🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. باب الصَّلاَةِ فِي النَّعْلِ
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 651
حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنِي بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا، قَالَ: فِيهِمَا خَبَثٌ، قَالَ: فِي الْمَوْضِعَيْنِ خَبَثًا.
بکر بن عبداللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث (مرسلاً) روایت کی ہے، اس میں لفظ: «فيهما خبث» ہے، اور دونوں جگہ «خبث» ہی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 651]
جناب بکر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مذکورہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اس میں جہاں لفظ «قَذَر» آیا ہے وہاں دونوں جگہ «خُبْث» استعمال کیا (اور معنی ان سب کا ”نجاست“ ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 651]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 4362) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
السند مرسل
و الحديث السابق (الأصل : 650) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 652
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ هِلَالِ بْنِ مَيْمُونٍ الرَّمْلِيِّ، عَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ".
شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود کی مخالفت کرو، کیونکہ نہ وہ اپنے جوتوں میں نماز پڑھتے ہیں اور نہ اپنے موزوں میں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 652]
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود کی مخالفت کرو، یہ لوگ اپنے جوتوں یا موزوں میں نماز نہیں پڑھتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 652]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4830) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جوتے پہن کر یا اتار کر نماز پڑھنا دونوں طرح جائز ہے۔ اگر جوتے پہنے ہوں تو ان کا پاک ہونا شرط ہے۔ جوتوں میں نماز احادیث کی روشنی میں ایک درست عمل ہے۔ اس کا ثواب کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں۔ اہل کتاب اور مشرکین کی مخالفت ان امور مین ہے، جن کی شریعت اسلامیہ نے صراحت کی ہے یا ان کی خاص مذہبی یا قومی علامت ہے۔ ہمارے ہاں مذکورہ مسئلہ اور اس قسم کے بعض دیگر مسائل متروک ہو گئے ہیں۔ ان سنتوں کے احیاء کے لیے پہلے «ادع إلىٰ سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة» (سورۃ النحل، آیت ۱۲۵) کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی سنت سے محبت کا داعیہ پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ بے علم لوگ دین سے اور علمائے حق سے متنفر نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (765)
مروان بن معاوية الفزاري صرح بالسماع عند ابن حبان (357)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 653
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَافِيًا وَمُنْتَعِلًا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ ننگے پاؤں نماز پڑھتے اور جوتے پہن کر بھی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 653]
جناب عمرو بن شعیب (عن أبیہ عن جدہ رضی اللہ عنہ) کے واسطے سے مروی ہے، وہ روایت کرتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جوتے اتار کر نماز پڑھتے تھے اور پہن کر بھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 653]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 66 (1038)، (تحفة الأشراف: 8686)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/174) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جوتے پہن کر یا اتار کر نماز پڑھنا دونوں طرح جائز ہے۔ اگر جوتے پہنے ہوں تو ان کا پاک ہونا شرط ہے۔ جوتوں میں نماز احادیث کی روشنی میں ایک درست عمل ہے۔ اس کا ثواب کی کمی بیشی سے کوئی تعلق نہیں ہے، جیسے کہ مسواک وغیرہ میں ثابت ہے۔ ہمارے ہاں مذکورہ مسئلہ اور اس قسم کے بعض دیگر مسائل متروک ہو گئے ہیں۔ ان سنتوں کے احیاء کے لیے پہلے «ادع إلىٰ سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة» (سورۃ النحل، آیت ۱۲۵) کی بنیاد پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی سنت سے محبت کا داعیہ پیدا کرنا ضروری ہے، تاکہ بے علم لوگ دین سے اور علمائے حق سے متنفر نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (769)
ورواه أحمد بن جعفر بن حمدان القطيعي في جزء الألف دينار (144) عن الفضل بن حباب عن مسلم بن إبراھيم به بلفظ: ’’رأيت رسول اللهﷺ يصلي منتعلًا ويشرب قائمًا وقاعدًا ويصوم في السفر ويفطر وينصرف في الصلاة عن يمينه وشماله‘‘

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
92. باب الْمُصَلِّي إِذَا خَلَعَ نَعْلَيْهِ أَيْنَ يَضَعُهُمَا
باب: نمازی اپنے جوتے اتار کر کہاں رکھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 654
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ أَبُو عَامِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلَا يَضَعْ نَعْلَيْهِ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا عَنْ يَسَارِهِ فَتَكُونَ عَنْ يَمِينِ غَيْرِهِ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ عَنْ يَسَارِهِ أَحَدٌ، وَلْيَضَعْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتوں کو اپنی دائیں جانب نہ رکھا کرے اور نہ بائیں جانب کہ اس طرح وہ کسی دوسرے کی دائیں جانب ہوں گے۔ ہاں اگر اس کی بائیں جانب کوئی اور نہ ہو تو اس طرف رکھ لے ورنہ انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان میں رکھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 654]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے جوتوں کو اپنی دائیں جانب نہ رکھا کرے اور نہ بائیں جانب کہ اس طرح وہ کسی دوسرے کی دائیں جانب ہوں گے۔ ہاں اگر اس کی بائیں جانب کوئی اور نہ ہو تو اس طرف رکھ لے ورنہ انہیں اپنے دونوں قدموں کے درمیان میں رکھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 654]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14855) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (767)
صححه ابن خزيمة (1016 وسنده حسن)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَخَلَعَ نَعْلَيْهِ فَلَا يُؤْذِ بِهِمَا أَحَدًا، لِيَجْعَلْهُمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ، أَوْ لِيُصَلِّ فِيهِمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے اور اپنے جوتے اتارے تو ان کے ذریعہ کسی کو تکلیف نہ دے، چاہیئے کہ انہیں اپنے دونوں پاؤں کے بیچ میں رکھ لے یا انہیں پہن کر نماز پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 655]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کوئی نماز پڑھنے لگے اور اپنے جوتے اتارے تو ان سے کسی دوسرے کو ایذا نہ دے۔ (یعنی اس کے آگے یا دائیں طرف نہ رکھے یا کسی اور طرح سے بھی اذیت کا باعث نہ بنے۔) چاہیے کہ انہیں اپنے قدموں کے درمیان میں رکھے یا پہنے ہوئے ہی نماز پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 655]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14331) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: جوتے اتار کر یا پہن کر نماز پڑھنا دونوں ہی طرح جائز ہے، البتہ کبھی کبھی یہودیوں کی مخالفت کے اظہار کے لیے پہن کر نماز پڑھنا، احیائے سنت کی نیت سے باعث اجر و فضیلت ہے مگر خیال رہے کہ یہ کام بے علم عوام میں فتنے کا باعث نہ بنے۔ کسی بھی مسلمان کو کسی طرح سے اذیت دینا حرام ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
93. باب الصَّلاَةِ عَلَى الْخُمْرَةِ
باب: چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 656
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، حَدَّثَتْنِي مَيْمُونَةُ بِنْتُ الْحَارِثِ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا حِذَاءَهُ وَأَنَا حَائِضٌ وَرُبَّمَا أَصَابَنِي ثَوْبُهُ إِذَا سَجَدَ وَكَانَ يُصَلِّي عَلَى الْخُمْرَةِ".
عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ام المؤمنین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے ہوتی اور حائضہ ہوتی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو بسا اوقات آپ کا کپڑا مجھ سے لگ جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 656]
ام المؤمنین سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب برابر ہی میں ہوتی اور ایام سے ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کو جاتے تو بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کپڑا بھی مجھے لگتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چھوٹی چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 656]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الحیض30 (333)، والصلاة 19 (379)، 21 (381)، صحیح مسلم/المساجد 48 (513)، سنن النسائی/المساجد 44 (739)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 40 (958)، (تحفة الأشراف: 18060)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/330، 335، 336)، سنن الدارمی/الصلاة 101 (1413) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (379) صحيح مسلم (513)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
94. باب الصَّلاَةِ عَلَى الْحَصِيرِ
باب: چٹائی پر نماز پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 657
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ ضَخْمٌ وَكَانَ ضَخْمًا لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ مَعَكَ، وَصَنَعَ لَهُ طَعَامًا وَدَعَاهُ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلِّ، حَتَّى أَرَاكَ كَيْفَ تُصَلِّي فَأَقْتَدِيَ بِكَ، فَنَضَحُوا لَهُ طَرَفَ حَصِيرٍ كَانَ لَهُمْ فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ"، قَالَ فُلَانُ بْنُ الْجَارُودِ، لِأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَكَانَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَ: لَمْ أَرَهُ صَلَّى إِلَّا يَوْمَئِذٍ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بھاری بھر کم آدمی ہوں - وہ بھاری بھر کم تھے بھی، میں آپ کے ساتھ نماز نہیں پڑھ سکتا ہوں، انصاری نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا اور آپ کو اپنے گھر بلایا اور کہا: آپ یہاں نماز پڑھ دیجئیے تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں کہ آپ کس طرح نماز پڑھتے ہیں؟ تو میں آپ کی پیروی کیا کروں، پھر ان لوگوں نے اپنی ایک چٹائی کا کنارہ دھویا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی۔ راوی کہتے ہیں: فلاں بن جارود نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ چاشت کی نماز پڑھتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے آپ کو کبھی اسے پڑھتے نہیں دیکھا سوائے اس دن کے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 657]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک انصاری نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں بھاری جسم والا ہوں“ (اور وہ واقعی موٹا تھا) ”میں آپ کی معیت میں نماز ادا نہیں کر سکتا۔“ اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کروایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر دعوت دی کہ ”آپ (میرے ہاں گھر میں) نماز پڑھیں، حتیٰ کہ آپ کو دیکھوں کہ آپ کیسے نماز پڑھتے ہیں، لہٰذا میں بھی آپ کی طرح کیا کروں۔“ (چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے گھر تشریف لے گئے) تو ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چٹائی کے ایک ٹکڑے پر پانی چھڑکا (تاکہ وہ نرم ہو جائے)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھی۔ جارود کے بیٹے فلاں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ضحیٰ (چاشت کے وقت) کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: ”میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اسی دن یہ نماز پڑھتے دیکھا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 657]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الأذان 41 (670)، (تحفة الأشراف: 234)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130، 131، 184، 291) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح خ دون قوله فصل حتى أراك كيف تصلي فأقتدي بك
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (870)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 658
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الذَّارِعُ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ سُلَيْمٍ فَتُدْرِكُهُ الصَّلَاةُ أَحْيَانًا فَيُصَلِّي عَلَى بِسَاطٍ لَنَا وَهُوَ حَصِيرٌ نَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم رضی اللہ عنہا کی زیارت کے لیے آتے تھے، تو کبھی نماز کا وقت ہو جاتا تو آپ ہماری ایک چٹائی پر جسے ہم پانی سے دھو دیتے تھے نماز ادا کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 658]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کی ملاقات کے لیے جایا کرتے تھے تو بعض اوقات ان کے ہاں نماز کا وقت بھی ہو جاتا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری ایک چٹائی پر نماز پڑھا کرتے تھے، وہ اس چٹائی پر پانی چھڑک دیا کرتی تھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 658]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود (تحفة الأشراف: 1330)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 20 (380)، والأذان 78 (727)، 161 (860)، 164 (871)، 167 (874)، صحیح مسلم/المساجد 48 (513)، سنن الترمذی/الصلاة 59 (331)، سنن النسائی/المساجد 43 (738)، والإمامة 19 (802)، 62 (870)، موطا امام مالک/الصلاة 9 (31)، مسند احمد (3/131، 145، 149، 164)، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1324) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق (612)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 659
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ بمعنى الإسناد والحديث، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي عَوْنٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي عَلَى الْحَصِيرِ وَالْفَرْوَةِ الْمَدْبُوغَةِ".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چٹائی اور دباغت دیئے ہوئے چمڑوں پر نماز پڑھتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 659]
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”چٹائی اور رنگے ہوئے چمڑے پر نماز پڑھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 659]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11509)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/254) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (یونس بن الحارث ضعیف ہیں اور ابوعون کے والد عبیداللہ بن سعید ثقفی مجہول ہیں، نیز مغیرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت منقطع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
يونس بن الحارث ضعفه الجمهور وقال في التقريب(7902) ’’ ضعيف ‘‘
وفي سماع عبد اللّٰه بن سعيد من المغيرة نظر : انظر ھامش اتحاف المھرة (13/ 421)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
95. باب الرَّجُلِ يَسْجُدُ عَلَى ثَوْبِهِ
باب: آدمی اپنے کپڑے پر سجدہ کرے اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 660
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا غَالِبٌ الْقَطَّانُ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، فَإِذَا لَمْ يَسْتَطِعْ أَحَدُنَا أَنْ يُمَكِّنَ وَجْهَهُ مِنَ الْأَرْضِ بَسَطَ ثَوْبَهُ فَسَجَدَ عَلَيْهِ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمی میں نماز پڑھتے تھے، تو جب ہم میں سے کوئی اپنی پیشانی زمین پر نہیں ٹیک پاتا تھا تو اپنا کپڑا بچھا کر اس پر سجدہ کرتا تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 660]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”سخت گرمی کے موسم میں ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، تو جب کوئی ہم میں سے اپنی پیشانی زمین پر نہ ٹکا سکتا، تو اپنا کپڑا بچھا لیتا پھر اس پر سجدہ کرتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 660]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 23 (385)، والمواقیت 11 (542)، والعمل في الصلاة 9 (1208)، صحیح مسلم/المساجد 33 (620)، سنن الترمذی/الجمعة 58 (584)، سنن النسائی/ الکبری التطبیق 57 (703)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 64 (1033)، (تحفة الأشراف: 250)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/400)، سنن الدارمی/الصلاة 82 (1376) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: سجدے کی جگہ پر کوئی چٹائی، چمڑا یا کپڑا وغیرہ بچھایا گیا ہو تو کوئی حرج نہیں، البتہ پیشانی کا ننگا ہونا اور ننگی زمین پر سجدہ کرنا افضل اور بہتر ہے۔ (صحیح بخاری، حدیث ۳۸۵، صحیح مسلم ۶۲۰) نماز میں خشوع ایک اہم اور ضروری عمل ہے اسے حاصل کرنے اور قائم رکھنے کے لیے گرمی یا سردی سے بچنے یا اس قسم کے معمولی اعمال نماز کے دوران میں بھی جائز ہیں تاکہ ذہن اور جسم ان عوارض میں الجھا نہ رہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (385) صحيح مسلم (620)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں