🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْبُزَاقِ فِي الْمَسْجِدِ
باب: مسجد میں تھوکنا مکروہ ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 481
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ الْجُذَامِيِّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَيْوَانَ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، قَالَ أَحْمَدُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّ رَجُلًا أَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِي الْقِبْلَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ: لَا يُصَلِّي لَكُمْ، فَأَرَادَ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يُصَلِّيَ لَهُمْ فَمَنَعُوهُ وَأَخْبَرُوهُ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: نَعَمْ، وَحَسِبْتُ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّكَ آذَيْتَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ".
ابو سہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں (احمد کہتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں) کہ ایک شخص نے کچھ لوگوں کی امامت کی تو قبلہ کی جانب تھوک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ رہے تھے، جب وہ شخص نماز سے فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص اب تمہاری امامت نہ کرے“، اس کے بعد اس نے نماز پڑھانی چاہی تو لوگوں نے اسے امامت سے روک دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا ہے، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، (میں نے منع کیا ہے)“، صحابی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: ”تم نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
سیدنا ابوسہلہ سائب بن خلاد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، احمد (احمد بن صالح، امام ابوداؤد رحمہ اللہ کے استاد) کہتے ہیں کہ وہ (سائب رضی اللہ عنہ) ایک صحابی ہیں۔ ان سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی قوم کی امامت کرائی اور اس نے قبلے کی جانب تھوک دیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے۔ جب وہ فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی قوم سے) فرمایا: ”(آئندہ) یہ تمہیں نماز نہ پڑھائے۔“ اس کے بعد اس نے انہیں نماز پڑھانا چاہی تو انہوں نے اس کو روک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا۔ تو اس نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 481]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 3789)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/56) (حسن)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (747)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 482
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي، فَبَزَقَ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى".
عبداللہ بن شخیر بن عوف رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
جناب مطرف اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں قدم کے نیچے تھوکا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 482]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 13 (554)، (تحفة الأشراف: 5348)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/المساجد 34 (728)، مسند احمد (4/25، 26) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (554)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، بِمَعْنَاهُ، زَادَ: ثُمَّ دَلَكَهُ بِنَعْلِهِ.
اس سند سے ابوالعلاء یزید بن عبداللہ بن الشخیر نے اپنے والد عبداللہ بن الشخیر رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث روایت کی ہے، اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جوتے سے مل دیا“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 483]
جناب ابو العلاء رحمہ اللہ نے اپنے والد رضی اللہ عنہ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا اور اضافہ کیا کہ ”پھر اسے اپنے جوتے سے مسل دیا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 483]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5348) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (554)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 484
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ بَصَقَ عَلَى الْبُورِيِّ، ثُمَّ مَسَحَهُ بِرِجْلِهِ، فَقِيلَ لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ هَذَا؟ قَالَ:" لِأَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ".
ابوسعید حمیری کہتے ہیں کہ میں نے دمشق کی مسجد میں واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے بوریے پر تھوکا، پھر اپنے پاؤں سے اسے مل دیا، ان سے پوچھا گیا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 484]
جناب ابوسعید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کو دمشق کی مسجد میں دیکھا کہ انہوں نے چٹائی پر تھوکا اور پھر اسے پاؤں سے مسل دیا، تو انہیں کہا گیا: ”آپ نے ایسے کیوں کیا؟“ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے ہی کرتے ہوئے دیکھا تھا۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 484]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11754)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/490) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”فَرَج“ ضعیف اور ”ابوسعید حمیری“ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الفرج بن فضالة: ضعيف،وشيخه أبو سعيد الحميري الشامي: مجهول (تقريب: 5383،8118)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 485
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْفَضْلِ السِّجِسْتَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيَّانِ، بهذا الحديث وهذا لفظ يحيى بن الفضل السجستاني، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ مُجَاهِدٍ أَبُو حَزْرَةَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، أَتَيْنَا جَابِرًا يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ فِي مَسْجِدِهِ، فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ، فَنَظَرَ فَرَأَى فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَأَقْبَلَ عَلَيْهَا فَحَتَّهَا بِالْعُرْجُونِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَجْهِهِ؟ ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ قِبَلَ وَجْهِهِ، فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَكَذَا، وَوَضَعَهُ عَلَى فِيهِ، ثُمَّ دَلَكَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَرُونِي عَبِيرًا، فَقَامَ فَتًى مِنَ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِهِ فَجَاءَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَى رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَى أَثَرِ النُّخَامَةِ"، قَالَ جَابِرٌ: فَمِنْ هُنَاكَ جَعَلْتُمُ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِكُمْ.
عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ ہم جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کے پاس آئے، وہ اپنی مسجد میں تھے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری اس مسجد میں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب ۱؎ کی ایک ٹہنی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ میں بلغم دیکھا تو اس کی طرف بڑھے اور اسے ٹہنی سے کھرچا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون یہ پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے اپنا چہرہ پھیر لے؟“، پھر فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہو کر نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا اپنے سامنے اور اپنے داہنی طرف ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پیر کے نیچے تھوکے اور اگر جلدی میں کوئی چیز (بلغم) آ جائے تو اپنے کپڑے سے اس طرح کرے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے کو اپنے منہ پر رکھا (اور اس میں تھوکا) پھر اسے مل دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے «عبير» ۲؎ لا کر دو“، چنانچہ محلے کا ایک نوجوان اٹھا، دوڑتا ہوا اپنے گھر والوں کے پاس گیا اور اپنی ہتھیلی میں «خلوق» ۳؎ لے کر آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لے کر لکڑی کی نوک میں لگایا اور جہاں بلغم لگا تھا وہاں اسے پوت دیا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسی وجہ سے تم لوگ اپنی مسجدوں میں «خلوق» لگایا کرتے ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
جناب عبادہ بن ولید بن عبادہ بن صامت نے کہا کہ ہم سیدنا جابر یعنی جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاں آئے اور وہ اپنی مسجد میں تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری مسجد میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ابن طاب کھجور کی شاخ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو آپ کی نظر قبلے کی دیوار پر لگے بلغم پر پڑی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف گئے اور شاخ سے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے منہ پھیر لے؟“ پھر فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے ہوتا ہے، تو کوئی شخص اپنے قبلہ رخ یا دائیں طرف ہرگز نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں قدم کے نیچے تھوکے۔ اگر جلدی ہو تو اپنے کپڑے میں ایسے ایسے کر لیا کرے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑا اپنے منہ پر رکھا پھر اسے مسل دیا، پھر فرمایا: ”خوشبو لاؤ۔“ تو قبیلے کا ایک نوجوان اٹھا اور دوڑتا ہوا اپنے گھر گیا اور اپنی ہتھیلی میں خوشبو لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے شاخ کے سرے پر لگا کر بلغم والی جگہ پر لگا دیا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بس یہیں سے تم لوگ اپنی مساجد میں خوشبو لگاتے ہو۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 485]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 2359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/324) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: ابن طاب ایک قسم کی کھجور کا نام ہے۔
۲؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
۳؎: ایک قسم کی خوشبو ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (3008)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
23. باب مَا جَاءَ فِي الْمُشْرِكِ يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ
باب: مشرک مسجد میں داخل ہو اس کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 486
حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ، ثُمَّ قَالَ:" أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ؟ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذَا الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ أَجَبْتُكَ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي سَائِلُكَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا، اس نے اسے مسجد میں بٹھایا پھر اسے باندھا، پھر پوچھا: تم میں محمد کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ان (لوگوں) کے بیچ ٹیک لگائے بیٹھے تھے، ہم نے اس سے کہا: یہ گورے شخص ہیں جو ٹیک لگائے ہوئے ہیں، پھر اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”میں نے تمہاری بات سن لی، (کہو کیا کہنا چاہتے ہو)“، تو اس شخص نے کہا: محمد! میں آپ سے پوچھتا ہوں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 486]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا، وہ اونٹ پر تھا، اس نے اونٹ کو مسجد (کے احاطے) میں بٹھایا، پھر اسے باندھا، پھر کہا: ”تم میں سے محمد کون ہے؟“ جب کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ ہم نے کہا: ”یہ جو گورا چٹا شخص ٹیک لگائے ہوئے ہیں (یہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں)۔“ تو اس آدمی نے آپ سے کہا: ”اے ابن عبدالمطلب!“ آپ نے فرمایا: ”جواب دے رہا ہوں۔“ اس نے کہا: ”اے محمد! میں آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں“، اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 486]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العلم 6 (63)، سنن النسائی/الصیام 1 (2094)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 194 (1402)، (تحفة الأشراف: 907)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإیمان 3 (10)، سنن الترمذی/الزکاة 2 (619)، مسند احمد (3/143، 193)، سنن الدارمی/الصلاة 140 (1470) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: مسجد میں داخل ہونے والا شخص مشرک تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مسجد میں داخل ہونے سے منع نہیں کیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (63)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 487
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ نُوَيْفِعٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: بَعَثَ بَنُو سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ ضِمَامَ بْنَ ثَعْلَبَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَدِمَ عَلَيْهِ فَأَنَاخَ بَعِيرَهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ثُمَّ عَقَلَهُ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ: فَقَالَ: أَيُّكُمْ ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ بنی سعد بن بکرنے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، وہ آپ کے پاس آئے انہوں نے اپنا اونٹ مسجد کے دروازے پر بٹھایا اور اسے باندھ دیا پھر مسجد میں داخل ہوئے، پھر محمد بن عمرو نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے اس نے کہا: تم میں عبدالمطلب کا بیٹا کون ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عبدالمطلب کا بیٹا میں ہوں“، تو اس نے کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹے! اور راوی نے پوری حدیث اخیر تک بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قبیلہ بنو سعد بن بکر نے ضمام بن ثعلبہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے آ کر اپنا اونٹ دروازے کے پاس بٹھایا، پھر اسے باندھا اور مسجد کے اندر آ گیا اور مذکورہ بالا حدیث کی مانند بیان کیا۔ اس نے کہا: ”تم میں سے ابن عبدالمطلب کون ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ابن عبدالمطلب ہوں۔“ اس نے کہا: ”اے ابن عبدالمطلب!“ اور حدیث بیان کی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 487]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6353)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/250، 264، 265) (حسن)» ‏‏‏‏
وضاحت: صحیح بخاری میں یہ روایت مفصل آئی ہے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سوالات پوچھے آپ نے ان سوالات کے جوابات دئیے پھر یہ ایمان لے آئے تھے (صحیح بخاری حدیث ۶۳) اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ غیر مسلم یہود، نصاریٰ، ہندو یا مجوسی وغیرہ کوئی بھی ہوں کسی بھی معقول ضرورت سے مسجدوں میں آ سکتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 488
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ وَنَحْنُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ،عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:" الْيَهُودُ أَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فِي رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ زَنَيَا مِنْهُمْ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ مسجد میں اپنے اصحاب میں بیٹھے ہوئے تھے تو ان یہودیوں نے کہا: اے ابوالقاسم! ہم ایک مرد اور ایک عورت کے سلسلے میں جنہوں نے زنا کر لیا ہے ۱؎ آئے ہیں (تو ان کے سلسلہ میں کیا حکم ہے؟)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 488]
قبیلہ مزینہ کے ایک آدمی نے، جب کہ ہم سعید بن مسیب رحمہ اللہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہمیں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کی کہ (کچھ) یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے، انہوں نے آ کر کہا: ”اے ابوالقاسم!“ اور ان کے ایک مرد اور ایک عورت نے زنا کیا تھا، اس کے بارے میں دریافت کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15492)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/279)ویأتی ہذا الحدیث فی الأقضیة برقم (3624،3625)، وفی الحدود برقم (4450، 4451) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (رجل مزینہ مجہول ہے)
وضاحت: ۱؎: باب کی ان حدیثوں سے ثابت ہوتا ہے کہ کافر بوقت ضرورت مسجد میں داخل ہو سکتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رجل من مزينة: لم أعرفه
وانظر الحديث الآتي (3624،4450)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
24. باب فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي لاَ تَجُوزُ فِيهَا الصَّلاَةُ
باب: ان جگہوں کا بیان جہاں پر نماز ناجائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 489
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي ذَرّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" جُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا".
