الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
11. بَابُ مَا جَاءَ فِي مُدَّةِ الضَّيَافَةِ وَمَا لِلضَّيْفِ مِنَ الْحَقِّ وَمَا عَلَيْهِ
ضیافت کی مدت اور مہمان کے حق اور اس کی ذمہ داری کا بیان
حدیث نمبر: 9094
عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْخُزَاعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (الضِّيَافَةُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَجَائِزَتُهُ يَوْمٌ وَلَيْلَةٌ وَلَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقِيمَ عِنْدَ أَحَدٍ حَتَّى يُؤْثِمَهُ) ) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَكَيْفَ يُؤْثِمُهُ قَالَ ( (يُقِيمُ عِنْدَهُ وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يَقْرِيهِ) )
۔ سیدنا ابو شریح خزاعی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضیافت تین ایام ہے اور مہمان کا جائزہ ایک دن رات تک ہے، اور کسی شخص کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی کے پاس اس قدر ٹھہرے کہ اسے گنہگار کر دے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ اسے گنہگار کیسے کرے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی صورت یہ ہے کہ مہمان اس کے پاس ٹھہرے، جبکہ اس کے پاس ضیافت کے لیے کوئی چیز موجود نہ ہو۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9094]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 48، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16371 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16484»
وضاحت: فوائد: … جائزہ سے مراد طاقت کے مطابق بہترین کھانا ہے، ویسے ضیافت تین دن تک ہوتی ہے، اس کے بعد مہمان پر صدقہ ہو گا۔
معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔
آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
معلوم ہو اکہ مہمان کے لیے پہلے عمدہ کھانے کا اہتمام کیا جائے، لیکن تکلف سے بچنا ضروری ہے، اس کے بعد دو دن مزید معمول کے مطابق مہمان نوازی کی جائے، تین دنوں کے بعد میزبانی بطورِ صدقہ ہو گی۔
آج کل لوگ معرفت والے مہمانوں کے لیے بہت تکلف کرتے ہیں، بلکہ ایک ایک دسترخوان پر چھ سات سات ڈشیں سج جاتی ہیں، بعض لوگ تو ایسی ضیافت کے لیے قرض بھی لے لیتے ہیں اور بعض کو دیکھا ہے کہ وہ ایسی میزبانی کر کے اپنے مہینے کے روٹین خرچ کو خراب کر دیتے ہیں اور مہینے کے آخر میں پریشان نظر آتے ہیں، جبکہ اجنبی مہمان کو ایک قسم کا کھانا کھلانے میں ہر آدمی کے لیے دشوار نظر آتا ہے۔ یہ تمام امور مسنون ضیافت کا تقاضا نہیں ہیں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه مسلم: 48
حدیث نمبر: 9095
عَنِ الْعَبَّاسِ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ النَّهْدِيَّ يَقُولُ تَضَيَّفْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ سَبْعًا قَالَ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ قَسَمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ تَمْرًا فَأَصَابَنِي سَبْعَ تَمَرَاتٍ إِحْدَاهُنَّ حَشَفَةٌ فَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْهَا شَدَّتْ مَضَاغِي
۔ ابو عثمان نہدی کہتے ہیں: میں سات دنوں تک سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا مہمان بنا رہا، میں نے ان کو یہ کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں کھجوریں تقسیم کیں، میرے حصے میں سات کھجوریں آئیں، ان میں ایک ردّ ی کھجور بھی تھی، جبکہ وہ مجھے سب سے زیادہ پسند تھی، اس کو بڑے زور سے چبانا پڑا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9095]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه ابن ماجه: 4157، والترمذي: 2474، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9373 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9362»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 9096
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمْ عَلَى أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ طَعَامًا فَلْيَأْكُلْ مِنْ طَعَامِهِ وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ فَإِنْ سَقَاهُ شَرَابًا مِنْ شَرَابِهِ فَلْيَشْرَبْ مِنْ شَرَابِهِ وَلَا يَسْأَلْهُ عَنْهُ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کے پاس جائے اور وہ اسے کوئی کھانا کھلائے تو اس کو چاہیے کہ وہ کھانا کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اس طرح اگر وہ کوئی مشروب پلائے تو وہ پی لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9096]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، أخرجه ابويعلي: 6358، والحاكم: 4/ 126، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9173»
الحكم على الحديث:
حديث حسن
حدیث نمبر: 9097
عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ الْكِنْدِيِّ أَبِي كَرِيمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ( (لَيْلَةُ الضَّيْفِ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فَإِنْ أَصْبَحَ بِفِنَائِهِ مَحْرُومًا كَانَ دَيْنًا لَهُ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اقْتَضَاهُ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُ) )
۔ سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مہمان کی (پہلی) رات کی ضیافت ہر مسلمان پر واجب ہے، اگر وہ میزبان کے ملحقہ صحن میں اس حال میں صبح کرتا ہے کہ وہ اس حق سے محروم رہتا ہے تو یہ اس پر قرض ہو گا، مہمان چاہے تو اس کو تقاضا کر لے اور چاہے تو چھوڑ دے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9097]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين سوي صحابية، أخرجه ابوداود: 3750، وابن ماجه: 3677، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17172 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17304»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين سوي صحابية
حدیث نمبر: 9098
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (أَيُّمَا مُسْلِمٍ أَضَافَ قَوْمًا فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَإِنَّ حَقًّا عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ نَصْرُهُ حَتَّى يَأْخُذَ بِقَرَى لَيْلَتِهِ مِنْ زَرْعِهِ وَمَالِهِ) )
۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کسی قوم کا مہمان بنا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا، تو ہر مسلمان پر حق ہو گا کہ وہ اس مہمان کی مدد کرے، یہاں تک کہ وہ اپنے میزبان کی کھیتی اور مال سے اپنی اس رات کی مہمانی کا حق وصول کر لے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9098]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن المھاجر، أخرجه ابوداود: 3751، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17178 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17310»
وضاحت: فوائد: … میزبانی، مہمان کا حق ہے۔ میزبان کو چاہیے کہ خندہ پیشانی کے ساتھ اس کا استقبال کرے اور حسب ِ استطاعت اور خوش دلی سے اس کی مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن المھاجر
حدیث نمبر: 9099
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ( (أَيُّمَا ضَيْفٍ نَزَلَ بِقَوْمٍ فَأَصْبَحَ الضَّيْفُ مَحْرُومًا فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَدْرِ قِرَاهُ وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ) )
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مہمان کسی قوم کے پاس اترا، لیکن اس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ اپنے حق سے محروم رہا تو اس کے لیے جائز ہو گا کہ وہ اپنی میزبانی کے بقدر چیز لے لے، اس میں اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9099]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الطحاوي في شرح مشكل الآثار: 2816، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8948 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8935»
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
حدیث نمبر: 9100
عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ قُلْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ تَبْعَثُنَا فَنَنْزِلُ بِقَوْمٍ لَا يَقْرُونَنَا فَمَا تَرَى فِي ذَلِكَ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ( (إِذَا نَزَلْتُمْ بِقَوْمٍ فَأَمَرُوا لَكُمْ بِمَا يَنْبَغِي لِلضَّيْفِ فَاقْبَلُوا وَإِنْ لَمْ يَفْعَلُوا فَخُذُوا مِنْهُمْ حَقَّ الضَّيْفِ الَّذِي يَنْبَغِي لَهُمْ) )
۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ہمیں بعض علاقوں کی طرف بھیجتے ہیں، جب ہم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترتے ہیں، جو ہماری ضیافت نہیں تو اس کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم بعض ایسے لوگوں کے پاس اترو اور وہ تمہارے لیے ایسی چیز کا حکم دیں، جو مہمان کے لیے مناسب ہو، تو تم اس چیز کو قبول کرو، اور اگر وہ ایسے نہ کریں تو تم ان سے مہمان کا وہ حق وصول کرو جو ان کا ادا کرنا بنتا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9100]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2461، 6137، ومسلم: 1727، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17345 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17478»
وضاحت: فوائد: … والدین اور بیوی بچوں کے حقوق کی طرح مہمان کی ضیافت بھی ایک حق ہے، جیسے جب خاوند اپنی بیوی کی جائز ضروریات پوری نہ کر رہا ہو تو اس کی بیوی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے خاوند کے مال سے اپنا حق چوری کر لیا کرے، ایسے ہی مہمان کا معاملہ ہے کہ میزبان اس کی ضیافت کا حق ادا نہیں کر رہے تو وہ ان سے اپنا حق وصول کر سکتاہے۔ یہ دراصل اسلام کا حسن ہے کہ ایک آدمی اپنے علاقے اور اہل وعیال سے دور ہے تو دوسرے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس کی میزبانی کا حق ادا کریں۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 2461
12. بَابُ اشْتِرَاكِ المُسلِمِينَ وَتَعَاوُنِهِمْ فِي قِرَى الاضْيَافِ إِذَا كَثُرُوا
جب مہمان زیادہ ہو جائیں تو ضیافت کرنے کے لیے مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل جانا اور باہمی تعاون کرنا
حدیث نمبر: 9101
عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ بَيْنَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ابْنٌ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ طِهْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَلَا تُخْبِرُنَا عَنْ خَبَرِ أَبِيكَ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا كَثُرَ الضَّيْفُ عِنْدَهُ قَالَ لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ بِضَيْفِهِ حَتَّى إِذَا كَانَ ذَاتَ لَيْلَةٍ اجْتَمَعَ عِنْدَهُ ضِيفَانٌ كَثِيرٌ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِيَنْقَلِبْ كُلُّ رَجُلٍ مَعَ جَلِيسِهِ قَالَ فَكُنْتُ مِمَّنِ انْقَلَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا دَخَلَ قَالَ يَا عَائِشَةُ هَلْ مِنْ شَيْءٍ قَالَتْ نَعَمْ حُوَيْسَةٌ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لِإِفْطَارِكَ قَالَ فَجَاءَتْ بِهَا فِي قُعَيْبَةٍ لَهَا فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا قَلِيلًا فَأَكَلَهُ ثُمَّ قَالَ خُذُوا بِاسْمِ اللَّهِ فَأَكَلْنَا مِنْهَا حَتَّى مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ قَالَ هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَرَابٍ قَالَتْ نَعَمْ لُبَيْنَةٌ كُنْتُ أَعْدَدْتُهَا لَكَ قَالَ هَلُمِّيهَا فَجَاءَتْ بِهَا فَتَنَاوَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعَهَا إِلَى فِيهِ فَشَرِبَ قَلِيلًا ثُمَّ قَالَ اشْرَبُوا بِاسْمِ اللَّهِ فَشَرِبْنَا حَتَّى وَاللَّهِ مَا نَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ خَرَجْنَا فَأَتَيْنَا الْمَسْجِدَ فَاضْطَجَعْتُ عَلَى وَجْهِي فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ يُوقِظُ النَّاسَ الصَّلَاةَ الصَّلَاةَ وَكَانَ إِذَا خَرَجَ يُوقِظُ النَّاسَ لِلصَّلَاةِ فَمَرَّ بِي وَأَنَا عَلَى وَجْهِي فَقَالَ مَنْ هَذَا فَقُلْتُ أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طِهْفَةَ فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ ضِجْعَةٌ يَكْرَهُهَا اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ
۔ حارث بن عبد الرحمن کہتے ہیں: میں ابو سلمہ بن عبد الرحمن کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ بنو غفار کا ایک آدمی ہمارے پاس آ گیا،یہ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا تھا، ابو سلمہ نے اس آدمی سے کہا: کیا تو ہمیں اپنے باپ کا واقعہ نہیں بتلائے گا؟ اس نے کہا: میرے باپ سیدنا عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس مہمان زیادہ ہو جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے: ہر آدمی ایک مہمان کو اپنے گھر لے جائے۔ ایک رات بہت زیادہ مہمان جمع ہو گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر آدمی اپنے ہم نشیں کے ساتھ چلا جائے۔ میں عبد اللہ بن طہفہ ان لوگوں میں تھا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گئے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! کھانے کی کوئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، حویسہ (کھجور، پنیر اور گھی سے تیار شدہ کھانا) ہے، میں نے آپ کی افطاری کے لیے تیار کیاتھا، پھر وہ ایک چھوٹے پیالے میں لے کر آگئیں، پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس کو پکڑا، اس سے کچھ تناول کیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ کھاؤ۔ پس ہم نے اس سے کھایا،یہاں تک کہ ہم (زیادہ سیر ہو جانے کی وجہ سے) اس کو دیکھ نہیں رہے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ سے فرمایا: کیا کوئی مشروب ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تھوڑا سا دودھ ہے، میں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو لے آؤ۔ پس وہ لے کر آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو پکڑا، اپنی منہ کی طرف اٹھایا اور اس سے تھوڑا سا پیا اور پھر فرمایا: اللہ کے نام کے ساتھ پیو۔ پس ہم نے پیا،یہاں تک کہ اللہ کی قسم! ہم (کثرت ِ سیرابی کی وجہ سے) اس کی طرف نہیں دیکھ رہے تھے، پھر ہم وہاں سے نکل کر مسجد میں آگئے اور میں چہرے کے بل لیٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کو نماز کے لیے جگانے کے لیے فرمانے لگے: نماز، نماز، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر نکلتے تھے تو لوگوں کو نماز کے لیے جگاتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور میں اپنے چہرے کے بل لیٹا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: یہ کون ہے؟ میں نے کہا: جی میں عبد اللہ بن طہفہ رضی اللہ عنہ ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ لیٹنے کے اس انداز کو نا پسند کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9101]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لجھالة ابن عبد الله بن طھفة، أخرجه البخاري في تاريخه الكبير: 4/ 366، في الاوسط: 1/ 152، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23616 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24015»
وضاحت: فوائد: … اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود ضیافت نہ کر سکتے تو صحابۂ کرام کو حکم فرماتے کہ وہ مہمانوں کو لے جائیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف لجھالة ابن عبد الله بن طھفة
حدیث نمبر: 9102
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَصْحَابَ الصُّفَّةِ كَانُوا أُنَاسًا فُقَرَاءَ وَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّةً مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ اثْنَيْنِ فَلْيَذْهَبْ بِثَالِثٍ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ طَعَامُ أَرْبَعَةٍ فَلْيَذْهَبْ بِخَامِسٍ بِسَادِسٍ أَوْ كَمَا قَالَ وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ جَاءَ فَانْطَلَقَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِعَشَرَةٍ وَأَبُو بَكْرٍ بِثَلَاثَةٍ قَالَ فَهُوَ أَنَا وَأَبِي وَأُمِّي وَلَا أَدْرِي هَلْ قَالَ وَامْرَأَتِي وَخَادِمٌ بَيْنَ بَيْتِنَا وَبَيْتِ أَبِي بَكْرٍ وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ تَعَشَّى عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ لَبِثَ حَتَّى صَلَّيْتُ الْعِشَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فَلَبِثَ حَتَّى نَعَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ بَعْدَ مَا مَضَى مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ مَا حَبَسَكَ عَنْ أَضْيَافِكَ أَوْ قَالَتْ ضَيْفِكَ قَالَ أَوَ مَا عَشَّيْتِهِمْ قَالَتْ أَبَوْا حَتَّى تَجِيءَ قَدْ عَرَضُوا عَلَيْهِمْ فَغَلَبُوهُمْ قَالَ فَذَهَبْتُ أَنَا فَاخْتَبَأْتُ قَالَ يَا غُنْثَرُ أَوْ يَا عَنْتَرُ فَجَدَّعَ وَسَبَّ وَقَالَ كُلُوا لَا هَنِيئًا وَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَطْعَمُهُ أَبَدًا قَالَ وَحَلَفَ الضَّيْفُ أَنْ لَا يَطْعَمَهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ أَبُو بَكْرٍ قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ هَذِهِ مِنَ الشَّيْطَانِ قَالَ فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ قَالَ فَأَيْمُ اللَّهِ مَا كُنَّا نَأْخُذُ مِنْ لُقْمَةٍ إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا قَالَ حَتَّى شَبِعُوا وَصَارَتْ أَكْثَرَ مِمَّا كَانَتْ قَبْلَ ذَلِكَ فَنَظَرَ إِلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ فَإِذَا هِيَ كَمَا هِيَ أَوْ أَكْثَرُ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا قَالَتْ لَا وَقُرَّةِ عَيْنِي لَهِيَ الْآنَ أَكْثَرُ مِنْهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِثَلَاثِ مِرَارٍ فَأَكَلَ مِنْهَا أَبُو بَكْرٍ وَقَالَ إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي يَمِينَهُ ثُمَّ أَكَلَ لُقْمَةً ثُمَّ حَمَلَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ قَالَ وَكَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ عَقْدٌ فَمَضَى الْأَجَلُ فَعَرَّفْنَا اثْنَيْ عَشَرَ رَجُلًا مَعَ كُلِّ رَجُلٍ أُنَاسٌ وَاللَّهُ أَعْلَمُ كَمْ مَعَ كُلِّ رَجُلٍ غَيْرَ أَنَّهُ بَعَثَ مَعَهُمْ فَأَكَلُوا مِنْهَا أَجْمَعُونَ أَوْ كَمَا قَالَ
۔ سیدنا عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اصحاب ِ صفہ فقیر لوگ تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بار فرمایا: جس کے پاس دو افراد کا کھانا ہو، وہ تیسرا بندہ لے جائے، جس کے پاس چار افراد کا کھانا ہو، وہ پانچواں اور چھٹا بندہ لے جائے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آئے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دس افراد کو اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ تین افراد کو لے گئے۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: گھر میں میں، میرے باپ، میری ماں اور ہمارے اور ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر کاایک خادم تھا، راوی کو یہ یاد نہیں رہا کہ انھوں نے بیوی کا ذکر کیا تھا یا نہیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس شام کا کھانا کھا لیا، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ میں نے نماز کی عشاء پڑھی، پھر وہ واپس لوٹ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ہی ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اونگھ آنے لگی، پھر وہ رات کا کافی حصہ گزر جانے کے بعد گھر واپس آئے، ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: کس چیز نے آپ کو اپنے مہمانوں سے روکے رکھا؟ انھوں نے کہا: کیا تم نے ان کو شام کا کھانا نہیں کھلایا؟ انھوں نے کہا: انھوں نے آپ کی آمد تک انکار کر دیا، ہم نے ان کو کھانا پیش کیا تھا، لیکن ان کا انکار ہم پر غالب آیا۔ عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے نکلاور چھپ گیا، انھوں نے کہا: اے غُنْثَر! یا اے عَنْتَر! پس انھوں نے مجھے بد دعا دی اور برا بھلا کہا، اور مہمانوں سے کہا: کھاؤ، خوشگوارنہ ہو، اللہ کی قسم! میں بالکل نہیں کھاؤں گا، اُدھر مہمان نے بھی قسم اٹھا لی کہ وہ بھی اس وقت نہیں کھائے گا، جب تک ابو بکررضی اللہ عنہ نہیں کھائیں گے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ تو شیطان کی طرف سے ہے، پھر انھوں نے کھانا منگوایا اور کھا لیا اور کہا: اللہ کی قسم! ہم جو لقمہ پکڑتے تھے، اس کے نیچے سے اس سے زیادہ بڑھ جاتا تھا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور کھانا پہلے سے زیادہ پڑا تھا، جب سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا کہ یہ کھانا تو اسی مقدار میں پڑا ہوا، بلکہ اس سے زیادہ ہے، پس انھوں نے اپنی بیوی سے کہا: اے بنو فراس کی بہن! یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: میری آنکھ کی ٹھنڈک کی قسم! یہ تو پہلے سے زیادہ لگ رہا ہے، انھوں نے یہ بات تین بار دوہرائی، پس ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اس سے کھایا اور کہا: یہ قسم تو شیطان کی طرف سے تھی، پھر انھوں نے لقمہ کھایا اور پھر وہ کھانا اٹھا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طر ف لے گئے اور وہ کھانا صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھا، عبد الرحمن کہتے ہیں: ہمارے اور لوگوں کے ما بین معاہدہ تھا اور وہ مدت گزر گئی تھی، پس ہم نے بارہ نقیب بنائے، ہر نقیب کے ساتھ کچھ لوگ تھے، یہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کی تعداد کتنی کتنی تھی، بہرحال ان کو ان کے ساتھ بھیجا تھا، پس ان سب نے اس کھانے سے کھا لیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9102]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، أخرج بنحوه وبالاختصار البخاري: 6140، ومسلم: 2057، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1712 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1712»
وضاحت: فوائد: … صحیح بخاری کی ایک روایت میں اصحاب ِ صفہ کو اَضَیَافُ الْاِسْلَام یعنی اسلام کے مہمان قرار دیا گیا۔
اَبُوْابُ تَعْظِیْمِ حُرُمَاتِ الْمُسْلِمِیْنَ
مسلمانوں کی حرمتوں کی عظمت کے ابواب
وَبَیَانُ حُقُوْقِھِمْ وَالشَّفْقَۃِ عَلَیْھِمْ وَالنُّصْحِ لَھُمْ وَحُسْنِ الظَّنِّ بِھِمْ وَسَتْرِعَوْرَاتِھِمْ وَغَیْرِ ذٰلِکَ۔
مسلمانوں کے حقوق،ان پر شفقت کرنے، ان کی خیرخواہی کرنے، ان کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور ان کے عیوب پر پردہ ڈالنے وغیرہ کا بیان۔
اَبُوْابُ تَعْظِیْمِ حُرُمَاتِ الْمُسْلِمِیْنَ
مسلمانوں کی حرمتوں کی عظمت کے ابواب
وَبَیَانُ حُقُوْقِھِمْ وَالشَّفْقَۃِ عَلَیْھِمْ وَالنُّصْحِ لَھُمْ وَحُسْنِ الظَّنِّ بِھِمْ وَسَتْرِعَوْرَاتِھِمْ وَغَیْرِ ذٰلِکَ۔
مسلمانوں کے حقوق،ان پر شفقت کرنے، ان کی خیرخواہی کرنے، ان کے بارے میں حسن ظن رکھنے اور ان کے عیوب پر پردہ ڈالنے وغیرہ کا بیان۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح علي شرط الشيخين
13. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي النَّصِيحَةِ لِلْمُسْلِمِينَ بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي إِعَانَةِ الْمُسْلِمِ وَتَفْرِيحِ كَرْبِهِ وَقَضَاءِ حَاجَيْهِ وَمِثْرٍ عَوْرَتِهِ
مسلمانوں کی خیرخواہی کرنے کی ترغیب کا بیان
حدیث نمبر: 9103
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالُوا لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ وَرَسُولِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دین خیرخواہی ہے۔ صحابہ نے کہا: کس کے لیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی، اس کے رسول اور مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9103]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه الطبراني: 11198، والبزار: 61، ابويعلي: 2372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3281 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3281»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره