہوں نے کوئی جواب نہ دیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کی اطلاع دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیدل چل کر تشریف لائے اور پانی میں داخل ہوگئے گویا کہ میں اب بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کے سینے پر ہاتھ مارا اور کہا: اَللّٰھُمَّ أَذْہِبْ عَنْہُ حَرَّہَا وَبَرْدَہَا وَوَصَبَہَا۔ (اے اللہ! اس سے اس کی حرارت، ٹھنڈک اور تھکاوٹ سب دور کردے۔) اس کے بعد سہل کھڑے ہوگئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی کو اپنے بھائی یا خود اپنی جان اور مال میں سے کچھ اچھا لگے تو اس کے لئے برکت کی دعا کرے، نظر کا لگ جانا ایک حقیقت ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7748]
تخریج الحدیث: «قوله العين حق صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، مع وھم فيه، امية بن ھند بن سھل مجھول الحال، أخرجه ابن ماجة: 3506، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15700 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15790»

الحكم على الحديث:
قوله العين حق صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7749
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ صُهَيْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى هَمَسَ شَيْئًا لَا أَفْهَمُهُ وَلَا يُخْبِرُنَا بِهِ قَالَ أَفَطِنْتُمْ لِي قُلْنَا نَعَمْ قَالَ إِنِّي ذَكَرْتُ نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ أُعْطِيَ جُنُودًا مِنْ قَوْمِهِ فَقَالَ مَنْ يُكَافِئُ هَؤُلَاءِ أَوْ مَنْ يَقُومُ لِهَؤُلَاءِ أَوْ غَيْرَهَا مِنَ الْكَلَامِ فَأُوحِيَ إِلَيْهِ أَنْ اخْتَرْ لِقَوْمِكَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ نُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ فَاسْتَشَارَ قَوْمَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالُوا أَنْتَ نَبِيُّ اللَّهِ فَكُلُّ ذَلِكَ إِلَيْكَ خِرْ لَنَا فَقَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَكَانُوا إِذَا فَزِعُوا فَزِعُوا إِلَى الصَّلَاةِ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَ ثُمَّ قَالَ أَيْ رَبِّ أَمَّا عَدُوٌّ مِنْ غَيْرِهِمْ فَلَا أَوْ الْجُوعُ فَلَا وَلَكِنِ الْمَوْتُ فَسُلِّطَ عَلَيْهِمُ الْمَوْتُ فَمَاتَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا فَهَمْسِي الَّذِي تَرَوْنَ أَنِّي أَقُولُ اللَّهُمَّ بِكَ أُقَاتِلُ وَبِكَ أُصَاوِلُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھتے تو چپکے چپکے کچھ کلمات کہتے، نہ میں سمجھ سکا اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں بتایا۔ (ایک دن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: کیا تم سمجھ گئے ہو کہ میں کچھ کلمات کہتا ہوں؟ ہم نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسے نبی کی یاد آئی جسے اپنی قوم میں سے کئی لشکر دیے گئے، اس نے اپنی امت پر اتراتے ہوئے کہا: کون ہے جو ان کے ہم پلہ ہو گا؟ یا کون ہے جو ان کا مقابلہ کر سکے گا؟ یا اس قسم کی بات کی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے اِن تین امور میں سے ایک کو اختیار کر: ہم تیری امت پر ان کا دشمن مسلط کر دیں یا بھوک یا موت۔ اس نے اپنی قوم سے مشورہ کیا۔ انھوں نے کہا: تو اللہ کا نبی ہے، معاملہ تیرے سپر دہے، تو خود اختیار کر لے۔ اس نے نماز شروع کر دی، جب وہ گھبرا جاتے تو نماز کا سہارا لیتے تھے، اس نے نماز پڑھی جتنی کہ اللہ تعالیٰ کو منظور تھی، پھر کہا: اے میرے ربّ: ان پر ان کے دشمن کو بھی مسلط نہیں کرنا اور بھوک کو بھی، چلو موت ہی سہی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر موت مسلط کر دی، ایک دن میں ان میں سے ستر ہزار افراد مر گئے۔ یہ تھا میرا گنگنانا، جیسا کہ تم دیکھ رہے تھے، میں نے کہا: اللّٰہُمَّ بِکَ أُقَاتِلُ، وَبِکَ أُصَاوِلُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔(اے اللہ! میں تو تیری توفیق سے لڑتا ہوں اور تیری توفیق سے ہی حملہ کرتا ہوں نقصان سے بچنے اور اچھے کام کرنے کی طاقت صرف تیرے ساتھ ہے) [الفتح الربانی/كتاب الطب والرقي والعين والعدوى والتشاؤم والفال)/حدیث: 7749]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابن ابي شيبة: 10/ 319، والبزار: 2089، والنسائي في الكبري: 10450، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18937 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19145»
وضاحت: فوائد: … انسان کبھی بھی اپنی اعلی سے اعلی صلاحیتوں کو اپنے کمال کی طرف منسوب نہیں کر سکتا ہے، قارون ایک باغی اور نافرمان انسان تھا، لیکن اللہ تعالی نے اسے بے حد و حساب مال و دولت عطا کیا تھا، جب اس نے یہ دعوی کیا کہ {اِنَّمَا اُوْتِیْتُہٗ عَلٰی عِلْمٍ عِنْدِیْ} کہ جو کچھ میرے پاس ہے یہ میری اپنی فہم و بصیرت اور علم و عقل کا نتیجہ ہے، تو اللہ تعالی کو اس کا یہ دعوی اتنا ناگوار گزرا کہ اس نے اس کو اور اس کے خزانوں کو زمین میں دھنسا دیا۔ لہٰذا اگر کسی خاندان یا کسی فرد کو اس کی تعلیمی صلاحیتوں یا سماجی لیاقتوں وغیرہ کے ذریعے عزت ملی ہے تو وہ اللہ تعالی کا شکریہ ادا کرے اور اس کے سامنے عام انسان کی بہ نسبت زیادہ عاجزی و انکساری کا اظہار کرے۔

الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں