🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. بَابُ التَّرْغيب فِي الدَّعْوَةِ إِلَى الْهُدَى وَأَعْمَالِ الْخَيْرِ وَالدَّلَالَةِ عَلَيْهَا وَالشَّفَاعَةِ وَإِصْلَاحِ ذَاتِ البين
ہدایت اور اعمالِ خیر کی طرف دعوت دینے اور ان پر رہنمائی کرنے اور سفارش کرنے اور آپس کی اصلاح کرنے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9134
عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمْسَكَ الْقَوْمُ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا أَعْطَاهُ فَأَعْطَى الْقَوْمُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَنَّ خَيْرًا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ لَهُ أَجْرُهُ وَمِنْ أُجُورِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أُجُورِهِمْ شَيْئًا وَمَنْ سَنَّ شَرًّا فَاسْتُنَّ بِهِ كَانَ عَلَيْهِ وَزْرُهُ وَمِنْ أَوْزَارِ مَنْ تَبِعَهُ غَيْرَ مُنْتَقِصٍ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْئًا
۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے عہد ِ نبوت میں سوال کیا، لوگوں نے اسے کچھ نہ دیا، پھر ایک آدمی نے اس کو کوئی چیز دی اور اسے دیکھ کر دوسرے لوگوں نے بھی اس کو کچھ نہ کچھ دیا،یہ صورتحال دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اچھا طریقہ جاری کیا اور پھر اس کو اپنایا گیا تو اس کو اس کا اجر بھی ملے گا اور اس کی پیروی کرنے والوں کا بھی، جبکہ ان کے اپنے اجر میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور جس نے برا طریقہ وضع کیا اور پھر اس کو اپنا لیا گیا تو اس کو اپنا گناہ بھی ملے گا اور اس طریقے کو اپنانے والوں کا بھی، جبکہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہو گی۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9134]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه البزار: 2964، والطبراني في الاوسط: 3705، والحاكم: 2/ 516، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23678»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے بھی واضح ہو رہا ہے کہ اچھے طریقے کو جاری کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس انداز میں نیک عمل کی ابتداء کی جائے، جس سے دوسرے لوگوں میں رغبت پیدا ہو اور وہ بھی وہی عمل کرنا شروع کر دیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9135
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي قَالَ مَا عِنْدِي مَا أَحْمِلُكَ عَلَيْهِ وَلَكِنْ ائْتِ فُلَانًا فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
۔ سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: میری سواری تھک گئی ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی سواری دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے، البتہ تو فلاں کے پاس جا، (وہ تجھے سواری دے دے گا)۔ پس وہ اس آدمی کے پاس گیا اور اس نے واقعی اس کو سواری دے دی، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کے بارے میں خبر دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9135]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1893، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17212»
وضاحت: فوائد: … نیکی کا سبب بننا بھی نیکی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9136
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) نَحْوُهُ وَفِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ عِنْدِي فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَلَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ
۔ (دوسری سند) اسی قسم کی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس تو سواری نہیں ہے۔ یہ سن کر ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میں ایسے شخص کی طرف اس کی رہنمائی نہ کروں، جو اس کو سواری دے دے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو نیکی پر دلالت کرتا ہے، اس کو بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9136]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22695»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9137
عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَتَاهُ اذْهَبْ فَإِنَّ الدَّالَ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ
۔ سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس آنے والے ایک آدمی سے فرمایا: تو جا، پس بیشک نیکی پر دلالت کرنے والا اس کو کرنے والے کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9137]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23415»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9138
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا مُعَاذُ أَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ عَلَى يَدَيْكَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! اللہ تعالیٰ کا تیرے ذریعے کسی مشرک کو ہدایت دے دینا،یہ تیرے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9138]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، بقيه بن الوليد ضعيفيعتبر به، وھو يدلس تدليس التسوية، وشيخه ضبارة مجھول، ودويد بن نافع فليس بذاك القوي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22424»
وضاحت: فوائد: … دنیا میں ملنے والی سب سے بڑی نعمت ہدایت ہے، کیونکہیہی وہ نعمت ہے، جو دائمی اور ابدی کامیابی کا سبب بنتی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9139
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّهُ سَأَلَهُ سَائِلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اشْفَعُوا تُؤْجَرُوا وَلْيَقْضِ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ مَا أَحَبَّ
۔ سیدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سوالی نے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم سفارش کرو، تمہیں اجر دیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی زبان سے جو چاہتا ہے، حکم دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9139]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19813»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ کی فقہ یہ ہے کہ محتاج کی جائز ضرورت پوری کرنے کے لیے سفارش کرنی چاہیے، اگر سفارش قبول ہو گئی تو بہت خوب، بصورت ِ دیگر سفارش کرنے کا ثواب تو ملے گا۔
دوسرے حصے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عطا کرنے یا نہ کرنے میں سے جو کچھ چاہا، وحییا الہام کے ذریعے اپنے نبی کی زبان پر ظاہر کر دے گا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً حَسَنَۃًیَّکُنْ لَّہ نَصِیْبٌ مِّنْھَا وَمَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَۃً سَیِّئَۃًیَّکُنْ لَّہ کِفْلٌ مِّنْھَا وَکَانَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْء ٍ مُّقِیْتًا۔} … جو کوئی سفارش کرے گا، اچھی سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک حصہ ہوگا اور جو کوئی سفارش کرے گا، بری سفارش، اس کے لیے اس میں سے ایک بوجھ ہوگا اور اللہ ہمیشہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (سورۂ نسائ: ۸۵)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9140
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَفْضَلَ مِنْ دَرَجَةِ الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ قَالُوا بَلَى قَالَ إِصْلَاحُ ذَاتِ الْبَيْنِ وَفَسَادُ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تم کو نماز، روزے اور صدقے کی بہ نسبت زیادہ فضیلت والے درجے کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے کہا: جی کیوں نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرابت کی اصلاح کرنا اور رشتوں میں فساد ڈالنا تو (دین کو) مونڈ دینے والی چیز ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9140]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 4919، والترمذي: 2509، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27508 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28058»
وضاحت: فوائد: … اہل اسلام بھائی بھائی ہیں،انسانی لغزشوں کی وجہ سے کبھی کبھییہ رشتۂ اخوت متأثر ہو جاتا ہے، جس کی بنا پر پورے مسلم معاشرے میں فساد اور بگاڑ پیدا ہو جا تا ہے، اس لیے صلح کروانے کو عظیم صدقہ شمار کیا گیا ہے، جو بعض مسلمان دوسرے مسلمانوں کے حق میں کرتے ہیں۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَاِنْ طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَھُمَا} (سورۂ حجرات: ۹) … اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے مابین صلح کر وا دیا کرو۔ عہدِ نبوی میں عمرو بن عوف کی اولاد کے درمیان کچھ جھگڑا ہو گیا تھا، ان کے مابین صلح صفائی کروانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود کچھ صحابہ کو ساتھ لے کر تشریف لے گئے تھے۔ (بخاری، مسلم) معلوم ہوا کہ جب بعض مسلمان جھگڑ پڑیں تو دوسرے لوگ اس بات کے ذمہ دار ہوں گے کہ ان کے مابین صلح کروا دیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
18. بَابُ التَّرْغِيْبِ فِي اِمَاطَةِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيْقِ وَارْشَادِ الضَّالِ
راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے اور راہ بھولے کی رہنمائی کرنے کی ترغیب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9141
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي أَهْلَ الطَّرِيقِ فَقَطَعَهَا رَجُلٌ فَنَحَّاهَا عَنِ الطَّرِيقِ فَأُدْخِلَ بِهَا الْجَنَّةَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک درخت سے گزرنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی، پس ایک آدمی نے اس کو کاٹ کر راستے سے دور کر دیا اور اس وجہ سے اس کو جنت میں داخل کر دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9141]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: ص 2021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8039 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8026»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9142
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ بِجِذْلِ شَوْكٍ فِي الطَّرِيقِ فَقَالَ لَأُمِيطَنَّ هَذَا الشَّوْكَ عَنِ الطَّرِيقِ أَنْ لَا يَعْقِرَ رَجُلًا مُسْلِمًا قَالَ فَغُفِرَ لَهُ
۔ (دوسری سند)نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک مسلمان آدمی کا ایسے راستے سے گزر ہوا، جس پر کانٹوں والا تنہ تھا، اس نے کہا: میں ضرور ضرور ان کانٹوں کو راستے سے ہٹا دوں گا، تاکہ کوئی مسلمان زخمی نہ ہو جائے، پس اس وجہ سے اس کو بخش دیا گیا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9142]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8479»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9143
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ دَخَلَ عَبْدٌ الْجَنَّةَ بِغُصْنِ شَوْكٍ عَلَى ظَهْرِ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ فَأَمَاطَهُ عَنْهُ
۔ (تیسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی خاردار شاخ کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گیا، (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) وہ مسلمانوں کے راستے پر تھی اور اس نے اس کو ہٹا دیا تھا۔ [الفتح الربانی/مسائل البر وصلة الرحم/حدیث: 9143]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9235»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں