سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب الرَّجُلَيْنِ يَؤُمُّ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ كَيْفَ يَقُومَانِ
باب: جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دونوں کیسے کھڑے ہوں؟
حدیث نمبر: 611
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ، قَالَ: فَأَخَذَ بِرَأْسِي أَوْ بِذُؤَابَتِي فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ.
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس واقعہ میں مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا سر یا میری چوٹی پکڑی پھر مجھے اپنی داہنی جانب لا کھڑا کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 611]
جناب سعید بن جبیر، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس قصے میں بیان کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میرے سر سے پکڑا یا میرے بال پکڑے اور مجھے اپنی دائیں جانب کھڑا کر لیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 611]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/اللباس 71 (5919)، (تحفة الأشراف: 5455)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/215، 287) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (5919 من حديث ھشيم به وصرح بالسماع)
71. باب إِذَا كَانُوا ثَلاَثَةً كَيْفَ يَقُومُونَ
باب: جب تین آدمی نماز پڑھ رہے ہوں تو کس طرح کھڑے ہوں؟
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ،" أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ فَأَكَلَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: قُومُوا فَلَأُصَلِّيَ لَكُمْ، قَالَ أَنَسٌ: فَقُمْتُ إِلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ انْصَرَفَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا، جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تیار کیا تھا، تو آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: ”تم لوگ کھڑے ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں“۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اپنی ایک چٹائی کی طرف بڑھا، جو عرصے سے پڑے پڑے کالی ہو گئی تھی تو اس پر میں نے پانی چھڑکا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور ایک یتیم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف باندھی اور بوڑھی عورت (ملیکہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں تو آپ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر واپس ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 612]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان کی نانی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانے پر بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تناول فرمایا پھر کہا ”کھڑے ہو جاؤ میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔“ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک چٹائی لے آیا جو طویل استعمال سے کالی ہو گئی تھی۔ میں نے اس پر پانی چھڑک دیا (تاکہ کچھ نرم ہو جائے۔) آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہو گئے۔ میں نے اور یتیم (ابن ابی ضمیرہ، مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا (ملیکہ رضی اللہ عنہا) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ آپ نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 612]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 20 (380)، والأذان 78 (727)، 161 (860)، 164 (871)، 167 (874)، صحیح مسلم/المساجد 48 (658)، سنن الترمذی/الصلاة 59 (234)، سنن النسائی/المساجد 43 (738)، والإمامة 19 (802)، 62 (870)، (تحفة الأشراف: 197)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 9(31)، مسند احمد (3/131، 145، 149، 164)، سنن الدارمی/الصلاة 61 (1324)، (صحیح)»
وضاحت: تین مرد ہوں تو امام آگے اور باقی دو اس کے پیچھے صف بنائیں اور عورت کی علیحدہ صف ہو گی خواہ اکیلی ہی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (380) صحيح مسلم (658)
حدیث نمبر: 613
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عنترة، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلْقَمَةُ، وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ وَقَدْ كُنَّا أَطَلْنَا الْقُعُودَ عَلَى بَابِهِ، فَخَرَجَتِ الْجَارِيَةُ فَاسْتَأْذَنَتْ لَهُمَا فَأَذِنَ لَهُمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بَيْنِي وَبَيْنَهُ، ثُمَّ قَالَ:" هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ".
اسود بن یزید نخعی سے روایت ہے کہ میں نے اور علقمہ بن قیس نخعی نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آنے کی اجازت مانگی اور ہم دیر تک آپ کے دروازے پر بیٹھے تھے، تو لونڈی نکلی اور اس نے جا کر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ہمارے لیے اجازت مانگی، آپ نے ہم کو اجازت دی (اور ہم اندر گئے) پھر ابن مسعود میرے اور علقمہ کے درمیان میں کھڑے ہوئے اور نماز پڑھائی پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 613]
جناب عبدالرحمٰن بن اسود اپنے والد سے راوی ہیں، انہوں نے کہا کہ ”جناب علقمہ اور اسود نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (ان کے گھر میں ملنے کی) اجازت چاہی اور ہمیں ان کے دروازے پر کافی دیر بیٹھنا پڑا تھا۔ بالآخر ایک لونڈی آئی جس نے ہمارے لیے اجازت طلب کی تو آپ نے ہمیں بلوا لیا۔ پھر آپ نماز کے لیے اٹھے تو میرے اور ان کے درمیان کھڑے ہوئے (اور ہمیں نماز پڑھائی) پھر کہا کہ ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی دیکھا تھا۔““ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 613]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/المساجد 27 (720)، والإمامة 18 (800)، والتطبیق 1 (1030)، (تحفة الأشراف: 9173)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المساجد 5 (1191)، مسند احمد (1/424، 451، 455، 459) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جب تین آدمی جماعت سے نماز پڑھ رہے ہوں تو امام آگے کھڑا ہو گا، اور دونوں مقتدی اس کے پیچھے کھڑے ہوں گے، اور یہ حکم کہ تین آدمی ہوں تو امام ان کے درمیان کھڑا ہو منسوخ ہے، ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ جگہ کی تنگی کی وجہ سے آگے بڑھنے کے بجائے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے (دیکھئے عون المعبود،حدیث مذکور)۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
72. باب الإِمَامِ يَنْحَرِفُ بَعْدَ التَّسْلِيمِ
باب: سلام پھیرنے کے بعد امام کے (مقتدیوں کی طرف) مڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 614
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ إِذَا انْصَرَفَ انْحَرَفَ".
یزید بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو (نمازیوں کی طرف) مڑ گئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 614]
جناب جابر بن یزید بن اسود رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں، انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی تو (دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تو قبلے کی طرف سے (مقتدیوں کی طرف) پھر جایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 614]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 51 (219)، الإمامة 54 (857)، (تحفة الأشراف: 11823)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/275، 279) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 615
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ:" كُنَّا إِذَا صَلَّيْنَا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْبَبْنَا أَنْ نَكُونَ عَنْ يَمِينِهِ، فَيُقْبِلُ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو ہماری یہ خواہش ہوتی کہ ہم آپ کی داہنی طرف رہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سلام پھیرنے کے بعد) اپنا رخ ہماری طرف کر لیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 615]
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”ہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے تو پسند کرتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں جانب کھڑے ہوں کہ آپ (بعد از سلام) ہماری طرف رخ کریں گے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 615]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/المسافرین 8 (709)، سنن النسائی/الإمامة 34 (823)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 55 (1006)، (تحفة الأشراف: 1789)، وقد أخرجہ: (4/290، 304) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ تر داہنی طرف مڑتے تھے، اس لئے لوگ آپ کے دائیں رہنا پسند کرتے تھے، بعض اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں طرف بھی مڑتے تھے۔ سلام کے بعد امام کا حالت تشہد سے پھر کر مقتدیوں کی طرف رخ کر کے بیٹھنا مسنون ہے۔ اور اس طرح بیٹھے کہ دائیں جانب والوں کی طرف رخ قدرے زیادہ ہو اور بائیں طرف والے بھی اچھی طرح اس کی نظر میں ہوں۔ اس طرح بیٹھنا کہ بائیں جانب والوں کی طرف پشت ہو جائے صحیح نہیں ہے۔ اور مذکورہ عمل دائمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ کبھی کبھی رخ بائیں جانب بھی ہونا چاہیے۔ (تفصیل آئندہ کی احادیث میں ان شاء اللہ آئے گی)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (709)
73. باب الإِمَامِ يَتَطَوَّعُ فِي مَكَانِهِ
باب: امام اپنی جگہ پر نفل پڑھے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 616
حَدَّثَنَا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، حَدَّثَنَا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلّيِ الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يَتَحَوَّلَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ لَمْ يُدْرِكْ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام نے جس جگہ نماز پڑھائی ہو، اسی جگہ (سنت یا نفل) نہ پڑھے، حتیٰ کہ وہاں سے ہٹ جائے“۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عطاء خراسانی کی مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 616]
عطاء خراسانی، سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام نے جس جگہ نماز پڑھائی ہو، اسی جگہ (سنت یا نفل) نہ پڑھے، حتیٰ کہ وہاں سے ہٹ جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”عطاء خراسانی نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 616]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 203 (1428)، (تحفة الأشراف: 11517) (صحیح)» (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں دو علتیں ہیں: عطاء خراسانی اور مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع، اور عبدالعزیز قرشی مجہول ہیں)
وضاحت: دیگر روایات سے اس کا اثبات ہوتا ہے۔ جیسے صحیح مسلم میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ”جب تم جمعہ پڑھ لو تو اس کے بعد اسے دوسری نماز سے مت ملاؤ حتی کہ بات کر لو یا وہاں سے نکل جاؤ“۔ اسی روایت میں آگے یہ بھی ہے ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم کسی نماز کو کسی نماز کے ساتھ نہ ملائیں، حتی کہ ہم گفتگو کر لیں یا اس جگہ سے نکل جائیں“۔ حکمت اس میں یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ جگہوں پر سجدہ ثبت ہو، یہ مقامات قیامت کے روز گواہی دیں گے جیسے کہ آیت کریمہ «يومئذ تحدث أخبارها» ”زمین اس دن اپنی خبریں بتائے گی“ (سورة الزلزلة، ۴)۔ کی تفسیر میں آتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1428)
سنده مرسل،عطاء الخراساني لم يدرك المغيرة بن شعبة قاله أبو داود
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1428)
سنده مرسل،عطاء الخراساني لم يدرك المغيرة بن شعبة قاله أبو داود
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
74. باب الإِمَامِ يُحْدِثُ بَعْدَ مَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنْ آخِرِ الرَّكْعَةِ
باب: آخری رکعت کے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد امام کا وضو ٹوٹ جائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 617
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، وَبَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا قَضَى الْإِمَامُ الصَّلَاةَ وَقَعَدَ فَأَحْدَثَ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ، فَقَدْ تَمَّتْ صَلَاتُهُ، وَمَنْ كَانَ خَلْفَهُ مِمَّنْ أَتَمَّ الصَّلَاةَ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام نماز پوری کر لے اور آخری قعدہ میں بیٹھ جائے، پھر بات کرنے (یعنی سلام پھیرنے) سے پہلے اس کا وضو ٹوٹ جائے تو اس کی اور اس کے پیچھے جنہوں نے نماز مکمل کی، سب کی نماز پوری ہو گئی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 617]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام نے جب نماز پوری کر لی ہو اور (آخری) قعدہ میں بیٹھ گیا ہو اور کلام کرنے (یعنی سلام پھیرنے) سے پہلے ہی بے وضو ہو جائے تو اس کی نماز ہو گئی اور اس کے مقتدیوں کی بھی جنہوں نے نماز پوری پڑھی ہو، نماز کامل ہو گی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 617]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 188 (408)، (تحفة الأشراف: 8610) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں، نیز یہ حدیث اگلی صحیح حدیث کے مخالف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (408)
الإ فريقي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
إسناده ضعيف
ترمذي (408)
الإ فريقي : ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
حدیث نمبر: 618
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ عَقِيلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مِفْتَاحُ الصَّلَاةِ الطُّهُورُ وَتَحْرِيمُهَا التَّكْبِيرُ وَتَحْلِيلُهَا التَّسْلِيمُ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کلید (کنجی) پاکی ہے، اور اس کی تحریم تکبیر ہے، اور اس کی تحلیل تسلیم (سلام) ہے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 618]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی «مِفْتَاح» (چابی) وضو ہے۔ اس کی «تَحْرِیم»، «تَکْبِیر» اور «تَحْلِیل» «سَلَام» ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 618]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الطھارة 3 (3)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 3 (275)، (تحفة الأشراف: 10265)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/123)، سنن الدارمی/الطھارة 21 (713) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: تکبیر تحریمہ یعنی «اللہ اکبر» کہنے سے عام مشاغل حرام ہو جاتے ہیں، اور «السلام علیکم ورحمة اللہ» کہنے سے یہ مشاغل حلال ہو جاتے ہیں (وہ سارے کام جائز ہو جاتے ہیں جو نماز میں ناجائز ہو گئے تھے)۔ نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ نماز کی ابتداء لفظ «اللہ اکبر» سے ہے اور اس سے نکلنے کے لیے «السلام علیکم ورحمة اللہ» مشروع ہے نہ کہ کوئی اور کلمات یا اعمال، پس سلام ہی کے ذریعہ آدمی کی نماز پوری ہو گی نہ کہ کسی اور چیز سے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
ابن عقيل ضعفه الجمھور وللحديث شواھد كثيرة منھا قول ابن مسعود رضي الله عنه، رواه البيهقي (2/ 16) وسنده صحيح وله حكم المرفوع، فالحديث حسن
ابن عقيل ضعفه الجمھور وللحديث شواھد كثيرة منھا قول ابن مسعود رضي الله عنه، رواه البيهقي (2/ 16) وسنده صحيح وله حكم المرفوع، فالحديث حسن
76. باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الإِمَامِ
باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں۔
حدیث نمبر: 619
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَادِرُونِي بِرُكُوعٍ وَلَا بِسُجُودٍ، فَإِنَّهُ مَهْمَا أَسْبِقْكُمْ بِهِ إِذَا رَكَعْتُ تُدْرِكُونِي بِهِ إِذَا رَفَعْتُ إِنِّي قَدْ بَدَّنْتُ".
معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”رکوع اور سجود میں تم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کیا کرو، کیونکہ میں رکوع کرنے میں تم سے جس قدر آگے ہوں گا، میرے سر اٹھانے پر تمہاری یہ تلافی ہو جائے گی (کہ تم اتنا یہ تاخیر سے سر اٹھاؤ گے) بلاشبہ میں کسی قدر بھاری ہو گیا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 619]
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رکوع اور سجود میں تم مجھ سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کیا کرو، کیونکہ میں رکوع کرنے میں تم سے جس قدر آگے ہوں گا، میرے سر اٹھانے پر تمہاری یہ تلافی ہو جائے گی (کہ تم اتنی تاخیر سے سر اٹھاؤ گے) بلاشبہ میں کسی قدر بھاری ہو گیا ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 41 (963)، (تحفة الأشراف: 11426)، وقد أخرجہ: حم(4/92، 98)، سنن الدارمی/الطھارة 72 (782) (حسن صحیح)»
وضاحت: یہاں جسمانی طور پر بھاری پن کے اظہار سے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب، نماز کے ارکان کی ادائیگی میں اعتدال و توازن ہے۔ یعنی میرے سر اٹھانے تک تم رکوع ہی میں رہو، یہ عوض ہو جائے گا اس مدت کا جو تم میرے بعد رکوع میں گئے تھے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن حبان (الإحسان: 2226، 2227) وسنده حسن، وللحديث شواھد
صححه ابن حبان (الإحسان: 2226، 2227) وسنده حسن، وللحديث شواھد
حدیث نمبر: 620
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ الْخَطْمِيَّ يَخْطُبُ النَّاسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْبَرَاءُ وَهُوَ غَيْرُ كَذُوبٍ،" أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ مِنَ الرُّكُوعِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامُوا قِيَامًا، فَإِذَا رَأَوْهُ قَدْ سَجَدَ سَجَدُوا".
براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے ... اور وہ جھوٹے نہ تھے ... کہ لوگ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے سروں کو رکوع سے اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہو جاتے، پھر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ لیتے کہ آپ سجدے میں چلے گئے ہیں، تب سجدہ میں جاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 620]
جناب عبداللہ بن یزید خطمی لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے کہا: ”ہمیں سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، اور وہ جھوٹے نہیں تھے، کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رکوع سے سر اٹھاتے تو کھڑے رہتے، جب دیکھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے ہیں تب سجدے کے لیے جھکتے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 52 (690)، 91 (747)، 133 (811)، صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، سنن الترمذی/الصلاة 93 (281)، سنن النسائی/الإمامة 38 (830)، مسند احمد (4/292، 300، 304)، (تحفة الأشراف: 1772) (صحیح)»
وضاحت: مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (747) صحيح مسلم (474)