سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
87. باب الْمَرْأَةِ تُصَلِّي بِغَيْرِ خِمَارٍ
باب: عورت سر پر دوپٹہ کے بغیر نماز نہ پڑھے۔
حدیث نمبر: 641
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بالغہ عورت کی نماز بغیر اوڑھنی کے اللہ تعالیٰ قبول نہیں کرتا“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے، قتادہ نے حسن بصری سے، حسن بصری نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 641]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کسی بالغ عورت کی نماز اوڑھنی کے بغیر قبول نہیں فرماتا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اس حدیث کو سعید یعنی ابن ابی عروبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 641]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 160 (377)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 132 (655)، (تحفة الأشراف: 17846)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/150، 218، 259) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (762)
قتادة عنعن بل لم ينفرد به، بل تابعه أيوب السختياني في المعجم ابن الأعرابي (ح 1996)
مشكوة المصابيح (762)
قتادة عنعن بل لم ينفرد به، بل تابعه أيوب السختياني في المعجم ابن الأعرابي (ح 1996)
حدیث نمبر: 642
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى صَفِيَّةَ أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلَحَاتِ فَرَأَتْ بَنَاتٍ لَهَا، فَقَالَتْ: إِنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ وَفِي حُجْرَتِي جَارِيَةٌ فَأَلْقَى لِي حَقْوَهُ، وَقَالَ لِي:" شُقِّيهِ بِشُقَّتَيْنِ، فَأَعْطِي هَذِهِ نِصْفًا وَالْفَتَاةَ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ نِصْفًا، فَإِنِّي لَا أَرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ، أَوْ لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ هِشَامٌ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ.
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا طلحہ رضی اللہ عنہ کی والدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان کی لڑکیوں کو دیکھا تو کہا کہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، میرے حجرے میں ایک لڑکی موجود تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لنگی مجھے دی اور کہا: ”اسے پھاڑ کر دو ٹکڑے کر لو، ایک ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو، اور دوسرا ٹکڑا اس لڑکی کو دے دو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے، اس لیے کہ میرا خیال ہے کہ وہ بالغ ہو چکی ہے، یا میرا خیال ہے کہ وہ دونوں بالغ ہو چکی ہیں“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے اسی طرح ہشام نے ابن سیرین سے روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 642]
امام محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، صفیہ ام طلحہ الطلحات کی مہمان ہوئیں۔ پس ان کی بیٹیوں کو دیکھا تو فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے جبکہ میرے حجرے میں ایک نوعمر لڑکی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہبند میری طرف پھینکا اور فرمایا: ”اسے دو حصوں میں پھاڑو اور ایک حصہ اس لڑکی کو دے دو اور دوسرا اس کو جو ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ بالغ (جوان) ہو گئی ہے۔ یا (فرمایا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ یہ دونوں جوان ہو گئی ہیں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ہشام نے بھی ابن سیرین سے ایسے ہی روایت کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 642]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 17588)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/96، 238) (ضعیف)» (ابن سیرین اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن سيرين لم يسمع من أم المؤمنين عائشة رضي اللّٰه عنھا (المراسيل لابن أبي حاتم ص188 رقم 687)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
إسناده ضعيف
محمد بن سيرين لم يسمع من أم المؤمنين عائشة رضي اللّٰه عنھا (المراسيل لابن أبي حاتم ص188 رقم 687)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
88. باب مَا جَاءَ فِي السَّدْلِ فِي الصَّلاَةِ
باب: نماز میں سدل کرنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 643
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ ذَكْوَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ، وَأَنْ يُغَطِّيَ الرَّجُلُ فَاهُ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عِسْلٌ،عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ السَّدْلِ فِي الصَّلَاةِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل ۱؎ کرنے اور آدمی کو منہ ڈھانپنے سے منع فرمایا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عسل نے عطاء سے، عطاء نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں سدل کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 643]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”نماز میں سدل سے منع فرمایا ہے اور اس سے بھی کہ انسان منہ ڈھانپ کر (ڈھاٹا باندھ کر) نماز پڑھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: ”اسے عسل نے عطاء سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے دوران میں سدل سے منع فرمایا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 643]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14178)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 161 (378)، مسند احمد (2/295، 345)، سنن الدارمی/الصلاة 104 (1419) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: «سدل» کی شارحین حدیث نے یہ وضاحت کی ہے کہ چادر کو اس کے درمیان سے اپنے سر یا کندھوں پر ڈال لیا جائے اور اس کی دائیں بائیں اطراف لٹکتی رہیں۔ یا صاحب النہایہ کے بیان کے مطابق کپڑے کو اس انداز سے اپنے اوپر لپیٹ لیا جائے کہ ہاتھ بھی اندر ہی بند ہو جائیں اور پھر رکوع اور سجدے میں بھی ان کو نہ نکالا جائے، تو یہ صورتیں نماز کے منافی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
ترمذي (378) ابن ماجه (966)
الحسن بن ذكوان عنعن
ولحديثه شواهد ضعيفة منھا طريق عسل بن سفيان وھو ضعيف (تقريب: 4578) و قال الھيثمي في عسل بن سفيان : و ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 267/2)
وانظر الحديث الآتي (2112)
وروي ابن أبي شيبة (2/ 259 ح 6483) بسند صحيح عن ابن عمر أنه كره السدل في الصلٰوة مخالفة لليھود وقال : ’’ إنھم يسدلون ‘‘ وروي أيضًا (ح 6480) عن سعيد بن وھب : ’’ أن عليًا رأي قومًا يصلون وقد سدلوا فقال : كأنھم اليھود خرجوا من فھرھم ‘‘ وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
ضعيف
ترمذي (378) ابن ماجه (966)
الحسن بن ذكوان عنعن
ولحديثه شواهد ضعيفة منھا طريق عسل بن سفيان وھو ضعيف (تقريب: 4578) و قال الھيثمي في عسل بن سفيان : و ضعفه جمھور الأئمة (مجمع الزوائد 267/2)
وانظر الحديث الآتي (2112)
وروي ابن أبي شيبة (2/ 259 ح 6483) بسند صحيح عن ابن عمر أنه كره السدل في الصلٰوة مخالفة لليھود وقال : ’’ إنھم يسدلون ‘‘ وروي أيضًا (ح 6480) عن سعيد بن وھب : ’’ أن عليًا رأي قومًا يصلون وقد سدلوا فقال : كأنھم اليھود خرجوا من فھرھم ‘‘ وسنده صحيح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 36
حدیث نمبر: 644
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ:" أَكْثَرُ مَا رَأَيْتُ عَطَاءً يُصَلِّي سَادِلًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَذَا يُضَعِّفُ ذَلِكَ الْحَدِيثَ.
ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے عطاء کو نماز میں اکثر سدل کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عطاء کا یہ فعل (سدل کرنا) سابق حدیث کی تضعیف کر رہا ہے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 644]
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”میں نے جناب عطاء (عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ) کو بارہا دیکھا کہ وہ سدل کیے ہوئے نماز پڑھتے تھے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ ”عطاء رحمہ اللہ کا یہ فعل (گویا) مذکورہ بالا حدیث (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) کو ضعیف ثابت کرتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 644]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: راوی کا اپنی روایت کردہ حدیث کے مخالف عمل اس حدیث کے ترک کرنے کے لئے قابل اعتبار نہیں، اصل اعتبار روایت کا ہے (اگر صحیح ہو) راوی کے عمل کا نہیں: «الحجة فيما روى، لا فيما رأى» نیز عطاء کا فتوی حدیث کے مطابق ثابت ہے جیسا کہ گزرا، اس لئے عطاء کے فعل سے حدیث کی تضعیف درست نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ سدل کرتے وقت بھول گئے ہوں یا کوئی دوسرا عذر لاحق ہو گیا ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
