الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
15. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي نُصْرَةِ الْمُؤْمِنِ وَالرَدْ عَنْ عِرْضِهِ
مؤمن کی مدد کرنے اور اس کی عزت کا دفاع کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9124
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (مَنْ أُذِلَّ عِنْدَهُ مُؤْمِنٌ فَلَمْ يَنْصُرْهُ وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يَنْصُرَهُ أَذَلَّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رُءُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
۔ سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی موجود گی میں مؤمن کو ذلیل کیا گیا اور اس نے اس کی مدد نہ کی، جبکہ وہ اس کی مدد کرنے پر قادر ہو تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس کو ساری مخلوق کے سامنے ذلیل کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9124]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف ابن لھيعة، أخرجه الطبراني في الكبير: 5554، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15985 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16081»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9125
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ رَدَّ عَنْ عِرْضِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَرُدَّ عَنْهُ نَارَ جَهَنَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) )
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا، تو اللہ تعالیٰ پر حق ہو گا کہ وہ روزِ قیامت آگ کو اس کے چہرے سے ہٹا دے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9125]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه الترمذي: 1931، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27536 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28086»
وضاحت: فوائد: … سبحان اللہ! یہ مومن کی شان ہے، غور سے پڑھیں اور اپنے معاملات پر غور کریں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9126
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (مَنْ حَمَى مُؤْمِنًا مِنْ مُنَافِقٍ يَعِيبُهُ بَعَثَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى مَلَكًا يَحْمِي لَحْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَمَنْ بَغَى مُؤْمِنًا بِشَيْءٍ يُرِيدُ شَيْنَهُ حَبَسَهُ اللَّهُ عَلَى جِسْرِ جَهَنَّمَ حَتَّى يَخْرُجَ مِمَّا قَالَ) )
۔ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مؤمن کو کسی ایسے منافق سے بچایا جو اس کی عیب جوئی کر رہا تھا تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتہ نازل کریں گے، جو روزِ قیامت اس کے گوشت کو جہنم کی آگ سے بچائے گا، اور جس نے مؤمن کو عیب دار قرار دینے کے لیے کسی معیوب چیز کے ساتھ اس کا پیچھا کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم کے پل پر روک لے گا، یہاں تک کہ وہ اپنی کہی ہوئی بات سے نکل جائے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9126]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، اسماعيل بن يحييٰ المعافري فيه جھالة، وذكر الذھبي ھذا الحديث من غرائبه، ويحييٰ بن ايوب، مختلف فيه، حسن الحديث، الا ان له غرائب ومناكيريجتنبھا اصحاب الصحاح، أخرجه ابوداود: 4883، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15649 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15734»
الحكم على الحديث: ضعیف
16. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي سِتْرِ عَوْرَاتِ الْمُسْلِمِينَ وَعَدَمِ إشاعتها
مسلمانوں کے نقائص پر پردہ ڈالنے اور ان کو شہرت نہ دینے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9127
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ رَكِبَ أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ إِلَى عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ إِلَى مِصْرَ فَقَالَ إِنِّي سَائِلُكَ عَنْ أَمْرٍ لَمْ يَبْقَ مِمَّنْ حَضَرَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنَا وَأَنْتَ كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سِتْرِ الْمُؤْمِنِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ سَتَرَ مُؤْمِنًا فِي الدُّنْيَا عَلَى عَوْرَةٍ سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) فَرَجَعَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَمَا حَلَّ رَحْلَهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ
۔ ابن جریج نے کہا: سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور مصر میں سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور کہا: میں تم سے ایسی چیز کے بارے میں سوال کرنے لگا ہوں کہ صحابہ کرام میں سے میں اور تم ہی باقی رہ گئے ہیں، جو اس کے بیان کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھے، تو بتلائیے کہ تم نے مؤمن کا پردہ رکھنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کون سی حدیث سنی تھی؟ انھوں نے کہا: جی میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے دنیا میں کسی مومن کی پردہ پوشی کی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9127]
تخریج الحدیث: «المرفوع منه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف لانقطاعه، فان ابن جريج لم يدرك احدا من الصحابة، أخرجه: الطبراني في الكبير: 19/ 1067، والحميدي: 384، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17454 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17593»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9128
عَنْ مُنِيبٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ بَلَغَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ( (مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) فَرَحَّلَ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) قَالَ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
۔ منیب اپنے چچے سے بیان کرتے ہیں کہ جب ایک صحابی کو پتہ چلا کہ ایک دوسرا صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث بیان کرتا ہے کہ جس نے دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی تو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔ پس اس آدمی نے رخت ِ سفر باندھا، جبکہ وہ دوسرا آدمی مصر میں تھا، بہرحال وہ اس کے پاس پہنچا اور اس حدیث کے بارے میں سوال کیا، اس نے جواباً کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کی،اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کریں گے۔ یہ حدیث میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی تھی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9128]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح لغيره، وھذا اسناد ضعيف، منيب لا يعرف، وعمه مبھم، مؤمل سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16596 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16713»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9129
عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ عُقْبَةَ أَتَى مَسْلَمَةَ بْنَ مَخْلَدٍ بِمِصْرَ وَفِي رِوَايَةٍ رَكِبَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَى مَسْلَمَةَ بْنِ مَخْلَدٍ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى مِصْرَ وَكَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَوَّابِ شَيْءٌ فَسَمِعَ صَوْتَهُ فَأَذِنَ لَهُ فَقَالَ إِنِّي لَمْ آتِكَ زَائِرًا وَلَكِنِّي جِئْتُكَ لِحَاجَةٍ أَتَذْكُرُ يَوْمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (مَنْ عَلِمَ مِنْ أَخِيهِ سَيِّئَةً فَسَتَرَهَا سَتَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ) ) فَقَالَ نَعَمْ فَقَالَ لِهَذَا جِئْتُ
۔ مکحول کہتے ہیں: سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ، سیدنا مسلمہ بن مخلد کے پاس مصر میں گئے، ایک روایت میں ہے: سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سوار ہوئے اور سیدنا مسلمہ بن مخلد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، جبکہ وہ مصر کے امیر تھے، ان کے اور پہرے دار کے مابین کوئی تکرار ہو گیا، سیدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ نے خود آواز سن لی اور ان کو اندر آنے کی اجازت دے دی، انھوں نے کہا: میں اس بار تمہاری زیارت کے لیے آیا ہوں نہ اپنی کسی ضرورت کے لیے، بات یہ ہے کہ کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس کو اپنے بھائی کی کسی برائی کا پتہ چلا، لیکن اس نے اس پر پردہ رکھا تو اللہ تعالیٰ روزِ قیامت اس پر پردہ ڈالے گا۔؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، مجھے یاد ہے، انھوں نے کہا: جی میں اس مقصد کے لیے آیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9129]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الطبراني في الكبير: 19/ 1067، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16960 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17085»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9130
عَنْ دُخَيْنٍ كَاتِبِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قُلْتُ لِعُقْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ لَنَا جِيرَانًا يَشْرَبُونَ الْخَمْرَ وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُوهُمْ فَقَالَ لَا تَفْعَلْ وَلَكِنْ عِظْهُمْ وَتَهَدَّدْهُمْ قَالَ فَفَعَلَ فَلَمْ يَنْتَهُوا قَالَ فَجَاءَهُ دُخَيْنٌ فَقَالَ إِنِّي نَهَيْتُهُمْ فَلَمْ يَنْتَهُوا وَأَنَا دَاعٍ لَهُمُ الشُّرَطَ فَيَأْخُذُوهُمْ فَقَالَ عُقْبَةُ وَيْحَكَ لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (مَنْ سَتَرَ عَوْرَةَ مُؤْمِنٍ فَكَأَنَّمَا اسْتَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا) ) وَفِي رِوَايَةٍ ( (كَانَ كَمَنْ أَحْيَا مَوْءُودَةً مِنْ قَبْرِهَا) )
۔ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ کے کاتب دُخَین کہتے ہیں: میں نے سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ہمارے بعض پڑوسی شراب پیتے ہیں، میں ان کے لیے پولیس کو بلاتا ہوں تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں، لیکن انھوں نے کہا: ایسا نہ کر، البتہ ان کو وعظ و نصیحت کر اور ڈرا، اس نے ایسے ہی کیا، لیکن وہ باز نہ آئے، سو دُخَین دوبارہ آگیا اور کہا: بیشک میں نے ان کو منع کیا ہے، لیکن وہ باز نہیں آئے، اس لیے اب میں ان کے لیے پولیس والوں کو بلانے لگا ہوں تاکہ وہ ان کو پکڑ لیں، سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تجھ پر افسوس ہے، ایسے نہ کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سناتھا کہ جس نے کسی مسلمان کے عیب پر پردہ ڈالا تو گویا کہ اس نے کسی درگور کی جانے والی بچی کو زندہ کر دیا۔ ایک روایت میں ہے: وہ اس شخص کی مانند ہو گا، جو درگور کی جانے والی بچی کو قبر سے زندہ کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9130]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لاضطراب في اسناده، ولجھالة ابي الھيثم، أخرجه ابوداود: 4892، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17395 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17530»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 9131
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو بندہ بھی دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی کرے گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9131]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9248 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9237»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ہاں اسلام کا اظہار کرنے والے وجود کے اکرام کا اندازہ لگائیں، کسی کی پردہ پوشی کرنا کوئی عمل نہیں ہے، بلکہ ہلکا سا صبر کر کے زبان کو کنٹرول کرنے کا نتیجہ ہے، لیکن صد افسوس امت ِ مسلمہ مسلمان کی اس شان کو پہچاننے سے قاصر ہے اور ہر کوئی دوسرے کی عیب جوئی کر کے اپنے آپ کو کامل مسلمان ثابت کرنے پر تلا ہوا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنی ذات کے منفی پہلو اور دوسروں کے مثبت پہلوؤں کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا اور پھر اپنی ذات کو دوسروں کے مثبت پہلوؤں سے متصف کرنے کی کوشش کی جاتی، لیکن معاملہ اس کے برعکس ثابت ہوا اور ہر ایک نے اپنے مثبت پہلو کے زعم میں دوسرے کے منفی پہلوؤں پر خوب کیچڑ اچھالا، یہ گناہ والاکام تو ہے ہی سہی، لیکن اس کا بڑا نقصان یہ ہوا کہ لوگوں کو ان کی اصلاح کا موقع نہیں ملا اور ان کے مزاجوں میں فساد آ گیا۔
الحكم على الحديث: صحیح
17. بَابُ التَّرْغيب فِي الدَّعْوَةِ إِلَى الْهُدَى وَأَعْمَالِ الْخَيْرِ وَالدَّلَالَةِ عَلَيْهَا وَالشَّفَاعَةِ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ البين
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9132
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ دَعَا إِلَى هُدًى كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُجُورِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ دَعَا إِلَى ضَلَالَةٍ كَانَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ مِثْلُ آثَامِ مَنْ يَتَّبِعُهُ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِهِمْ شَيْئًا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہدایت کی طرف بلایا تو اس کو اس کی پیروی کرنے والوں کے اجر جتنا اجر ملے گا، جبکہ ان کے اجروں میں کوئی کمی نہیں آئے گی، اس طرح جس نے گمراہی کی طرف بلایا تو اس کو اس کے پیچھے چلنے والوں کے گناہوں جتنا گناہ ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9132]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2674، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9160 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9149»
وضاحت: فوائد: … مسلمان کو امورِ صالحہ کا سبب بننا چاہیے، نہ کہ برے کاموں کا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9133
عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً كَانَ لَهُ أَجْرُهَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الْإِسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً كَانَ عَلَيْهِ وَزْرُهَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُنْتَقَصَ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ
۔ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی، جبکہ ان عاملوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے اسلام میں برا طریقہ وضع کیا، اس کو اس کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد اس کو اپنانے والوں کا گناہ بھی ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9133]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1017، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19156 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19369»
وضاحت: فوائد: … اچھا طریقہ وہ ہے، جس کا شریعت میں اچھے ہونے کا تعین ہو چکا ہے، اس حدیث ِ مبارکہ میں اچھے طریقے کو جاری کرنے سے مراد یہ ہے کہ آدمی کسی نیکی کی ایسے انداز میں ابتدا کرے کہ دوسرے لوگوں کو بھی رغبت ہو اور وہ بھی وہی نیکی شروع کر دیں، چونکہ ابتدا کرنے والا لوگوں کے اس نیک عمل کا سبب بنا، اس لیے وہ اس عمل کی بنا پر تمام لوگوں کے اجر و ثواب کا مستحق ہو گا، مذکورہ بالا حدیث درج ذیل موقع پر بیان کی گئی، اس واقعہ سے اس حدیث کے مفہوم کو سمجھنا آسان ہو جاتاہے: سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی صَدْرِ النَّہَارِ قَالَ فَجَاء َہُ قَوْمٌ حُفَاۃٌ عُرَاۃٌ مُجْتَابِی النِّمَارِ أَوْ الْعَبَاء ِ مُتَقَلِّدِی السُّیُوفِ عَامَّتُہُمْ مِنْ مُضَرَ بَلْ کُلُّہُمْ مِنْ مُضَرَ فَتَمَعَّرَ وَجْہُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِمَا رَأَی بِہِمْ مِنْ الْفَاقَۃِ فَدَخَلَ ثُمَّ خَرَجَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ فَقَالَ: {یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ إِلَی آخِرِ الْآیَۃِ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا۔} وَالْآیَۃَ الَّتِی فِی الْحَشْرِ{اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ} تَصَدَّقَ رَجُلٌ مِنْ دِینَارِہِ مِنْ دِرْہَمِہِ مِنْ ثَوْبِہِ مِنْ صَاعِ بُرِّہِ مِنْ صَاعِ تَمْرِہِ حَتّٰی قَالَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَۃٍ قَالَ فَجَاء َ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ بِصُرَّۃٍ کَادَتْ کَفُّہُ تَعْجِزُ عَنْہَا بَلْ قَدْ عَجَزَتْ قَالَ ثُمَّ تَتَابَعَ النَّاسُ حَتّٰی رَأَیْتُ کَوْمَیْنِ مِنْ طَعَامٍ وَثِیَابٍ حَتّٰی رَأَیْتُ وَجْہَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَہَلَّلُ کَأَنَّہُ مُذْہَبَۃٌ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً حَسَنَۃً فَلَہُ أَجْرُہَا وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا بَعْدَہُ مِنْ غَیْرِ أَنْ یَنْقُصَ مِنْ أُجُورِہِمْ شَیْء ٌ وَمَنْ سَنَّ فِی الْإِسْلَامِ سُنَّۃً سَیِّئَۃً کَانَ عَلَیْہِ وِزْرُہَا وَوِزْرُ مَنْ عَمِلَ بِہَا مِنْ بَعْدِہِ مِنْ غَیْرِ أَنْ یُنْقُصَ مِنْ أَوْزَارِہِمْ شَیْئٌ۔)) … ہم دن کے شروع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے تو ایک قوم ننگے پاؤں ننگے بدن چمڑے کی عبائیں پہنے تلوراوں کو لٹکائے ہوئے حاضر ہوئی ان میں سے اکثر بلکہ سارے کے سارے قبیلہ مضر سے تھے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس ان کے فاقہ کو دیکھ کر متغیر ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لے گئے پھر تشریف لائے تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انہوں نے اذان اور اقامت کہی۔ پھر آپ نے خطبہ دیا اور فرمایا: {یٰا اَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّخَلَقَ مِنْھَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَا ئً وَّاتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَا ئَ لُوْنَ بِہ وَالْاَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا} … اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمھیں ایک جان سے پیدا کیا اور اس سے اس کی بیوی پیدا کی اور ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں اور اللہ سے ڈرو جس کے واسطے سے تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں سے بھی، بے شک اللہ ہمیشہ سے تم پر پورا نگہبان ہے۔ (سورۂ نسآئ: ۱) اور وہ آیت جو سو رۂ حشر میں ہے: {یٰا اَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللّٰہَ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُوْنَ} … اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرو، یقینا اللہ اس سے پور ی طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔ (سورۂ حشر: ۱۸)، پس آدمی اپنے دینار اور درہم اور اپنے کپڑے اور گندم کے صاع سے اور کھجور کے صاع سے صدقہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ نے فرمایا اگرچہ کھجور کا ٹکڑا ہی ہو پھر انصار میں سے ایک آدمی تھیلی اتنی بھاری لے کر آیا کہ اس کا ہاتھ اٹھا نے سے عاجز ہو رہا تھا، پھر لوگوں نے اس کی پیروی کییہاں تک کہ میں نے دو ڈھیر کپڑوں اور کھانے کے دیکھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ اقدس کندن کی طرح چمکتا ہوا نظر آ نے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اسلام میں اچھا طریقہ جاری کیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کے بعد اس پر عمل کرنے والوں کا اجر بھی، جبکہ ان عاملوں کے اجر میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی، اسی طرح جس نے اسلام میں برا طریقہ وضع کیا، اس کو اس کا گناہ بھی ملے گا اور اس کے بعد اس کو اپنانے والوں کا گناہ بھی ملے گا، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ (صحیح مسلم: ۱۶۹۱)
جس آدمی نے زیادہ مقدار میں صدقہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے عمل کو سراہا ہے، کیونکہ اس کے عمل کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں رغبت پیدا ہوئی۔
یہی معاملہ برے عمل کا ہے، جو آدمی دوسرے لوگوں کی برائیوں کا سبب بنے گا، تو اس کو ان کی برائیوں کا گناہ ملے گا، جب کہ کسی کی وجہ سے کسی کے گناہ میں کمی واقع نہیں ہو گی۔
جس آدمی نے زیادہ مقدار میں صدقہ کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے عمل کو سراہا ہے، کیونکہ اس کے عمل کی وجہ سے دوسرے لوگوں میں رغبت پیدا ہوئی۔
یہی معاملہ برے عمل کا ہے، جو آدمی دوسرے لوگوں کی برائیوں کا سبب بنے گا، تو اس کو ان کی برائیوں کا گناہ ملے گا، جب کہ کسی کی وجہ سے کسی کے گناہ میں کمی واقع نہیں ہو گی۔
الحكم على الحديث: صحیح