الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
13. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي النَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِعَانَةِ الْمُسْلِمِ وَتَفْرِيحِ كَرْبِهِ وَقَضَاءِ حَاجَيْهِ وَمِثْرٍ عَوْرَتِهِ
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9114
عَنْ سَلَّامِ بْنِ عَمْرٍو الْيَشْكُرِيِّ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِخْوَانُكُمْ أَحْسِنُوا إِلَيْهِمْ أَوْ فَأَصْلِحُوا إِلَيْهِمْ وَاسْتَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَكُمْ وَأَعِينُوهُمْ عَلَى مَا غَلَبَهُمْ
۔ ایک صحابی ٔ رسول بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائیوں کے ساتھ احسان کرو اور جو چیز تم کو مغلوب کر دے، تم اس کے معاملے میں اپنے بھائیوں سے مدد طلب کرو اور جو چیز ان پر غالب آ جائے، تو اس کے معاملے میں ان کی مدد کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9114]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبو يعلي: 920، والبخاري في الادب المفرد: 190، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23148 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23535»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9115
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ جَاءَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ أَخْلَافًا فَقَالَ لَهُ أَلَا تَسْتَاكُ فَقَالَ إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنِّي لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا فَآوَاهُ وَقَضَى لَهُ حَاجَتَهُ
۔ سیدنا عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ دوآدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، ان کی ضرورت ایک ہی تھی، ان میں سے ایک نے جب گفتگو کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے منہ سے بد بو محسوس کی اور فرمایا: کیا تو مسواک نہیں کرتا؟ اس نے کہا: جی میں ضرور کرتاہوں، لیکن بات یہ ہے کہ میں نے تین دنوں سے کھانا نہیں کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو حکم دیا، پس وہ اس کو لے گیا اور اس کی ضرورت پوری کی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9115]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، قابوس بن ابي ظبيان ليّن،يكتب حديثه ولا يحتج به، أخرجه الطبراني: 12611، والبيھقي: 1/ 39، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2409 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2409»
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
14. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي شَدُ أَزْرِ الْمُؤْمِنِ وَوُدِّهِ وَالْعَطْفِ عَلَيْهِ وَالتَّالُم لَا لَـمِهِ
مسلمان کی پشت پناہی کرنے، اس سے محبت کرنے، اس پر شفقت کرنے اور اس کی تکلیف کی وجہ سے تکلیف محسوس کرنے کی رغبت کا بیان
حدیث نمبر: 9116
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (مَثَلُ الْمُؤْمِنِ فِي تَوَادِّهِمْ وَتَعَاطُفِهِمْ وَتَرَاحُمِهِمْ مَثَلُ الْجَسَدِ إِذَا اشْتَكَى مِنْهُ عُضْوٌ تَدَاعَى سَائِرُ الْجَسَدِ بِالسَّهَرِ وَالْحُمَّى) )
۔ سیدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک دوسرے سے محبت کرنے، باہم ہمدردی کرنے اور ایک دوسرے پر رحم کرنے میں مومنوں کی مثال ایک جسم کی سی ہے کہ جب اس کا ایک عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے باقی سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9116]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18380 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18570»
وضاحت: فوائد: … ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کی تکلیف کا ایسا احساس ہونا چاہیے، جیسے تکلیف میں مبتلا اپنے عضو میں ہوتا ہے۔ اگر پاؤں میں درد ہو تو جسم کا باقی حصہ اس تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ساری رات بیدار رہتا ہے، لیکن اگر کوئی مسلمان کسی تکلیف میں مبتلا ہو تو دوسرے مسلمانوں کو ٹس سے مس نہ ہو، یہ قطعی طور پر اہل اسلام کا رویہ نہیں ہے، جبکہ عصر حاضر میں لاپرواہی اور لا ابالی پن کا ایسا غلبہ ہے کہ مسلمان مفاد پرست ہو کر رہ گیا ہے، اسلام کا دعوی تو ہے، لیکن روحِ اسلام اور تقاضۂ اسلام سے محرومی ہے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2586
حدیث نمبر: 9117
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْمُؤْمِنُ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ إِنِ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ) )
۔ سیدنانعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سارے مومن ایک آدمی کی مانند ہیں، جب اس کا سر تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم تکلیف میں پڑ جاتا ہے اور جب اس کی آنکھ دکھتی ہے تو سارے کا سارا جسم دکھنے لگتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9117]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2586، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18434 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18625»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2586
حدیث نمبر: 9118
عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا) )
۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مؤمن دوسرے مؤمن کے لیے عمارت کی طرح ہے، جس کا بعض حصہ بعض کو مضبوط کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9118]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2585، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19625 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19856»
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2585
حدیث نمبر: 9119
عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (إِنَّ الْمُؤْمِنَ مِنْ أَهْلِ الْإِيمَانِ بِمَنْزِلَةِ الرَّأْسِ مِنَ الْجَسَدِ يَأْلَمُ الْمُؤْمِنُ لِأَهْلِ الْإِيمَانِ كَمَا يَأْلَمُ الْجَسَدُ لِمَا فِي الرَّأْسِ) )
۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اہل ایمان لوگوں سے مؤمن کا تعلق وہ ہے جو جسم سے سر کا ہوتا ہے، مؤمن دوسرے اہل ایمان کی خاطر ایسے ہی تکلیف محسوس کرتا ہے جیسے سر کی بیماری کی وجہ سے سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9119]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 5743، وفي الاوسط: 4693، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22877 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23265»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
حدیث نمبر: 9120
عَنْ سَيَّارٍ أَنَّهُ سَمِعَ خَالِدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْقَسْرِيَّ وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي أَنَّهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَتُحِبُّ الْجَنَّةَ) ) قَالَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ( (فَأَحِبَّ لِأَخِيكَ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ) )
۔ خالد بن عبدا للہ قسری نے کہا، جبکہ وہ منبر پر خطاب کر رہے تھے: میرے باپ نے میرے دادے سے مجھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جنت کو پسند کرتا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو پھر جو اپنے لیے پسند کرتا ہے، وہی کچھ اپنے بھائی کے لیے پسند کر۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9120]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه الحاكم: 4/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16655 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16772»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو جو خیر و بھلائی اپنے لیے پسند ہو، وہ ان ہی امورِ خیر کو دوسرے مسلمانوں کے لیے پسند کرے اور عملی طور پر حتی الوسع اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے کوشش بھی کرے، اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ جیسے گھر کے سربراہ کے ذمے گھر کے افراد کے حقوق ہیں،اسی طرح اس پر رشتہ دار اور غیر رشتہ دار مسلمانوں کے حقوق بھی عائد ہوتے ہیں۔
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 9121
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (لَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّهُ لِنَفْسِهِ مِنَ الْخَيْرِ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ خیر و بھلائی پسند نہ کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9121]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه الطيالسي: 2004، وابويعلي: 2887، وابو عوانة: 1/33، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13629 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13664»
وضاحت: فوائد: … عام طور پر اس حدیث مبارکہ کے یہ الفاظ بیان کیے جاتے ہیں: ((لَایُؤْمِن أحَدُکُمْ حَتّٰییُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہٖ۔)) اوریہ الفاظ بھی ثابت ہیں، اس حدیث میں مِنَ الْخَیْرِ کے الفاظ کی زیادتی اس حدیث کے معنی و مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ اَلْخَیْرِ کے کلمے میں بڑی جامعیت پائی جاتی ہے، یہ کلمہ احکام شریعت کی تعمیل اور دنیوی و اخروی مباحات پر مشتمل ہے اور شریعت کے منع کردہ امور کو خارج کرتا ہے۔ یعنی مسلمان کا کامل اخلاق اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ جو دنیوی خیر و منفعت اور اخروی خیر و بھلائی اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے اسلامی بھائی کے لیے بھی پسند کرے اور جس بری چیز کو اپنے لیے پسند کرتا ہے، اسے اپنے بھائی کے حق میں بھی ناپسند کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
15. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي نُصْرَةِ الْمُؤْمِنِ وَالرَدْ عَنْ عِرْضِهِ
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9122
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (انْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا) ) قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا نَنْصُرُهُ مَظْلُومًا فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا قَالَ ( (تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ) ) وَفِي لَفْظٍ ( (تَحْجِزُهُ تَمْنَعُهُ مِنَ الظُّلْمِ فَإِنَّ ذَلِكَ نَصْرُهُ) )
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کیا کرو، وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ بات تو سمجھ آ رہی ہے کہ ہم مظلوم کی مدد کریں، بھلا ظالم کی مدد کیسے کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اس کو ظلم سے منع کرو۔ ایک روایت میں ہے: تم اس کو ظلم سے روکو، یہ دراصل اس کی مدد ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9122]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2443، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13079 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13110»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو امور ِ خیر کی تعلیم دینا، ہر جائز معاملے میں اس کی مدد کرنا اور اس کو معصیت والے کاموں سے روکنا، یہ سب اس کی تائید و نصرت کی شکلیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2443
حدیث نمبر: 9123
عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ اقْتَتَلَ غُلَامَانِ غُلَامٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَغُلَامٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ وَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ( (أَدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ) ) فَقَالُوا لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّ غُلَامَيْنِ كَسَعَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ فَقَالَ ( (لَا بَأْسَ لِيَنْصُرَ الرَّجُلُ أَخَاهُ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا فَإِنْ كَانَ ظَالِمًا فَلْيَنْهَهُ فَإِنَّ لَهُ نُصْرَةً وَإِنْ كَانَ مَظْلُومًا فَلْيَنْصُرْهُ) )
۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دو لڑکے لڑ پڑے، ایک کا تعلق مہاجرین سے تھا اور دوسرے کاانصار سے، اول الذکر نے آواز دی: او مہاجرو! آخر الذکر نے یوں للکارا: او انصاریو! یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر آگئے اورفرمایا: کیا جاہلیت والی پکار پکاری جا رہی ہے؟ صحابہ نے کہا: جی نہیں، اللہ کی قسم! بس ایک لڑکے نے دوسرے کی دُبُر پر ہاتھ یا پاؤں مار دیا ہے، (اس وجہ سے لڑائی ہو گئی ہے)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چلو کوئی حرج نہیں ہے، لیکن چاہیےیہ کہ آدمی اپنے بھائی کی مدد کرے، وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر وہ ظالم ہو تو اس کو ظلم سے منع کرے،یہ اس کے لیے مدد ہو گی اور اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی تائید و نصرت کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9123]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2584، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14467 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14521»
وضاحت: فوائد: … مہاجرین اور انصار اچھے لقب ہیں،یہ القاب شریعت ِ اسلامیہ کے منتخب ہیں، لیکن جب ان کو غلط جگہ پر استعمال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ناپسند کیا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 2584