89. باب الصَّلاَةِ فِي شُعُرِ النِّسَاءِ
باب: مردوں کا عورتوں کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 645
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا"، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: شَكَّ أَبِي.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے شعار یا لحاف ۱؎ میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ عبیداللہ نے کہا: میرے والد (معاذ) کو شک ہوا ہے (کہ ام المؤمنین عائشہ نے لفظ: «شعرنا» کہا، یا: «لحفنا»)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 645]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”ہمارے (یعنی ازواج مطہرات کے زیر استعمال) کپڑوں میں یا ہمارے لحافوں میں نماز نہ پڑھا کرتے تھے۔“ عبیداللہ نے کہا کہ «شُعُرِنَا أَوْ لُحُفِنَا» کے الفاظ میں میرے والد کو شک ہوا ہے (اس لیے لفظ «أَوْ» سے روایت کیا ہے)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 645]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حديث رقم: 367، (تحفة الأشراف: 16221، 17589، 19296) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: جو کپڑا جسم سے لگا رہتا ہے اسے شعار کہتے ہیں، اور اوڑھنے کی چادر کو لحاف۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
90. باب الرَّجُلِ يُصَلِّي عَاقِصًا شَعْرَهُ
باب: آدمی بالوں کا جوڑا باندھ کر نماز پڑھے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَيْهِمَا السَّلَام وَهُوَ يُصَلِّي قَائِمًا وَقَدْ غَرَزَ ضَفْرَهُ فِي قَفَاهُ، فَحَلَّهَا أَبُو رَافِعٍ، فَالْتَفَتَ حَسَنٌ إِلَيْهِ مُغْضَبًا، فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ:" أَقْبِلْ عَلَى صَلَاتِكَ وَلَا تَغْضَبْ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: ذَلِكَ كِفْلُ الشَّيْطَانِ"، يَعْنِي: مَقْعَدَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي: مَغْرَزَ ضَفْرِهِ.
ابوسعید مقبری سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ابورافع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرے، اور حسن اپنے بالوں کا جوڑا گردن کے پیچھے باندھے نماز پڑھ رہے تھے تو ابورافع نے اسے کھول دیا، اس پر حسن غصہ سے ابورافع کی طرف متوجہ ہوئے تو ابورافع نے ان سے کہا: آپ نماز پڑھئیے اور غصہ نہ کیجئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ”یہ یعنی بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 646]
جناب سعید بن ابی سعید مقبری اپنے والد سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے سیدنا ابورافع (مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو دیکھا کہ وہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے اپنی گدی میں اپنے بالوں کی چوٹی دھنسا رکھی تھی۔ پس ابورافع نے ان کے بال کھول دیے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے غصے سے ان کی طرف دیکھا، تو ابورافع نے کہا: ”اپنی نماز پڑھیے اور ناراض مت ہوئیے۔ بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جوڑے کا یہ مقام شیطان کی بیٹھک ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 646]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 170 (384)، (تحفة الأشراف: 12030)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامةالصلاة 167 (1042)، مسند احمد (6/8، 391)، سنن الدارمی/الصلاة 105 (1420) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
حدیث نمبر: 647
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرًا، حَدَّثَهُ أَنَّ كُرَيْبًا مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَأَى عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُصَلِّي وَرَأْسُهُ مَعْقُوصٌ مِنْ وَرَائِهِ، فَقَامَ وَرَاءَهُ فَجَعَلَ يَحُلُّهُ وَأَقَرَّ لَهُ الْآخَرُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَرَأْسِي؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّمَا مَثَلُ هَذَا مَثَلُ الَّذِي يُصَلِّي وَهُوَ مَكْتُوفٌ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب کا بیان ہے کہ عبداللہ بن عباس نے عبداللہ بن حارث رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ نماز پڑھ رہے ہیں اور ان کے پیچھے بالوں کا جوڑا بندھا ہوا ہے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر اسے کھولنے لگے اور عبداللہ بن حارث چپ چاپ کھڑے رہے، جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابن عباس کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: آپ نے میرا سر کیوں کھول دیا؟ تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ”اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی نماز پڑھ رہا ہو اور اس کے ہاتھ پیچھے رسی سے بندھے ہوں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 647]
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دیکھا کہ عبداللہ بن حارث نماز پڑھ رہے تھے اور ان کے بال پیچھے سے بندھے ہوئے تھے، تو وہ ان کے پیچھے کھڑے ہو کر ان کے بال کھولنے لگے۔ انہوں نے (یعنی عبداللہ بن حارث نے دوران نماز میں) اس پر کوئی انکار نہ کیا۔ نماز کے بعد وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ”آپ کو میرے سر سے کیا کام؟ (یعنی آپ نے میرے بال کیوں کھولے؟)“ انہوں نے جواب دیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”بالوں کا جوڑا بنا لینا ایسے ہے جیسے کوئی نماز پڑھے اور اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 647]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 44 (492)، سنن النسائی/التطبیق 57 (1115)، (تحفة الأشراف: 6339)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/304)، سنن الدارمی/الصلاة 105 (1421) (صحیح)»
وضاحت: اسی طرح سنن ابوداود حدیث ۶۴۶ میں ہے کہ ”بالوں کا جوڑا شیطان کی بیٹھک ہے“۔ مردوں کے لیے بالوں کا جوڑا بنانا بالخصوص نماز میں جائز نہیں۔ چاہیے کہ انہیں ویسے ہی لمبا چھوڑ دیا جائے اور سجدہ کی حالت میں زمین پر لگنے دیا جائے۔ دوسری حدیث میں صراحت ہے کہ ”مجھے حکم ہے کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور بالوں کو نہ باندھوں اور کپڑوں کو نہ سمیٹوں“۔ (صحیح بخاری حدیث ۸۱۲، صحیح مسلم حدیث ۴۹۰) جن بزرگوں کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے جوڑا بنایا ہوا تھا تو شاید انہیں یہ ارشاد نبوی معلوم نہ تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (492)
91. باب الصَّلاَةِ فِي النَّعْلِ
باب: جوتے پہن کر نماز پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنِ ابْنِ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي يَوْمَ الْفَتْحِ وَوَضَعَ نَعْلَيْهِ عَنْ يَسَارِهِ".
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ اپنے دونوں جوتوں کو اپنے بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 648]
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ والے دن دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے آپ کی بائیں جانب رکھے ہوئے تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 648]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، والقبلة 25 (777)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 205 (1431)، (تحفة الأشراف: 5314)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حدیث نمبر: 649
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، وَأَبُو عَاصِمٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، يَقُولُ:أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ سُفْيَانَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُسَيِّبِ الْعَابِدِيُّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِمَكَّةَ فَاسْتَفْتَحَ سُورَةَ الْمُؤْمِنِينَ، حَتَّى إِذَا جَاءَ ذِكْرُ مُوسَى، وَهَارُونَ، أَوْ ذِكْرُ مُوسَى، وَعِيسَى، ابْنُ عَبَّادٍ يَشُكُّ أَوِ اخْتَلَفُوا، أَخَذَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْلَةٌ فَحَذَفَ فَرَكَعَ"، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ السَّائِبِ حَاضِرٌ لِذَلِكَ.
عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکہ میں صبح کی نماز پڑھائی، آپ نے سورۃ مؤمنون کی تلاوت شروع کی یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم موسیٰ ۱؎ اور ہارون علیہما السلام، یا موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کے قصے پر پہنچے (راوی حدیث ابن عباد کو شک ہے یا رواۃ کا اس میں اختلاف ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی، آپ نے قرآت چھوڑ دی اور رکوع میں چلے گئے، عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ (سابقہ حدیث کے راوی) اس وقت وہاں موجود تھے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 649]
سیدنا عبداللہ بن سائب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں مکے میں صبح کی نماز پڑھائی، (اس نماز میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ المؤمنون کی تلاوت شروع کی۔ جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا ہارون علیہ السلام یا یوں کہا کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا ذکر آیا، ابن عباد کو شک ہے یا لوگوں نے اختلاف کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھانسی آ گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت کو مختصر کر دیا اور رکوع کر لیا اور عبداللہ بن سائب اس میں حاضر تھے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 649]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 106(774تعلیقاً)، صحیح مسلم/الصلاة 35 (455)، سنن النسائی/الافتتاح 76 (1008)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 5 (820)، (تحفة الأشراف: 5313)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/411) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: موسیٰ و ہارون علیہما السلام کا ذکر: «ثم أرسلنا موسى وأخاه هارون بآياتنا وسلطان مبين» (سورۃ المومنون: ۴۵) میں ہے، اور عیسی کا ذکر اس سے چار آیتوں کے بعد: «وجعلنا ابن مريم وأمه آية وآويناهما إلى ربوة ذات قرار ومعين» (سورۃ المؤمنون: ۵۰) میں ہے۔
۲؎: اس سے پہلے والی حدیث کی مناسبت باب سے ظاہر ہے اور یہ حدیث اسی حدیث کی مناسبت سے یہاں نقل کی گئی ہے۔
۲؎: اس سے پہلے والی حدیث کی مناسبت باب سے ظاہر ہے اور یہ حدیث اسی حدیث کی مناسبت سے یہاں نقل کی گئی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (455)
حدیث نمبر: 650
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ السَّعْدِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِأَصْحَابِهِ إِذْ خَلَعَ نَعْلَيْهِ فَوَضَعَهُمَا عَنْ يَسَارِهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْقَوْمُ أَلْقَوْا نِعَالَهُمْ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ، قَالَ: مَا حَمَلَكُمْ عَلَى إِلْقَاءِ نِعَالِكُمْ؟ قَالُوا: رَأَيْنَاكَ أَلْقَيْتَ نَعْلَيْكَ فَأَلْقَيْنَا نِعَالَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السلام أَتَانِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فِيهِمَا قَذَرًا، أَوْ قَالَ: أَذًى، وَقَالَ: إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْمَسْجِدِ فَلْيَنْظُرْ، فَإِنْ رَأَى فِي نَعْلَيْهِ قَذَرًا أَوْ أَذًى فَلْيَمْسَحْهُ وَلْيُصَلِّ فِيهِمَا".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے جوتوں کو اتار کر انہیں اپنے بائیں جانب رکھ لیا، جب لوگوں نے یہ دیکھا تو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں) انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو آپ نے فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتار لیے؟“، ان لوگوں نے کہا: ہم نے آپ کو جوتے اتارتے ہوئے دیکھا تو ہم نے بھی اپنے جوتے اتار لیے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے اور انہوں نے مجھے بتایا کہ آپ کے جوتوں میں نجاست لگی ہوئی ہے“۔ راوی کو شک ہے کہ آپ نے: «قذرا» کہا، یا: «أذى» کہا، اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو وہ اپنے جوتے دیکھ لے اگر ان میں نجاست لگی ہوئی نظر آئے تو اسے زمین پر رگڑ دے اور ان میں نماز پڑھے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 650]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو نماز پڑھا رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (دوران نماز میں) اپنے جوتے اتار کر اپنی بائیں جانب رکھ لیے۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو انہوں نے بھی اپنے جوتے اتار دیے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تم لوگوں نے اپنے جوتے کیوں اتارے؟“ انہوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنے جوتے اتارے ہیں تو ہم نے بھی اتار دیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک جبرائیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور بتایا کہ آپ کے جوتے میں گندگی لگی ہے۔“ (لفظ «قَذَرٌ» تھا یا «أَذًى») آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی مسجد میں آئے تو اپنے جوتوں کو بغور دیکھ لیا کرے۔ اگر ان میں کوئی گندگی یا نجاست نظر آئے تو اسے پونچھ ڈالے اور پھر ان میں نماز پڑھ لے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 650]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4362)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/20، 92)، سنن الدارمی/الصلاة 103 (1418)، (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (766)
مشكوة المصابيح (766)