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے لیے ساری زمین ذریعہ طہارت اور مسجد بنائی گئی ہے“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 489]
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمین میرے لیے پاک کرنے والی بنائی گئی ہے اور جائے سجدہ بھی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 489]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابوداود، (تحفة الأشراف: 11969)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/145، 147، 248، 256) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی ہر پاک زمین تیمم کرنے اور نماز پڑھنے کے لائق بنا دی گئی ہے، یہ صرف امت محمدیہ کی خصوصیت ہے کہ ہم بالعموم ہر جگہ نماز پڑھ سکتے ہیں، سوائے چند مخصوص مقامات کے جن کا ذکر آگے احادیث میں آ رہا ہے۔ پہلی امتوں کو اس کے لئے بڑا اہتمام کرنا پڑتا تھا، وہ صرف عبادت خانوں ہی میں نماز پڑھ سکتی تھیں، دوسری جگہوں پر نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد عند البخاري (335،438) ومسلم (521) وغيرهما

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 490
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ وَيَحْيَى بْنُ أَزْهَرَ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَعْدٍ الْمُرَادِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْغِفَارِيِّ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِبَابِلَ وَهُوَ يَسِيرُ فَجَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ يُؤَذِّنُ بِصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَلَمَّا بَرَزَ مِنْهَا أَمَرَ الْمُؤَذِّنَ فَأَقَامَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ:" إِنَّ حَبِيبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي الْمَقْبَرَةِ وَنَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ فِي أَرْضِ بَابِلَ فَإِنَّهَا مَلْعُونَةٌ".
ابوصالح غفاری کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر رہے تھے کہ ان کے پاس مؤذن انہیں نماز عصر کی خبر دینے آیا، تو جب آپ بابل کی سر زمین پار کر گئے تو مؤذن کو حکم دیا اس نے عصر کے لیے تکبیر کہی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان میں اور سر زمین بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۱؎ کیونکہ اس پر لعنت کی گئی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 490]
جناب ابوصالح غفاری بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بابل سے گزر کر جا رہے تھے تو مؤذن ان کے پاس آیا اور انہیں نمازِ عصر کی اطلاع دی، مگر جب وہ اس سے باہر نکل گئے تو انہوں نے مؤذن کو حکم دیا اور اس نے نماز کی اقامت کہی، جب فارغ ہوئے تو فرمانے لگے: ”میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے قبرستان اور سرزمینِ بابل میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے کیونکہ یہ ملعون ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 490]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 10328) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”عمار“ ضعیف ہیں اور ”ابوصالح الغفاری“ کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ روایت اس باب کی صحیح روایت کے معارض ہے کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ بفرض صحت اس سے مقصود یہ ہے کہ بابل میں سکونت اختیار نہ کی جائے یا یہ ممانعت خاص علی رضی اللہ عنہ کے لئے تھی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ معلوم تھا کہ یہاں کے لوگوں سے انہیں ضرر پہنچے گا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
رواية أبي صالح الغفاري: سعيد بن عبد الرحمٰن عن علي مرسلة،قاله ابن يونس المصري،انظر التقريب (2356) وتاريخ ابن يونس المصري (1/ 208 ت 554) وتحفة التحصيل (ص 125)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 31

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں