سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب فِي الإِقَامَةِ
باب: اقامت (تکبیر) کا بیان۔
حدیث نمبر: 511
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِى الْعَقَدِيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ مُؤَذِّنِ مَسْجِدِ الْعُرْيَانِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْمُثَنَّى مُؤَذِّنَ مَسْجِدِ الْأَكْبَرِ، يَقُول: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
مسجد عریان ۱؎ کے مؤذن ابو جعفر کہتے ہیں کہ میں نے بڑی مسجد کے مؤذن ابو مثنیٰ کو کہتے سنا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ہے، پھر انہوں نے اوپر والی حدیث پوری بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 511]
جناب شیبہ، ابو جعفر مسجد عریان کے مؤذن سے اور وہ ابو مثنیٰ مسجد اکبر کے مؤذن سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 7455) (حسن)»
وضاحت: ۱؎: عریان کوفہ میں ایک جگہ کا نام ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر الحديث السابق
انظر الحديث السابق
30. باب فِي الرَّجُلِ يُؤَذِّنُ وَيُقِيمُ آخَرُ
باب: ایک شخص اذان دے اور دوسرا اقامت (تکبیر) کہے یہ جائز ہے۔
حدیث نمبر: 512
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ:"أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَذَانِ أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَأُرِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الْأَذَانَ فِي الْمَنَامِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَلْقِهِ عَلَى بِلَالٍ، فَأَلْقَاهُ عَلَيْهِ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ، قَالَ: فَأَقِمْ أَنْتَ".
عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے سلسلہ میں کئی کام کرنے کا (جیسے ناقوس بجانے یا سنکھ میں پھونک مارنے کا) ارادہ کیا لیکن ان میں سے کوئی کام کیا نہیں۔ محمد بن عبداللہ کہتے ہیں: پھر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھائی گئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے بلال کو سکھا دو“، چنانچہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اسے بلال رضی اللہ عنہ کو سکھا دیا، اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی، اس پر عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے میں نے دیکھا تھا اور میں ہی اذان دینا چاہتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو تم تکبیر کہہ لو“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 512]
جناب محمد بن عبداللہ اپنے چچا سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (شروع میں) اذان کے متعلق کچھ چیزوں کا ارادہ فرمایا مگر ان پر عمل نہ کیا۔ چنانچہ عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کو خواب میں اذان دکھلائی گئی تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کلمات بلال کو بتاؤ۔“ چنانچہ انہوں نے بتائے اور بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی۔ عبداللہ نے کہا: ”میں نے یہ خواب دیکھا اور میں اس کا خواہشمند تھا“، فرمایا: ”تم اقامت کہہ لو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 512]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 5310)، مسند احمد (4/42) (ضعیف)» (ا س کے راوی محمد بن عمرو انصاری لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
محمد بن عمرو ھو أبو سھل كما في مسند الإمام أحمد (42/4) وھو ضعيف
وللحديث شاھد ضعيف عند البيهقي (399/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
إسناده ضعيف
محمد بن عمرو ھو أبو سھل كما في مسند الإمام أحمد (42/4) وھو ضعيف
وللحديث شاھد ضعيف عند البيهقي (399/1)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
حدیث نمبر: 513
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْ الْأَنْصَارِ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كَانَ جَدِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَقَامَ جَدِّي.
عبداللہ بن محمد کہتے ہیں میرے دادا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے تھے، اس میں ہے: ”تو میرے دادا نے اقامت کہی“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 513]
جناب محمد بن عمرو انصارِ مدینہ کے مشائخ میں سے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن محمد کو سنا، وہ کہتے تھے کہ ”میرے دادا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کیا کرتے تھے۔“ (عبداللہ بن محمد نے) کہا: ”چنانچہ میرے دادا نے اقامت (تکبیر) کہی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 513]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 3653) (ضعیف)» (محمد بن عمرو انصاری کے سبب سے یہ حدیث ضعیف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (512)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
إسناده ضعيف
انظر الحديث السابق (512)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
حدیث نمبر: 514
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ يَعْنِي الْأَفْرِيقِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ، أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ، قَالَ:" لَمَّا كَانَ أَوَّلُ أَذَانِ الصُّبْحِ، أَمَرَنِي يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذَّنْتُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أُقِيمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى نَاحِيَةِ الْمَشْرِقِ إِلَى الْفَجْرِ، فَيَقُولُ: لَا حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ، نَزَلَ فَبَرَزَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيَّ وَقَدْ تَلَاحَقَ أَصْحَابُهُ يَعْنِي فَتَوَضَّأَ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ لَهُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ هُوَ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ، قَالَ: فَأَقَمْتُ".
زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے (اذان دینے کا) حکم دیا تو میں نے اذان کہی، پھر میں کہنے لگا: اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟ تو آپ مشرق کی طرف فجر کی روشنی دیکھنے لگے اور فرما رہے تھے: ”ابھی نہیں (جب تک طلوع فجر نہ ہو جائے)“، یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے اور وضو کیا، پھر میری طرف واپس پلٹے اور صحابہ کرام اکھٹا ہو گئے، تو بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہنی چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”صدائی نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی تکبیر کہے“۔ زیاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں نے تکبیر کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 514]
سیدنا زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب صبح کی پہلی اذان کا وقت ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے اذان کہی۔ پھر میں کہنے لگا: ”اے اللہ کے رسول! اقامت کہوں؟“ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرق کی جانب فجر کو دیکھتے اور فرماتے: ”نہیں۔“ حتیٰ کہ جب فجر (اچھی طرح) طلوع ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور وضو کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف آئے اور اس اثنا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ بھی آپ کو آ ملے (برز سے مراد ہے)، آپ نے وضو کیا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنے کا ارادہ کیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس صدائی نے اذان کہی ہے اور جو اذان کہے وہی اقامت کہے۔“ چنانچہ میں نے اقامت کہی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 514]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الصلاة 32 (199)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (717)، (تحفة الأشراف: 3653)، مسند احمد (4/169) (ضعیف)» (اس کے راوی عبدالرحمن افریقی ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (199) ابن ماجه (717)
الإ فريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
إسناده ضعيف
ترمذي (199) ابن ماجه (717)
الإ فريقي ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 32
31. باب رَفْعِ الصَّوْتِ بِالأَذَانِ
باب: بلند آواز سے اذان کہنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي يَحْيَى، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ، وَشَاهِدُ الصَّلَاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرُونَ صَلَاةً وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذن کی بخشش کر دی جاتی ہے، جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے ۱؎، اور اس کے لیے تمام خشک و تر گواہی دیتے ہیں، اور جو شخص نماز میں حاضر ہوتا ہے اس کے لیے پچیس نماز کا ثواب لکھا جاتا ہے اور ایک نماز سے دوسری نماز کے درمیان جو کوتاہی سرزد ہوئی ہو وہ مٹا دی جاتی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 515]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذن کو جہاں تک اس کی آواز جاتی ہے بخش دیا جاتا ہے، اور ہر خشک و تر چیز اس کی گواہی دیتی ہے، اور جو جماعت میں حاضر ہوتا ہے اس کے لیے پچیس نمازوں کا ثواب لکھ دیا جاتا ہے (اور دوسری نماز تک کے) مابین گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 515]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الأذان 14 (646)، سنن ابن ماجہ/الأذان 5 (724)، (تحفة الأشراف: 15466)، مسند احمد (2/429، 458) (صحیح)» (شواہد سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ مؤلف کی سند میں ابویحییٰ مجہول راوی ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں: یہ ابویحییٰ اسلمی ہیں، اگر ایسا ہے تو یہ حسن کے مرتبہ کے راوی ہیں)
وضاحت: ۱؎: یعنی اس کے اتنے گناہ بخش دیے جاتے ہیں جو اتنی جگہ میں سما سکیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (667)
مشكوة المصابيح (667)
حدیث نمبر: 516
حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ التَّأْذِينَ، فَإِذَا قُضِيَ النِّدَاءُ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ أَدْبَرَ، حَتَّى إِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطُرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ، وَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا اذْكُرْ كَذَا لِمَا لَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ حَتَّى يَضِلَّ الرَّجُلُ أَنْ يَدْرِيَ كَمْ صَلَّى".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان گوز مارتا ہوا پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے یہاں تک کہ (وہ اتنی دور چلا جاتا ہے کہ) اذان نہیں سنتا، پھر جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے، لیکن جوں ہی تکبیر شروع ہوتی ہے وہ پھر پیٹھ پھیر کر بھاگتا ہے، جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو شیطان دوبارہ آ جاتا ہے اور نمازی کے دل میں وسوسے ڈالتا ہے، کہتا ہے: فلاں بات یاد کرو، فلاں بات یاد کرو، ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہیں تھیں یہاں تک کہ اس شخص کو یاد نہیں رہ جاتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 516]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لیے اذان کہی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ پھیر کر پاد مارتا ہوا پلٹ جاتا ہے (اور اتنی دور چلا جاتا ہے) حتیٰ کہ اذان نہیں سنتا، جب اذان مکمل ہو جاتی ہے تو لوٹ آتا ہے، پھر جب اقامت کہی جاتی ہے تو پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے اور جب اقامت ہو جاتی ہے تو لوٹ آتا ہے اور نمازی کے دل میں طرح طرح کے خیالات ڈالتا ہے اور کہتا ہے: یہ یاد کر، ایسی ایسی باتیں یاد دلاتا ہے جو اسے یاد نہ آتی ہوں، حتیٰ کہ آدمی کو خیال ہی نہیں رہتا کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 516]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأذان 4 (608)، سنن النسائی/الأذان 30 (671)، (تحفة الأشراف: 13818)، موطا امام مالک/السہو 1 (1)، مسند احمد (2/313، 460، 522)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الصلاة 8 (389)، سنن الترمذی/الصلاة 175 (399)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 135 (1217)، ویأتي برقم (1030) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (608) صحيح مسلم (389)
32. باب مَا يَجِبُ عَلَى الْمُؤَذِّنِ مِنْ تَعَاهُدِ الْوَقْتِ
باب: مؤذن پر اذان کے اوقات کی پابندی ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 517
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِمَامُ ضَامِنٌ وَالْمُؤَذِّنُ مُؤْتَمَنٌ، اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام (مقتدیوں کی نماز کا) ضامن ۱؎ اور کفیل ہے اور مؤذن امین ہے ۲؎، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ ۳؎ اور مؤذنوں کو بخش دے ۴؎“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 517]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ضامن اور ذمہ دار ہے اور مؤذن امین اور قابل اعتماد ہے۔ «اللَّهُمَّ أَرْشِدِ الْأَئِمَّةَ وَاغْفِرْ لِلْمُؤَذِّنِينَ» ”اے اللہ! اماموں کو (صحیح علم و عمل) کی توفیق دے اور مؤذنوں کو بخش دے۔“” [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 517]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12429)، مسند احمد (2/232، 382، 419، 524)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 39 (207) (صحیح)» (مؤلف کی سند میں رجل مبہم راوی ہے، اگلی سند بھی ایسی ہی ہے، البتہ دیگر بہت سے مصادر میں یہ حدیث ثقہ راویوں سے مروی ہے، اعمش نے بھی خود براہ راست ابو صالح سے یہ حدیث سنی ہے (دیکھیے: ارواء الغلیل حدیث نمبر: 217)
وضاحت: ۱؎: امام کی ذمہ داری یہ ہے کہ صحیح سنت کے مطابق نماز پڑھائے۔ دعاؤں میں اپنے مقتدیوں کو شامل رکھے اور صرف اپنے آپ ہی کو مخصوص نہ کرے۔ مقتدیوں کی نماز کی صحت و درستگی امام کی نماز کی صحت و درستگی پر موقوف ہے؛ اس لئے امام طہارت وغیرہ میں احتیاط برتے اور نماز کے ارکان و واجبات کو اچھی طرح ادا کرے۔
۲؎: یعنی لوگ مؤذن کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھ لیتے اور روزہ رکھ لیتے ہیں، اس لئے مؤذن کو وقت کا خیال رکھنا چاہئے، نہ پہلے اذان دے نہ دیر کرے۔
۳؎: یعنی جو ذمہ داری اماموں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی انہیں توفیق دے۔
۴؎: مؤذنوں کو بخش دے یعنی اس امانت کی ادائیگی میں مؤذنوں سے جو کوتاہی اور تقصیر ہوئی ہو اسے معاف کر دے۔
۲؎: یعنی لوگ مؤذن کی اذان پر اعتماد کر کے نماز پڑھ لیتے اور روزہ رکھ لیتے ہیں، اس لئے مؤذن کو وقت کا خیال رکھنا چاہئے، نہ پہلے اذان دے نہ دیر کرے۔
۳؎: یعنی جو ذمہ داری اماموں نے اٹھا رکھی ہے اس کا شعور رکھنے اور اس سے عہدہ برآ ہونے کی انہیں توفیق دے۔
۴؎: مؤذنوں کو بخش دے یعنی اس امانت کی ادائیگی میں مؤذنوں سے جو کوتاہی اور تقصیر ہوئی ہو اسے معاف کر دے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (663)
وللحديث شاھد عند أحمد (6/65 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (663)
وللحديث شاھد عند أحمد (6/65 وسنده حسن)
حدیث نمبر: 518
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَالَ: نُبِّئْتُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: وَلَا أُرَانِي إِلَّا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَهُ.
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے گذشتہ حدیث کے مثل مرفوع روایت آئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 518]
جناب ابوصالح کہتے ہیں: ”میں نہیں سمجھتا مگر یہ کہ میں نے اسے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے سنا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔“ اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند روایت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 518]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبله، (تحفة الأشراف: 12429) (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (663)
انظر الحديث السابق (517)
مشكوة المصابيح (663)
انظر الحديث السابق (517)
33. باب الأَذَانِ فَوْقَ الْمَنَارَةِ
باب: مینار پر اذان دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 519
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ،عَنْ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، قَالَتْ:" كَانَ بَيْتِي مِنْ أَطْوَلِ بَيْتٍ حَوْلَ الْمَسْجِدِ وَكَانَ بِلَالٌ يُؤَذِّنُ عَلَيْهِ الْفَجْرَ، فَيَأْتِي بِسَحَرٍ فَيَجْلِسُ عَلَى الْبَيْتِ يَنْظُرُ إِلَى الْفَجْرِ، فَإِذَا رَآهُ تَمَطَّى، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ، قَالَتْ: ثُمَّ يُؤَذِّنُ"، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُهُ كَانَ تَرَكَهَا لَيْلَةً وَاحِدَةً تَعْنِي هَذِهِ الْكَلِمَاتِ.
قبیلہ بنی نجار کی ایک عورت کہتی ہے مسجد کے اردگرد گھروں میں سب سے اونچا میرا گھر تھا، بلال رضی اللہ عنہ اسی پر فجر کی اذان دیا کرتے تھے، چنانچہ وہ صبح سے کچھ پہلے ہی آتے اور گھر پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب اسے دیکھ لیتے تو انگڑائی لیتے، پھر کہتے: ”اے اللہ! میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں اور تجھ ہی سے قریش پر مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں“، وہ کہتی ہے: پھر وہ اذان دیتے، قسم اللہ کی، میں نہیں جانتی کہ انہوں نے کسی ایک رات بھی ان کلمات کو ترک کیا ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 519]
بنو نجار کی ایک خاتون رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میرا گھر مسجد کے اطراف کے گھروں میں سب سے اونچا تھا۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ فجر کی اذان اسی پر آ کر دیا کرتے تھے۔ وہ سحر کے وقت آ کر اس پر بیٹھ جاتے اور صبح صادق کو دیکھتے رہتے، جب صبح کو طلوع ہوتا دیکھتے تو انگڑائی لیتے اور کہتے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَحْمَدُكَ، وَأَسْتَعِينُكَ عَلَى قُرَيْشٍ أَنْ يُقِيمُوا دِينَكَ» ”اے اللہ! میں تیری تعریف کرتا ہوں اور قریش پر تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں کہ وہ تیرے دین کو قائم کریں۔“ وہ بیان کرتی ہیں کہ پھر اذان کہتے۔ قسم اللہ کی! مجھے نہیں معلوم کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کسی رات بھی یہ کلمات چھوڑے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 519]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف: 18378) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
محمد بن اسحاق بن يسار صرح بالسماع في السيرة لابن هشام (2/ 156، بتحقيقي) وقال الحافظ في الدراية (1/ 120): ’’إسناده حسن‘‘
محمد بن اسحاق بن يسار صرح بالسماع في السيرة لابن هشام (2/ 156، بتحقيقي) وقال الحافظ في الدراية (1/ 120): ’’إسناده حسن‘‘
34. باب فِي الْمُؤَذِّنِ يَسْتَدِيرُ فِي أَذَانِهِ
باب: اذان میں مؤذن دائیں بائیں گھومے اس کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 520
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ يَعْنِي ابْنَ الرَّبِيعِ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، جَمِيعًا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ، فَخَرَجَ بِلَالٌ فَأَذَّنَ، فَكُنْتُ أَتَتَبَّعُ فَمَهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ بُرُودٌ يَمَانِيَةٌ قِطْرِيٌّ، وَقَالَ مُوسَى: قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ إِلَى الْأَبْطَحِ فَأَذَّنَ، فَلَمَّا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، لَوَى عُنُقَهُ يَمِينًا وَشِمَالًا وَلَمْ يَسْتَدِرْ، ثُمَّ دَخَلَ فَأَخْرَجَ الْعَنَزَةَ"، وَسَاقَ حَدِيثَهُ.
ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک لال خیمہ میں تھے، بلال رضی اللہ عنہ باہر نکلے پھر اذان دی، میں انہیں اپنے منہ کو ادھر ادھر پھیرتے دیکھ رہا تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے، آپ یمنی قطری چادروں ۱؎ سے بنے سرخ جوڑے پہنے ہوئے تھے، موسی بن اسماعیل اپنی روایت میں کہتے ہیں کہ ابوحجیفہ نے کہا: میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابطح کی طرف نکلے پھر اذان دی، جب «حي على الصلاة» اور «حي على الفلاح» پر پہنچے تو اپنی گردن دائیں اور بائیں جانب موڑی اور خود نہیں گھومے ۲؎، پھر وہ اندر گئے اور نیزہ نکالا، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 520]
جناب عون بن ابی حجیفہ اپنے والد (ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ) سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں: ”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے اور ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے جو کہ سرخ چمڑے کا تھا۔ چنانچہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نکلے اور اذان کہی اور میں ان کا منہ دیکھ رہا تھا کہ دائیں بائیں پھیرتے تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور آپ سرخ رنگ کا حلہ زیب تن کیے ہوئے تھے اور یہ یمن کی قطری چادریں تھیں۔“ موسیٰ (دوسری سند کے راوی اور امام ابوداؤد کے استاذ) ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ وادی ابطح کی طرف نکلے اور اذان کہی۔ جب وہ «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ» ”نماز کی طرف آؤ“ اور «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» ”کامیابی کی طرف آؤ“ پر پہنچے تو اپنی گردن کو دائیں بائیں پھیرا اور خود پورے نہیں گھومے۔ پھر اندر آئے اور اپنا بھالا نکالا“ اور (موسیٰ نے باقی) حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 520]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 47 (503)، سنن الترمذی/الصلاة 30 (197)، سنن النسائی/الأذان 13 (644)، والزینة 123 (5380)، (تحفة الأشراف: 11806، 11817)، مسند احمد (4/308)، سنن الدارمی/الصلاة 8 (1234)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 15 (634)، سنن ابن ماجہ/الأذان 3 (711) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: مکہ سے یمن جنوب میں ہے، اور قطر احساء اور بحرین کے درمیانی علاقہ کا ایک مقام ہے، مذکورہ چادر ان جنوبی علاقوں میں بن کر ”یمنی قطری چادروں“ کے نام سے مشہور تھی۔
۲؎: اس سلسلہ میں روایتیں مختلف آئی ہیں بعض میں ہے «إنه كان يستدير» اور بعض میں ہے «لم يستدر» ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے گھومنے کا ذکر کیا ہے اس نے سر کا گھمانا مراد لیا ہے، اور جس نے نفی کی ہے اس نے جسم کے گھمانے کی نفی کی ہے۔ سرخ رنگ کے لباس کی عمومی طور پر نہی وارد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہنا ہے تو شارحین اس کی بابت یہ فرماتے ہیں کہ اس میں سرخ دھاریاں تھیں۔ «واللہ اعلم»
۲؎: اس سلسلہ میں روایتیں مختلف آئی ہیں بعض میں ہے «إنه كان يستدير» اور بعض میں ہے «لم يستدر» ان دونوں روایتوں میں تطبیق اس طرح دی جاتی ہے کہ جس نے گھومنے کا ذکر کیا ہے اس نے سر کا گھمانا مراد لیا ہے، اور جس نے نفی کی ہے اس نے جسم کے گھمانے کی نفی کی ہے۔ سرخ رنگ کے لباس کی عمومی طور پر نہی وارد ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو پہنا ہے تو شارحین اس کی بابت یہ فرماتے ہیں کہ اس میں سرخ دھاریاں تھیں۔ «واللہ اعلم»
قال الشيخ الألباني: صحيح ، لكن من قوله : قال موسى : منكر
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (503)