سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
81. باب الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَى غَيْرِهِ
باب: آدمی ایسے کپڑے میں نماز پڑھے جس کا کچھ حصہ دوسرے شخص پر ہو۔
حدیث نمبر: 631
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ بَعْضُهُ عَلَيَّ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کپڑے میں نماز پڑھی جس کا کچھ حصہ میرے اوپر تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 631]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کپڑے میں نماز پڑھی اور اس کا کچھ حصہ مجھ پر بھی تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 631]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 16071)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 51 (514)، سنن النسائی/القبلة 17 (769)، سنن ابن ماجہ/الطہارة 131 (652)، مسند احمد (6/204) (صحیح)»
وضاحت: ثابت ہوا کہ اس طرح جائز ہے کہ ایک بڑی چادر یا کمبل وغیرہ کا کچھ حصہ نمازی پر ہو اور کچھ حصہ اس کی بیوی پر، خواہ وہ ایام سے بھی ہو تو کوئی حرج نہیں۔ تفصیل دیکھئیے (سنن ابوداود، حدیث ۳۶۹، ۳۷۰)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
82. باب فِي الرَّجُلِ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ وَاحِدٍ
باب: آدمی ایک کرتے (قمیص) میں نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 632
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَجُلٌ أَصِيدُ،" أَفَأُصَلِّي فِي الْقَمِيصِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَازْرُرْهُ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ".
سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکاری ہوں، کیا میں ایک کُرتے (قمیض) میں نماز پڑھ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، اور اسے ٹانک لیا کرو (بٹن لگا لیا کرو)، خواہ کسی کانٹے سے ہی سہی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 632]
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میں شکاری آدمی ہوں۔ کیا میں صرف ایک قمیض میں نماز پڑھ لیا کروں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں اور اسے بٹن لگا لیا کرو خواہ کانٹے ہی کے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 632]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/القبلة 15 (766)، (تحفة الأشراف: 4533)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/49، 54) (حسن)»
وضاحت: ظاہر ہے کہ اس سے مراد عرب کی خاص لمبی قمیص ہے۔ اگر اس کے نیچے شلوار یا چادر نہ بھی ہو تو نماز جائز ہے، بشرطیکہ ستر پوری طرح ڈھکا ہوا ہو، اگر ستر کھلنے کا اندیشہ ہو تو اسے باندھنے کا حکم دیا گیا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (760)
صححه ابن خزيمة (777، 778 وسنده حسن) موسيٰ بن إبراھيم صرح بالسماع عند أحمد (4/49)
مشكوة المصابيح (760)
صححه ابن خزيمة (777، 778 وسنده حسن) موسيٰ بن إبراھيم صرح بالسماع عند أحمد (4/49)
حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي حَوْمَلٍ الْعَامِرِيِّ، قَالَ أَبُو دَاوُد: كَذَا قَالَ، وَالصَّوَابُ:أَبُو حَرْمَلٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَّنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَمِيصٍ لَيْسَ عَلَيْهِ رِدَاءٌ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي قَمِيصٍ".
عبدالرحمٰن بن ابی بکر کہتے ہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے ایک کرتے میں ہماری امامت کی، ان کے جسم پر کوئی چادر نہ تھی، تو جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کرتے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 633]
جناب محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر (ملیکی) اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ایک قمیض میں ہمیں نماز پڑھائی اور ان پر چادر نہ تھی۔ جب وہ فارغ ہوئے تو کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا کہ آپ نے ایک ہی قمیض میں نماز پڑھائی تھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 633]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 2379)، وقد أخرجہ: وقد ورد بلفظ: ’’ثوب واحد‘‘ عند: صحیح البخاری/الصلاة 3 (353)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (518)، مسند احمد (3/293، 294) (ضعیف)» (عبدالرحمن بن أبی بکر ملیکی ضعیف ہیں، یہ حدیث صحیحین میں ’’ایک کپڑا‘‘ کے لفظ سے موجود ہے)
وضاحت: ۱؎: صحیحین میں ”ایک قمیص یا کرتا“کی جگہ ”ایک کپڑا“ یا ”ایک تہبند“ کا لفظ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
العامري : مجهول (تقريب : 8068)
و محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي بكر و أبوه ضعيفان ضعفھما الجمهور،انظر تقريب التهذيب (6065،3815 مجهول) وكتب المجروحين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
إسناده ضعيف
العامري : مجهول (تقريب : 8068)
و محمد بن عبد الرحمٰن بن أبي بكر و أبوه ضعيفان ضعفھما الجمهور،انظر تقريب التهذيب (6065،3815 مجهول) وكتب المجروحين
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 35
83. باب إِذَا كَانَ الثَّوْبُ ضَيِّقًا يَتَّزِرُ بِهِ
باب: جب کپڑا تنگ اور چھوٹا ہو تو اسے تہہ بند بنا لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 634
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَيَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيلَ،حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ:" سِرْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي وَكَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أُخَالِفُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي، وَكَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَكَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا لَا تَسْقُطُ، ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّى أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، فَجَاءَ ابْنُ صَخْرٍ حَتَّى قَامَ عَنْ يَسَارِهِ فَأَخَذَنَا بِيَدَيْهِ جَمِيعًا حَتَّى أَقَامَنَا خَلْفَهُ، قَالَ: وَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ، ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَأَشَارَ إِلَيَّ أَنْ أَتَّزِرَ بِهَا، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَا جَابِرُ، قَالَ: قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا كَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ، وَإِذَا كَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَى حِقْوِكَ".
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو انہوں نے کہا: میں ایک غزوہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا (رات میں میں کسی غرض سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں، اس وقت میرے جسم پر صرف ایک چادر تھی، میں اس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا تو وہ میرے لیے ناکافی ہوئی، البتہ اس میں کچھ گوٹ اور کناریاں لگی تھیں تو میں نے اسے الٹ لیا اور اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لیا اور گردن سے اسے روکے رکھا تاکہ گرنے نہ پائے، پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی داہنی طرف کھڑا کر لیا۔ پھر ابن صخر رضی اللہ عنہ آئے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں طرف کھڑے ہو گئے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے ہم دونوں کو پکڑ کر اپنے پیچھے کھڑا کر دیا، مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنکھیوں سے دیکھنے لگے، میں سمجھ نہیں پا رہا تھا (کہ آپ مجھ سے کیا کہنا چاہتے ہیں)، پھر بات میری سمجھ میں آ گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تہہ بند باندھنے کا اشارہ کیا، پھر جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جابر!“، میں نے کہا: اللہ کے رسول! فرمائیے، حاضر ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب چادر کشادہ ہو تو اس کے دونوں کناروں کو ادھر ادھر ڈال لو، اور جب تنگ ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لیا کرو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 634]
جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ ہم سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے تو انہوں نے بتایا کہ ”میں ایک غزوے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور مجھ پر ایک چادر تھی۔ میں نے اس کے پلوؤں کو اس کے مخالف اطراف سے لپیٹنے کی کوشش کی (یعنی دایاں پلو بائیں کندھے پر اور بایاں پلو دائیں کندھے پر ڈالنے لگا) مگر اس میں گنجائش نہیں تھی اور اس کے کناروں پر جھالر سی لگی تھی۔ میں نے انہیں الٹا کیا اور اس کے کناروں میں اختلاف کر کے اپنی گردن پر باندھ لیا اور گردن کو جھکا لیا کہ کہیں گر نہ جائے۔ پھر میں آ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کر دیا۔ پھر ابن صخر آئے اور وہ آپ کی بائیں جانب کھڑے ہو گئے۔ پس آپ نے ہم دونوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑا حتیٰ کہ اپنے پیچھے کھڑا کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے کنکھیوں سے دیکھ رہے تھے مگر میں نہ سمجھ سکا۔ پھر میں سمجھ گیا اور آپ نے اشارہ کیا کہ اسے تہ بند بنا لوں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے جابر!“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب کپڑا کھلا ہو تو اس کے کناروں میں اختلاف کر لیا کرو (اور کندھوں پر ڈال لیا کرو) اور اگر تنگ ہو تو اپنی کمر پر باندھ لیا کرو۔“ (یعنی صرف تہبند باندھ لیا کرو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 634]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2360)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/المسافرین 26 (1788)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 44 (973)، مسند احمد (3/351) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (3008)
حدیث نمبر: 635
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوْ قَالَ: قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ ثَوْبَانِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ فَلْيَتَّزِرْ بِهِ وَلَا يَشْتَمِلِ اشْتِمَالَ الْيَهُودِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو چاہیئے کہ ان دونوں میں نماز پڑھے، اور اگر ایک ہی کپڑا ہو تو چاہیئے کہ اسے تہہ بند بنا لے اور اسے یہودیوں کی طرح نہ لٹکائے ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 635]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یا یہ کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”جب تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ان میں نماز پڑھے۔ اگر ایک ہی ہو تو اسے تہبند بنا لے اور یہودیوں کی طرح نہ لپیٹے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 635]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7583)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/148) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «اشتمال اليهود» یہود کی طرح لپیٹنے کا مطلب یہ ہے کہ چادر اس طرح اوڑھی جائے کہ دونوں ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو کر رہ جائیں اور انہیں باہر نکالنا آسان نہ ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (771)
مشكوة المصابيح (771)
حدیث نمبر: 636
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بْنُ وَاضِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُنِيبِ عُبَيْدُ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ فِي لِحَافٍ لَا يَتَوَشَّحُ بِهِ وَالْآخَرُ أَنْ تُصَلِّيَ فِي سَرَاوِيلَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ رِدَاءٌ".
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے «لحاف» چادر میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے جس کے دائیں کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو دائیں کندھے پر نہ ڈالا جا سکے، اور دوسری بات جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے یہ کہ تم پاجامہ میں نماز پڑھو اور تمہارے اوپر کوئی چادر نہ ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 636]
جناب عبداللہ بن بریدہ اپنے والد سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ ”آدمی چادر میں ایسے نماز پڑھے کہ اسے لپیٹا نہ ہو، دوسرے یہ کہ صرف پاجامے میں نماز پڑھے اور اس پر چادر نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 636]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1987) (حسن)»
وضاحت: عمداً چھوٹا کپڑا لینا کہ کندھوں پر کچھ نہ آ سکے یا جان بوجھ کر کندھوں کو ننگا رکھنا ناجائز ہے۔ حسب وسعت لباس پورا ہونا چاہیے۔ پاجامے پر چادر کی تلقین ستر کے لیے ہے کہ پوشیدہ جسم کے حصے کپڑے کے اوپر سے بھی نمایاں نہ ہوں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه البيھقي (2/236 وسنده صحيح)
أخرجه البيھقي (2/236 وسنده صحيح)
85. باب الإِسْبَالِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں کپڑا ٹخنے سے نیچے لٹکانے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 637
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ أَسْبَلَ إِزَارَهُ فِي صَلَاتِهِ خُيَلَاءَ، فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَامٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا جَمَاعَةٌ، عَنْ عَاصِمٍ، مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، مِنْهُمْ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَأَبُو الْأَحْوَصِ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے ”جس نے نماز میں تکبر کرتے ہوئے اپنا تہبند ٹخنوں کے نیچے لٹکایا، اللہ اس کے گناہ معاف نہیں فرمائے گا، نہ برے کاموں سے اسے بچائے گا“۔ (یا اس کے لیے جنت کو حلال اور جہنم کو حرام نہیں فرمائے گا یا جب وہ اللہ کی طرف سے کسی حلال کام میں نہیں تو اس کے لیے بھی کوئی احترام نہ ہو گا)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محدثین کی ایک جماعت مثلاً حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابو الاحواص اور ابومعاویہ رحمہ اللہ علیہم نے اس حدیث کو عاصم سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 637]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”جس نے نماز میں تکبر کرتے ہوئے اپنا تہبند ٹخنوں کے نیچے لٹکایا، اللہ اس کے گناہ معاف نہیں فرمائے گا، نہ برے کاموں سے اسے بچائے گا۔“ (یا اس کے لیے جنت کو حلال اور جہنم کو حرام نہیں فرمائے گا یا جب وہ اللہ کی طرف سے کسی حلال کام میں نہیں تو اس کے لیے بھی کوئی احترام نہ ہو گا)۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ محدثین کی ایک جماعت مثلاً حماد بن سلمہ، حماد بن زید، ابو الاحواص اور ابومعاویہ رحمہم اللہ نے اس حدیث کو عاصم سے، ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 637]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 9379) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 638
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبَانُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَهُ إِذْ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، ثُمَّ قَالَ: اذْهَبْ فَتَوَضَّأْ، فَذَهَبَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَكَ أَمَرْتَهُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْهُ؟ فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُصَلِّي وَهُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَهُ، وَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنا تہبند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”جا کر دوبارہ وضو کرو“، چنانچہ وہ گیا اور اس نے (دوبارہ) وضو کیا، پھر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: ”جا کر پھر سے وضو کرو“، چنانچہ وہ پھر گیا اور تیسری بار وضو کیا، پھر آیا تو ایک شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا بات ہے! آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا پھر آپ خاموش رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اپنا تہہ بند ٹخنے سے نیچے لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا، اور اللہ تعالیٰ ٹخنے سے نیچے تہبند لٹکا کر نماز پڑھنے والے کی نماز قبول نہیں فرماتا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 638]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور وہ اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دیکھا تو) اسے فرمایا: ”جاؤ اور وضو کر کے آؤ۔“ چنانچہ وہ گیا اور وضو کر کے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبارہ فرمایا: ”جاؤ اور وضو کر کے آؤ۔“ چنانچہ وہ گیا اور وضو کر کے آیا۔ تو ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”اے اللہ کے رسول! کس وجہ سے آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا، پھر آپ اس سے خاموش ہو رہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللہ تعالیٰ ایسے بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جو اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 638]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، وأعاده في اللباس (رقم: 4086)، (تحفة الأشراف: 14241) (ضعیف)» (اس کے راوی ابوجعفر مؤذن لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (761)
أبو جعفر المديني وثقه الجمھور، وأخرجه بيھقي (2/242 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (761)
أبو جعفر المديني وثقه الجمھور، وأخرجه بيھقي (2/242 وسنده حسن)
86. باب فِي كَمْ تُصَلِّي الْمَرْأَةُ
باب: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ أُمِّهِ، أَنَّهَا سَأَلَتْ أُمَّ سَلَمَةَ: مَاذَا تُصَلِّي فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ؟ فَقَالَتْ:"تُصَلِّي فِي الْخِمَارِ وَالدِّرْعِ السَّابِغِ الَّذِي يُغَيِّبُ ظُهُورَ قَدَمَيْهَا".
ام حرام والدہ محمد بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: عورت کتنے کپڑوں میں نماز پڑھے؟ تو انہوں نے کہا: وہ اوڑھنی اور ایک ایسے لمبے کرتے میں نماز پڑھے جو اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو چھپا لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 639]
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا گیا کہ عورت کن کپڑوں میں نماز پڑھے؟ تو انہوں نے کہا: ”اوڑھنی اور پوری قمیص میں نماز پڑھے جو اس کے پاؤں تک کو ڈھانپ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 639]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18291)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/صلاة الجماعة 10(36) (ضعیف موقوف)» (محمد بن زید بن قنفذ کی ماں أم حرام مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف موقوف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أم محمد بن زيد اختلف قول الذهبي فيھا ووثقھا الحاكم وحده فھي مجھولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
إسناده ضعيف
أم محمد بن زيد اختلف قول الذهبي فيھا ووثقھا الحاكم وحده فھي مجھولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
حدیث نمبر: 640
حَدَّثَنَا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ، قَالَ:عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ قَالَ: إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا يُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَابْنُ إِسْحَاقَ،عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَصَرُوا بِهِ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا.
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا عورت کرتہ اور اوڑھنی میں جب کہ وہ ازار (تہبند) نہ پہنے ہو، نماز پڑھ سکتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(پڑھ سکتی ہے) جب کرتہ اتنا لمبا ہو کہ اس کے دونوں قدموں کے اوپری حصہ کو ڈھانپ لے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسماعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، محمد بن زید نے اپنی والدہ سے، اور محمد بن زید کی والدہ نے ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، لیکن ان میں سے کسی نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا ہے، بلکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر ہی اسے موقوف کر دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 640]
جناب محمد بن زید سے روایت ہے، یہی حدیث انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ کیا عورت ایک قمیص اور اوڑھنی میں نماز پڑھ لے جبکہ اس نے تہ بند نہ باندھا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں) جب قمیص پوری طرح ڈھانپنے والی ہو کہ اس کے پاؤں کی پشت کو بھی ڈھک لے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو مالک بن انس، بکر بن مضر، حفص بن غیاث، اسمٰعیل بن جعفر، ابن ابی ذئب اور ابن اسحاق نے محمد بن زید سے، انہوں نے اپنی والدہ سے، انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ان میں سے کسی نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر نہیں کیا بلکہ صرف سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر اقتصار کیا ہے۔ (یعنی موقوف بیان کرتے ہیں)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 640]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 18291) (ضعیف)» (مذکورہ سبب سے یہ مرفوع حدیث بھی ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أم محمد مجهولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
إسناده ضعيف
أم محمد مجهولة الحال
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36