سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
76. باب مَا يُؤْمَرُ بِهِ الْمَأْمُومُ مِنَ اتِّبَاعِ الإِمَامِ
باب: مقتدیوں کو حکم ہے کہ وہ امام کی اتباع کریں۔
حدیث نمبر: 621
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، وَهَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، قَالَ زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا الْكُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ،عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّى يَرَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ".
براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص اس وقت تک اپنی پیٹھ نہیں جھکاتا جب تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو (زمین پر اپنی پیشانی رکھتے ہوئے) نہ دیکھ لیتا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 621]
جناب عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ، سیدنا براء رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے اور ہم میں سے کوئی اپنی پیٹھ نہ جھکاتا تھا جب تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھ لیتا کہ انہوں نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 39 (474)، (تحفة الأشراف: 1784) (صحیح)»
وضاحت: مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (474)
حدیث نمبر: 622
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ يَعْنِي الْفَزَارِيَّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ،" أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا رَكَعَ رَكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى يَرَوْهُ قَدْ وَضَعَ جَبْهَتَهُ بِالْأَرْضِ ثُمَّ يَتَّبِعُونَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تھے تو جب آپ رکوع کرتے تو وہ بھی رکوع کرتے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم «سمع الله لمن حمده» کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ لوگ آپ کو اپنی پیشانی زمین پر رکھتے دیکھ لیتے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سجدہ میں جاتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 622]
جناب محارب بن دثار روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن یزید رحمہ اللہ نے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا: ”مجھ سے سیدنا براء رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے، جب آپ رکوع کرتے تو وہ رکوع کرتے، جب آپ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہتے (تو وہ سر اٹھاتے) اور پھر کھڑے رہتے حتیٰ کہ آپ کو دیکھ لیتے کہ آپ نے اپنی پیشانی زمین پر رکھ دی ہے، پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے (یعنی سجدہ کرتے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 1773) (صحیح)»
وضاحت: مقتدی کو امام کی اقتداء کا ادب بتایا گیا ہے کہ جب امام رکوع میں چلا جائے تب مقتدی رکوع کریں۔ اسی طرح جب امام سر اٹھائے تب سر اٹھائیں اور جب وہ اپنی پیشانی زمین پر رکھ چکے تب سجدہ کریں اور مقتدی کا اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (474)
77. باب التَّشْدِيدِ فِيمَنْ يَرْفَعُ قَبْلَ الإِمَامِ أَوْ يَضَعُ قَبْلَهُ
باب: امام سے پہلے سر اٹھانے یا رکھنے پر وارد وعید کا بیان۔
حدیث نمبر: 623
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَا يَخْشَى أَوْ أَلَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ وَالْإِمَامُ سَاجِدٌ أَنْ يُحَوِّلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص (امام سے پہلے) اپنا سر اٹھاتا ہے جبکہ وہ امام سجدے میں ہو، اسے ڈرنا چاہیئے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کے سر جیسا نہ بنا دے یا اس کی شکل گدھے کی شکل نہ بنا دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 623]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص (امام سے پہلے) اپنا سر اٹھاتا ہے جبکہ وہ امام سجدے میں ہو، اسے ڈرنا چاہیے کہ کہیں اللہ تعالیٰ اس کا سر گدھے کے سر جیسا نہ بنا دے یا اس کی شکل گدھے کی شکل نہ بنا دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 53 (691)، صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، (تحفة الأشراف: 14380)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 292 (582)، سنن النسائی/الإمامة 38 (829)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 41 (961)، مسند احمد (2/260، 271، 425، 454، 456، 469، 472، 504)، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1355) (صحیح)»
وضاحت: نماز کے اہم واجبات سے غافل نہیں رہنا چاہیے، انسان کو چاہیے کہ علم حاصل کرئے تاکہ تمام ارکان سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ادا ہوں، جن چیزوں سے روکا گیا ہے اس سے رک جائیں اور جن چیزوں کا حکم ہے اس پر عمل کریں۔ اسی معنی میں یہ وعید سنائی گئی ہے لہذا مقتدی کو ہر حال میں اپنے امام سے پیچھے رہنا واجب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (427)
78. باب فِيمَنْ يَنْصَرِفُ قَبْلَ الإِمَامِ
باب: امام سے پہلے اٹھ کر جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 624
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ بُغَيْلٍ الْمُرْهِبِيُّ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَضَّهُمْ عَلَى الصَّلَاةِ وَنَهَاهُمْ أَنْ يَنْصَرِفُوا قَبْلَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلَاةِ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (یعنی مسلمانوں کو) نماز کی ترغیب دلائی اور انہیں امام سے پہلے نماز سے اٹھ کر جانے سے منع فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 624]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز کی ترغیب دی اور انہیں منع فرمایا کہ ”آپ کے اٹھ کر جانے سے پہلے اٹھ کر جائیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 624]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1581)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 25 (427)، سنن النسائی/السھو 102 (1364)، مسند احمد (3/102، 126، 154، 240)، سنن الدارمی/الصلاة 72 (1356) (صحیح)»
وضاحت: چونکہ اس دور میں صحابیات بھی نماز میں حاضر ہوا کرتی تھیں اور وہ پچھلی صفوں میں ہوتی تھیں۔ لہذا انہیں (مردوں کو) ہدایت فرمائی کہ کچھ دیر انتظار کر لیا کریں تاکہ عورتیں مردوں سے پہلے مسجد سے نکل جائیں۔ نیز راستے میں بھی مردوں اور عورتوں کا اختلاط نہ ہو۔ نیز یہ بھی کہ سلام کے بعد مسنون اذکار سے غفلت نہ کریں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح م دون الحض
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (954)
ورواه أحمد (3/240 وسنده صحيح) والبيھقي (2/192)
مشكوة المصابيح (954)
ورواه أحمد (3/240 وسنده صحيح) والبيھقي (2/192)
79. باب جِمَاعِ أَثْوَابِ مَا يُصَلَّى فِيهِ
باب: کتنے کپڑوں میں نماز پڑھنی درست ہے؟
حدیث نمبر: 625
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَلِكُلِّكُمْ ثَوْبَانِ؟".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 625]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کپڑے میں نماز کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کے پاس دو دو کپڑے ہیں؟“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 625]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 4 (358)، صحیح مسلم/الصلاة 52 (515)، سنن النسائی/القبلہ 14 (764)، (تحفة الأشراف: 13231)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 69 (1047)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 9 (30)، مسند احمد (2/230، 239، 285، 345، 495، 498، 499، 501)، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1410) (صحیح)»
وضاحت: یعنی جب فی الواقع ہر انسان کو دو کپڑے مہیا نہیں تو شریعت میں بھی تنگی نہیں۔ ایک کپڑے میں بھی نماز جائز ہے۔ اس کے باندھنے کا طریقہ اگلی حدیث میں دیکھئیے (سنن ابوداود، حدیث ۶۲۶)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (358) صحيح مسلم (515)
حدیث نمبر: 626
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَلِّ أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبَيْهِ مِنْهُ شَيْءٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کے دونوں کندھوں پر اس میں سے کچھ نہ ہو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 626]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے اس حال میں کہ اس میں سے کچھ اس کے کندھوں پر نہ ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 626]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 52 (516)، سنن النسائی/القبلة 18 (770)، (تحفة الأشراف: 13678)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 5 (359)، مسند احمد (2/243)، سنن الدارمی/الصلاة 99 (1411) (صحیح)»
وضاحت: یعنی کمر پر اس طرح لپیٹے کہ اس کا دایاں پلو بائیں کندھے پر اور بائیاں پلو دائیں کندھے پر آ جائے۔ اس طرح یہ کپڑا تہ بند اور اوپر کی چادر دونوں کا کام دے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (516)
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، الْمَعْنَى عَنْ هِشَامِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فِي ثَوْبٍ، فَلْيُخَالِفْ بِطَرَفَيْهِ عَلَى عَاتِقَيْهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس کے داہنے کنارے کو بائیں کندھے پر اور بائیں کنارے کو داہنے کندھے پر ڈال لے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 627]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز پڑھے تو اس چادر کے دونوں پلوؤں میں سے دائیں پلو کو بائیں کندھے پر اور بائیں پلو کو داہنے کندھے پر ڈال لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 627]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 5 (360)، (تحفة الأشراف: 14255)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/255، 266، 427، 520) (صحیح)»
وضاحت: یعنی کمر پر اس طرح لپیٹے کہ اس کا دایاں پلو بائیں کندھے پر اور بائیاں پلو دائیں کندھے پر آ جائے۔ اس طرح یہ کپڑا تہ بند اور اوپر کی چادر دونوں کا کام دے گا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (360)
حدیث نمبر: 628
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُلْتَحِفًا مُخَالِفًا بَيْنَ طَرَفَيْهِ عَلَى مَنْكِبَيْهِ".
عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کپڑے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اسے اس طرح لپیٹے ہوئے تھے کہ اس کا دایاں کنارہ بائیں کندھے پر اور بایاں کنارہ دائیں کندھے پر تھا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 628]
سیدنا عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ ایک کپڑا لپیٹے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ نے اس کے دونوں پلوؤں (کناروں) کو ایک دوسرے کی مخالف سمت سے اپنے کندھوں پر ڈالا ہوا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 628]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 52 (517)، سنن الترمذی/الصلاة 142 (339)، (تحفة الأشراف: 10682)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 4 (355)، سنن النسائی/القبلة 14(765)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 69 (1049)، موطا امام مالک/صلاة الجماعة 9 (29)، مسند احمد (4/ 26، 27) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (517)
حدیث نمبر: 629
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَدْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَدِمْنَا عَلَى نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ:" يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَا تَرَى فِي الصَّلَاةِ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ؟ قَالَ: فَأَطْلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِزَارَهُ طَارَقَ بِهِ رِدَاءَهُ فَاشْتَمَلَ بِهِمَا، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا أَنْ قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ: أَوَكُلُّكُمْ يَجِدُ ثَوْبَيْنِ؟".
طلق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں نماز پڑھنے کے متعلق آپ کیا فرماتے ہیں؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا، اور اپنی چادر اور تہبند کو ایک کر لیا پھر آپ نے انہیں لپیٹ لیا، پھر کھڑے ہوئے، پھر آپ نے ہمیں نماز پڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پوری کر لی تو فرمایا: ”کیا تم میں سے ہر ایک کو دو کپڑے میسر ہیں؟“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 629]
سیدنا قیس بن طلق رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اسی اثنا میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: ”اے اللہ کے نبی! ایک کپڑے میں نماز کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند کھولا اور اس پر اوپر والی چادر کو لپیٹا (اس طرح دونوں ایک ہی چادر بن گئیں) اور اسے اپنے اوپر لپیٹ لیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا تم سب کو دو دو کپڑے میسر ہیں؟“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 629]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5027)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/22) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
80. باب الرَّجُلِ يَعْقِدُ الثَّوْبَ فِي قَفَاهُ ثُمَّ يُصَلِّي
باب: آدمی گردن کے پیچھے کپڑے باندھ کر نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُ الرِّجَالَ عَاقِدِي أُزُرِهِمْ فِي أَعْنَاقِهِمْ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ كَأَمْثَالِ الصِّبْيَانِ، فَقَالَ قَائِلٌ: يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ".
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اپنے تہبند تنگ ہونے کی وجہ سے گردنوں پر بچوں کی طرح باندھے ہوئے ہیں، تو ایک کہنے والے نے کہا: اے عورتوں کی جماعت! تم اپنے سر اس وقت تک نہ اٹھانا جب تک مرد نہ اٹھا لیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 630]
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں نے لوگوں کو دیکھا کہ کپڑوں کی تنگی کے باعث انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں اپنے تہبندوں کے پلوؤں کو اپنی گردنوں میں گرہ لگائی ہوتی تھی جیسے کہ بچوں کی ہوتی ہے، تو ایک شخص نے کہا: ”اے عورتو! تم مردوں سے پہلے اپنے سر نہ اٹھایا کرو۔“ (کہیں کسی کے ستر پر نظر نہ پڑ جائے)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 630]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 6 (362)، والأذان 136 (814)، والعمل في الصلاة 14 (1215)، صحیح مسلم/الصلاة 29 (441)، سنن النسائی/القبلة 16 (767)، (تحفة الأشراف: 4681)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/331) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (362) صحيح مسلم (441)