🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
20. باب فِي فَضْلِ الْقُعُودِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں بیٹھے رہنے کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 471
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يَزَالُ الْعَبْدُ فِي صَلَاةٍ مَا كَانَ فِي مُصَلَّاهُ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ، تَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ، حَتَّى يَنْصَرِفَ أَوْ يُحْدِثَ، فَقِيلَ: مَا يُحْدِثُ؟ قَالَ: يَفْسُو أَوْ يَضْرِطُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ برابر نماز ہی میں رہتا ہے، جب تک اپنے مصلی میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرتا رہے، فرشتے کہتے ہیں: اے اللہ! تو اسے بخش دے، اے اللہ! تو اس پر رحم فرما، جب تک کہ وہ نماز سے فارغ ہو کر گھر نہ لوٹ جائے، یا حدث نہ کرے“۔ عرض کیا گیا: حدث سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(حدث یہ ہے کہ وہ) بغیر آواز کے یا آواز کے ساتھ ہوا خارج کرے (یعنی وضو توڑ دے)“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بندہ اس وقت تک نماز ہی میں ہوتا ہے جب تک کہ اپنے مصلے پر بیٹھا (دوسری) نماز کا انتظار کر رہا ہو۔ فرشتے کہتے ہیں: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ، اللَّهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اس کو بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔“ حتیٰ کہ وہ اٹھ جائے یا بے وضو ہو جائے۔“ کہا گیا: بے وضو کیسے ہو؟ کہا: ”پھسکی مارے یا گوز (پاد) مارے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 471]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 49 (649)، (تحفة الأشراف: 14651)، مسند احمد (2/415، 528) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (649 بعد ح 661)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 472
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ الْأَزْدِيُّ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ الْعَنْسِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَتَى الْمَسْجِدَ لِشَيْءٍ فَهُوَ حَظُّهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں جو جس کام کے لیے آئے گا وہی اس کا نصیبہ ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص جس نیت سے مسجد میں آیا ہو، اس کا وہی نصیبہ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 472]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 14279) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی جیسی نیت ہو گی اسی کے مطابق اسے اجر و ثواب ملے گا۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عثمان بن أبي العاتكة الأزدي: ضعيف،وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 10/ 210) وبعضھم مشاه في غير علي بن يزيد الألھاني وقولھم مرجوح
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
21. باب فِي كَرَاهِيَةِ إِنْشَادِ الضَّالَّةِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں گم شدہ چیزوں کا اعلان و اشتہار مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 473
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ يَعْنِي ابْنَ شُرَيْحٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَسْوَدِ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى شَدَّادٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ سَمِعَ رَجُلًا يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ فَلْيَقُلْ: لَا أَدَّاهَا اللَّهُ إِلَيْكَ، فَإِنَّ الْمَسَاجِدَ لَمْ تُبْنَ لِهَذَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”جو شخص کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈتے سنے تو وہ کہے: اللہ تجھے (اس گمشدہ چیز کو) واپس نہ لوٹائے، کیونکہ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 473]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”جو کسی کو سنے کہ گمشدہ چیز کا مسجد میں اعلان کر رہا ہے تو اسے کہے: «لَا رَدَّهَا اللَّهُ عَلَيْكَ» ”اللہ کرے تجھے یہ نہ ملے۔“ مسجدیں اس کام کے لیے نہیں بنائی گئیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 473]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 18 (568)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 11 (767)، (تحفة الأشراف: 15446)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/349)، سنن الدارمی/الصلاة 118 (1441) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (568)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
22. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 474
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، وَشُعْبَةُ، وَأَبَانُ،، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"التَّفْلُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهُ أَنْ تُوَارِيَهُ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تم اسے (مٹی) میں چھپا دو“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا غلطی ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے چھپا دے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 474]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏حدیث مسلم بن إبراہیم عن ہشام وأبان تفرد بہ أبو داود، تحفة (1137، 1383)، وحدیث مسلم بن إبراہیم عن شعبة، صحیح البخاری/الصلاة 37 (415)، صحیح مسلم/المساجد 13 (552)، (تحفة الأشراف: 1251)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة 49 (572)، سنن النسائی/المساجد 30 (724)، مسند احمد (3/173، 232، 274، 277)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1435) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: جن مسجدوں کا فرش خام اور غیر پختہ ہوتا ہے وہاں تو یہ ممکن ہے کہ تھوک کر اسے مٹی میں دبا دیں، مگر جن مسجدوں کا فرش پختہ ہو وہاں تھوکنا بالکل منع ہے، اگر تھوکنے کی ضرورت آ ہی پڑے تو بہتر طریقہ یہ ہے کہ دستی یا ٹیشو پیپر میں تھوک کر جیب میں رکھ لے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے اور نہ مسجد گندی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح، صحيح بخاري (415) صحيح مسلم (552)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 475
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْبُزَاقُ فِي الْمَسْجِدِ خَطِيئَةٌ، وَكَفَّارَتُهَا دَفْنُهَا".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا گناہ ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ اس پر مٹی ڈال دو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں تھوکنا خطا ہے اور اس کا کفارہ اسے دفن کر دینا ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 475]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 37 (552)، سنن الترمذی/الجمعة 49 (572)، سنن النسائی/المساجد 30 (724)، (تحفة الأشراف: 1428) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (552)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 476
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: النُّخَاعَةُ فِي الْمَسْجِدِ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد میں حلق سے بلغم نکال کر ڈالنا ...“، پھر راوی نے اوپر والی حدیث کے مثل ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 476]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھنکار (بلغم) مسجد میں (ڈالنا گناہ ہے)۔“ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 476]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 1211)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/109، 209، 234) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
ورواه شعبة عن قتادة به انظر مسند أحمد (3/277 ح 1394) والحديث السابق (475) شاھد له

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَوْدُودٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حَدْرَدٍ الْأَسْلَمِيِّ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ دَخَلَ هَذَا الْمَسْجِدَ فَبَزَقَ فِيهِ أَوْ تَنَخَّمَ، فَلْيَحْفِرْ فَلْيَدْفِنْهُ، فَإِنْ لَمْ يَفْعَلْ، فَلْيَبْزُقْ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ لِيَخْرُجْ بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوکے یا بلغم نکالے تو اسے مٹی کھود کر دفن کر دینا چاہیئے، اگر وہ ایسا نہ کر سکے تو اپنے کپڑے میں تھوک لے، پھر اسے لے کر نکل جائے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 477]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس مسجد میں داخل ہو اور اس میں تھوک دے یا بلغم گرائے تو چاہیے کہ جگہ کھود کر اسے دفن کر دے۔ اگر ایسے نہ کرے تو اپنے کپڑے میں تھوکے اور اسے باہر لے جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 477]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 13595)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 34 (408 و 409)، 35 (410 و 411)، صحیح مسلم/المساجد 13 (548)، سنن النسائی/المساجد 32 (726)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 10 (724)، مسند احمد (2/260، 324، 471، 532)، سنن الدارمی/الصلاة 116 (1438) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏ (مؤلف کی سند میں ”ابن أبی حدرد“ لین الحدیث ہیں جن کی متابعت ”حمید بن عبدالرحمن“ نے کی ہے اس لئے یہ حدیث حسن صحیح ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا قَامَ الرَّجُلُ إِلَى الصَّلَاةِ، أَوْ إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ، فَلَا يَبْزُقْ أَمَامَهُ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ تِلْقَاءِ يَسَارِهِ إِنْ كَانَ فَارِغًا أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ لِيَقُلْ بِهِ".
طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو یا جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے آگے اور داہنی طرف نہ تھوکے لیکن (اگر تھوکنا ہو اور جگہ خالی ہو) تو بائیں طرف تھوکے یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے پھر اسے مل دے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 478]
سیدنا طارق بن عبداللہ محاربی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدمی نماز کے لیے کھڑا ہو، یا فرمایا: تم میں سے کوئی نماز پڑھ رہا ہو، تو اپنے آگے یا دائیں جانب ہرگز نہ تھوکے، لیکن بائیں جانب اگر خالی ہو تو تھوک سکتا ہے یا اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوک لے اور پھر اسے مسل ڈالے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 478]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الجمعة 49 (571)، سنن النسائی/المساجد 33 (727)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 61 (1021)، (تحفة الأشراف: 4987)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/396) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 479
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمًا إِذْ رَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَتَغَيَّظَ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَكَّهَا، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: فَدَعَا بِزَعْفَرَانٍ فَلَطَّخَهُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِ أَحَدِكُمْ إِذَا صَلَّى، فَلَا يَبْزُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، وَمَالِكٍ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ، وَمُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، نَحْوَ حَمَّادٍ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرُوا الزَّعْفَرَانَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، وَأَثْبَتَ الزَّعْفَرَانَ فِيهِ، وَذَكَرَ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ الْخَلُوقَ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن خطبہ دے رہے تھے کہ اسی دوران اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو آپ لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ کر صاف کیا۔ راوی کہتے ہیں: میرے خیال میں ابن عمر نے فرمایا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگا کر اس میں رگڑ دیا اور فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے ۱؎، لہٰذا وہ اپنے سامنے نہ تھوکے“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسماعیل اور عبدالوارث نے یہ حدیث ایوب سے اور انہوں نے نافع سے روایت کی ہے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ نے (براہ راست) نافع سے حماد کی طرح روایت کی ہے مگر ان لوگوں نے زعفران کا ذکر نہیں کیا ہے، اور معمر نے اسے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں زعفران کا لفظ موجود ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ کے واسطہ سے اور انہوں نے نافع کے واسطہ سے (زعفران کے بجائے) «خلوق» (ایک قسم کی خوشبو) کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 479]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ کی دیوار پر دیکھا کہ اس پر بلغم لگا ہوا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں پر ناراض ہوئے، پھر اسے کھرچ ڈالا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے زعفران منگوایا اور اس پر لگایا اور فرمانے لگے: ”جب تم نماز پڑھتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص اپنے سامنے نہ تھوکے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو اسماعیل اور عبدالوارث نے ایوب سے انہوں نے نافع سے اور مالک، عبیداللہ اور موسیٰ بن عقبہ (تینوں) نے نافع سے حماد کی مانند روایت کیا ہے مگر انہوں نے ”زعفران“ کا ذکر نہیں کیا، لیکن اس کو معمر نے ایوب سے روایت کیا تو ”زعفران“ کا ذکر کیا ہے، اور یحییٰ بن سلیم نے عبیداللہ سے انہوں نے نافع سے روایت کیا تو اس نے «الْخَلُوق» یعنی ”خوشبو“ کا ذکر کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 479]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 33 (406)، والأذان 94 (753)، والعمل في الصلاة 2 (1213)، والأدب 75 (6111)، صحیح مسلم/المساجد 13 (547)، (تحفة الأشراف: 7518)وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 30 (724)، سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 10 (724)، موطا امام مالک/القبلہ 3 (4)، مسند احمد (2/32، 66، 83، 96) سنن الدارمی/الصلاة 116 (1437) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی اللہ تعالی کی رحمت مصلی کے سامنے ہوتی ہے کیونکہ دوسری روایت میں ہے «فإن الرحمة تواجهه» ۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1213) صحيح مسلم (547)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 480
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ الْعَرَاجِينَ، وَلَا يَزَالُ فِي يَدِهِ مِنْهَا فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ فَحَكَّهَا ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ:" أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُبْصَقَ فِي وَجْهِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلَا يَتْفُلْ عَنْ يَمِينِهِ وَلَا فِي قِبْلَتِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ فَإِنْ عَجِلَ بِهِ أَمْرٌ فَلْيَقُلْ هَكَذَا، وَوَصَفَ لَنَا ابْنُ عَجْلَانَ ذَلِكَ: أَنْ يَتْفُلَ فِي ثَوْبِهِ ثُمَّ يَرُدَّ بَعْضَهُ عَلَى بَعْضٍ".
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھجور کی شاخوں کو پسند کرتے تھے اور ہمیشہ آپ کے ہاتھ میں ایک شاخ رہتی تھی، (ایک روز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو قبلہ کی دیوار میں بلغم لگا ہوا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچا پھر غصے کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی کو اپنے منہ پر تھوکنا اچھا لگتا ہے؟ جب تم میں سے کوئی شخص قبلے کی طرف منہ کرتا ہے تو وہ اپنے رب عزوجل کی طرف منہ کرتا ہے اور فرشتے اس کی داہنی طرف ہوتے ہیں، لہٰذا کوئی شخص نہ اپنے داہنی طرف تھوکے اور نہ ہی قبلہ کی طرف، اگر تھوکنے کی حاجت ہو تو اپنے بائیں جانب یا اپنے پیر کے نیچے تھوکے، اگر اسے جلدی ہو تو اس طرح کرے“۔ ابن عجلان نے اسے ہم سے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے میں تھوک کر اس کو مل لے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 480]
جناب عیاض بن عبداللہ، سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے خوشے کی شاخ پسند تھی اور ہمیشہ کوئی نہ کوئی شاخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک میں رہتی تھی۔ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور قبلہ کی دیوار پر دیکھا کہ اس پر بلغم لگا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھرچ ڈالا اور پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں تھے۔ فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی پسند کرتا ہے کہ اس کے چہرے پر تھوکا جائے؟ تم میں سے کوئی شخص قبلہ رخ ہوتا ہے تو اپنے رب عزوجل کی طرف رخ کرتا ہے اور فرشتہ اس کی دائیں جانب ہوتا ہے، لہٰذا کوئی اپنے دائیں جانب یا قبلہ رخ نہ تھوکے۔ اگر تھوکنا ہی ہو تو اپنی بائیں جانب یا پاؤں کے نیچے تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو ایسے کر لے۔“ پھر ابن عجلان نے کر کے دکھلایا کہ اپنے کپڑے میں تھوک لے اور اس کو آپس میں مسل دے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 480]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 4275)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصلاة 34 (408، 409)، 35 (410، 411)، 36 (413)، صحیح مسلم/المساجد 13 (550)، سنن النسائی/المساجد 32 (726)، سنن ابن ماجہ/المساجد 10 (761)، مسند احمد (3/6، 24، 58، 88، 93) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
ابن عجلان صرح بالسماع عند أحمد (3/9، 24) وغيره وللحديث طرق

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں