🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
12. باب فِي بِنَاءِ الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد کی تعمیر کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 451
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، وَمُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى، وَهُوَ أَتَمُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَر أَخْبَرَهُ" أَنّ الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ، قَالَ مُجَاهِدٌ: وَعُمُدُهُ مِنْ خَشَبِ النَّخْلِ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ شَيْئًا، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ: وَبَنَاهُ عَلَى بِنَائِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّبِنِ وَالْجَرِيدِ وَأَعَادَ عُمُدَهُ، قَالَ مُجَاهِدٌ: عُمُدَهُ خَشَبًا، وَغَيَّرَهُ عُثْمَانُ فَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَثِيرَةً: وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الْمَنْقُوشَةِ وَالْقَصَّةِ وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ وَسَقْفَهُ بِالسَّاجِ، قَالَ مُجَاهِدٌ: وَسَقَّفَهُ السَّاجَ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَصَّةُ الْجِصُّ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی، مجاہد کہتے ہیں: اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیا، البتہ عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا، اور اس کی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی بنیادوں کے مطابق کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے کی اور اس کے ستون بھی نئی لکڑی کے لگائے، مجاہد کی روایت میں «عمده خشبا» کے الفاظ ہیں، پھر عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی عمارت میں تبدیلی کی اور اس میں بہت سارے اضافے کئے، اس کی دیواریں منقش پتھروں اور گچ (چونا) سے بنوائیں، اس کے ستون منقش پتھروں کے بنوائے اور اس کی چھت ساگوان کی لکڑی کی بنوائی۔ مجاہد کی روایت میں «وسقفه الساج» کے بجائے «وسقفه بالساج» ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: حدیث میں مذکور ( «قصة») کے معنی گچ کے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 451]
جناب نافع بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ان کو خبر دی کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنی ہوئی تھی اور اس کے ستون کھجوروں کی لکڑی کے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کچھ اضافہ نہ کیا، جبکہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ کیا مگر اسے ویسے ہی بنایا جیسے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کچی اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے بنائی گئی تھی، مگر اس کے ستون بدل دیے اور لکڑی کے لگائے۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس (تعمیر) کو بدل دیا اور بہت زیادہ اضافہ کیا اور اس کی دیواریں اور ستون منقش پتھروں اور چونے سے بنائے اور چھت ساگوان کی لکڑی کی بنائی۔“ مجاہد کے لفظ ہیں: «وَسَقَفَهُ بِالسَّاجِ» اور ”ساگوان سے اس کی چھت بنائی۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے فرمایا کہ لفظِ حدیث «الْقَصَّة» کا معنی «الْجِصّ» یعنی ”گچ ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 451]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 62 (446)، (تحفة الأشراف: 7683)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/130) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (446)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 452
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ،" أَنّ مَسْجِدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ سَوَارِيهِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جُذُوعِ النَّخْلِ، أَعْلَاهُ مُظَلَّلٌ بِجَرِيدِ النَّخْلِ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ فَبَنَاهَا بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَبِجَرِيدِ النَّخْلِ، ثُمَّ إِنَّهَا نَخِرَتْ فِي خِلَافَةِ عُثْمَانَ فَبَنَاهَا بِالْآجُرِّ، فَلَمْ تَزَلْ ثَابِتَةً حَتَّى الْآنَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد نبوی کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے، اس کے اوپر کھجور کی شاخوں سے سایہ کر دیا گیا تھا، پھر وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اس کو کھجور کے تنوں اور اس کی ٹہنیوں سے بنوایا، پھر عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں وہ بھی بوسیدہ ہو گئی تو انہوں نے اسے پکی اینٹوں سے بنوا دیا، جو اب تک باقی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 452]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مسجد نبوی کے ستون کھجوروں کے تنوں کے تھے، جن پر کھجوروں کی شاخوں سے چھت ڈالی گئی تھی۔ پھر جب یہ بوسیدہ ہو گئیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور میں تنوں اور شاخوں کو بدل دیا گیا (اور اس کی سابقہ بنا میں کوئی تبدیلی نہ کی گئی)۔ یہ پھر بوسیدہ ہو گئیں تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں انہوں نے اسے پختہ اینٹوں سے بنوایا اور یہ تاحال اس پر قائم ہے (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ روایت بیان کی تو اس وقت تک وہی تعمیر باقی تھی)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 452]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7335) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے ایک راوی ”عطیہ عوفی“ ضعیف ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عطية العوفي: ضعيف مدلس: انظر طبقات المدلسين (122/ 4)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 453
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَنَزَلَ فِي عُلْوِ الْمَدِينَةِ فِي حَيٍّ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَأَقَامَ فِيهِمْ أَرْبَعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ فَجَاءُوا مُتَقَلِّدِينَ سُيُوفَهُمْ، فَقَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَأَبُو بَكْرٍ رِدْفُهُ، وَمَلَأُ بَنِي النَّجَّارِ حَوْلَهُ حَتَّى أَلْقَى بِفِنَاءِ أَبِي أَيُّوبَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَيْثُ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ وَيُصَلِّي فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ، وَإِنَّهُ أَمَرَ بِبِنَاءِ الْمَسْجِدِ، فَأَرْسَلَ إِلَى بَنِي النَّجَّارِ، فَقَالَ: يَا بَنِي النَّجَّارِ، ثَامِنُونِي بِحَائِطِكُمْ هَذَا، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا نَطْلُبُ ثَمَنَهُ إِلَّا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ أَنَسٌ: وَكَانَ فِيهِ مَا أَقُولُ لَكُمْ كَانَتْ فِيهِ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ وَكَانَتْ فِيهِ خِرَبٌ وَكَانَ فِيهِ نَخْلٌ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُبُورِ الْمُشْرِكِينَ فَنُبِشَتْ، وَبِالْخِرَبِ فَسُوِّيَتْ، وَبِالنَّخْلِ فَقُطِعَ، فَصَفُّوا النَّخْلَ قِبْلَةَ الْمَسْجِدِ وَجَعَلُوا عِضَادَتَيْهِ حِجَارَةً، وَجَعَلُوا يَنْقُلُونَ الصَّخْرَ وَهُمْ يَرْتَجِزُونَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ، فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ".
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ شہر کے بالائی حصہ میں ایک محلہ میں اترے، جسے بنی عمرو بن عوف کا محلہ کہا جاتا تھا، وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چودہ دن تک قیام پذیر رہے، پھر آپ نے بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا تو وہ اپنی تلواریں لٹکائے آئے، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گویا میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں، آپ اپنی اونٹنی پر سوار ہیں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہیں، اور بنو نجار کے لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد ہیں یہاں تک کہ آپ ابوایوب رضی اللہ عنہ کے مکان کے صحن میں اترے، جس جگہ نماز کا وقت آ جاتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے، بکریوں کے باڑے میں بھی نماز پڑھ لیتے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد بنانے کا حکم فرمایا اور بنو نجار کے لوگوں کو بلوایا، (وہ آئے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اے بنو نجار! تم مجھ سے اپنے اس باغ کی قیمت لے لو“، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم اس کی قیمت اللہ ہی سے چاہتے ہیں۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس باغ میں جو چیزیں تھیں وہ میں تمہیں بتاتا ہوں: اس میں مشرکوں کی قبریں تھیں، ویران جگہیں، کھنڈرات اور کھجور کے درخت تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا، مشرکوں کی قبریں کھود کر پھینک دی گئیں، ویران جگہیں اور کھنڈر ہموار کر دیئے گئے، کھجور کے درخت کاٹ ڈالے گئے، ان کی لکڑیاں مسجد کے قبلے کی طرف قطار سے لگا دی گئیں اور اس کے دروازے کی چوکھٹ کے دونوں بازو پتھروں سے بنائے گئے، لوگ پتھر اٹھاتے جاتے تھے اور اشعار پڑھتے جاتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے اور فرماتے تھے: «اللهم لا خير إلا خير الآخره فانصر الأنصار والمهاجره» اے اللہ! بھلائی تو دراصل آخرت کی بھلائی ہے تو تو انصار و مہاجرین کی مدد فرما۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 453]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے اور (پہلے) اس کی بالائی جانب قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں قیام فرمایا۔ ان کے ہاں چودہ راتیں (دو ہفتے) مقیم رہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نجار کو پیغام بھجوایا تو وہ (اپنی روایات کے مطابق استقبال کے لیے تیار ہو کر) تلواریں اپنے گلوں میں حمائل کیے ہوئے آئے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں گویا (وہ منظر میری نظروں کے سامنے ہے) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ اپنی سواری پر ہیں اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے بیٹھے ہیں اور بنو نجار کے معززین آپ کے ارد گرد ہیں، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوایوب رضی اللہ عنہ کے احاطے میں نزول فرمایا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں بھی نماز کا وقت ہو جاتا، پڑھ لیا کرتے تھے۔ آپ بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا اور بنو نجار کو بلوایا اور کہا: ”تم مجھ سے اپنے اس باغ کا سودا کر لو۔“ انہوں نے کہا: ”قسم اللہ کی! ہم اس کی قیمت صرف اللہ عزوجل ہی سے لیں گے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا اور اس میں وہ کچھ تھا جو میں تمہیں بتا رہا ہوں یعنی مشرکین کی قبریں، کھنڈر اور کھجوروں کے درخت۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین کی قبروں کے متعلق حکم دیا اور انہیں اکھیڑ دیا گیا، کھنڈر برابر کر دیے گئے اور کھجوریں کاٹ دی گئیں اور ان کے تنوں کو قبلہ رخ قطار سے رکھ دیا گیا۔ اور دروازے کے دونوں کنارے پتھروں سے چنے گئے اور (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو تعمیر میں شریک تھے) پتھر ڈھوتے تھے اور مل کر اشعار پڑھتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ تھے: «اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ» ”اے اللہ! خیر تو بس وہی ہے جو آخرت میں ملے، پس تو انصار و مہاجرین کی نصرت فرما۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 453]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الصلاة 48 (428)، وفضائل المدینة 1 (1868)، وفضائل الأنصار 46 (3906)، صحیح مسلم/المساجد 1 (524)، سنن النسائی/المساجد 12 (703)، سنن ابن ماجہ/المساجد 3 (742)، (تحفة الأشراف: 1691)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الصلاة 142 (350)، مسند احمد (3/118، 123، 212، 244) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (428) صحيح مسلم (524)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 454
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ مَوْضِعُ الْمَسْجِدِ حَائِطًا لِبَنِي النَّجَّارِ فِيهِ حَرْثٌ وَنَخْلٌ وَقُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ثَامِنُونِي بِهِ، فَقَالُوا: لَا نَبْغِي بِهِ ثَمَنًا، فَقُطِعَ النَّخْلُ وَسُوِّيَ الْحَرْثُ وَنُبِشَ قُبُورُ الْمُشْرِكِينَ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَاغْفِرْ مَكَانَ فَانْصُرْ، قَالَ مُوسَى: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بِنَحْوِهِ، وَكَانَ عَبْدُ الْوَارِثِ، يَقُولُ: خَرِبٌ، وَزَعَمَ عَبْدُ الْوَارِثِ أَنَّهُ أَفَادَ حَمَّادًا هَذَا الْحَدِيثَ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مسجد نبوی کی جگہ پر قبیلہ بنو نجار کا ایک باغ تھا، اس میں کچھ کھیت، کچھ کھجور کے درخت اور مشرکوں کی قبریں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مجھ سے اس کی قیمت لے لو“، انہوں نے کہا: ہم اس کی قیمت نہیں چاہتے، تو کھجور کے درخت کاٹے گئے، کھیت برابر کئے گئے اور مشرکین کی قبریں کھدوائی گئیں، پھر راوی نے پوری حدیث بیان کی، مگر اس حدیث میں لفظ «فانصر» کی جگہ لفظ «فاغفر» ہے (یعنی اے اللہ! تو انصار و مہاجرین کو بخش دے)۔ موسیٰ نے کہا: ہم سے عبدالوارث نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے اور عبدالوارث «خرث» کے بجائے «خرب» (ویرانے) کی روایت کرتے ہیں، عبدالوارث کا کہنا ہے کہ انہوں نے ہی حماد سے یہ حدیث بیان کی ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 454]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی کا احاطہ دراصل بنی نجار کا باغ تھا اور اس میں کچھ کھیتی، کھجوریں اور مشرکین کی قبریں تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے اس کی قیمت لے لو۔“ تو انہوں نے کہا کہ ”ہم اس کی قیمت نہیں لیں گے۔“ چنانچہ کھجوریں کاٹ دی گئیں، کھیتی کو برابر کر دیا گیا اور مشرکین کی قبروں کو اکھیڑ دیا گیا۔ اور پوری حدیث بیان کی۔ (مذکورہ شعر میں) «فانصر» کی جگہ «فاغفر» کا لفظ بیان کیا ہے، یعنی ”بخش دے۔“ موسیٰ (موسیٰ بن اسماعیل) کہتے ہیں کہ عبدالوارث نے ہم سے اس کی مانند بیان کیا اور عبدالوارث «خرب» ”کھنڈر“ بیان کرتے تھے (نہ کہ «خرث») اور کہتے تھے کہ ”میں نے ہی حماد کو یہ حدیث بیان کی ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 454]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 1691) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
13. باب اتِّخَاذِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ
باب: گھر اور محلہ میں مساجد بنا نے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 455
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَاءِ الْمَسَاجِدِ فِي الدُّورِ وَأَنْ تُنَظَّفَ وَتُطَيَّبَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر اور محلہ میں مسجدیں بنانے، انہیں پاک صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 455]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ”محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاکیزہ، صاف ستھرا اور معطر رکھا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 455]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/المساجد والجماعات 9 (759)، (تحفة الأشراف: 16891)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الجمعة 64 (594)، مسند احمد (5/12، 271) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (717)
أخرجه ابن ماجه (758) وسنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ سَمُرَةَ، حَدَّثَنِي خُبَيْبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ سُلَيْمَانَ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ أَبِيهِ سَمُرَةَ، أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى ابْنِهِ، أَمَّا بَعْدُ،" فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْمَسَاجِدِ أَنْ نَصْنَعَهَا فِي دِيَارِنَا وَنُصْلِحَ صَنْعَتَهَا وَنُطَهِّرَهَا".
سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بیٹے (سلیمان) کو لکھا: حمد و صلاۃ کے بعد معلوم ہونا چاہیئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھروں اور محلوں میں مسجدیں بنانے اور انہیں درست اور پاک و صاف رکھنے کا حکم دیتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 456]
جناب سلیمان بن سمرہ اپنے والد سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ (سمرہ بن جندب) سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹوں کی طرف لکھا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تعمیرِ مساجد کا حکم دیا کرتے تھے کہ ”محلے میں ان کی تعمیر کریں اور ان کی عمارت عمدہ بنائیں اور انہیں پاکیزہ رکھیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، مسند احمد (5/17)، (تحفة الأشراف: 4616) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
خبيب بن سليمان: مجھول (تقريب: 1700)
وجعفر بن سعد: ضعيف،ضعفه الجمھور
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 29

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
14. باب فِي السُّرُجِ فِي الْمَسَاجِدِ
باب: مساجد میں چراغ جلانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 457
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ /a>، حَدَّثَنَا مِسْكِينٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي سَوْدَةَ، عَنْ مَيْمُونَةَ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَقَالَ:" ائْتُوهُ فَصَلُّوا فِيهِ، وَكَانَتِ الْبِلَادُ إِذْ ذَاكَ حَرْبًا، فَإِنْ لَمْ تَأْتُوهُ وَتُصَلُّوا فِيهِ، فَابْعَثُوا بِزَيْتٍ يُسْرَجُ فِي قَنَادِيلِهِ".
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آزاد کردہ لونڈی میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ بیت المقدس کے سلسلے میں ہمیں حکم دیجئیے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہاں جاؤ اور اس میں نماز پڑھو“، اس زمانے میں ان شہروں میں لڑائی پھیلی ہوئی تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو تیل ہی بھیج دو کہ اس کی قندیلوں میں جلایا جا سکے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 457]
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا (میمونہ بنت سعد) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خادمہ نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! ہمیں بیت المقدس کے متعلق ارشاد فرمائیے“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں جاؤ، تو وہاں نماز پڑھو۔“ اور اس زمانے میں یہ علاقہ دار الحرب تھا۔ (فرمایا): ”اگر وہاں نہ جا سکو اور نماز نہ پڑھ سکو تو وہاں کے لیے تیل ہی بھیج دو کہ اس کے چراغوں میں ڈالا جائے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 457]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 196 (1407)، (تحفة الأشراف: 18087)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/463) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (زیاد اور میمونہ کے درمیان سند میں انقطاع ہے، لیکن ابن ماجہ کی سند میں یہ واسطہ عثمان بن أبی سودة ہے، اس حدیث کی تصحیح بوصیری نے کی ہے، اور نووی نے تحسین کی ہے، البانی نے صحیح أبی داود (68) میں اس کی تصحیح کی ہے، اور اخیر خبر میں نکارت کا ذکر کیا ہے، ناشر نے یہ نوٹ لگایا ہے کہ البانی صاحب نے بعد میں صحیح أبی داود سے ضعیف أبی داود میں منتقل کر دیا ہے، بغیر اس کے کہ وہ اس پر اپنے فیصلے کو تبدیل کریں، جبکہ آخری حدیث میں ذہبی سے نکارت کی وجہ بیان کر دی ہے، کہ زیتون کا تیل فلسطین میں ہوتا ہے، تو حجاز سے اس کو وہاں بھیجنے کا کیا مطلب، اور یہ کہ یہ تیل نصارے کے لئے وہ بھیجیں کہ وہ صلیب و تمثال پر اس کو جلائیں، یہ کیسے جائز ہو سکتا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1407)
زياد بن أبي سودة: رواه عن عثمان بن أبي سودة ولا يعرف لعثمان سماع من ميمونة رضي اللّٰه عنها،انظر المھذب في اختصار السنن الكبير للذھبي (2/ 402 ح 3133) فالسند معلل بالإنقطاع والحديث ضعفه الجمهور وقال الذھبي: ’’وھذا خبر منكر‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
15. باب فِي حَصَى الْمَسْجِدِ
باب: مسجد کی کنکریوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 458
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَصَى الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ:"مُطِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ مُبْتَلَّةً فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْحَصَى فِي ثَوْبِهِ فَيَبْسُطُهُ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا".
ابوالولید سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہو گئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو فرمایا: ”کتنا اچھا کام ہے یہ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 458]
جناب ابوالولید کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مسجد میں کنکریوں کے متعلق پوچھا (کہ بچھائی جائیں یا نہیں) تو انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک رات بارش ہو گئی اور زمین گیلی ہو گئی تو ہر آدمی اپنے کپڑے میں کنکریاں لے آتا اور اپنے نیچے بچھا لیتا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کس قدر اچھا کام ہے یہ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 458]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8594) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی ”ابوالولید“ مجہول ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أبو الوليد: مجهول (تقريب: 8439)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَوَكِيعٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ" إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا أَخْرَجَ الْحَصَى مِنَ الْمَسْجِدِ يُنَاشِدُهُ".
ابوصالح کہتے ہیں کہ کہا جاتا تھا: جب آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے قسم دلاتی ہیں (کہ ہمیں نہ نکالو)۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 459]
جناب ابوصالح رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ ”کہا جاتا تھا جب کوئی آدمی مسجد سے کنکریاں باہر نکالتا ہے تو یہ اسے اللہ کا واسطہ دیتی ہیں (کہ ہمیں مت نکالو)۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 459]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12837) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
الأعمش عنعن (تقدم: 14)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 460
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي الصَّاغَانِيَّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، حَدَّثَنَا أَبُو حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو بَدْرٍ: أُرَاهُ قَدْ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْحَصَاةَ لَتُنَاشِدُ الَّذِي يُخْرِجُهَا مِنَ الْمَسْجِدِ".
ابوبدر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً روایت کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کنکری اس شخص کو قسم دلاتی ہے جو اس کو مسجد سے نکالتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 460]
جناب ابوصالح، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابوبدر (سند کے ایک راوی) نے کہا، میرا خیال ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی کنکریوں کو مسجد سے نکالتا ہے تو وہ اسے اللہ کا واسطہ دیتی ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 460]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12837) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس میں ”قاضی شریک“ ضعیف راوی ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
قال الدار قطني: ’’رفعه وھم من أبي بدر ‘‘ (الترغيب والترهيب 1 / 205) وأبو بدر شك في رفعه والصواب موقوف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 30

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں