الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ الترغيب فِي الإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ
ہمسائے کے ساتھ احسان کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9075
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ وَيَزِيدُ قَالَ أَنَا هِشَامٌ عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ الْأَنْصَارِيِّ (قَالَ يَزِيدُ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ) قَالَ خَرَجْتُ مِنْ أَهْلِي أُرِيدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا أَنَا بِهِ قَائِمٌ وَرَجُلٌ مَعَهُ مُقْبِلٌ عَلَيْهِ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُمَا حَاجَةً قَالَ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ وَاللَّهِ لَقَدْ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ قَامَ بِكَ الرَّجُلُ حَتَّى جَعَلْتُ أَرْثِي لَكَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتَهُ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ أَتَدْرِي مَنْ هُوَ قُلْتُ لَا قَالَ ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ مَا زَالَ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ ثُمَّ قَالَ أَمَا إِنَّكَ لَوْ سَلَّمْتَ عَلَيْهِ رَدَّ عَلَيْكَ السَّلَامَ
۔ ایک انصاری آدمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ملنے کے ارادے سے اپنے گھر سے نکلا، پس جب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ ایک آدمی آپ پر متوجہ تھا، میں نے سمجھا کہ ان دونوں کی کوئی ضرورت ہو گی، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی دیر کھڑے رہے کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ترس آنے لگا، بہرحال جب وہ آدمی چلا گیا تو میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس آدمی نے آپ کو اتنی دیر کھڑے رکھا کہ مجھے تو آپ پر ترس آنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو نے اس کو دیکھا تھا؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو جانتا ہے کہ وہ کون تھا؟ میں نے کہا: جی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ جبریل علیہ السلام تھے، انھوں نے مجھے ہمسائے کے بارے اتنی وصیتیں کیں کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو عنقریب وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو ان کو سلام کہتا تو وہ تیرے سلام کا جواب دیتے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20350 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20618»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9076
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9076]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6014، ومسلم: 2624، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24764»
وضاحت: فوائد: … میراث صرف قریبی رشتہ داروں کا حق ہوتا ہے، لیکن جب ہمسائیوں کے حقوق کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تاکید کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں لگا کہ یہ تو میراث کے بھی حقدار قرار پائیں گے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے بھی حق ہیں اور ان میں ہمسائیوں کے حقوق کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس دور کا مسلمان مکمل اسلام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنی ذات کے لیے چند اعمال کا تعین کر کے اسی کو کافی سمجھ بیٹھا ہے۔
اللہ تعالیٰ کے حقوق کے ساتھ ساتھ بندوں کے بھی حق ہیں اور ان میں ہمسائیوں کے حقوق کو بھی کافی اہمیت حاصل ہے، لیکن اس دور کا مسلمان مکمل اسلام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں ہے، ہر ایک اپنی ذات کے لیے چند اعمال کا تعین کر کے اسی کو کافی سمجھ بیٹھا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9077
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا زَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ أَوْ قَالَ خَشِيتُ أَنْ يُوَرِّثَهُ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جبریل علیہ السلام نے مجھے ہمسائے کے بارے میں اس قدر نصیحتیں کیں کہ مجھے گمان ہونے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی بنانے لگے ہیں۔ ایک روایت میں ہے: میں تو ڈرنے لگا کہ یہ تو اس کو وارث بھی قرار دینے لگے ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9077]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6015، ومسلم: 2625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5577 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5577»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9078
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِثْلُهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9078]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5152، والترمذي: 1943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6496»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9079
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9079]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، أخرجه ابوداود: 5152، والترمذي: 1943، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6496 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7514»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9080
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُوصِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثَهُ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ مجھے ہمسائے کے بارے میں اتنی نصیحتیں کرتا ہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا ہے کہ اس کو میرا وارث بنانے لگا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9080]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني في الكبير: 7630، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22298 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22654»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9081
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ الْأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین ساتھی وہ ہے، جو اپنے ساتھی کے لیے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں بہترین پڑوسی وہ ہے، جو اپنے پڑوسی کے لیے بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9081]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي علي شرط مسلم، أخرجه الترمذي: 1944، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6566»
وضاحت: فوائد: … دنیا میں اپنے پڑوسیوں اور ہمسائیوں کے حق میں اچھا ثابت ہونے والے کو اللہ تعالیٰ کا پڑوس نصیب ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9082
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا أَبَا ذَرٍّ إِذَا طَبَخْتَ فَأَكْثِرِ الْمَرَقَةَ وَتَعَاهَدْ جِيرَانَكَ أَوِ اقْسِمْ بَيْنَ جِيرَانِكَ
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ابو ذر! جب تم شوربے والا سالن پکاؤ تو اس کا شوربا زیادہ کر کے اپنے ہمسائیوں کا خیال رکھا کرو یا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ فرمایا) اپنے ہمسائیوں کے مابین تقسیم کیا کرو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9082]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2625، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21326 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21652»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9083
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ
۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمسائے کے علاوہ بندہ سیر نہیں ہوتا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9083]
تخریج الحدیث: «رواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 390 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 390»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاعْبُدُوا اللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْا بِہٖشَـیْـــــًـا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّبِذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَالْجَارِ ذِی الْقُرْبٰی وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَـنْبِ وَابْنِ السَّبِیْلِ وَمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنْ کَانَ مُخْــتَالًا فَخُــوْرًا۔} … اور اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور قرابت والے کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینوں اور قرابت والے ہمسائے اور اجنبی ہمسائے اور پہلو کے ساتھی اور مسافر (کے ساتھ) اور (ان کے ساتھ بھی) جن کے مالک تمھارے دائیں ہاتھ بنے ہیں،یقینا اللہ ایسے شخص سے محبت نہیں کرتا جو اکڑنے والا، شیخی مارنے والا ہو۔ (سورۂ نسائ:۳۶)
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔
ہر وہ شخص آپ کے حسن سلوک کا مستحق ہے، جس سے کسی نہ کسی انداز میں آپ کا واسطہ پڑے، مثلا ہم جماعت، ہم سفر اور ایک دفتر میں کام کرنے والے لوگ، وغیرہ۔ دیکھیں اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں مختلف قسم کے انسانوں کے ساتھ احسان کرنے کا حکم دیا اور پڑوسیوں کی تین قسمیں ذکر کیں: (۱)رشتہ دار پڑوسی، (۲)اجنبی پڑوسی اور (۳)پہلو کا ساتھییعنی ساتھ بیٹھنے والا۔
اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہیے، ان کے ساتھ اچھا برتاؤ اور نیک سلوک کرنا چاہیے، خواہ وہ قرابت دار ہوں یا نہ ہوں، خواہ مسلمان ہوں یایہودو نصرانی ہوں۔
الحكم على الحديث: صحیح
8. باب
ضیافت اور اس کے آداب کے ابواب
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: Q9084]